Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1268

1268 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا جَابِرُ لَوْ قَدْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَأَعْطَيْتُكَ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا» ، فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَأْتِ مَالُ الْبَحْرَيْنِ، وَأَتَى فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ، فَأَمَرَ أَبُو بَكْرٍ مُنَادِيًا فَنَادَى مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ عِدَةٌ فَلْيَأْتِ، قَالَ جَابِرٌ: فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَوْ قَدْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَأَعْطَيْتُكَ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا» فَحَثَى لِي أَبُو بَكْرٍ مَرَّةً، ثُمَّ قَالَ لِي: عُدَّهَا، فَعَدَدْتُهَا فَوَجَدْتُهَا خَمْسَمِائَةٍ، فَقَالَ خُذْ مِثْلَهَا مَرَّتَيْنِ

امام محمد الباقرؒ بیان کرتے ہیں:میں نے حضرت جابر بن عبد اللہؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ،نبی اکرم ﷺنے مجھ سے فرمایا:اے جابر!جب اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا تو میں تمہیں اتنا، اتنا اور اتنادوں گا۔پھر نبی اکرم ﷺکا وصال ہو گیابحرین کا مال نہیں آیا وہ حضرت ابوبکر ؓکے عہد خلافت میں آیا ،تو حضرت ابو بکرؓنے ایک شخص کو اعلان کرنے کے لیے کہا کہ جس شخص کو نبی اکرم ﷺنے کوئی ادائیگی کرنی ہو،یا آپ ﷺنے اس کے ساتھ کوئی وعدہ کیا ہو ،تودہ آجائے ۔ حضرت جابرؓکہتے ہیں:میں حضرت ابو بکرؓ کے پاس آیا میں نے ان سےیہ کہا: نبی اکرم ﷺنے یہ فرمایا تھا:”اگر بحر ین کا مال آیا، تو میں تمہیں اتنا ،اتنا اور اتنادوں گا۔تو حضرت ابوبکرؓ نے دونوں ہتھیلیاں ملا کر بھر کر مجھے دیا، پھر مجھ سے فرمایا :تم اس کی گنتی کرو ،میں نے اس کی گنتی کی ،تو وہ پانچ سو(درہم) تھے ۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا:تم اس سے دوگنا اور لے لو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← محمد بن علي ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1268

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1269

1269 - قَالَ سُفْيَانُ: ثُمَّ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ يُحَدَّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَحَثَى لِي ثَلَاثًا، وَزَادَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ جَابِرٌ: ثُمَّ أَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ بَعْدُ، فَقُلْتُ لَهُ: أَعْطِنِي فَلَمْ يُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: أَعْطِنِي، فَلَمْ يُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: أَعْطِنِي، فَلَمْ يُعْطِنِي، فَقُلْتُ: يَا أَبَا بَكْرٍ إِنِّي سَأَلْتُكَ أَنْ تُعْطِيَنِي فَلَمْ تُعْطِنِي، ثُمَّ سَأَلْتُكَ أَنْ تُعْطِيَنِي، فَلَمْ تُعْطِنِي، فَإِمَّا أَنْ تُعْطِيَنِي، وَإِمَّا أَنْ تَبْخَلَ عَنِّي، فَقَالَ: «قُلْتُ تَبْخَلُ عَنِّي، وَأَيُّ الدَّاءِ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ؟ فَمَا مَنَعْتُكَ مِنْ مَرَّةٍ إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُعْطِيَكَ»

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے ،تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں"حضرت ابو بکرؓ نے دونوں ہتھیلیاں ملا کر تین مرتبہ مجھے دیا۔‘‘ابن منکدر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ۔ حضرت جابر ؓبیان کرتے ہیں :اس کے بعد میں حضرت ابوبکرؓ کے پاس آیا میں نے ان سے کہا: مجھے کچھ دیجئے ،تو انہوں نے مجھے کچھ نہیں دیا، میں پھر ان کے پاس آیا اور انہیں کہا: مجھے کچھ دیجئے ،تو انہوں نے مجھے کچھ نہیں دیا میں پھر ان کے پاس آیا میں نے ان سے کہا: مجھے کچھ دیجئے تو انہوں نے مجھے کچھ نہیں دیا میں نے کہا: اے ابوبکر ! میں نے آپ سے کچھ مانگا ہے، آپ مجھے کچھ دیں لیکن آپ نے مجھے کچھ نہیں دیا پھر میں نے آپ سے مانگا کہ آپ مجھےکچھ دیں لیکن آپ نے مجھے کچھ نہیں دیا یا تو آپ مجھے کچھ دیں گے یا پھر آپ میرے حوالے سے بخل سے کام لیں گے ،تو حضرت ابوبکر ؓ بولے تم یہ کہہ رہے ہو کہ تم میرے حوالے سے بخل سے کام لو گے؟ کنجوسی سے زیادہ قابل علاج بیماری اور کون سی ہے؟ میں نے ایک مرتبہ تمہیں منع اس لیے کیا ہے کیونکہ میں تمہیں دینا چاہتا ہوں۔

ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، ← سُفْيَانُ ثُمَّ

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1269

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1270

1270 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَعْقِ الْأَصَابِعِ وَلَعْقِ الصَّحْفَةِ، قَالَ: وَقَالَ: «إِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ ذَلِكَ الْبَرَكَةُ؟»

حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے انگلیاں اور پیالہ چاٹنے کا حکم دیا ہے آپﷺنے ارشادفرمایا ہے: یہ نہیں پتہ ہے ،اس میں کہاں برکت ہے؟

وَقَالَ: «إِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ ذَلِكَ الْبَرَكَةُ؟» ← أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ بِلَعْقِ الْأَصَابِعِ وَلَعْقِ الصَّحْفَةِ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1270

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1271

1271 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ فِيهَا قَصْرًا أَوْ دَارًا، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟، فَقِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: فَلَوْلَا غَيْرَتُكَ يَا أَبَا حَفْصٍ لَدَخَلْتُهُ "، قَالَ: فَبَكَى عُمَرُ، وَقَالَ: أَيُغَارُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ

حضرت جابر بن عبداللہ ؓروایت کرتے ہیں ،نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا ہے:"میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے وہاں ایک محل (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میں نے ایک گھر دیکھا میں نے دریافت کیا:یہ گھر کس کا ہے، تو مجھے بتایا گیا:یہ عمر بن خطاب کا ہے ،اے ابوحفص! اگر تمہارے مزاج کی تیزی کا خیال نہ ہوتا، تو میں اس کے اندر چلا جاتا۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں:حضرت عمر ؓرو پڑے اور عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)! کیا میں آپ ﷺپر غصہ کروں گا؟

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1271

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1272

1272 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ فِيهَا قَصْرًا، أَوْ دَارًا، فَسَمِعْتُ فِيهَا ضَوْضَاةً، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَرَجَوْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَقِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: فَلَوْلَا غَيْرَتُكَ يَا أَبَا حَفْصٍ لَدَخَلْتُهُ "، قَالَ: فَبَكَى عُمَرُ، وَقَالَ: أَيُغَارَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟

حضرت جابر بن عبداللہ ؓروایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے:"میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اس میں ایک محل (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک گھر دیکھا میں نے اس میں آواز سنی میں نے دریافت کیا:یہ کس کا ہے ،تو مجھے کہا گیا: یہ قریش سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کا ہے، مجھے یہ امید ہوئی کہ یہ میرا ہوگا، تو مجھے یہ بتایا گیا:یہ عمر بن خطاب کا ہے۔ اے ابوحفص! اگر تمہارےمزاج کی تیزی کا خیال نہ ہوتا، تو میں اس کے اندر چلا جاتا"۔ حضرت جابرؓکہتے ہیں:حضرت عمرؓرو پڑے اور عرض کی:یا رسول اللہ (ﷺ)! کیا آپ ﷺکے سامنے غصہ کیا جا سکتا ہے؟

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1272

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1273

1273 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَرْبُ خُدْعَةٌ» .

حضرت جابر بن عبداللہ ؓروایت کرتے ہیں، نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا ہے:"جنگ ،وھو کہ دینے کا نام ہے"۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1273

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1274

1274 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ: قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: «خُدْعَةٌ، وَأَهْلُ الْعَرَبِيَّةِ يَقُولُونَ خَدْعَةٌ»

عمرو بن دینار کہتے ہیں:لفظ"خدعۃ"کے تلفظ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: «خُدْعَةٌ، وَأَهْلُ الْعَرَبِيَّةِ يَقُولُونَ خَدْعَةٌ» ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1274

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1275

1275 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا لَلْأَنْصَارِ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ، قَالَ: فَسَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» ، فَقَالُوا: رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَسَعَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا لَلْأَنْصَارِ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةٍ دَعُوهَا، فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ» ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِيِّ ابْنِ سَلُولَ: أَوَقَدْ فَعَلُوهَا؟، وَاللَّهِ لَإِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ، قَالَ جَابِرٌ: وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ بِالْمَدِينَةِ أَكْثَرَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، حِينَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ كَثُرَ الْمُهَاجِرُونَ بَعْدُ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ»

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں:ہم لوگ ایک جنگ میں نبی اکرمﷺکے ساتھ تھے مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ایک انصاری کی پیٹھ پرہاتھ (یا پاؤں )مارا ،تو انصاری نے کہا:اے انصار ( میری مدد کے لیے آو) اور مہاجر نے کہا:اے مہاجرین ( میری مدد کے لیے آو) راوی کہتے ہیں:نبی اکرم ﷺنے یہ بات سن لی۔ آپ ﷺنے دریافت کیا:کیا ہوا ہے؟ لوگوں نے بتایا: مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو مارا، تو انصاری نے یہ کہا: اے انصار ( میری مدد کے لیے آو) تو مہاجر نے بھی یہ کہا:اے مہاجرین (میری مدد کے لیے آؤ)تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: یہ زمانہ جاہلیت کا طرزعمل ہے تم اسے چھوڑ دو، کیونکہ یہ گندگی والا ہے (جب اس بات کا پتہ عبد الله بن اُبی کو چلا) تو عبداللہ بن اُبی بولا: کیا ان لوگوں نے ایسا کیا ہے؟ اللہ کی قسم !جب ہم مدینہ واپس جائیں گے ،تو وہاں کے عزت دارلوگ ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال دیں گے۔حضرت جابرؓ کہتے ہیں:انصار ،مدینہ منورہ میں مہاجرین سے زیادہ تھے، جب نبی اکرم ﷺمدینہ منورہ تشریف لے آئے تو مہا جر ین زیادہ ہو گئے ۔ حضرت عمرؓ نے عرض کی آپ ﷺمجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:اسے چھوڑ دو! ورنہ لوگ یہ کہیں گے حضرت محمد (ﷺ)!اپنے ساتھیوں کو قتل کروارہے ہیں۔

الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لِلْمُهَاجِرِينَ، ← الْأَنْصَارِيُّ: يَا لِلْأَنْصَارِ، ← رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَسَعَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ← «مَا هَذَا؟» ← فَسَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ ← الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لِلْمُهَاجِرِينَ، ← الْأَنْصَارِيُّ: يَا لِلْأَنْصَارِ، ← كُنَّا مَعَ النَّبِي فِي غزَاة فَكَسَعَ رجل من الْمُهَاجِرين رجلا من الْأَنْصَار ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1275

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1276

1276 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو هَارُونَ الْمَدَنِيُّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ، لِأَبِيهِ: " وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُ الْمَدِينَةَ أَبَدًا حَتَّى تَقُولَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَعَزُّ، وَأَنَا الْأَذَلُّ، قَالَ: وَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَقْتُلَ أَبِي، فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا تَأَمَّلُتُ وَجْهَهُ قَطُّ هَيْبَةً لَهُ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ آتِيَكَ بِرَأْسِهِ لَأَتَيْتُكَ، فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَرَى قَاتِلَ أَبِي "

ابو ہارون مدنی بیان کرتے ہیں : عبد الله بن اُبی کے بیٹے حضرت عبد اللہ ؓنے اپنے والد سے کہا:اللہ کی قسم !تم اس وقت تک مدینہ میں داخل نہیں ہو سکتے، جب تک تم یہ نہیں کہو گے کہ نبی اکرم ﷺعزت دار ہیں اور تم ذلیل ترین ہو۔راوی بیان کرتے ہیں وہ شخص نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی یا رسول اللہ (ﷺ)! مجھے پتہ چلا کہ آپ ﷺمیرے والدقتل کروانا چاہ رہے ہیں؟ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ ﷺکوحق کے ساتھ مبعوث کیا ہے اپنے باپ کی ہیبت کی وجہ سے میں اس کے قتل میں تامل نہیں کروں گا اگر آپ ﷺچاہتے ہیں ،میں اس کا سر لے کر آؤں تو میں وہ بھی لے آتا ہوں لیکن مجھے یہ بات پسند نہیں ہے ،میں اپنے باپ کے قاتل کو دیکھوں (یا مجھے اپنے باپ کا قاتل سمجھا جائے)۔

أَبُو هَارُونَ الْمَدَنِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1276

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1277

1277 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَدِمَ أَعْرَابِيٌّ الْمَدِينَةَ، فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ، ثُمَّ حُمَّ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْنِي بَيْعَتِي، قَالَ: «لَا» ، فَلَمَّا اشْتَدَّتْ بِهِ الْحُمَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْنِي بَيْعَتِي، قَالَ: «لَا» ، ثُمَّ اشْتَدَّتْ بِهِ الْحُمَّى، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْنِي بَيْعَتِي، قَالَ: «لَا» ، ثُمَّ اشْتَدَّتْ بِهِ الْحُمَّى، فَخَرَجَ هَارِبًا مِنَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا، وَتُنْصِعُ طِيبَهَا»

حضرت جابر بن عبدالله ؓ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی مدینہ منورہ آیا اس نے نبی اکرم ﷺکے دست اقدس پر ہجرت کی بیعت کی اسے بخار ہو گیا وہ نبی اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! میری بیعت مجھے واپس کیجئے نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جی نہیں! پھر تب اس کا بخار تیز ہو گیا وہ پھر نبی اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! میری بیعت مجھے واپس کر دیں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جی نہیں! پھر اس کا بخار اور تیز ہو گیا وہ نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی:یا رسول اللہ (ﷺ)! آپ ﷺمیری بیعت مجھے واپس کر دیں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جی نہیں! پھر اس کا بخار اور شدید ہو گیا تو وہ مدینہ منورہ سے خوفزدہ ہو کر چلا گیا۔ نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا: مدینہ منورہ کی مثال بھٹی کی مانند ہے جوزنگ کو نکال دیتی ہے اور صاف چیز کونکھار دیتی ہے۔

قَدِمَ أَعْرَابِيٌّ الْمَدِينَةَ، فَبَايَعَ النَّبِيَّ عَلَى الْهِجْرَةِ، ثُمَّ حُمَّ، فَأَتَى النَّبِيَّ فَقَالَ: ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1277

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1278

1278 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ مِائَةِ رَاكِبٍ وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَرْصُدُ عِيرًا لِقُرَيْشٍ، فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ، فَسُمِّيَ ذَلِكَ الْجَيْشُ جَيْشَ الْخَبَطِ، قَالَ: فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ وَنَحْنُ بِالسَّاحِلِ دَابَّةً تُسَمَّى الْعَنْبَرَ، فَأَكَلْنَا مِنْهَا نِصْفَ شَهْرٍ، وَايْتَدَمْنَا بِهِ وَادَّهَنَّا بَوَدِكِهِ حَتَّى ثَابَتْ أَجْسَامُنَا، قَالَ: فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنَصَبَهُ، ثُمَّ نَظَرَ أَطْوَلَ رَجُلٍ وَأَعْظَمَ جَمَلٍ فِي الْجَيْشٍ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ الْجَمَلَ، ثَمَّ يَمُرَّ تَحْتَهُ، فَفَعَلَ، فَمَرَّ تَحْتَهُ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ: «هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟» ، قُلْنَا: لَا

حضرت جابر بن عبد الله ؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ہم 300 سواروں کو ایک مہم پر بھیجا ہمارے امیر حضرت ابوعبیدہ بن جراح ؓ تھے ہم قریش کے ایک قافلے کی گھات میں تھے، ہمیں شدید بھوک لاحق ہوگئی، یہاں تک کہ ہم پتے کھانے پرمجبور ہو گئے اس لیے اس لشکر کا نام "پتوں والا شکر‘‘ رکھا گیا۔ حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں:سمندر سے ہمارے سامنے ایک سمندری مخلوق کی ہم اس وقت ساحل پر موجود تھے اسے "عنبر" کہا جا تا تھا ہم پندرہ دن تک اس کا گوشت کھاتے رہے، ہم نے اس کے تیل کے ساتھ روٹی کھائی اس کی چربی کو جسم پر ملا یہاں تک کہ ہم موٹے تازے ہو گئے۔ پھر حضرت ابوعبیدہ ؓ نے اس کی ایک پسلی کو کھڑا کیا پھر انہوں نے سب سے طویل ترین شخص اور لشکر کے سب سے اونچے اونٹ کا جائزہ لیا پھر اس شخص کو حکم دیا کہ وہ اس اونٹ پر سوار ہو اور اس پسلی کے نیچے سے گزرے تو اس شخص نے ایسا ہی کیا وہ اس کےنیچے سے گزر گیا ،ہم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺکو اس بارے میں بتایا تو آپﷺنے دریافت کیا:کیا تمہارے پاس اس کا کچھ حصہ ہے؟ ہم نے عرض کی:جی نہیں!

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1278

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1279

1279 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ وَزَادَ، فَكَانَ فِينَا رَجُلٌ مَعَهُ جِرَابٌ فِيهِ تَمْرٌ، فَكَانَ يُعْطِينَا مِنْهُ قَبْضَةً، ثَمَّ صَارَتْ إِلَى تَمْرَةٍ فَلَمَّا فَنِيَ وَجَدْنَا فَقْدَهُ [ص:330].

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ،تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں۔"ہمارے درمیان ایک شخص تھا جس کے پاس بوری تھی جس میں کھجور میں موجود تھیں وہ اس میں سے ایک ،ایک مٹھی کھجور یں ہمیں دیا کرتا تھا ،پھر نو بت ایک کھجور تک آ گئی، جب وہ بھی ختم ہوگئی، تو ہمیں اس کی غیر موجودگی کا شدت سے احساس ہوا۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1279

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter