Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1332

1332 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ} [المائدة: 41] ، «يَهُودُ الْمَدِينَةِ» ، {سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِينَ} [المائدة: 41] «أَهْلُ فَدَكٍ» {لَمْ يَأْتُوكَ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِهِ} [المائدة: 41] ، " أَهْلُ فَدَكٍ، يَقُولُونَ: إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا الْجَلْدَ فَخُذُوهُ، وَإِنْ لَمْ تُؤْتَوْهُ، فَاحْذَرُوا الرَّجْمَ "

حضرت جابر بن عبداللہ ؓالله تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں:"جھوٹ کوغور سے سننے والے۔‘‘ اس سے مرادمدینہ منورہ کے یہودی ہیں۔"دوسری قوم کے افراد کی باتیں غور سے سننے والے ۔“اس سے مراداہل فدک ہیں۔"وہ تمہارے پاس اس وقت تک نہیں آئیں گے ،جب تک وہ کلمات کو ان کے مخصوص مقام سے تحریف نہیں کر دیتے۔“تو اس سے مراداہل فدک ہیں جنہوں نے یہ کہا تھا کہ اگر وہ کوڑے لگانے کا حکم دیں ،تو اسے ان کی بات مان لینی چاہئے اور اگر نہ دیں، تو پھر سنگسار کرنے سے بچنا۔

الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِیَّا، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1332

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1333

1333 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «رَأَيْتُنِي الْبَارِحَةَ كَأَنَّ رَجُلًا أَلْقَمَنِي كُتْلَةَ تَمْرٍ، فَعَجَمْتُهَا، فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً، فَآذَتْنِي فَلَفِظْتُهَا، ثُمَّ أَلْقَمَنِي كُتْلَةً، فَمِثْلُ ذَلِكَ، ثُمَّ أُخْرَى، فَمِثْلُ ذَلِكَ» ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَعْبُرْهَا، قَالَ: «اعْبُرْهَا» ، قَالَ: هُوَ الْجَيْشُ الَّذِي بَعَثْتَ يُسْلِمُهُمُ اللَّهُ، وَيَغْنِمُهُمُ اللَّهُ، ثُمَّ يَلْقَوْنَ رَجُلًا، فَيُنْشِدُهُمْ ذِمَّتَكَ، فَيَدَعُونَهُ، ثُمَّ يَلْقَوْنَ آخَرَ، فَيُنْشِدُهُمْ ذِمَّتَكَ، فَيَدَعُونَهُ، ثُمَّ يَلْقَوْنَ آخَرَ، فَيُنْشِدُهُمْ ذِمَّتَكَ، فَيَدَعُونَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَذَلِكَ قَالَ الْمَلَكُ يَا أَبَا بَكْرٍ»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓنبی اکرم ﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں:گزشتہ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص نے میرے منہ میں کھجور کاٹکڑا ڈالا ہے میں نے اسے چبایا تو مجھے اس میں گٹھلی بھی ملی جس نے مجھے تکلیف دی تو میں نے اسے پھینک دیا ،پھر اس نے میرے منہ میں ایک اور کھجور ڈالی تو پھر ایسا ہی ہوا پھر اس نے ایک اور ڈالی پھر ایسا ہی ہوا۔حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کی یا رسول اللہﷺمجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی تعبیر بیان کروں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا :تم اس کی تعبیر بیان کرو، تو انہوں نے عرض کی:اس سے مراد ولشکر ہے ،جسے آپ ﷺنے روانہ کیا تھا الله تعالیٰ نے اسے سلامتی بھی عطا کی اور مال غنیمت بھی عطا کیا تھا ،پھر لوگوں کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی تو اس شخص نے انہیں آپ ﷺکے ذمہ کا واسطہ دیا ،تو ان لوگوں نے اسے چھوڑ دیا ،پھر ان کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی تو اس شخص نے انہیں آپ ﷺکے ذمہ کا واسطہ دیا ،تو ان لوگوں نے اسے چھوڑ دیا ،پھر ان کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی تو اس شخص نے انہیں آپ ﷺکے ذمہ کا واسطہ دیا ،تو ان لوگوں نے اسے چھوڑ دیا ،تو نبی اکرمﷺنے فرمایا: اے ابوبکرؓ! فرشتے نے اسی طرح بیان کیا ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الشَّعْبِيِّ، ← مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1333

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1334

1334 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نُبَيْحًا الْعَنَزِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَطْرُقَ النِّسَاءَ لَيْلًا» ثُمَّ طَرَقْنَاهُنَّ بَعْدُ

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے اس بات سے منع کیا ہے کہ تم (طویل سفر سے واپس آتے ہوئے )رات کے وقت اپنے گھر جاو (راوی کہتے ہیں:)لیکن اس کے بعد ہم نے ایسا کرنا شروع کر دیا۔

«نَهَى رَسُولُ اللَّهِ أَنْ نَطْرُقَ النِّسَاءَ لَيْلًا» ثُمَّ طَرَقْنَاهُنَّ بَعْدُ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← نُبَيْحًا الَعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1334

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1335

1335 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نُبَيْحًا الْعَنَزَيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: «أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقَتْلَى قَتْلَى أُحُدٍ، أَنْ يُرَدُّوا إِلَى مَضَاجِعِهِمْ مَنْ نُقِلَ مِنْهُمْ»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺنے غزوہ احد کے شہداء کے بارے میں یہ حکم دیا تھا کہ انہیں اس جگہ واپس لایا جائے جہاں انہیں شہید کیا گیا تھا، حالانکہ ان میں سے کچھ افراد کو وہاں سے دوسری جگہ منتقل کردیا گیا تھا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← نُبَيْحًا الَعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1335

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1336

1336 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى قَالَ: ثنا الْحُمَيْدِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا أَكَلْتُمْ هَذِهِ الْخَضِرَةَ، فَلَا تُجَالِسُونَا فِي الْمَجْلِسِ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ النَّاسُ»

حضرت جابر بن عبد الله ؓ ،نبی اکرمﷺیہ کا فرمان نقل کرتے ہیں:"جب تم اس سبز چیز کوکھا لو،تو ہماری محفل میں ہمارے ساتھ آ کر نہ بیٹھو کیونکہ فرشتوں کو اس چیز سے اذیت ہوتی ہے، جس سے لوگوں کو اذیت ہوتی ہے"۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← إبْرَاهِيمُ بْنُ إسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1336

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1337

1337 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا صَالِحُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: وَكَانَ خَيْرًا مِنْ أَبِيهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: " قَالُوا لِرَجُلٍ: تَعَرَّفْ عَلَيْنَا، قَالَ: إِنَّمَا عِرِّيفُكُمْ الْأَهْيَسُ، الْأَلْيَسُ، الْأَطْلَسُ [ص:356]، الْمُكِدُّ، الْمِلْحَسُ، الَّذِي إِذَا قِيلَ لَهُ: هَا، انْتَهَشَ، وَإِذَا قِيلَ لَهُ: هَاتِ، حَبَسَ "

امام شعبی بیان کرتے ہیں:لوگوں نے ایک صاحب سے کہا: آپ (حکمرانوں کے پاس) ہمارے نمائندے بن جائیں، تو وہ صاحب بولے: تمہارا نمائندہ وہ شخص بنے گا، جسے اپنی آمدن کی فکر ہوگی جو اپنے گھرکو نہیں چھوڑے گا، اور جو چور ہوگا جو بخیل ہو گا، اور جو اتنا لالچی ہو گا کہ جو ملے اسے حاصل کر لے جس کی یہ حالت ہوگی کہ جب اسے کہا جائے یہ لو ،تو وہ دانتوں کے ذریعے نوچ لے گا ،اور جب اسے کہا جائے گا لے کر آؤ ،تو وہ اس چیز کوروک لےگا (یعنی لے کر نہیں آئے گا)

لِرَجُلٍ: تَعَرَّفْ عَلَيْنَا، ← الشَّعْبِيِّ، ← وَكَانَ خَيْرًا مِنْ أَبِيهِ، ← صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1337

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter