Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1296

1296 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرٌو، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: لَمَّا نَزَلَتْ {قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوقِكُمْ} [الأنعام: 65] ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعُوذُ بِوَجْهِكَ» ، {أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ} [الأنعام: 65] ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعُوذُ بِوَجْهِكَ» ، {أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ} [الأنعام: 65] ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَاتَانِ أَهْوَنُ، أَوْ هَاتَانِ أَيْسَرُ»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی :"تم فرمادو!وہ اس بات پر قادر ہے ،تم پرتمہارے اوپر کی طرف سے عذاب بھیج دے۔“ تو نبی اکرمﷺنے فرمایا :"میں تیری ذات کی پناہ مانگتا ہوں۔“(ارشاد باری تعالیٰ ہے)"یاتمہارے نیچے سے (عذاب بھیج دے)‘‘ تو نبی اکرمﷺنے دعا کی۔"میں تیری ذات کی پناہ مانگتا ہوں ۔" (ارشاد باری تعالیٰ ہے)"یاوہ تمہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے اورتم ایک دوسرے کے خلاف لڑنے لگو۔" تو نبی اکرمﷺنے فرمایا: یہ دونوں آسان ہیں (یہاں روایت کے لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرٍو أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1296

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1297

1297 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «كُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الْهَدْيِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ»

حضرت جابر بن عبد اللهؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرمﷺکے زمانہ اقدس میں ہم قربانی کے جانور کا گوشت مدینہ منورہ پہنچنے تک زادراہ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔

كنا نتزود لحوم الهدي على عهد رسول الله إلى المدينة ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1297

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1298

1298 - أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى قَالَ: ثنا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، فَجِيءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَكْشِفَ عَنْهُ، فَنَهَانِي قَوْمِي، وَأُرِيدُ أَنْ أَكْشِفَ عَنْهُ، وَيَنْهَانِي قَوْمِي، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُفِعَ بِهِ، فَسَمِعَ صَوْتَ بَاكِيَةٍ، فَقَالَ: «مَنْ هَذِهِ؟» ، قَالُوا: ابْنَةُ عَمْرٍو أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَا تَبْكُوا، أَوْ فَلِمَ تَبْكِي؟ فَمَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَ»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں: غزوہ احد کے موقع پر میرے والد شہید ہو گئے انہیں نبی اکرمﷺکی خدمت میں لایا گیا اور آپ ﷺکے سامنے رکھ دیا گیا ان کی میت کی بے حرمتی کی گئی تھی میں نے ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانے کا ارادہ کیا، تو میری قوم کے افراد نے مجھے منع کر دیا میں ان کے منہ سے کپڑا ہٹانا چاہ رہا تھا، لیکن میری قوم کے افراد مجھے منع کررہے تھے ،پھر نبی اکرم ﷺکے حکم کے تحت انہیں وہاں سے اٹھا لیا گیا۔ نبی اکرم ﷺنے کسی خاتون کے رونے کی آواز سنی تو در یافت کیا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا :عمرو کی صاحبزادی ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) عمرو کی بہن ہے ،تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا:تم لوگ نہ روو (راوی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)تم کیوں رورہی ہو؟ فرشتوں نے اس کے اٹھائے جانے تک مسلسل اپنے پروں کے ذریعے اس پر سایہ کیا ہوا تھا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1298

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1299

1299 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: كَانَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ يَشُكُّ أَبَدًا فِي هَذَا الْحَدِيثِ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے اور اس روایت کے راوی محمد بن منکدر کو اس کے الفاظ کے بارے میں شک ہے۔

كَانَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ يَشُكُّ أَبَدًا فِي هَذَا الْحَدِيثِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1299

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1300

1300 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: " كَانَتِ الْيَهُودُ، تَقُولُ: مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي قُبُلِهَا مِنْ دُبُرِهَا، جَاءَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ "، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: 223]

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں :یہودی یہ کہا کرتے تھے :جوشخص عورت کی پچھلی طرف سے اس کی اگلی شرمگاہ کی طرف صحبت کرتا ہے، تو اس کے ہاں بھینگا بچہ پیدا ہوتا ہے تو الله تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی:"تمہاری عورتیں تمہارا کھیت ہیں تم اپنے کھیت میں جیسے چاہو آو۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1300

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1301

1301 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْرِفُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا وَهُوَ جُنُبٌ»

حضرت جابر بن عبد اللهؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرمﷺجب جنابت کی حالت میں ہوتے تھے، تو آپﷺ(غسل کرتے ہوئے)دونوں ہاتھ بھر کر تین مرتبہ اپنے سر پر پانی ڈال لیتے تھے۔

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَغْرِفُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا وَهُوَ جُنُبٌ» ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1301

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1302

1302 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا جَابِرُ أَعَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَحْيَا أَبَاكَ؟ وَقَالَ لَهُ: تَمَنَّ؟ قَالَ: أُحْيَى، فَأُقْتَلُ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ قَضَيْتُ أَنَّهُمْ لَا يُرْجَعُونَ "

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ،نبی اکرمﷺے مجھ سے فرمایا:"اے جابر! کیا تمہیں پتہ ہے؟ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا:تم آرزوکرو، تو اس نے عرض کی :مجھے زندہ کیا جائے اور ایک مرتبہ پھر تیری راہ میں قتل کر دیا جائے ،تو الله تعالی ٰنے فرمایا:میں نے یہ فیصلہ دے دیا ہے( کہ دنیا سے آنے والے لوگ )واپس نہیں جائیں گے۔"

إنِّي قد قَضيتُ أنَّهم لا يَرجِعون» ← أُحْيَى، فَأُقْتَلُ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى، ← لَهُ: تَمَنَّ ← لِي رَسُولُ اللَّهِ يَا جَابِرُ، أَعَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَحْيَا أَبَاكَ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عبد الله بن محمد بن عقيل بن أبي طالب ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1302

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1303

1303 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى قَالَ: ثنا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: «أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، فَرَشَّتْ لَهُ صُورًا لَهَا، وَالصُّورُ النَّخْلَاتُ الْمُجْتَمِعَاتُ، وَذَبَحَتْ لَهُ شَاةً، فَأَكَلَ مِنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أُتِيَ بِعُلَالَةِ الشَّاةِ، فَأَكَلَ مِنْهَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْعَصْرِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ» ، ثُمَّ أَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَأَيْنَ شَاتُكُمُ الْوَالِدُ؟ فَأُتِيَ بِهَا فَحَلَبَهَا وَجَعَلَ لَنَا مِنْهُ لَبْأَ، فَأَكَلَ مِنْهُ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، ثُمَّ أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَأُتِيَ بِجَفْنَتَيْنِ، فَجُعِلَتْ إِحْدَاهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَالْأُخْرَى مِنْ خَلْفِهِ، فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت جابر بن عبداللهؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺایک انصاری خاتون کے پاس تشریف لائے اس خاتون نے مختلف قسم کی کھجوریں آپ ﷺکی خدمت میں پیش کیں اس نے نبی اکرم ﷺکے لیے ایک بکری بھی ذبح کی۔ نبی اکرم ﷺنے اس کا گوشت کھایا پھر جب ظہر کی نماز کا وقت ہوا تو نبی اکرم ﷺکھڑے ہوئے اور آپﷺ نے وضو کیا اور ظہر کی نماز ادا کی پھر اس بکری کا باقی رہ جانے والا گوشت لایا گیا تونبی اکرم ﷺنے اس میں سے کچھ کھا لیا پھر آپ ﷺعصر کی نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے آپ نے ازسرنو وضو نہیں کیا پھر میں حضرت ابوبکر صدیق ؓکے پاس آیا تو انہوں نے اپنی بیوی سے دریافت کیا:کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں ۔ حضرت ابوبکر ؓنے دریافت کیا :تمہاری وہ بکری کہاں ہے ،جس کے گھر بچہ ہونے والا ہے ،تو اس بکری کو لایا گیا۔ انہوں نے اس کا دودھ دوہ لیا۔ انہوں نے اس کا دودھ ہمیں دیا۔ نبی اکرم ﷺنے اسے نوش کیا ہم نے بھی اسے پی لیا، پھر نبی اکرم ﷺنماز کے لیے کھڑے ہوئے آپ ﷺنے نماز ادا کی اور ازسرنو وضو نہیں کیا۔پھر میں حضرت عمر بن خطاب ؓکے پاس آیا، تو وہاں دو برتن لائے گئے ان میں سے ایک نبی اکرمﷺکے آگے رکھ دیا گیا اور دوسرا نبی اکرم ﷺکے پیچھے رکھ دیا گیا۔ نبی اکرم ﷺنے بھی انہیں تناول کیا ہم نے بھی تناول کیا۔ پھر نبی اکرم ﷺنے نماز ادا کی اور ازسرنو وضونہیں کیا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1303

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1304

1304 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا طَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ عَادَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا، وَقَالَ: «نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ» : {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ} [البقرة: 158]

حضرت جابر بن عبد الله ؓبیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے جب بیت الله کا طواف کیا، تو آپ ﷺنے مقام ابراہیمؑ کے پاس دو رکعات نماز ادا کی پھر آپ ﷺحجر اسود کے پاس واپس تشریف لائے آپ ﷺنے اس کا استلام کیا پھر آپ ﷺصفا کی طرف تشریف لے گئے آپ ﷺنے ارشادفرمایا:"ہم اس سے آغاز کریں گے ،جس کا ذکر الله تعالیٰ نے پہلے کیا ہے(ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالی ٰکی نشانیاں ہیں ۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1304

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1305

1305 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «لَمَّا تَصَوَّبَتْ قَدَمَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوَادِي رَمَلَ حَتَّى جَازَ الْوَادِيَ»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓبیان کرتے ہیں: جب نبی اکرمﷺکے مبارک قدم وادی کے نشیبی حصے میں پہنچے، تو آپ ﷺدوڑنے لگے یہاں تک کہ آپ ﷺنے اس (نشیبی حصے) کو پار کرلیا۔

«لَمَّا تَصَوَّبَتْ قَدَمَا رَسُولِ اللَّهِ فِي الْوَادِي رَمَلَ حَتَّى جَازَ الْوَادِيَ» ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1305

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1306

1306 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ بَدَنَةٍ، فَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ فَأَشْرَكَهُ فِي بُدْنِهِ، بِالثُّلُثِ، فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتًّا وَسِتِّينَ بَدَنَةً، وَأَمَرَ عَلِيًّا فَنَحَرَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، وَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُلِّ جَزُورٍ بِبِضْعَةٍ، فَطُبِخَتْ، فَأَكَلَا مِنَ اللَّحْمِ وَحَسَيَا مِنَ الْمَرَقِ» ، قَالَ سُفْيَانُ: " وَأَهْلُ الْعَرَبِيَّةِ يَقُولُونَ: وَحَسَوَا "

حضرت جابر بن عبد الله ؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرمﷺنے ایک سو اونٹوں کی قربانی دی تھی حضرت علی ؓ یمن سے تشریف لائے تھے ،تو نبی اکرم ﷺنے انہیں قربانی کے ایک تہائی حصے میں شریک کرلیا تھا۔ نبی اکرم ﷺنے 66 اونٹ خود نحر کیے تھے اور حضرت علی ؓ کوحکم دیا تھا کہ وہ باقی 34 اونٹ قربان کردیں۔ نبی اکرم ﷺکے حکم کے تحت ہر اونٹ کا کچھ حصہ لے کر اسے پکایا گیا تو نبی اکرم ﷺنے وہ گوشت کھایا اور شور بہ پیا۔ سفیان کہتے ہیں:اہل عرب اس لفظ کا تلفظ یوں کرتے ہیں :وحسوا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1306

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1307

1307 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے:"شہر شخص دیہاتی کے لیے سودا نہ کرے تم لوگوں کو چھوڑ دو !الله تعالیٰ انہیں ایک دوسرے کے ذریعے رزق عطا کر دے گا"۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1307

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter