Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1202

1202 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ لَنْ تَسْتَقِيمَ لَكَ عَلَى طَرِيقَةٍ، فَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ، وَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهَا، وَكَسْرُهَا طَلَاقُهَا»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے:"عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے وہ کسی بھی صورت میں تمہارے لیے سیدھی نہیں ہوسکتی، اگر تم اس سے نفع حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کے ٹیڑھے پن سمیت اس سے نفع حاصل کرو اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے ،تو اسے توڑ دو گے اور اسے توڑنے سے مراد اسے طلاق دینا ہے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1202

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1203

1203 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عِمْرَانُ بْنُ ظَبْيَانَ الْحَنَفِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: ذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَهُودِ بَنِي قَيْنُقَاعٍ بِدَارِسِهِمْ، فَأَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مُتْخَلِّقًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَعَلَّهُ عَرُوسٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَإِنْ، اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ، ثُمَّ أَنْهِكْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ أَنْهِكْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ أَنْهِكْهُ»

حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتے ہیں، میں نبی اکرم ﷺکے ساتھ بنوقنیقاع کے یہودیوں کی طرف گیا جو انہیں درس دیا کرتے تھے۔ نبی اکرم ﷺنے ایک شخص کو دیکھا جس نے اچھی طرح خوشبو لگائی ہوئی تھی میں نے عرض کی :یا رسول الله (ﷺ)! شاید اس کی نئی، نئی شادی ہوئی ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا تم جاؤ اور اسے دھولو اور اچھی طرح دھولو پھر اسے دھوؤ اور اچھی طرح دھولو پھر اسے دھولو اور اچھی طرح دھوو۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← رَجُلًا مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ، ← عِمْرَانُ بْنُ ظَبْيَانَ الْحَنَفِيُّ، أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1203

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1204

1204 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا الْأَعْرَجَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، يُمْنَعُهَا مَنْ يَأْتِيهَا، وَيُدْعَى لَهَا مَنْ يَأْبَاهَا، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ،نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ۔ " سب سے برا کھانا و لیے کا وہ کھانا ہے ،جس میں شریک ہونے والے کو روک دیا جائے اور اس کی دعوت اسے دی جائے ،جو اس کا انکار کرے،جوشخص دعوت قبول نہیں کرتا وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺکی نافرمانی کرتا ہے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ثَابِتًا الْأَعْرَجَ ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1204

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1205

1205 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: «شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، يُدْعَى إِلَيْهَا الْأَغْنِيَاءُ، وَيُمْنَعُهَا الْمَسَاكِينَ، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: سب سے برا کھانا اس ولیمے کا کھانا ہے ،جس میں امیروں کو بلایا جاتا ہے اور غریبوں کو روک دیا جاتا ہے ،جو دعوت قبول نہیں کرتا وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺکی نافرمانی کرتا ہے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجَ أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1205

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1206

1206 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ الْيَشْكُرِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ نِسَاءِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا» ، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: «يَعْنِي الصَّغَرَ»

حضرت ابو ہر یرہ ؓبیان کرتے ہیں: ایک شخص نے کسی انصاری خاتون کے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرمﷺنے فرمایا :تم اسے دیکھ لو ،کیونکہ انصار کی خواتین کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے۔ امام حمیدی ؒ کہتے ہیں:یعنی وہ کچھ چھوٹی ہوتی ہیں۔

الْحُمَيْدِيُّ: «يَعْنِي الصَّغَرَ» ← لَهُ النَّبِيُّ «انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ نِسَاءِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا» ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، ← أَبِي حَازِمٍ ← يزيدُ بنُ كيسانَ اليَشكريُّ: ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1206

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1207

1207 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مِسْعَرُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي مَا وَسْوَسَتْ فِي صُدُورِهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ، أَوْ تَكَلَّمْ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں ،نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے:”بے شک الله تعالی ٰنے میری امت کے ان وسوسوں سے درگزر کیا ہے ،جو ان کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں، جب تک وہ اس پرعمل نہیں کرتے یا اس کے بارے میں بات چیت نہیں کرتے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1207

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1208

1208 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ [ص:296]، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَلَفَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، فَقَالَ: لَأُطِيفَنَّ اللَّيْلَةَ بِسَبْعِينَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ تَجِيءُ بِغُلَامٍ يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ، أَوْ قَالَ لَهُ الْمَلَكُ: قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَنَسِيَ فَأَطَافَ بِسَبْعِينَ امْرَأَةً، فَلَمْ تَجِئْ وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ بِشَيْءٍ إِلَّا وَاحِدَةٌ جَاءَتْ بِشِقِّ غُلَامٍ "، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمَا حَنَثَ، وَلَكَانَ دَرَكًا فِي حَاجَتِهِ "

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے: "حضرت سلیمان ؑنے قسم اٹھاتے ہوئے یہ کہا:آج رات میں اپنی 70 بیویوں کے ساتھ صحبت کروں گا اور وہ سب لڑکوں کو جنم دیں گی جو الله کی راہ میں جہاد کریں گے ان کے ساتھی نے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) فرشتے نے ان سے کہا: آپ انشاء اللہ کہہ دیئجے! لیکن انہیں خیال نہیں رہا اور انہوں نے اپنی 70 بیویوں کے ساتھ صحبت کی ،تو ان میں سے صرف ایک کے ہاں بچہ پیدا ہوا، جو نامکمل تھا۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: اگر وہ انشا ءاللہ کہہ دیتے تو ان کی قسم نہ ٹوٹتی اور اپنا مقصد بھی حاصل کر لیتے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ، [ص:420] ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1208

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1209

1209 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ حُجَيْرٍ التَّيْمِيُّ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

النَّبِیِّ بمثلہ۔ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← طَاوْسٍ ← هِشَامُ بْنُ حُجَيْرٍ التَّيْمِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1209

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1210

1210 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِنْدِي دِينَارٌ فَقَالَ: «أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ» [ص:297]، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: «أَنْفِقْهُ عَلَى وَلَدِكَ» ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: «أَنْفِقْهُ عَلَى أَهْلِكَ» ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: «أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ» ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: «أَنْتَ أَعْلَمُ» ، قَالَ سَعِيدٌ: ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، يَقُولُ وَلَدُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ إِلَى مَنْ تَكِلُنِي، تَقُولُ زَوْجَتُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ طَلِّقْنِي، يَقُولُ خَادِمُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ بِعْنِي "

حضرت ابو ہر یرہ ؓ بیان کرتے ہیں:ایک شخص نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا ،اس نے عرض کی یا رسول اللہ(ﷺ)!میرے پاس ایک دینار موجود ہے (میں اس کا کیا کروں؟) نبی اکرم ﷺنے فرمایا تم اسے اپنے اوپرخرچ کرو، اس نے عرض کی:میرے پاس ایک اور بھی ہے ،آپ ﷺنے فرمایا:اسے تم اپنی اولاد پر خرچ کرو!اس نے عرض کیا:یا رسول الله (ﷺ)! میرے پاس ایک اور بھی ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:اسے تم اپنے بیوی پر خرچ کرو ،اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ (ﷺ)! میرے پاس ایک اور بھی ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا:اسے تم اپنے خادم پر خرچ کرو!اس نے عرض کی:یا رسول اللہ (ﷺ)!میرے پاس اور بھی ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:تم زیادہ بہتر جانتے ہو گے ( کہ اسے کس پر خرچ کیا جائے؟)۔سعید نامی راوی کہتے ہیں:حضرت ابو ہریرہ ؓ یہ حدیث بیان کر لیتے تھے ،تو یہ فرمایا کرتے تھے :تمہارا بچہ کہے گا:مجھ پر خرچ کرو مجھے کس کے سپرد کر رہے ہو، تمہاری بیوی کہے گی :مجھ پرخرچ کرو،ورنہ مجھے طلاق دے دو، تمہارا خادم کہے گا:مجھ پر خرچ کر و،یا پھر مجھے فروخت کر دو۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٌ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1210

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1211

1211 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عِمْرَانُ بْنُ ظَبْيَانَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَتَعْرِفُ رَجَّالًا؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «ضِرْسُهُ فِي النَّارِ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ، فَكَانَ أَسْلَمَ ثُمَّ ارْتَدَّ وَلَحِقَ بِمُسَيْلَمَةَ» ، وَقَالَ [ص:298]: «كَبْشَانَ انْتَطَحَا وَأَحَبُّهُمَا إِلَيَّ أَنْ يَغْلِبَ كَبْشِي»

حضرت ابو ہریرہ ؓ نے فرمایا: کیا تم رجال (بن عنفوة) کو جانتے ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں، تو حضرت ابو ہریرہؓ نے بتایا:میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :جہنم میں اس کی داڑھ احد پہاڑ سے بڑی ہوگی۔(راوی کہتے ہیں:)یہ شخص پہلے مسلمان ہوا تھا پھر مرتد ہوگیا اور مسیلمہ سے جا کر مل گیا اس نے یہ کہا تھا: دو مینڈھے سینگ لڑا رہے ہیں اور ان میں سے میرے نزدیک پسندیدہ یہ ہے ،میرے والا مینڈھا غالب آجائے۔

[ص:298]: «كَبْشَانَ انْتَطَحَا وَأَحَبُّهُمَا إِلَيَّ أَنْ يَغْلِبَ كَبْشِي» ← «ضِرْسُهُ فِي النَّارِ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ، فَكَانَ أَسْلَمَ ثُمَّ ارْتَدَّ وَلَحِقَ بِمُسَيْلَمَةَ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← فَإِنِّي ← أَبُو هُرَيْرَةَ: أَتَعْرِفُ رَجَّالًا؟ قُلْتُ: نَعَمْ، ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ ← عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1211

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1212

1212 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ؟» قَالُوا: لَا، قَالَ: «فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ؟» ، قَالُوا: لَا، " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا، فَيْلَقَى الْعَبْدَ، فَيَقُولُ: أَيْ فُلُ، أَلَمْ أُكَرِّمْكَ وَأُسَوِّدْكَ، وَأُزَوِّجْكَ، وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ، وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ، وَتَرْبَعُ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: بَلَى أَيْ رَبَّ، قَالَ: فَيَقُولُ: أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ؟، فَيَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ: فَإِنِّي أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي، ثُمَّ يَلْقَى الثَّانِي، فَيَقُولَ: أَيْ فُلُ أَلَمْ أُكَرِّمْكَ وَأُسَوِّدْكَ، وَأُزَوِّجْكَ، وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ، وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ، وَتَرْبَعُ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: بَلَى أَيْ رَبَّ، قَالَ: فَيَقُولُ: أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ؟ فَيَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ: فَإِنِّي أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي، ثُمَّ يَلْقَى الثَّالِثَ، فَيَقُولُ: آمَنْتُ بِكَ وَبِكِتَابِكَ، وَبِرَسُولِكَ، وَصَلَّيْتُ وَصُمْتُ، وَتَصَدَّقْتُ، وَيُثْنِي بِخَيْرٍ مَا اسْتَطَاعَ، قَالَ: فَيَقُولُ: فَهَاهُنَا إِذَا قَالَ ثُمَّ قَالَ: أَلَا نَبْعَثُ شَاهِدَنَا عَلَيْكَ، فَيْفُكِّرُ فِي نَفْسِهِ مَنِ الَّذِي يَشْهَدُ عَلَيَّ، فَيَخْتَمُ عَلَى فِيهِ وَيُقَالُ لِفَخِذِهِ: انْطِقِي فَتَنْطِقُ فَخِذُهُ [ص:299] وَلَحِمُهُ وَعِظَامُهُ، بِعَمَلِهِ مَا كَانَ، وَذَلِكَ لِيُعْذَرَ مِنْ نَفْسِهِ، وَذَلِكَ الْمُنَافِقُ، وَذَلِكَ الَّذِي يَسْخَطُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ: أَلَا لِتَتْبَعْ كُلُّ أُمَّةٌ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَتَتَبْعُ الشَّيَاطِينَ وَالصُّلُبَ أَوْلِيَاؤُهُمْ إِلَى جَهَنَّمَ، قَالَ: وَبَقِينَا أَيُّهَا الْمُؤْمِنِينَ، فَيَأْتِيَنَا رَبُّنَا وَهُوَ رَبُّنَا، وَهُوَ يُثِيبُنَا، فَيَقُولُ: عَلَامَ هَؤُلَاءِ؟ فَيَقُولُونَ: نَحِنُ عِبَادُ اللَّهِ الْمُؤْمِنِونَ، آمَنَّا بِاللَّهِ، لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَهَذَا مُقَامُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا، وَهُوَ رَبُّنَا، وَهُوَ يُثِيبُنَا، قَالَ: ثُمَّ يَنْطَلِقُ حَتَّى يَأْتِيَ الْجِسْرَ وَعَلَيْهِ كَلَالِيبُ مِنْ نَارٍ تَخْطِفُ النَّاسَ، فَعِنْدَ ذَلِكَ حَلَّتِ الشَّفَاعَةُ: أَيِ اللَّهُمَّ سَلِّمْ، أَيِ اللَّهُمَّ سَلِّمْ، فَإِذَا جَاوَزُوا الْجِسْرَ فَكُلُّ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجًا مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ مِنَ الْمَالِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَكُلُّ خَزَنَةِ الْجَنَّةِ يَدْعُوهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ يَا مُسْلِمُ هَذَا خَيْرٌ، فَتَعَالَ "، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ هَذَا الْعَبْدَ لَا تَوَى عَلَيْهِ يَدَعُ بَابًا وَيَلِجُ مِنْ آخَرَ، قَالَ: فَضَرَبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں:لوگوں نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)! کیا قیامت کے دن ہم اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے؟ نبی اکرمﷺنے ارشاد فر مایا: دوپہر کے وقت جب بادل موجود نہ ہوں ،تو کیا تمہیں سورج کو دیکھنے میں کچھ مشکل محسوس ہوتی ہے؟ لوگوں نے عرض کی:جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: چودھویں رات میں جب بادل موجود نہ ہوں ،تو کیا تمہیں چاند کو دیکھنے میں مشکل ہوتی ہے؟ لوگوں نے عرض کی:جی نہیں۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا:اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، تمہیں اپنے پروردگار کا دیدار کرنے میں کوئی رکاوٹ اسی طرح نہیں ہوگی، جس طرح تمہیں ان دونوں میں سے کسی ایک کو دیکھنے میں رکاوٹ نہیں ہوتی۔ الله تعالیٰ اپنے بندے سے ملاقات کرے گا اور ارشاد فرمائے گا:”اے فلاں! کیا میں نے تمہیں عزت عطا نہیں کی ؟ تمہاری شادی نہیں کی ؟ تمہارے لیے گھوڑوں اور اونٹوں کو مسخر نہیں کیا اور تمہیں ہر طرح کا موقع فراہم نہیں کیا۔نبی اکرم ﷺفرماتے ہیں:وہ بندہ عرض کرے گا:جی ہاں! اے میرے پروردگار۔ نبی اکرم ﷺفرماتے ہیں ۔ الله تعالىٰ فرمائے گا ،کیا تمہیں یہ گمان تھا کہ تم میری بارگاہ میں حاضر ہوگے؟ تو بندہ عرض کرے گا: جی نہیں ،تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا پھر میں بھی تمہیں اسی طرح بھول جاتا ہوں، جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے،پھر الله تعالی ٰدوسرے بندے سے ملا قات کرے گا اور فرمائے گا:اے فلاں ! کیا میں نے تمہیں عزت عطا نہیں کی میں نے تمہیں سیادت عطا نہیں کی میں نے تمہاری شادی نہیں کی میں نے تمہارے لیے گھوڑوں اور اونٹوں کو مسخر نہیں کیا اور میں نے تمہیں ہرطرح کا موقع فراہم نہیں کیا۔نبی اکرم ﷺفرماتے ہیں:وہ بندہ عرض کرے گا: جی ہاں! اے میرے پروردگار! نبی اکرم ﷺفرماتے ہیں:الله تعالیٰ فرمائے گا:کیا تمہیں یہ گمان تھا کہ تم میری بارگاہ میں حاضر ہوگے؟ تو وہ بندہ عرض کرے گا:جی نہیں، تو الله تعالیٰ فرمائے گا:میں تمہیں اسی طرح بھول رہا ہوں جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے ،پھر الله تعالیٰ تیسرے بندے سے ملاقات کرے گا ،تو وہ عرض کرے گا ،میں تجھ پر تیری کتابوں پر تیرے رسولﷺپر ایمان لایا، میں نے نماز ادا کی ، میں نے روزہ رکھا، میں نے صدقہ کیا اور جہاں تک میری استطاعت تھی میں نے نیکی کی۔نبی اکرم ﷺفرماتے ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا:یہ تو ہے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا:کیا ہم تمہارے خلاف گواہ کونہ لے کر آئیں تو وہ بندہ اپنے ذہن میں سوچے گا، میرے خلاف کون گواہی دے سکتا ہے؟ تو اس شخص کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے زانوں سے کہا جائے گا تم بولو!تو اس کا زانو بولے گا :اس کا گوشت اس کی ہڈیاں بولیں گے اس کے ان اعمال کے بارے میں جو وہ کرتا رہا تھا ایسا اس وجہ سے ہو گا تا کہ وہ اپنی طرف سے کوئی عذر پیش نہ کر سکے اور یہ منافق شخص ہوگا ،اور یہ وہ شخص ہو گا جس پر الله تعالیٰ ناراضگی ظاہر کرے گا۔ پھر ایک اعلان کرنے والا یہ اعلان کرے گا:خبردار!ہر گروہ اس کے پیچھے چلا جائے، جس کی وہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے ،تو شیاطین اور صلیب کی پیروی کرنے والے ان کے پیچھے جہنم کی طرف جائیں گے۔ نبی اکرم ﷺفرماتے ہیں:اے اہل ایمان!پھر ہم لوگ باقی رہ جائیں گے ہمارا پروردگار ہمارے پاس تشریف لائے گاوہ ہمارا پروردگار ہو گا وہ ہمیں ثواب عطا کرے گاوہ فرمائے گا:یہ لوگ کون سے مذہب پر ہیں تو وہ کہیں گے ہم الله تعالیٰ کے بندے ہیں ہم مومن ہیں ہم الله تعالیٰ پرایمان رکھتے ہیں، ہم کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہراتے، ہم یہیں ٹھہرے رہیں گے، جب تک ہمارا پروردگار نہیں آ جاتا، جو ہمارا پروردگار ہے اور وہ ہمیں ثواب عطا کرے گا۔نبی اکرم ﷺفرماتے ہیں پھر بندہ چلتا ہوا پل صراط تک آئے گا، جس پر آگ سے بنے ہوئے آنکڑے لگے ہوئے ہوں گے جولوگوں کوا چک رہے ہوں گے اس وقت شفاعت حلال ہوگی (اور بندہ دعا کرے گا)اے الله تو سلامتی عطا کر۔ اے اللہ تو سلامتی عطا کر۔ جب لوگ پل صراط سے گزر جائیں گے ،تو ہر وہ شخص جس نے اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں کسی بھی چیز کا جوڑا دیا ہوگا، تو جنت کا ہر در بان اسے بلائے گا:اے اللہ کے بندے!اے مسلمان یہ زیادہ بہتر ہے تم ادھر آؤ۔راوی کہتے ہیں:حضرت ابوبکر ؓنے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! ایسے بندے کو تو کوئی خسارہ نہیں ہو گا کہ وہ ایک دروازے کو چھوڑ کر دوسرے سے اندر چلا جائے ؟ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم ﷺنے اپناہاتھ ان پر مارا اور فرمایا: اس ذات کی قسم؟ جس کے دست قدرت میں محمدﷺ کی جان ہے مجھے یہ امید ہے تم ان افراد میں سے ایک ہوگے (جسے جنت کے تمام دروازوں کے دربان بلائیں گے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1212

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1213

1213 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرَّجُلَانِ يَتَبَايَعَانِ الثَّوْبَ لَا يَتَبَايَعَانِهِ، وَلَا يَطْوِيَانِهِ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا ہے:"جب قیامت قائم ہوگی اس وقت دو افرادکسی کپڑے کا سودا کر رہے ہوں گے، نہ تو وہ سودامکمل کر سکیں گے اور نہ ہی اسے لپیٹ سکیں گے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1213

chevron_left Previous
1…5678
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter