Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 932

932 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو غَالِبٍ صَاحِبُ الْمِحْجَنِ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ أَبْصَرَ رُءُوسَ خَوَارِجَ عَلَى دَرَجِ دِمَشْقٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «كِلَابُ أَهْلِ النَّارِ، كِلَابُ أَهْلِ النَّارِ، كِلَابُ أَهْلِ النَّارِ» ، ثُمَّ بَكَى، ثُمَّ قَالَ: «شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ، وَخَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوا» قَالَ أَبُو غَالِبٍ: أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، إِنِّي إِذَنْ لَجُرِئٌ، سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ وَلَا ثَلَاثٍ

ابوغالب بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوامامہ باہلی ؓ کو دیکھا انہوں نے دمشق کی سیڑھی پر خارجیوں کے سر ملاحظہ کیے، تو ارشاد فرمایا: میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے۔"یہ اہل جہنم کے کتے ہیں۔ اہل جہنم کے کتے ہیں۔ یہ اہل جہنم کے کتے ہیں۔“ پھر حضرت ابو امامہ ؓرو پڑے پھر انہوں نے ارشادفرمایا: "یہ آسمان کے نیچے قتل ہونے والے بدترین افراد ہیں ۔" اور سب سے بہتر وہ لوگ ہوں گے جو ان کے ساتھ جنگ کریں گے۔(میں نے دریافت کیا) کیا آپ نے خود نبی اکرم ﷺکی زبانی یہ بات سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں (اگر نہ سنی ہو اور پھر میں آپﷺکے حوالے سے اسے بیان کروں)تو پھرتو میں بڑی جرات کا مظاہرہ کروں گا۔میں نے نبی اکرم ﷺکی زبانی ایک مرتبہ نہیں ،دو مرتبہ نہیں، تین مرتبہ نہیں(اس سے بھی زیادہ مرتبہ) یہ بات سنی ہے۔

مِنْ رَسُولِ اللَّهِ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ وَلَا ثَلَاثٍ ← نَعَمْ، إِنِّي إِذَنْ لَجُرِئٌ، ← هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو غَالِبٍ: أَأَنْتَ ← «شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ، وَخَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوا» ← «كِلَابُ أَهْلِ النَّارِ، كِلَابُ أَهْلِ النَّارِ، كِلَابُ أَهْلِ النَّارِ» ثُمَّ بَكَى، ثُمَّ ← رَسُولِ اللَّهِ ← رَأَيْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ أَبْصَرَ رُءُوسَ خَوَارِجَ عَلَى دَرَجِ دِمَشْقٍ، فَقَالَ: ← أَبُو غَالِبٍ صَاحِبُ الْمِحْجَنِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 932

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 933

933 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُطَرَّحٌ أَبُو الْمُهَلَّبِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَغْبَطُ أَوْلِيَائِي عِنْدِي مَنْزِلَةً رَجُلٌ مُؤْمِنٌ خَفِيفُ الْحَاذِ ذُو حَظٍّ مِنَ الصَّلَاةِ غَامِضًا فِي النَّاسِ، فَعَجَّلْتُ مَنِيَّتَهُ، وَقَلَّتْ بَواكِيهِ، وَقَلَّ تُرَاثُهُ»

حضرت ابو امامہ ؓ، نبی اکرمﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں: "میرے ساتھیوں میں قدرومنزلت کے اعتبار سے میرے نزدیک سب سے زیادہ قابل رشک وہ مومن ہے، جس کی پشت کا بوجھ کم ہو (یعنی جس کا مال اور عیال کم ہوں)۔ جو بکثرت نوافل ادا کرتا ہوا گر چروہ لوگوں میں مشہور نہ ہو۔ جب اسے موت آجائے تو اس پر رونے والے کم ہوں اور اس کی وراثت کا مال بھی کم ہو۔"

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زَحْرٍ، ← مُطَرَّحٌ أَبُو الْمُهَلَّبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 933

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 934

934 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُطَرَّحٌ أَبُو الْمُهَلَّبِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَحِلُّ ثَمَنُ الْمُغَنِّيَةِ، وَلَا بَيْعُهَا، وَلَا شِرَاؤُهَا، وَلَا الِاسْتِمَاعُ إِلَيْهَا»

حضرت ابو امامہ ؓ، نبی اکرم ﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں: "گانے والی عورت کا معاوضہ حلال نہیں ہے اسے فروخت کرنا اور خریدنا بھی حلال نہیں ہے نہ ہی اسےسنناجائز ہے"۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زَحْرٍ، ← مُطَرَّحٌ أَبُو الْمُهَلَّبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 934

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ بِلَالِ بْنِ حَارِثٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 935

935 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الرَّجُلُ لَيْتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا تَبْلُغُ، فَيَكْتُبُ اللَّهُ بِهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيْتَكَلَّمَ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ، فَيَكْتُبُ اللَّهُ بِهَا رِضَاهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» ، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: «هَذَا مَا عِنْدِي يَبْلُغُ بِهِ كَمَا كَانَ يَقُولُهُ أَوَّلُ»

حضرت بلال بن حارث مزنی ؓ بیان کرتے ہیں:انہیں نبی اکرم ﷺکے اس فرمان کا پتہ چلا ہے۔’’آدمی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے متعلق کوئی بات کہتا ہے، جس کے بارے میں وہ یہ گمان نہیں کرتا کہ یہ بات کہاں تک جاسکتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کلمے کی وجہ سے قیامت کے دن تک کے لیے اس سے ناراضگی نوٹ کر لیتا ہے۔ اور کوئی شخص الله تعالیٰ کی رضا مندی سے متعلق کوئی بات کہتا ہے اور اسے یہ گمان نہیں ہوتا کہ یہ بات کہاں تک جائے گی ،تو الله تعالیٰ اس بات کی وجہ سے قیامت کے دن تک کے لیے اس شخص کے لیے رضا مندی نوٹ کر لیتا ہے۔" امام حمیدی کہتے ہیں : میرے نزدیک یہ روایت ان تک پہنچی ہے جیسا کہ انہوں نے پہلے یہ بات بیان کی ہے۔

بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ اللَّيْثِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 935

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ إِيَاسِ بْنِ عَبْدٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 936

936 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الْمِنْهَالِ، قَالَ: سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِيَّ، وَرَأَى أُنَاسًا يَبِيعُونَ الْمَاءَ، فَقَالَ: لَا تَبِيعُوا الْمَاءَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ» قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: «وَلَا أَدْرِي أَيَّ مَاءٍ هُوَ»

حضرت ایاس بن عبد مزنی ؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے انہوں نے کچھ لوگوں کو پانی فروخت کرتے ہوئے دیکھا تو ارشاد فرمایا:پانی فروخت نہ کرو کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺکو پانی فروخت کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں :مجھے نہیں معلوم کہ اس سے مراد کون سا پانی ہے؟

عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: «وَلَا أَدْرِي أَيَّ مَاءٍ هُوَ» ← بَيْعِ الْمَاءِ. ← رَسُولَ اللَّهِ «يَنْهَى ← لَا تَبِيعُوا الْمَاءَ فَإِنِّي ← إيَاسَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِيَّ وَرَأَى أُنَاسًا يَبِيعُونَ الْمَاءَ ← أَبُو الْمِنْهَالِ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 936

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ إِيَاسِ بْنِ عَبْدٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 937

937 - قَالَ سُفْيَانُ: «هُوَ عِنْدَنَا أَنْ يُبَاعَ فِي مَوْضِعِهِ الَّذِي أَخْرَجَهُ اللَّهُ فِيهِ» ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: «نَهَى عَنْ بَيْعِ نَقْعِ الْبِيرِ»

سفیان کہتے ہیں:ہمارے نزدیک اس سے مراد وہ پانی ہے، جسے اسی جگہ فروخت کیا جائے ،جہاں سے اللہ تعالیٰ نے اسے نکالا ہے۔ نبی اکرم ﷺسے یہ بات بھی نقل کی گئی ہے: آپ ﷺنے اضافی پانی کوفروخت کرنے سے منع کیا ہے۔

بَيْعِ نَقْعِ الْبِيرِ»

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 937

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمِ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 938

938 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ، قَالَ: «لَا تَأْكُلْ إِلَّا مَا ذَكَّيْتَ»

حضرت عدی بن حاتم طائی ؓبیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺسے لاٹھی کے ذریعے شکار کرنے کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:تم اسے نہ کھاؤ صرف وہ کھاؤ جسے تم نے ذبح کیا ہو۔

«لَا تَأْكُلْ إِلَّا مَا ذَكَّيْتَ» ← صيد المعراض ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 938

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمِ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 939

939 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ، فَقَالَ: «مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَمَا أَصَابَ بِعُرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّهُ وَقِيذٌ»

حضرت عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺسے لاٹھی کے ذریعے شکار کرنے کے بارے میں دریافت کیا ،تو آپ ﷺنے ارشادفرمایا: جو شکار اس کی دھار کے ذریعے مرا ہواسے کھا لو اور جو چوڑائی کی سمت لگنے سے مرا ہواسے نہ کھاؤ کیونکہ وہ چوٹ کھا کر مرا ہوا جانور ہوگا۔

صيد المعراض ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 939

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمِ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 940

940 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ [ص:161]، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ بِكَ إِذَا أَقْبَلَتِ الظَّعِينَةُ مِنْ أَقْصَى الْيَمَنِ إِلَى قُصُورِ الْحِيرَةِ لَا تَخَافُ إِلَّا اللَّهَ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِطَيِّئٍ مَقَانِبِهَا وَرِجَالِهَا، قَالَ: «يَكْفِيهَا اللَّهُ طَيِّئًا وَمَنْ سِوَاهَا» قَالَ مُجَالِدٌ: «فَلَقَدْ كَانَتِ الظَّعِينَةُ تَخْرُجُ مِنْ حَضْرَمَوْتَ حَتَّى تَأْتِيَ الْحِيرَةَ»

حضرت عدی بن حاتم ؓ روایت کرتے ہیں ،نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: "اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا، جب ایک عورت یمن کے دور دراز کے علاقے سے چل کر "حیرہ‘‘ کے محلات تک آئے گی اور اسے صرف اللہ تعالیٰ کا خوف ہوگا"۔ میں نے عرض کی :یارسول الله (ﷺ)! اس وقت طے قبیلے کے ڈاکوؤں اور (لٹیرے) افرادکا کیا بنے گا؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: اس عورت کے لیے الله تعالی ٰطے قبیلے اور باقی سب افراد کے حوالے سے کافی ہوگا۔ مجاہد نامی راوی کہتے ہیں: (ایک ایسا وقت بھی آیا) کہ جب کوئی عورت "حضرموت‘‘ سے روانہ ہوتی تھی اور "حیرہ‘‘ تک آجاتی تھی۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← الشَّعْبِيِّ، [ص:124] ← مجالد ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 940

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمِ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 941

941 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ؟ فَقَالَ: «حَتَّى يَتَبَيَّنَ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ» قَالَ عَدِيٌّ: فَأَخَذْتُ عِقَالَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْيَضُ وَالْآخَرُ أَسْوَدُ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَالَ سُفْيَانُ: شَيْئًا لَمْ أَحْفَظْهُ، وَقَالَ: «إِنَّمَا هُوَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ» فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: سَمِعْتَ هَذَا عَنْ مُجَالِدٍ؟ [ص:162] قَالَ: «نَعَمْ، وَكَانَ يُحْسِنُهُ وَلَكِنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ كُلَّهُ»

حضرت عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں:میں نے نبی اکرم ﷺسے روزے کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ ﷺنے ارشادفرمایا: (یعنی یہ تلاوت کی)’’جب تک سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ممتاز نہیں ہو جاتا۔ “حضرت عدی ؓکہتے ہیں:میں نے دو دھاگے لیے ان میں سے ایک سفید تھا اور دوسرا سیاہ تھا۔ میں ان دونوں کا جائزہ لیتا رہا تو نبی اکرم ﷺنے (کچھ ارشاد فر مایا) سفيان نامی راوی کہتے ہیں: نبی اکرمﷺکے الفاظ مجھے یا دنہیں ہیں بہرحال اس سے مراد رات اور دن تھا۔ سفیان سے دریافت کیا گیا:کیا آپ نے مجاہد کی زبانی یہ بات سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ انہوں نے اسے بڑے اچھے طریقے سے بیان کیا تھا، لیکن میں روایت کے مکمل الفاظ یاد نہیں رکھ سکا۔

«نَعَمْ، وَكَانَ يُحْسِنُهُ وَلَكِنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ كُلَّهُ» ← مُجَالِدٍ [ص:340] ← ھَذَا ← «إِنَّمَا هُوَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ» فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: ← سُفْيَانُ: شَيْئًا لَمْ أَحْفَظْهُ، ← رَسُولِ اللهِ شَيْئًا؟ ← عَدِيٌّ: فَأَخَذْتُ عِقَالَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْيَضُ وَالْآخَرُ أَسْوَدُ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِمَا، ← «حَتَّى يَتَبَيَّنَ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ» ← الصوم ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 941

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمِ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 942

942 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ الْمُعَلَّمِ، فَقَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ، فَإِنْ أَكَلَ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ خَالَطَتْ كِلَابَنَا كِلَابٌ أُخْرَى، فَقَالَ: «إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَى كَلْبِكَ»

حضرت عدی بن حاتمؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺسے تربیت یافتہ کتے کے شکار کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ ﷺنے ارشادفرمایا: جب تم اپنے تربیت یافتہ کتے کو چھوڑتے ہوئے اس پر اللہ کا نام لے لوتو جو شکار وہ تمہارے لیے کرے اسے تم کھالو۔اگر وہ خود اس شکار میں سے کچھ کھائے تو تم اسے نہ کھاؤ کیونکہ یہ شکار اس نے اپنے لیے کیا ہے۔میں نے عرض کی: یا رسول الله (ﷺ)! آپﷺکی کیا رائے ہے کہ اگر ہمارے کتوں کے ساتھ دوسرے کے بھی آکرمل جاتے ہیں؟ تو نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا:تم نے اپنے کتے پر الله کا نام ذکر کیا تھا۔

صَيْدِ الْكَلْبِ الْمُعَلَّمِ، ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 942

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 943

943 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «حَلَالٌ بَيِّنٌ وَحَرَامٌ بَيِّنٌ، وَشُبُهَاتٌ بَيْنَ ذَلِكَ، فَمَنْ تَرَكَ مَا اشْتَبَهُ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ كَانَ لِمَا اسْتَبَانَ لَهُ أَتْرَكَ، وَمَنِ اجْتَرَأَ عَلَى مَا شَكَّ فِيهِ، أَوْشَكَ أَنْ يُواقِعَ الْحَرَامَ، وَإِنَّ لِكُلٍ مَلِكٍ حِمًى، وَحِمَى اللَّهِ فِي الْأَرْضِ مَعَاصِيهِ»

حضرت نعمان بن بشیر ؓنے منبر پر یہ بات ارشادفرمائی :میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:’’حلال واضح ہے ،حرام بھی واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں، تو جو شخص ایسی چیز کو ترک کر دے جس کے گناہ ہونے کا شبہ ہو تو وہ اس چیز کو بدرجہ اولی ٰترک کرے گا، جو واضح طور پر گناہ ہے۔ اور جو شخص مشکوک معاملے کے بارے میں جرات کا مظاہرہ کرے ،تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ آگے چل کر حرام میں مبتلا ہو جائے۔ ہر بادشاہ کی چراگاہ ہوتی ہے اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ چراگاہ وہ امور ہیں، جنہیں اس نے گناہ قرار دیا ہے۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، عَلَى الْمِنْبَرِ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبُو فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 943

chevron_left Previous
1…333435…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter