Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1004

1004 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، وَابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ» ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَقُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: فَإِنِّي أَسْمَعُ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ، فَغَمَزَنِي بِيَدِهِ، فَقَالَ: " يَا فَارِسِيُّ، أَوْ قَالَ: يَا ابْنَ الْفَارِسِيِّ، اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ "

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"ہر وہ نماز جس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہوتی ہے۔ وہ نامکمل ہوتی ہے۔ وہ نامکمل ہوتی ہے"۔ عبدالرحمنٰ نامی راوی کہتے ہیں: میں نے حضرت ابو ہریرہؓ سے دریافت کیا: بعض اوقات میں امام کی تلاوت سن رہا ہوتا ہوں (اس وقت میں کیا کروں؟) تو انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے ٹہوکا دے کر ارشادفرمایا:”اے فارسی (راوی کو شک ہے شائدیہ الفاظ ہیں)ابن فارسی! تم دل میں اسے پڑھ لیا کرو"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← سُفْيَانُ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، وَابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1004

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1005

1005 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ مَرَّةً، قَالَ: " تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ فِي كُلَّ يَوْمٍ إِثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمَيْنِ لِكُلِّ امْرِئٍ لَا يُشْركُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا امْرَأَ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: اتْرُكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، اتْرُكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا "

حضرت ابو ہریرہ ؓ"مرفوع"حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں:ہر پیر اور جمعرات کے دن اعمال (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں)پیش کیے جاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان دو دنوں میں ہر ایسے شخص کی مغفرت کردیتا ہے، جو کسی کواللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، ماسوائے اس شخص کے ،جس کی اپنے کسی بھائی کے ساتھ ناراضگی ہو ،تو حکم ہوتا ہے ان دونوں کو اس وقت تک رہنے دو، جب تک یہ دونوں صلح نہیں کر لیتے ۔ ان دونوں کو اس وقت تک رہنے دو ،جب تک یہ دونوں صلح نہیں کر لیتے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ مَرَّةً ← أبي صَالح أَنه ← مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1005

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1006

1006 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُصَلِّيَ بَعْدَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا» قَالَ سُفْيَانُ: وَقَالَ غَيْرِي: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةٍ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا» وَهَذَا أَحْسَنُ، وَأَمَّا الَّذِي حَفِظْتُ أَنَا الْأَوَّلُ "

حضرت ابو ہر یرہؓ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺنے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ ہم جمعے کے بعد چار رکعات ادا کریں۔ سفیان کہتے ہیں:دیگر راویوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں نبی اکرم ﷺنے یہ ارشاد فرمایا ہے: "تم میں سے جس شخص نے جمعے کے بعد نماز اداکرنی ہو، تو اسے چاہیے کہ چار رکعات ادا کرے۔" (راوی کہتے ہیں)یہ روایت زیادہ بہتر ہے، جو الفاظ میں نے یاد کیے ہیں وہ پہلے والے ہیں۔

سُفْيَانُ: وَقَالَ غَيْرِي: ← «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ أَنْ نُصَلِّيَ بَعْدَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1006

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1007

1007 - ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنِّي رَجُلٌ كَثِيرُ الشَّعْرِ، وَلَا يَكْفِينِي ثَلَاثُ حَثَيَاتٍ، فَقَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْكَ شَعْرًا، وَأَطْيَبَ مِنْكَ، وَكَانَ يُحْثِي عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا»

سعید مقبری بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے حضرت ابو ہریرہؓ سے کہا: میں ایک ایسا شخص ہوں ،جس کے بال زیادہ ہیں، دونوں ہاتھوں میں تین مرتبہ بھر کے پانی ڈالنا میرے لیے کافی نہیں ہوگا، تو حضرت ابو ہریرہ ؓ نے فرمایا: نبی اکرم ﷺکے بال تم سے بھی زیادہ تھے اور نبی اکرم ﷺتم سے بھی زیادہ پاکیزہ تھے، لیکن آپ ﷺاپنے سر پرصرف تین مرتبہ پانی ڈال لیتے تھے۔

رَجُلٌ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنِّي رَجُلٌ كَثِيرُ الشَّعْرِ، وَلَا يَكْفِينِي ثَلَاثُ حَثَيَاتٍ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1007

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1008

1008 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرُو بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ، وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا وَهُنَّ تَفِلَاتٌ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں ،نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: "اللہ تعالیٰ کی کنیزوں کو الله تعالیٰ کی مساجد میں جانے سے نہ روکو اور خواتین ایسی حالت میں نہ نکلیں کہ ان سے خوشبو پھوٹ رہی ہو"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1008

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1009

1009 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْصَبِّحُ الْقَوْمَ بِالنِّعْمَةِ وَيُمَسِّهِمْ، فَيُصْبِحُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ، يَقُولُونَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا، وَكَذَا "، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: فَحَدَّثْتُ بِهِ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، فَقَالَ: قَدْ سَمِعْنَا هَذَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي مَنْ شَهِدَ عُمَرَ يَسْتَسْقي بِالنَّاسِ، فَقَالَ: يَا عَبَّاسُ، يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ كَمْ بَقِيَ مِنْ نَوْءِ الثُّرَيَّا، قَالَ الْعُلَمَاءُ: بِهَا يَزْعُمُونَ أَنَّهَا تَعْتَرِضُ بَعْدَ سُقُوطِهَا فِي الْأُفُقِ سَبْعًا، قَالَ: فَمَا مَضَتْ سَابِعَةٌ حَتَّى مُطِرْنَا

حضرت ابو ہریرہ والی روایت کرتے ہیں ،نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: ”بے شک الله تعالی ٰصبح کے وقت یا شام کے وقت کسی قوم کوکوئی نعمت عطا کرتا ہے ،تو ان میں سے کچھ لوگ اس کا انکار کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں:ہم پرفلاں ،فلاں ستارے کی وجہ سے بارش نازل ہوئی ہے"۔محمد بن ابراہیم نامی راوی کہتے ہیں:میں نے یہ روایت سعید بن مسیب کو سنائی تو انہوں نے بتایا:انہوں نے یہ روایت حضرت ابوہریرہ ؓسے سنی ہے۔تاہم ان صاحب نے ہمیں یہ بتایا ہے جو حضرت عمرؓکے ساتھ اس وقت موجود تھے، جب انہوں نے لوگوں کے لیے بارش کی دعامانگی تھی۔ تو حضرت عمر ؓ نے یہ کہا تھا:اے حضرت عباس ؓ !اے اللہ کے رسول کے چچا!فلاں ستارے کا کتنا حصہ باقی رہ گیا تو حضرت عباس ؓ نے فرمایا: اس علم کے ماہرین کایہ کہنا ہے ،یہ گرنے کے بعد افق میں سات دن تک چوڑائی کی سمت میں رہے گا۔ راوی کہتے ہیں : سات دن گزرنے سے پہلے ہی ہم پر بارش ہوگئی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1009

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1010

1010 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ، عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ» [ص:202].

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے:"الله تعالٰی سے اللہ کے عذاب کی پناہ مانگو، الله تعالیٰ سے موت کے فتنے سے پناہ مانگو، الله تعالیٰ سے قبر کے عذاب سے پناہ مانگو۔ اللہ تعالیٰ سے دجال کے فتنے سے پناہ مانگو"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1010

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1011

1011 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1011

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1012

1012 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1012

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1013

1013 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ، إِمِّا الظُّهْرُ وَإِمَّا الْعَصْرُ، وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الْعَصْرُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى جِذْعٍ فِي الْمَسْجِدِ فَاسْتَنَدَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُغْضَبٌ، وَخَرَجَ سُرْعَانُ النَّاسِ يَقُولُونَ: قُصِرَتِ الصَّلَاةُ، قُصِرَتِ الصَّلَاةُ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ، أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟» ، فَقَالُوا: صَدَقَ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ كَسُجُودِهِ، أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ [ص:203]. قَالَ مُحَمَّدٌ: فَأُخْبِرْتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: وَسَلَّمَ.

حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺنے شام کی دونمازوں میں سے کوئی ایک نماز پڑھائی شائد وہ ظہر کی نمازتھی یا شائد عصر کی نمازتھی، ویسے میرا غالب گمان یہ ہے کہ وہ عصر کی نمازتھی نبی اکرم ﷺنے دورکعات پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر آپﷺمسجد میں موجود تنے کی طرف تشریف لے گئے اور آپ ﷺنے اس کے ساتھ ٹیک لگالی۔ آپ ﷺاس وقت غصے کے عالم میں تھے، جلد باز لوگ مسجد سے باہر نکل گئے وہ یہ کہہ رہے تھے :نما مختصر ہوگئی ہے۔ نماز ختم ہوگئی ہے۔ حاضرین میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ بھی موجود تھے، لیکن ان دونوں حضرات کی یہ جرات نہ ہوئی کہ وہ نبی اکرم ﷺسے اس بارے میں بات کریں، تو حضرت ذوالید ؓ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی:یا رسول الله (ﷺ)! کیا نمازمختصر ہوگئی ہے یا آپ ﷺبھول گئے ہیں؟ نبی اکرمﷺنے دریافت کیا: ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے عرض کی:یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔ تو نبی اکرم ﷺنے ہمیں دورکعات پڑھائیں پھر آپ ﷺنے سلام پھیرا پھر آپ ﷺنے تکبیر کہی پھر آپﷺ نے اپنے عام سجدہ کی مانند سجدہ کیا یا شائد طویل سجدہ کیا۔پھر آپ ﷺنے سر اٹھایا پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدہ کیا۔ پھر آپ ﷺنے تکبیر کہتے ہوئے سر اٹھالیا۔محمد بن سیرین نامی راوی کہتے ہیں: مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ حضرت عمران بن حصین ؓ نے نبی اکرم ﷺکے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: پھر نبی اکرم ﷺنے سلام پھیراتھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1013

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1014

1014 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ، وَزَادَ فِيهِ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينًا وَشِمَالًا، وَقَالَ: «مَا يَقُولُ ذَوِ الْيَدَيْنِ؟»

بہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابو ہریرہ ؓسے منقول ہے ،تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے اپنے دائیں طرف اور بائیں طرف دیکھا اور دریافت کیا۔ ”ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟"

ذُو الْيَدَيْنِ؟»، ← مَا ← أَبِي هُرَيْرَةَ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ، وَزَادَ فِيهِ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ يَمِينًا وَشِمَالًا، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1014

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1015

1015 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَقَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ يَفْتَتِحُ بِهَا صَلَاتَهُ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: "جب کوئی شخص رات کے وقت بیدار ہو، تو اسے دو مختصر رکعات ادا کر لینی چاہئیں جس کے ذریعے وہ اپنی نماز کا آغاز کرے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1015

chevron_left Previous
1…394041…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter