Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1166

1166 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَجِدُونَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: "تم لوگوں میں سب سے زیادہ برادوغلے شخص کو پاؤ گے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 1166

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1167

1167 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ "، وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} [السجدة: 17]

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا ہے۔ "الله تعالیٰ نے ارشادفرمایا ہے : میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیز تیار کی ہے ،جسے کسی آنکھ نے دیکھا نہیں ہے۔ کسی کان نے (اس کے بارے میں)سنا نہیں ہے اور کسی انسان کے دل میں اس کا خیال بھی نہیں آیا (حضرت ابوہریرہؓ یا شاید نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا) اگر تم لوگ چاہو تو یہ آیت تلاوت کرلو۔"کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز تیار کی گئی ہے؟ یہ اس چیز کی جزا ہے ،جووہ لوگ عمل کیا کرتے تھے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 1167

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1168

1168 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقْتَسِمْ وَرَثَتِي دِينَارًا، مَا تَرَكْتُ بَعْدُ نَفَقَةَ أَهْلِي، وَمَؤُنَةُ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَلَا تَقْتَسِمْ وَرَثَتِي دِينَارًا»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے: "میرے ورثاء دینار تقسیم نہیں کریں گے میں اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے اہل کاروں کی تنخواہوں کے بعد جو چھوڑ کر جاؤں گاوہ صدقہ ہوگا، میر ے ورثاء دینارتقسیم نہیں کریں گے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 1168

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1169

1169 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمِشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، وَلَا خُفٍّ وَاحِدٍ حَتَّى يُصْلِحَ الْآخَرَ، وَإِذَا انْتَعَلَ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ، وَإِذَا خَلَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالْيُسْرَى، وَلَتْكُنِ الْيُمْنَى أَوَّلَهُمَا تَنْعَلُ وَآخَرَهُمَا تُحْفِي»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: "جب کسی شخص کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ ایک جوتا پہن کر نہ چلے اور ایک موز ہ پہن کر نہ چلے جب تک وہ دوسرے کو ٹھیک نہیں کروالیتا جب کوئی شخص جوتا پہننے لگے تو پہلے دائیں پاؤں میں پہنے اور جب اتارنے لگے تو پہلے بائیں سے اتارے ،دایاں پاؤں پہنتے ہوئے پہلے ہونا چاہئے اور اتارتے ہوئے بعد میں ہونا چا ہے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 1169

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1170

1170 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَعْجَبُوا كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ، وَلَعْنَهُمْ يَشْتُمُونَ مُذَمَّمًا، وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا، وَأنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے:"کیا تم لوگ اس بات پر حیران نہیں ہوتے کہ الله تعالیٰ نے مجھ سے قریش کے برا کہنے اور ان کے برا کرنے کو کیسے پھیر دیا ہے؟ وہ لوگ برا کہتے ہوئے مذمت کرتے ہیں، لعنت کرتے ہوئے مذمت کرتے ہیں جبکہ میں محمدﷺہوں (یعنی جس کی تعریف کی گئی ہے)"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 1170

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1171

1171 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْتَجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتْ هَذِهِ: يَدْخُلُنِي الْجَبَّارُونَ، وَالْمُتَكَبِّرُونَ [ص:279]، وَقَالَتْ هَذهِ: يَدْخُلُنِي الضُّعَفَاءُ وَالْمَسَاكِينُ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ: أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءَ، وَقَالَ لِهَذِهِ: أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ، قَالَ سُفْيَانُ: وَأَرَى فِيهِ: وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا "

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے:"جنت اور جہنم کے درمیان بحث ہوگئی، تو اس نے کہا مجھ میں سرکش اور متکبرلوگ داخل ہوں گے، تو دوسری نے (یعنی جنت نے )کہا مجھ میں کمزور اور غریب لوگ داخل ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا :تم میرا عذاب ہوتمہارے ذریعے میں جسے چاہوں گا عذاب دوں گا، اور اس سے فرمایا: تم میری رحمت ہو تمہارے ذریعے میں جس پر چاہوں گا رحمت کروں گا۔ سفیان کہتے ہیں :میرے خیال میں روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں" تم میں سے ہرایک بھر جائے گی۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 1171

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1172

1172 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى يَدَيَّ فِي الطَّوَافِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ، أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْفَيْءِ، فَقُلِّصَ عَنْهُ حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُ فِي الشَّمْسِ وَبَعْضُهُ فِي الظِّلِّ، فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْهُ»

حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کرتے ہیں :حضرت ابوالقاسمﷺنے ارشادفرمایا: "جب کوئی شخص سائے میں ہو ،اور وہ سایہ اس سے کچھ کھسک جائے یہاں تک کہ اس شخص کا کچھ حصہ دھوپ میں آ جائے اور کچھ سائے میں ہو، تو اسے وہاں سے ہٹ جانا چاہے (یعنی عمل دھوپ یا پھرمکمل سائے میں آنا چاہئے ۔‘‘)

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مَنْ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى يَدَيَّ فِي الطَّوَافِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 1172

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1173

1173 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَثَاوَبَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَكْظِمْ، أَوْ لِيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا ہے :"جب کسی شخص کو جمائی آئے، تو وہ اسے روکنے کی کوشش کرے ور نہ اپناہاتھ اپنے منہ پررکھ لے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 1173

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1174

1174 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِغُصْنٍ مِنْ شَوْكٍ فَرَفَعَهُ عَنِ الطَّرِيقِ، فَغُفِرَ لَهُ» [ص:281] وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: «فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ»

حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺکے اس فرمان کا پتہ چلا ہے:ایک مرتبہ ایک شخص کانٹوں کی شاخ کے پاس سے گزرا اس نے اسے راستے سے ہٹادیا ،تو اس شخص کی مغفرت ہوگئی۔سفیان نامی راوی نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔"اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول کیا اور اس کی مغفرت کردی۔ "

سُفْيَانُ: «فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ» ← الطَّرِيقِ، فَغُفِرَ لَهُ» [ص:281] وَرُبَّمَا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ «أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِغُصْنٍ مِنْ شَوْكٍ فَرَفَعَهُ ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 1174

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1175

1175 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ، قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَشْيَاءَ قِصَارٍ سَمِعْنَاهَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ»

حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے اس بات سے منع کیا ہے کہ مشکیزہ کے منہ سے (منہ لگا کے)پانی پیا جائے۔

نَهَى رَسُولُ اللَّهِ أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ ← ألا أخبركم بأشياء قصار سمعناها من أبي هريرة ← عِكْرِمَةَ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 1175

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1176

1176 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: يَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ الْمُوعِدِ، إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا أَصْحَبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَلْءِ بَطْنِي، وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمُ الْقِيَامُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالْأَسْواقِ، وَإِنِّي شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا وَهُوَ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ: «مَنْ يَبْسُطُ رِدَاءَهُ حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي، ثُمَّ يَقْبِضَهُ إِلَيْهِ، فَلَا يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي 0؟» ، فَبَسَطْتُ بُرْدَةً كَانَتْ عَلَيَّ حَتَّى إِذَا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَتَهُ قَبَضَّتُهَا إِلَيَّ، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا نَسِيتُ شَيْئًا بَعْدُ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ الْمَسْعُودِيُّ: وَقَامَ آخَرُ فَبَسَطَ رِدَاءَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَبَقَكَ بِهَا الْغُلَامُ الدَّوْسِيُّ»

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں لوگ یہ کہتے ہیں: کہ ابو ہریرہ نبی اکرم ﷺکے حوالے سے بکثرت احادیث نقل کرتا ہے الله تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے ،میں ایک غریب شخص تھا میں اپنے پیٹ میں (ضروری) خوراک ڈال کر نبی اکرم ﷺکے ساتھ رہا کرتا تھا جبکہ انصار اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کیا کرتے تھے مہا جر ین بازار میں سودے اور لین دین کیا کرتے تھے ایک مرتبہ میں ایک محفل میں نبی اکرم ﷺکے پاس موجود تھا ،تو آپ ﷺنے ارشادفرمایا: کون شخص میری گفتگو ختم کرنے تک اپنی چادر کو بچھائے گا اور پھر اسے سمیٹ لے گا ،تو وہ میری زبانی جوبھی بات سنے گا اسے کبھی نہیں بھولے گا، تو میں نے اپنے جسم پر موجود چادر کو بچھا دیا یہاں تک کہ جب نبی اکرم ﷺنے اپنی بات مکمل کی، تو میں نے اسے سمیٹ لیا اس ذات کی قسم جس نے نبی اکرم ﷺکوحق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے اس کے بعد میں نبی اکرم ﷺکی زبانی سنی ہوئی کوئی بات کبھی نہیں بھولا۔سفیان کہتے ہیں : مسعودی نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے بھی اپنی چادر کو بچھایا، تو نبی اکرم ﷺنے ارشاد فر مایا"دوس کا رہنے والا جوان تم پر سبقت لے گیا ہے۔"

الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 1176

مسند الحميدي · کتاب ‹ بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1177

1177 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: اخْتَلَفَ الرِّجَالُ فِي الرِّجَالِ، وَالنِّسَاءِ، أَيُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ؟ فَأَتَوْا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَّلُ زُمْرَةٍ مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَضْوَأِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: دُرِّئٍ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ اثْنَتَانِ يُرَى مُخُّ سَاقَيْهُمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ، وَمَا فِي الْجَنَّةِ عَزَبٌ "

محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں: کچھ لوگوں کے درمیان اس بارے میں بحث ہوگئی کہ جنت میں مرد زیادہ ہوں گے یا خواتین۔ وہ لوگ حضرت ابو ہر یرہ ؓ کے پاس آئے اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا ،تو انہوں نے بتایا حضرت ابوالقاسم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے: میری امت کا جو پہلا گروہ جنت میں داخل ہوگا وہ چودھویں رات کے چاند کی مانند ہوں گے پھر اس کے بعد والے لوگ اس طرح ہوں گے جیسے آسمان میں موجود سب سے زیادہ چمکدار ستارہ ہوتا ہے۔یہاں سفیان نامی راوی نے ایک روایت کے ایک لفظ کونقل کرنے میں شک کا اظہار کیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں ہوں گی، جن کی پنڈلیوں کے گوشت کے اندر سے ہڈی کا مغز بھی نظر آئے گا، اور جنت میں مجردزندگی نہیں ہوگی۔

مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 1177

chevron_left Previous
12345…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter