مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 956
956 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ [ص:170]: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِي شَيْءٍ وَقَعَ بَيْنَهُمْ حَتَّى تَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ، وَاحْتُبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَتَخَلَّلُ الصُّفُوفَ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ الَّذِي يَلِي أَبَا بَكْرٍ أَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيحِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْتَفَتَ، فَأَبْصَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اثْبُتْ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَشَكَرَ اللَّهَ وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ حِينَ أَشَرْتُ إِلَيْكَ؟» ، فَقَالَ: مَا كَانَ اللَّهُ لِيَرَى ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ انْحَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّاسِ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا لَكَمْ حِينَ نَابَكُمْ فِي صَلَاتِكُمْ شَيْءٌ أَخَذْتُمْ فِي التَّصْفِيحِ، إِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ، وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَقُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ "
حضرت سہل بن سعدؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺبنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کروانے کے لیے تشریف لے گئے، کیونکہ ان کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، یہاں تک کہ انہوں نے ایک دوسرے کو پتھر بھی مارے تھے۔ اس دوران نماز کا وقت ہو گیا حضرت بلال ؓنے اذان دی۔نبی اکرمﷺوہیں رکے رہے۔ حضرت ابو بکرؓ لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھ گئے پھر نبی اکرمﷺتشریف لے آ ئے۔ آپ ﷺصفوں کے درمیان میں سے گزرتے ہوئے تشریف لائے جب آپﷺ حضرت ابو بکرؓ کے پیچھے والی صف تک پہنچے، تو لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کیں۔ حضرت ابوبکر ؓایک ایسے فرد تھے، جو نماز کے دوران ادھر ادھر توجہ نہیں کرتے تھے، جب انہوں نے تالیوں کی آواز سنی اور توجہ کی ،تو انہیں نبی اکرمﷺنظر آئے۔ نبی اکرم ﷺنے انہیں اشارہ کیا کہ تم اپنی جگہ پرر ہو۔ تو حضرت ابوبکر ؓ نے اپنا سرآسمان کی طرف اٹھا کر الله تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور الٹے قدموں پیچھے ہٹ گئے۔ نبی اکرم ﷺآگے بڑھے جب نبی اکرم ﷺنے نمازمکمل کر لی تو آپ ﷺنے فرمایا: اے ابوبکر ! جب میں نے تمہیں اشارہ کیا پھرتم کو کس بات نے روکا؟ ( کہ تم میرے حکم پرعمل کرو) تو حضرت ابوبکرؓ نے عرض کی: الله تعالىٰ ،ابو قحافہ کے بیٹے کواللہ کے رسول ﷺکے آگے نہیں دیکھے گا۔ پھر نبی اکرم ﷺلوگوں کی طرف متوجہ ہوئے آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: اے لوگو! کیا وجہ ہے کہ جب نماز کے دوران تمہیں ضرورت پیش آئی تو تم نے تالیاں بجانا شروع کر دیں؟ تالیاں بجانے کا حکم خواتین کے لیے ہے ،مردوں کے لیے سبحان اللہ کہنے کا حکم ہے۔ جس شخص کونماز کے دوران (امام کو متو جہ کرنے کے لیے ) کوئی ضرورت پیش آجائے ،تو وہ جائے،تو وہ سبحان اللہ کہے۔
سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو حَازِمٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،
Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 956
