Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1256

1256 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: «دَبَّرَ رَجُلٌ غُلَامًا لَهُ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَبَاعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ» قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: قَالَ جَابِرٌ: " عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ الْأَوَّلِ فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ زَادَ أَبُو الزُّبَيْرِ: «اسْمُهُ يَعْقُوبُ الْقِبْطِيُّ»

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں:ایک شخص نے اپنے غلام کومد بر کر دیا ،اس کے پاس اس غلام کے علاوہ کوئی مال نہیں تھا، تو نبی اکرم ﷺنے اس غلام کوفروخت کروادیا حضرت نعیم بن نحامؓ نے اسے خرید لیا۔عمرو بن دینار کہتے ہیں:حضرت جابر ؓ نے یہ بات بیان کی ہے ،وہ ایک قبطی غلام تھا، جو حضرت عبد الله بن زبیر ؓکی حکومت کے پہلے سال میں فوت ہوا تھا۔ابوز بیر نامی راوی نے یہ الفاظ اضافی نقل کیے ہیں۔ اس کا نام "یعقوب قبطی‘‘تھا۔

عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← «دَبَّرَ رَجُلٌ غُلَامًا لَهُ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَبَاعَهُ النَّبِيُّ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ» ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1256

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1257

1257 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ قَائِمٌ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصَلَّيْتَ؟» ، قَالَ: لَا، قَالَ: «فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ» [ص:320] قَالَ سُفْيَانُ: وَسَمَّى أَبُو الزُّبَيْرِ فِي حَدِيثِهِ الرَّجُلَ سُلَيْكَ بْنَ عَمْرٍو الْغَطَفَانِيَّ

حضرت جابر بن عبد الله ؓبیان کرتے ہیں:ایک شخص مسجد میں داخل ہوا نبی اکرم ﷺاس وقت منبر پر موجود جمعے کا خطبہ دے رہے تھے۔ نبی اکرم ﷺنے اس سے دریافت کیا:کیا تم نے نماز ادا کر لی ہے؟ اس نے عرض کی:جی نہیں ۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا:تم دورکعت نماز ادا کرلو۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں ابوزبیر نامی راوی نے اس روایت میں ان صاحب کا نام حضرت سلیک بن عمر عطفانیؓ "بیان کیا ہے۔

«فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ» [ص:320] ← لَا۔ ← النَّبِيُّ «أَصَلَّيْتَ؟» ← دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ عَلَى الْمِنْبَرِ قَائِمٌ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1257

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1258

1258 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا حَسَّانُ بْنُ جَعْدَةَ، قَالَ: «رَأَيْتُ الْحَسَنَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ دَخَلَ مَسْجِدَ وَاسِطَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَابْنُ هُبَيْرَةَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَجَلَسَ»

حسان نامی راوی کہتے ہیں: میں نے حسن بن ابوالحسن کو"مسجد واسط "میں جمعہ کے دن داخل ہوتے دیکھا اس وقت ابن ہبیر ہ منبر پر خطبہ دے رہا تھا ،تو انہوں نے پہلے دو رکعت ادا کیں پھر وہ بیٹھے۔

حَسَّانُ بْنُ جَعْدَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1258

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1259

1259 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ» قَالَ جَابِرٌ: «لَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ لَأَرَيْتُكُمْ مَوْضِعَ الشَّجَرَةِ»

حضرت جابر بن عبداللهؓ بیان کرتے ہیں: حدیبیہ کے دن ہم لوگ 1400 کی تعداد میں تھے۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا: آج کے دن تم لوگ روئے زمین کے سب سے بہتر فرد ہو۔حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں :اگر میری بصارت کام کرتی ہوتی، تو میں تمہیں اس درخت کی جگہ دکھاتا۔

جابر لو كنت أبصر لأريتكم موضع الشجرة ← لنا رسول الله أنتم اليوم خير أهل الأرض ← کُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1259

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1260

1260 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ، وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ»

محمد بن عباد بیان کرتے ہیں:میں نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ؓ سے دریافت کیا:وہ اس وقت بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے کیا نبی اکرم ﷺنے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا:اس گھر کے پروردگار کی قسم!جی ہاں ۔

صيام يوم الجمعة فقال نعم ورب هذا البيت ← قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيِّ ← عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1260

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1261

1261 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قِيلَ تِلْقَاءَ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَكَحْتَ يَا جَابِرُ؟» ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «أَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ؟» قُلْتُ: ثَيِّبٌ، قَالَ: «فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُكَ تُلَاعِبُهَا» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ، وَكُنَّ لِي تِسْعَ أَخَواتٍ، فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَجْمَعَ إِلَيْهِنَّ جَارِيَةً خَرْقَاءَ مِثْلَهُنَّ، وَلَكِنِ امْرَأَةٌ تُمَشِّطُهُنَّ، وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ، قَالَ: «أَصَبْتَ»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓبیان کرتے ہیں ،نبی اکرم ﷺنے دریافت کیا: اے جابر! کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا: کنواری کے ساتھ یا ثیبہ کے ساتھ ؟ میں نے عرض کی:ثیبہ کے ساتھ۔ نبی اکرم ﷺنے فر مایا:تم نے کسی لڑکی کے ساتھ شادی کیوں نہیں کی کہ وہ تمہارے ساتھ خوش ہوتی اور تم اس کے ساتھ خوش ہوتے؟ میں نے عرض کی یا رسول اللہ (ﷺ)! میرے والد غزوہ احد کے موقع پر شہید ہو گئے تھے۔ انہوں نے 9بیٹیاں چھوڑی ہیں، تو میری9 بہنیں ہیں مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں ان کے ساتھ ایک لڑکی کو شامل کر دوں جو ان کی مانندکم سن ہو میں ایک ایسی بیوی لانا چاہتا تھا جوان کی کنگھی کر دیا کرے ان کی دیکھ بھال کیا کرے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا :تم نے ٹھیک کیا ہے۔

«فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُكَ تُلَاعِبُهَا» قُلْتُ: ← «أَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ؟» قُلْتُ: ثَيِّبٌ، ← نَعَمْ ← لِي رَسُولُ اللَّهِ «أَنَكَحْتَ يَا جَابِرُ؟» ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قِيلَ تِلْقَاءَ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1261

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1262

1262 - قَالَ سُفْيَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ، فَحَدَّثَنِيهِ، وَزَادَ فِيهِ كَلِمَةً لَمْ يَقُلْهَا عَمْرٌو، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَكَحْتُ: «يَا جَابِرُ أَتَّخَذْتُمْ أَنْمَاطًا؟» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ؟ قَالَ: «أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ»

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں۔ جب میں نے شادی کر لی تو نبی اکرمﷺنے مجھ سے فرمایا:اے جابر کیا تم نے قالین استعمال کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ (ﷺ)!ہمارے پاس کہاں سے قالین آئیں گے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:عنقریب آئیں گے۔

جَابِرًا ← وَزَادَ فِيهِ كَلِمَةً لَمْ يَقُلْهَا عَمْرٌو، ← سُفْيَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1262

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1263

1263 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ، فَقَالَ: «لَا»

حضرت جابر بن عبدالله ؓبیان کرتے ہیں ،نبی اکرمﷺسے جب بھی کوئی چیز مانگی گئی تو آپ ﷺنے کبھی "نہ "نہیں کی۔

مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لا ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1263

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1264

1264 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: " مَرِضْتُ فَعَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَهُمَا يَمْشِيَانِ فَأُغْمِيَ عَلَيَّ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَبَّهُ عَلَيَّ، فَأَفَقْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي؟، كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي؟، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ "

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں:میں بیمار ہوا نبی اکرم ﷺاور حضرت ابوبکر ؓ میری عیادت کے لیے تشریف لائے ،یہ دونوں حضرات پیدل تشریف لائے تھے مجھ پر بے ہوشی طاری ہوئی۔ نبی اکرم ﷺنے پانی منگوایا اور وضو کیا،پھر آپ ﷺنے اسے مجھ پر انڈیلا تو مجھے ہوش آ گیا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! میں اپنے مال کے بارے میں کیا فیصلہ دوں؟ میں اپنے مال کے بارے میں کیا طریقہ اختیار کروں؟ تو نبی اکرم ﷺخاموش رہے ،یہاں تک کہ وراثت سے متعلق آیت نازل ہوگئی۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← محمد بن المنكدر أنه ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1264

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1265

1265 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ [ص:323]، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: نَزَلَتْ فِيَّ آيَةُ الْمِيرَاثِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَلَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں:وراثت (کے حکم)سے متعلق آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ امام حمیدی ؒ کہتے ہیں :سفيان نامی راوی نے ابوز بیرنامی راوی سے یہ روایت نہیں سنی ہے۔

أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَبُو بَكْرٍ: وَلَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ ← نَزَلَتْ فِيَّ آيَةُ الْمِيرَاثِ. ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ [ص:318] ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1265

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1266

1266 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ» وَقَالَ سُفْيَانُ: زَادَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ: «وَابْنُ عَمَّتِي»

حضرت جابر بن عبد الله ؓبیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے غزوہ خندق کے موقع پر (دشمن کی جاسوسی کے لیے)لوگوں کو طلب کیا، تو حضرت زبیرؓ نے خود کو پیش کیا۔ نبی اکرم ﷺنے پھر لوگوں کو طلب کیا ،تو انہوں نے خود کو پیش کیانبی اکرم ﷺپھر انہیں طلب کیا ،تو حضرت زبیرؓنے خود کو پیش کیا، تو نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا:"ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری ،ز بیر ہے“۔ سفیان کہتے ہیں:ہشام بن عروہ نامی راوی نے یہ الفاظ اضافی نقل کیے ہیں"میراپھوپھی زاد (زبیر ہے)۔“

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1266

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1267

1267 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: وُلِدَ فِي الْحَيِّ غُلَامٌ، فَأَسْمَاهُ أَبُوهُ الْقَاسِمَ، فَقُلْنَا لِأَبْيهِ: لَا نُكَنِّيكَ بِأَبِي الْقَاسِمِ، وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا، فَأَتَى أَبُوهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْمُ ابْنِكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ»

حضرت جابر بن عبد الله ؓ بیان کرتے ہیں :کسی قبیلے میں ایک بچہ پیدا ہوا تو اس کے والد نے اس کا نام "قاسم‘‘رکھا تو ہم نے اس کے والد سے کہا:ہم تمہاری کنیت"ابوالقاسم" نہیں رکھیں گے اور ہم تمہاری آنکھیں ٹھنڈی نہیں کریں گے ،تو اس کا والد نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم ﷺنے اسے فرمایا :تم اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمان رکھ لو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1267

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter