Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 920

920 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، عَنِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كُنَّا نُصَلَّيْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا سَلَّمَ أَحَدُنَا رَمَى بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ هَكَذَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالَكُمْ تَرْمُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، أَوَلَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ، أَوْ إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ»

حضرت جابر بن سمرہ ؓبیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم ﷺکی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے ہم میں سے کوئی ایک شخص جب سلام پھیرتا تھا ،تو اپنے ہاتھ کے ذریعے دائیں طرف اور بائیں طرف اس طرح کہتا تھا: السلام علیکم ،السلام علیکم۔ تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: کیا وجہ ہے تم اپنے ہاتھ یوں ہلاتے ہو جس طرح یہ سرکش گھوڑوں کی دم ہوتے ہیں۔ کیاتمہارے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ آ دمی اپناہاتھ اپنے زانوں پر رکھے اور پھر اپنے دائیں طرف موجود اپنے بھائی کو سلام کرے اور بائیں طرف موجود اپنے بھائی کو سلام کرتے ہوئے "السلام علیکم ورحمة الله ،السلام علیکم ورحمة الله" کہہ دے۔

يَمِينِهِ وَمِنْ ← شِمَالِهِ هَكَذَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، ← یَّمِیْنِہٖ ← كُنَّا نُصَلَّيْ مَعَ النَّبِيِّ فَإِذَا سَلَّمَ أَحَدُنَا رَمَى بِيَدِهِ ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 920

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 921

921 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، قَالَ: جُرِحَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ، وَهُوَ يَقُولُ: «مَنْ يَدُلُّ عَلَى رَحْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ» ، فَخَرَجْتُ أَسْعى بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَقُولُ: مَنْ يَدُلُّ عَلَى رَحْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ حَتَّى أَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَحْلٍ قَدْ أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ وَدَعَا لَهُ، قَالَ: «وَأَرَى فِيهِ وَنَفَثَ عَلَيْهِ»

حضرت عبدالرحمٰن بن اظہرؓ بیان کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر حضرت خالد بن ولید ؓ زخمی ہو گئے نبی اکرم ﷺمیرے پاس سے گزرے میں اس وقت کمسن لڑکا تھا۔آپ ﷺیہ ارشادفرمارہے تھے۔ کون شخص خالد بن ولید کی رہائشی جگہ تک مجھے لے کے جائے گا؟ تو میں نبی اکرم ﷺکے آگے دوڑتا ہوا گیا۔میں یہ کہتا جا رہا تھا: کون شخص خالد بن ولید کی رہائشی جگہ تک پہنچائے گا ؟ یہاں تک کہ نبی اکرمﷺان کے پاس تشریف لائے وہ اس وقت پا لان کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہیں زخم لاحق ہوئے تھے۔ نبی اکرم ﷺان کے پاس تشریف فرما ہوئے آپ ﷺنے ان کے لیے دعائے رحمت کی۔ (راوی کہتے ہیں) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ "نبی اکرم ﷺنے انہیں دم کیا(یاان پرلعاب دہن لگایا)"۔

عبد الرحمن بن أزهر ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 921

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 922

922 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ بِأَحَادِيثَ فِيمَا مَسَّتِ النَّارُ، مِنْهَا مَنْ قَالَ: يَتَوَضَّأُ، وَمِنْهَا مَنْ قَالَ: لَا يَتَوَضَّأُ، فَاخْتَلَطَتْ عَلَيَّ، فَكَانَ مِمَّنْ قَالَ: «الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ» ، أَبُو سَلَمَةَ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأُمُّ حَبِيبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَأَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَزَّ كَتِفَ شَاةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ» [ص:146]، وَقَالَ الْآخَرُ: «أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمًا، وَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ» ، لَا أَشَكُّ أَنَّ الزُّهْرِيَّ حَدَّثَنَا عَنْهُمَا، إِنَّمَا أَشُكُّ لِأَنِّي لَا أَعْرِفُ حَدِيثَ ذَا مِنْ حَدِيثِ ذَا " قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ الزُّهْرِيُّ «يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ»

سفیان کہتے ہیں: زہری نے مجھے وہ روایات سنائیں جن میں آگ پر پکی ہوئی چیز(کھانے سے وضوٹوٹنے کا حکم ثابت ہوتا ہے)ان میں سے کچھ روایات میں یہ حکم تھا کہ ایسی صورت میں وضو کرناپڑتا ہے اور کچھ میں یہ حکم تھا کہ ایسی صورت میں وضو نہیں کرنا پڑتا ،تو یہ روایات میرے لیے خلط ملط ہو گئیں۔جن روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو لازم ہوتا ہے وہ روایات ابوسلمہ ،عمر بن عبدالعزیز، سیدہ ام حبیبہ ؓکے حوالے سے نبی اکرم ﷺسے اور حضرت ابو ہر یرہؓ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺسے اور حضرت زید بن ثابت ؓکے حوالے سے نبی اکرم ﷺسے منقول ہیں۔ سفیا ن کہتے ہیں:زہری نے علی بن عباس کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے ایک روایت مجھے سنائی اور جعفر بن عمر بن امیہ ضمری کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے بھی مجھے حدیث سنائی ۔(راوی بیان کرتے ہیں) ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے بکری کے شانے کا گوشت کا ٹا اور اسے تناول کیا پھر آپ ﷺنماز کے لیے تشریف لے گئے آپ ﷺنے نماز ادا کی اور ازسرنو وضو نہیں کیا۔ دوسرے راوی یہ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے گوشت کھایا اور نماز ادا کی اور آپﷺ نے از سر نو وضو نہیں کیا۔مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ زہری نے ان دونوں حضرات کے حوالے سے یہ روایات نقل کی ہیں ۔ مجھے شک یہ ہے کہ مجھے یہ نہیں پتہ کہ کون سی روایت کے الفاظ کس سے منقول ہیں ؟سفیان کہتے ہیں : زہری آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو لازم ہونے کے قائل تھے۔

أَبِيهِ ← أَبِيهِ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ: ← النَّبِيِّ ← النَّبِيِّ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، ← النَّبِيِّ وَأَبُو هُرَيْرَةَ، ← «الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ» أَبُو سَلَمَةَ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأُمُّ حَبِيبَةَ، ← لَا يَتَوَضَّأُ، فَاخْتَلَطَتْ عَلَيَّ، فَكَانَ مِمَّنْ ← يَتَوَضَّأُ، وَمِنْهَا مَنْ ← الزُّهْرِيُّ بِأَحَادِيثَ فِيمَا مَسَّتِ النَّارُ، مِنْهَا مَنْ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 922

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ الدِّيلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 923

923 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، قَالَ سُفْيَانُ: وَهَذَا أَجْوَدُ شَيْءٍ وَجَدْنَاهُ عِنْدَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ الدِّيلِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الْحَجُّ عَرَفَاتٌ، مَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ، أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةٌ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ»

حضرت عبد الرحمن بن یعمردیلیؓ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے: ”حج "وقوف عرفات کا نام ہے، جو شخص صبح صادق ہونے سے پہلے عرفہ پہنچ جاتا ہے، وہ حج کو پالیتا ہے۔ منیٰ کے مخصوص دن تین ہیں۔ جو دو دن گزرنے کے بعد جلدی چلا جائے ،تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے اور جوشخص ٹھہرارہے ،تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے"۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَعْمَرَ الدِّيلِيُّ ← بكير بن عطاء الليثي ← سُفْيَانُ: وَهَذَا أَجْوَدُ شَيْءٍ وَجَدْنَاهُ عِنْدَهُ، ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 923

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 924

924 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ الطَّائِيَّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّئٍ وَاللَّهِ مَا جِئْتُ حَتَّى أَتْعَبَتُ نَفْسِي وَأَنْضَيْتُ رَاحِلَتِي، وَمَا تَرَكْتُ جَبَلًا إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ شَهِدَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ وَقَدْ كَانَ وَقَفَ بِعَرَفَةَ قَبْلَ ذَلِكَ لَيْلًا أَوْ نَهَارَا فَقَدْ تَمٌّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ»

حضرت عروہ بن مضرسں طائی ؓ بیان کرتے ہیں:میں مزدلفہ میں نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! میں طے کے دو پہاڑوں سے یہاں آیا ہوں۔ اللہ کی قسم !جب میں یہاں پہنچا ہوں ،تو میں اپنے آپ کو تھکا چکا تھا۔ اپنی سواری کو تھکا چکا تھا میں نے ہر ایک پہاڑ پر وقوف کیا ہے۔ تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جوشخص ہمارے ساتھ اس نماز میں شریک ہوا اور وہ اس سے پہلے عرفہ میں رات کے وقت یادن کے وقت وقوف کر چکا ہو، تو اس کا حج مکمل ہوگیا۔ اس نے اپنے ذمے لازم چیز کو پورا کردیا۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَقُلْتُ: ← عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ الطَّائِيُّ ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 924

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 925

925 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: وَكَانَ أَحْفَظَهُمَا لِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ الطَّائِيَّ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَيْتُكَ السَّاعَةَ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّئٍ قَدْ أَكْلَلْتُ رَاحِلَتِي، وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي، فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ شَهِدَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ، وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى يُفِيضَ، وَقَدْ كَانَ وَقَفَ قَبْلَ ذَلِكَ بِعَرَفَةَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ»

حضرت عروہ بن مضرس طائیؓ بیان کرتے ہیں: میں مزدلفہ میں نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی:یارسول الله (ﷺ)!میں طے کے دو پہاڑوں سے اس وقت یہاں آیا ہوں۔ میں نے اپنی سواری کرتھکا دیا ہے ،خود کو تھکا دیا ہے۔ کیا میراحج ہوگیا؟ تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا :جو شخص ہمارے ساتھ اس نماز میں شریک ہوا اور اس نے ہمارے ساتھ وقوف کیا اور پھر روانہ ہواتو اگروہ روانگی سےپہلے عرفہ میں رات کے وقت یادن کے وقت وقوف کر چکا ہو، تو اس کا حج مکمل ہوگیا۔ اس نے اپنے ذمے لازم چیز کو پورا کردیا۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَقُلْتُ: ← عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ الطَّائِيُّ ← الشَّعْبِيِّ، ← وَكَانَ أَحْفَظَهُمَا لِهَذَا الْحَدِيثِ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 925

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 926

926 - ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُخْبِرُ، عَنِ ابْنِ سُرَاقَةَ أَوِ ابِنْ أَخِي سُرَاقَةَ، عَنْ سُرَاقَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ، فَلَمْ أَدْرِ مَا أَسْأَلُهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَمْلَأُ حَوْضِي، أَنْتَظِرُ ظَهْرِي يَرِدُ عَلَيَّ، فَتَجِيءَ الْبُهْمَةُ فَتَشْرَبُ، فَهَلْ لِي فِي ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَكَ فِي كُلِّ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ» قَالَ سُفْيَانُ: هَذَا الَّذِي حَفِظْتُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَاخْتَلَطَ عَلَيَّ مِنْ أَوَّلِهِ شَيْءٌ فَأَخْبَرَنِي وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بَعْضَ هَذَا الْكَلَامِ لَا أُخْلِصُ مَا حَفِظْتُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَمَا أَخْبَرَنِيهِ وَائِلٌ، قَالَ سُرَاقَةُ: أَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ، فَجَعَلْتُ لَا أَمُرُّ عَلَى مِقْنَبٍ مِنْ مَقَانِبِ الْأَنْصَارِ إِلَّا قَرَعُوا رَأْسِي، وَقَالُوا إِلَيْكَ إِلَيْكَ، فَلَمَّا انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ رَفَعْتُ الْكِتَابَ، وَقُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَقَدْ كَانَ كَتَبَ لِي أَمَانًا فِي رُقْعَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ، الْيَوْمُ يَوْمُ وَفَاءٍ وَبِرٍّ وَصِدْقٍ»

حضرت سراقہؓ بیان کرتے ہیں: میں "جعرانہ"کے مقام پر نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ میں آپ ﷺسے کیا سوال کروں میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! میں اپنے حوض کو بھرتا ہوں اور پھر اپنے جانور کا انتظار کرتا ہوں کہ وہ اس حوض تک آئے،اسی دوران کوئی اور جانور جاتا ہے اور وہ اس میں سے پی لیتا ہے ،تو کیا مجھے اس کا اجر ملے گا؟ نبی اکرم ﷺنے ارشاد فر مایا:تمہیں ہر پیاسے جاندار کو پانی پلانے کا اجر ملے گا۔سفیان کہتے ہیں:روایت کے یہ الفاظ میں نے زہری کی زبانی یادرکھے تھے ،لیکن اس کے ابتدائی حصے میں سے کچھ الفاظ میرے لیے خلط ملط ہو گئے، تو وائل بن داود نے زہری کے حوالے سے وہ بعض حصہ مجھے سنایا۔اب میں وضاحت نہیں کرسکتا کہ زہری کی زبانی مجھے کون سے الفاظ یاد تھے اور وائل نے مجھے کس چیز کے بارے میں بتایا؟ حضرت سراقہؓ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺاس وقت جعرانہ کے مقام پر موجود تھے۔ میں انصار کے جس بھی دستے کے پاس سے گزرا تو انہوں نے میرے سر پر مارتے ہوئے کہا چلے جاؤ۔ چلے جاؤ۔ جب میں نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے وہ مکتوب بلند کیا۔ میں نے عرض کی:میں ہوں ،یا رسول اللہﷺ ۔راوی کہتے ہیں:نبی اکرم ﷺاس سے پہلے ایک تحریر میں مجھے امان دے چکے تھے، تو نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا:سب سے بہترین دن وہ ہوتا ہے ،جس دن وعدے کو پورا کیا جائے اور سچ بولا جائے۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بِالْجِعْرَانَةِ، فَلَمْ أَدْرِ مَا أَسْأَلُهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: ← سراقةَ ← ابْنِ سُرَاقَةَ أَوِ ابِنْ أَخِي سُرَاقَةَ، ← الزهري يخبر ← سُفْيَانَ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 926

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ ابْنِ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 927

927 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْرَجَ، يُحُدِّثُ عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ: «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً أَظُنُّ أَنَّهَا الْعَصْرُ، فَقَامَ فِي الثَّانِيَةِ، وَلَمْ يَجْلِسْ، فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُسَلِّمَ» .

حضرت ابن بحسینہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺنے ہمیں ایک نماز پڑھائی میرا خیال ہے کہ وہ عصر کی نماز تھی ،تو آپ ﷺدور کعات ادا کرنے کے بعد کھڑے ہو گئے آپﷺبیٹھے نہیں، تو نماز کے آخر میں آپﷺنے سلام پھیرنے سے پہلے دومرتبہ سجدہ سہو کرلیا۔

ابْنِ بُحَیْنَۃَ، ← الْأَعْرَجِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 927

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ ابْنِ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 928

928 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «فَقَامَ فِي الَّتِي يُسْتَرَاحُ فِيهَا» وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ بُحَيْنَةَ، وَرُبَّمَا قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَالِكِ ابْنِ بُحَيْنَةَ

حضرت ابن بحسینہ ؓ کے حوالے سے یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ،تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں۔ "نبی اکرمﷺنے اس رکعت کے بعد کھڑے ہو گئے جب آپﷺنے بیٹھنا تھا"۔ سفیان نامی راوی بعض اوقات راوی کا نام عبد الله بن بحسینہ بیان کرتے ہیں :اور بعض اوقات عبداللہ بن مالک بن بحسینہ بیان کرتے ہیں۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِکٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ ← سُفْيَانُ: عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ بُحَيْنَةَ، وَرُبَّمَا ← «فَقَامَ فِي الَّتِي يُسْتَرَاحُ فِيهَا» وَرُبَّمَا ← النَّبِيِّ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ ← ابْنِ بُحَیْنَۃَ، ← الْأَعْرَجِ ← وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 928

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 929

929 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قال: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، سَمِعَهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، سَمِعَهُ مِنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمَّ قَوْمَكَ وَاقْدُرْهُمْ بِأَضْعَفِهِمْ، فَإِنَّ مِنْهُمُ الْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ»

حضرت عثمان بن ابوالعاص ثقفیؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے:تم اپنی قوم کی امامت کرو اور ان میں سے سب سے کمزور فردکا حساب رکھنا، کیونکہ لوگوں میں بڑی عمر کے لوگ، کمزور لوگ اور کام کاج والے لوگ ہوتے ہیں۔

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 929

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 930

930 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا»

حضرت عثمان بن ابو العاص ؓبیان کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺنے مجھ سے فرمایا تھا:تم ایسے شخص کو موذن رکھنا جو اذ ان دینے کا معاوضہ وصول نہ کرے۔

لِي رَسُولُ اللَّهِ «وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا» ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ← الْحَسَنِ، ← أَشْعَثَ، ← الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 930

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 931

931 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُعْتِبٌ التَّمِيمِيُّ وَكَانَ ثِقَةً خِيَارًا، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ فِي الْحُرْمَةِ كَأُمَّهَاتِهِمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْمُجَاهِدِينَ فِي أَهْلِهِ، فَيْخَبِّبُ فِي أَهْلِهِ إِلَّا نُصِبَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ لَهُ: يَا فُلَانُ هَذَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ خَانَكَ، فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ "، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «فَمَا ظَنُّكُمْ؟»

سلیمان بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : مجاہدین کی بیویاں پیچھے رہ جانے والوں کے لیے اپنی ماؤں کی طرح قابل احترام ہیں اور پیچھے رہ جانے والوں میں سے جوشخص کسی مجاہد کی بیوی کے حوالے سے خیانت کا مرتکب ہوگا، تو قیامت کے دن اسے اس مجاہد کے سامنے کھڑا کر دیا جائے گا اور اس مجاہد سے کہا جائے گا: اے فلاں ! اس فلاں بن فلاں نے تمہارے ساتھ خیانت کی تھی ، توتم اس کی نیکیوں میں سے جس قدر چاہوحاصل کرلو۔پھر نبی اکرم ﷺہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ ﷺنے ارشادفرمایا: تمہارا کیا گمان ہے؟

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← مُعْتِبٌ التَّمِيمِيُّ وَكَانَ ثِقَةً خِيَارًا، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 931

chevron_left Previous
1…323334…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter