Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 956

956 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ [ص:170]: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِي شَيْءٍ وَقَعَ بَيْنَهُمْ حَتَّى تَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ، وَاحْتُبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَتَخَلَّلُ الصُّفُوفَ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ الَّذِي يَلِي أَبَا بَكْرٍ أَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيحِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْتَفَتَ، فَأَبْصَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اثْبُتْ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَشَكَرَ اللَّهَ وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ حِينَ أَشَرْتُ إِلَيْكَ؟» ، فَقَالَ: مَا كَانَ اللَّهُ لِيَرَى ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ انْحَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّاسِ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا لَكَمْ حِينَ نَابَكُمْ فِي صَلَاتِكُمْ شَيْءٌ أَخَذْتُمْ فِي التَّصْفِيحِ، إِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ، وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَقُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ "

حضرت سہل بن سعدؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺبنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کروانے کے لیے تشریف لے گئے، کیونکہ ان کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، یہاں تک کہ انہوں نے ایک دوسرے کو پتھر بھی مارے تھے۔ اس دوران نماز کا وقت ہو گیا حضرت بلال ؓنے اذان دی۔نبی اکرمﷺوہیں رکے رہے۔ حضرت ابو بکرؓ لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھ گئے پھر نبی اکرمﷺتشریف لے آ ئے۔ آپ ﷺصفوں کے درمیان میں سے گزرتے ہوئے تشریف لائے جب آپﷺ حضرت ابو بکرؓ کے پیچھے والی صف تک پہنچے، تو لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کیں۔ حضرت ابوبکر ؓایک ایسے فرد تھے، جو نماز کے دوران ادھر ادھر توجہ نہیں کرتے تھے، جب انہوں نے تالیوں کی آواز سنی اور توجہ کی ،تو انہیں نبی اکرمﷺنظر آئے۔ نبی اکرم ﷺنے انہیں اشارہ کیا کہ تم اپنی جگہ پرر ہو۔ تو حضرت ابوبکر ؓ نے اپنا سرآسمان کی طرف اٹھا کر الله تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور الٹے قدموں پیچھے ہٹ گئے۔ نبی اکرم ﷺآگے بڑھے جب نبی اکرم ﷺنے نمازمکمل کر لی تو آپ ﷺنے فرمایا: اے ابوبکر ! جب میں نے تمہیں اشارہ کیا پھرتم کو کس بات نے روکا؟ ( کہ تم میرے حکم پرعمل کرو) تو حضرت ابوبکرؓ نے عرض کی: الله تعالىٰ ،ابو قحافہ کے بیٹے کواللہ کے رسول ﷺکے آگے نہیں دیکھے گا۔ پھر نبی اکرم ﷺلوگوں کی طرف متوجہ ہوئے آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: اے لوگو! کیا وجہ ہے کہ جب نماز کے دوران تمہیں ضرورت پیش آئی تو تم نے تالیاں بجانا شروع کر دیں؟ تالیاں بجانے کا حکم خواتین کے لیے ہے ،مردوں کے لیے سبحان اللہ کہنے کا حکم ہے۔ جس شخص کونماز کے دوران (امام کو متو جہ کرنے کے لیے ) کوئی ضرورت پیش آجائے ،تو وہ جائے،تو وہ سبحان اللہ کہے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو حَازِمٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 956

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 957

957 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْقَوْمِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ، فَارْأَ فِيَّ رَأْيَكَ [ص:171]، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنْكِحْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِلرَّجُلِ: «هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ تُعْطِيهَا إِيَّاهُ؟» فَقَالَ: لَا، قَالَ: «فَاذْهَبْ فَاطْلُبْ شَيْئًا» ، فَذَهَبَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، قَالَ: «اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ» ، فَذَهَبَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا وَجَدْتُ شَيْئًا وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟» قَالَ: نَعَمْ سُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا، قَالَ: «فَاذْهَبَ فَقَدْ زَوَّجْتُكُهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ»

حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺکے پاس موجود افراد میں شامل تھا۔ ایک خاتون آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی یارسول اللہﷺ! میں خود کو آپﷺکو ہبہ کرتی ہوں، تو آپﷺ میرے بارے میں اپنی رائے کا جائزہ لے لیں۔ ایک صاحب کھڑے ہوئے ،انہوں نے عرض کی : یا رسول الله (ﷺ)! اس کے ساتھ میری شادی کر دیں، اگر آپ ﷺکو اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرمﷺخاموش رہے وہ عورت پھر کھڑی ہوئی اس نے پھر یہی گزارش کی۔ نبی اکرم ﷺنے ان صاحب سے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے جسے تم (مہر کے طور پر)اسے دے سکو؟انہوں نے عرض کی:جی نہیں! نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جاؤ اور جا کر کچھ تلاش کرو! وہ صاحب گئے پھر واپس تشریف لائے انہوں نے عرض کی :یارسول اللہ(ﷺ)! مجھے کوئی چیز نہیں ملی۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جاؤ اور تلاش کرو، اگر چہ لو ہے کی ایک انگوٹھی ہی ہو۔ وہ صاحب گئے پھر آئے اور عرض کی :یا رسول الله (ﷺ)! مجھے کوئی چیز نہیں ملی لوہے کی کوئی انگوٹھی بھی نہیں ملی۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: کیا تمہیں قرآن آتا ہے؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں! فلاں فلاں سورت آتی ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جاوتمہیں جو قرآن آتا ہے اس کی وجہ سے میں نے تمہاری شادی اس کے ساتھ کر دی۔

كُنْتُ فِي الْقَوْمِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبُو حَازِمٍ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 957

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 958

958 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ: اخْتَلَفَ النَّاسُ بِأَيِّ شَيْءٍ دُوِيَ جُرْحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ؟ فَسَأَلُوا سَهْلًا، وَكَانَ مِنْ آخِرِ مَنْ بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ [ص:172]، فَقَالَ: مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي، «كَانَتْ فَاطِمَةُ تَغْسِلُ عَنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّمَ، وَعَلِيٌّ يَأْتِي بِالْمَاءِ فِي تُرْسِهِ، فَأُخِذَ حَصِيرٌ فَأُحْرِقَ فَحُشِيَ بِهِ جُرْحُهُ»

ابوحازم بیان کرتے ہیں۔ لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا کہ غزوہ احد کے دن جب نبی اکرم ﷺزخمی ہوئے تھے تو آپ ﷺکا علاج کس طرح کیا گیا تھا؟ لوگوں نے اس بارے میں حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ سے دریافت کیا۔ وہ مدینہ منورہ میں باقی رہ جانے والے آخری صحابی رسول ﷺتھے۔ تو حضرت سہل ؓ نے بتایا: اب کوئی ایسا شخص باقی نہیں رہا جو اس بارے میں مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہو۔ سیدہ فاطمہؓ نے نبی اکرم ﷺکے چہرہ مبارک سے خون دھویا تھا۔ حضرت علی ؓ اپنی ڈھال میں پانی لے کر آئے تھے، پھر چٹائی لے کر اسے جلایا گیا اور اسے نبی اکرم ﷺکے زخم پر لگادیا گیا۔

أَبُو حَازِمٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 958

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 959

959 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا»

حضرت سہل بن سعدؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا ہے: "جنت میں ایک کوڑ ارکھنے کی جگہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے۔"

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو حَازِمٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 959

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ قَارِبٍ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 960

960 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِبٍ، أَوْ مَارِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ، يَقُولُ: «يُرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ» وَأَشَارَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَمَدَّ الْحُمَيْدِيُّ يَمِينَهُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ، فَقَالَ: «يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ، فَقَالَ: «يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ، فَقَالَ: «وَالْمُقَصِّرِينَ» وَأَشَارَ الْحُمَيْدِيُّ بِيَدِهِ، فَلَمْ يَمُدَّ مِثْلَ الْأَوَّلِ، قَالَ سُفْيَانُ: " وَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَارِبٍ [ص:174]، وَحِفْظِي قَارِبٍ، وَالنَّاسُ يَقُولُونَ: قَارِبٌ كَمَا حَفِظْتُ، فَأَنَا أَقُولُ: قَارِبٌ، أَوْ مَارِبٌ "

وہب بن عبد اللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حجۃالوداع کے موقع پر میں نے نبی اکرم ﷺکویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔"اللہ تعالیٰ سر منڈوانے والوں پررحم کرے۔"پھر امام حمیدی نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اس طرح اشارہ کیا انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کو پھیلایا۔ لوگوں نے عرض کی یارسول اللہ(ﷺ)! بال چھوٹے کروانے والوں کے لیے بھی (دعا کردیئجے) نبی اکرم ﷺنے فرمایا: الله تعالیٰ سرمنڈوانے والوں پررحم کرے۔ لوگوں نے عرض کی: یارسول الله (ﷺ)!بال چھوٹے کروانے والوں کے لیے بھی (دعا کردیئجے) تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: الله تعالیٰ سرمنڈوانے والوں پررحم کرے۔ لوگوں نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)!بال چھوٹے کروانے والوں کے لیے بھی (دعا کردیئجے)تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: اللہ تعالی ٰبال چھوٹے کروانے والوں (پر بھی رحم کرے) اس مرتبہ حمیدی نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا لیکن انہوں نے پہلی مرتبہ کی مانند اسے نہیں پھیلایا۔ سفیان کہتے ہیں : میں نے اپنی تحریر میں راوی کا نام ”مارب" دیکھا ہے اور میری یاداشت کے مطابق ان کانام ” قارب“ ہے۔ لوگ بھی انہیں ’’قارب‘‘ ہی بیان کرتے ہیں: جس طرح مجھے یاد ہے۔ تاہم میں یہ کہتا ہوں کہ اس کا نام یا "قارب“ ہے یا"مارب‘‘ ہے۔

«يُرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ» وَأَشَارَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَمَدَّ الْحُمَيْدِيُّ يَمِينَهُ، ← رَسُولَ اللَّهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← وَهْبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِبٍ، أَوْ مَارِبٍ، ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 960

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنِ خَنْبَشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 961

961 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ خَنْبَشٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُمْرَةٌ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ كَحِجَّةٍ»

حضرت ابن حنبشؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: "رمضان کے مہینے میں عمرہ کرناحج کی مانند ہے"۔

ابْنِ خَنْبَشٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 961

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 962

962 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں ،نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: "جب قرآت کرنے والا (امام) آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔ کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، تو جس شخص کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے ساتھ ہو اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 962

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 963

963 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ وَحَفِظْتُهُ مِنْهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِكَةٌ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمْ، الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ، وَاسْتَمَعُوا الْخُطْبَةَ، فَالْمُهَجِّرُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي بَقَرَةُ، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي كَبْشًا، حَتَّى ذَكَرَ الدَّجَاجَةَ وَالْبَيْضَةَ» [ص:176]، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سُفْيَانُ: مَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، ذَكَرَ الْأَغَرَّ قَطُّ، مَا سَمِعْتُهُ إِلَّا عَنْ سَعِيدٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: جب جمعہ کا دن آتا ہے، تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر ایک دروازے پر فرشتے موجود ہوتے ہیں جو لوگوں کی آمد کے اعتبار سے ان کے نام نوٹ کرتے ہیں۔ پہلے آنے والوں کا نام پہلے لکھا جاتا ہے ،پھر جب امام آجاتا ہے ،تو (فرشتوں کے ) صحیفے لپیٹ لیے جاتے ہیں اور وہ خطبہ سننے لگتے ہیں تو جمعہ کے دن جلدی جانے والا اس طرح ہے جیسے وہ اونٹ کی قربانی کرتا ہے، پھر اس کے بعد والا اس طرح ہے جیسے وہ گائے کی قربانی کرتا ہے ،پھر اس کے بعد والا اس طرح ہے جیسے وہ دنبے کی قربانی کرتا ہے" یہاں تک کہ راوی نے مرغی اور انڈے کا بھی ذکر کیا۔امام حمیدی کہتے ہیں : سفیان سے کہا گیا: دیگر محد ثین نے اس روایت کے بارے میں یہ بات بیان کی ہے کہ یہ روایت "اغر "نامی راوی سے منقول ہے ،تو سفیان نے کہا: میں نے زہری کو کبھی بھی"اغر "کا تذکرہ کرتے ہوئے نہیں سنا۔ میں نے توا نہیں یہی سنا ہے کہ انہوں نے اسے سعید کے حوالے سے حضرت ابو ہر یرہ ؓ سے روایت کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ ← الزُّهْرِيَّ وحَفِظْتُهُ مِنْهُ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 963

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 964

964 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَونَ، وَإِيتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكَمْ فَاقْضُوا»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں ،نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: "جب تم نماز کے لیےآو تو دوڑتے ہوئے نہ آو بلکہ چلتے ہوئے آوتم پرسکون لازم ہے جتنا حصہ تمہیں ملے اسے ادا کر لو اور جو گزر جائے اسے بعد میں ادا کرلو"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 964

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 965

965 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْفِطْرَةُ خَمْسٌ، أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: الْخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ "

حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"فطرت پا نچ چیز ہیں"۔ (راوی کو شک ہے شائد یہ الفاظ ہیں)"پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں،، ختنہ کرنا، زیر ناف بال صاف کرنا، ناخن تراشنا، بغلوں کے بال صاف کرنا اور موچھیں چھوٹی کرنا“۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 965

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 966

966 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُصَلِّي أَحَدُنَا فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ» وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لِرَجُلٍ يَسْأَلُهُ: «أَتَعْرِفُ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَإِنَّهُ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَإِنَّ ثِيَابَهُ مَوضُوعَةٌ عَلَى الْمِشْجَبِ»

حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتے ہیں: ایک شخص کھڑا ہوا اس نے نبی اکرمﷺسے سوال کیا: کیا کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز ادا کر سکتا ہے؟نبی اکرم ﷺنے فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہوتے ہیں؟ حضرت ابو ہریرہ ؓ نے اس شخص سے فرمایا: جس نے ان سے سوال کیا تھا، کیا تم ابو ہریرہ ؓ کو جانتے ہو؟ وہ ایک ہی کپڑے میں نماز ادا کر لیتا ہے۔ حالانکہ اس کا دوسرا کپڑا کھونٹی پر لٹکا ہوا ہوتا ہے۔

النَّبِيُّ «أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ» ← قَامَ رَجُلٌ فَسَأَلَ النَّبِيَّ أَيُصَلِّي أَحَدُنَا فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ؟ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 966

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 967

967 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ كَمَا أَقُولُ لَكَ لَا نَحْتَاجُ فِيهِ إِلَى أَحَدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّى، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ: اللَّهُمُّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا» ، فَمَا لَبِثَ أَنْ بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَسْرَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ، أَوْ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ» ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ»

حضرت ابو ہر یرہ ؓ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی مسجد میں داخل ہوا۔ نبی اکرم ﷺتشریف فرما تھے۔ اس نے کھڑے ہوکر نماز ادا کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد اس نے دعامانگی۔"اے اللہ! مجھ پر اور حضرت محمد ﷺپررحم کر اور ہمارے ساتھ اورکسی پررحم نہ کرنا"۔ نبی اکرمﷺاس کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشادفرمایا: "تم نے ایک کشادہ چیز کوتنگ کر دیا ہے"۔اس کے بعد وہ مسجد میں ہی پیشاب کرنے لگا تو لوگ تیزی سے اس کی طرف لپکنے لگے تو نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا:اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: "تمہیں آسانی فراہم کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے تمہیں تنگی کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔"

«إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ» ← رَسُولُ اللَّهِ «أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ، أَوْ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ» ثُمَّ ← «لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا» فَمَا لَبِثَ أَنْ بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَسْرَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، ← اللَّهُمُّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ← فَقَامَ فَصَلَّى، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، ← دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ، وَالنَّبِيُّ جَالِسٌ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيُّ كَمَا أَقُولُ لَكَ لَا نَحْتَاجُ فِيهِ إِلَى أَحَدٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 967

chevron_left Previous
1…353637…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter