Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 908

908 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَزِيَادُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ بِالرَّقَّةِ، فَأَخَذَ بِيَدِي زِيَادُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ فَأَقَامَنِي عَلَى رَجُلٍ بِالرَّقَّةِ، فَقَالَ: زَعَمَ هَذَا، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ» وَاسْمُهُ وَابِصَةُ بْنُ مَعْبَدٍ

ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں: میں اور زیاد بن ابوجعد"رقہ" میں تھے۔ زیاد بن ابو جعد نے میرا ہاتھ پکڑا اور’’رقہ" میں موجود ایک صاحب کے پاس لا کے مجھے کھڑا کر دیا۔ انہوں نے بتایا: یہ صاحب یہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ایک شخص کوصف کے پیچھے تنہا کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺنے اسے دوبارہ نماز ادا کرنے کی ہدایت کی۔ ان صاحب کا نام حضرت وابصہ بن معبدؓ تھا۔

هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 908

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 909

909 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيَّ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَرَأَيْتُهُ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ أَضْجَعَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَبَسَطَهَا، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ وَحَلَّقَ حَلَقَةً وَدَعَا هَكَذَا» وَنَصَبَ الْحُمَيْدِيُّ السَّبَّابَةَ، قَالَ وَائِلٌ: «ثُمَّ أَتَيْتُهُمْ فِي الشِّتَاءِ فَرَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي الْبَرَانِسِ»

حضرت وائل بن حجر حضرمیؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺکود یکھاجب آپ ﷺنماز کا آغاز کرتے تھے ،تو رفع یدین کرتے تھے جب رکوع میں جاتے تھے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے اس وقت بھی رفع یدین کرتے تھے۔ میں نے آپ ﷺکو دیکھا کہ جب آپ ﷺنماز کے دوران بیٹھتے تھے، تو آپ ﷺاپنی بائیں ٹانگ کو بچھا لیتے تھے اور دائیں پاؤں کو کھڑ ارکھتے تھے۔آپ ﷺاپنا بایاں ہاتھ بائیں زانوں پر رکھتے تھے اور اسے کھول کے رکھتے تھے، جبکہ دایاں ہاتھ دائیں زانوں پر رکھتے تھے، جس میں آپ ﷺدوانگلیوں کو بند کر کے ان کا حلقہ بناتے تھے اور اس طرح دعامانگتے تھے۔ امام حمیدی نے شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بتایا۔حضرت وائل بن حجرؓبیان کرتے ہیں:میں پھر سردی کے موسم میں وہاں آیا، تو میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ لوگ اپنی چادروں کے اندر ہی رفع یدین کررہے تھے۔

وائل بن حجر الحضرمي ← أَبِي ← عاصمِ بنِ كليبٍ الجرميِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 909

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 910

910 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَلْوٍ مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَمَضْمَضَ، ثُمَّ مَجَّهُ فِي الدَّلْوِ مِسِكًا، أَوْ قَالَ أَطْيَبَ مِنَ الْمِسْكِ، وَاسْتَنْثَرَ خَارِجًا مِنَ الدَّلْوِ»

حضرت وائل بن حجر ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں زم زم کا ڈول پیش کیا گیا آپ ﷺنے اسے پیا پھر آپﷺنے وضو کیا پھرکلی کی پھر آپ ﷺنے اس کلی کواس ڈول میں انڈیل دیا تو وہ مشک کی مانند تھایا اس سے بھی زیادہ پاکیزہ تھا۔ تاہم آپﷺنے ناک کوڈول سے باہر صاف کیا۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 910

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 911

911 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: خَذَفَ قَرَابَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ عِنْدَهُ، فَنَهَاهُ عَنْهَا، وَقَالَ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا، وَقَالَ: إِنَّهَا لَا تَصِيدُ صَيْدًا، وَلَا تَنْكَأُ عَدُوًّا، وَإِنَّهَا تَفْقَأُ الْعَيْنَ، وَتَكْسَرُ السِّنَّ " فَعَادَ فَخَذَفَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ مُغَفَّلٍ: «أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْهَا وَتَعُودُ، لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا»

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں:حضرت عبد الله بن مغفل ؓکے کسی قریبی عزیز نے کسی جانور کوکنکری ماری ان کی موجودگی میں ایسا ہوا تو حضرت عبداللہؓ نے اسے ایسا کرنے سے منع کیا اور یہ بات بیان کی : نبی اکرم ﷺنے اس سے منع کیا ہے۔ نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے: یہ (کنکری) شکار نہیں کرتی ہے، دشمن کوقتل نہیں کرتی ہے ،یہ صرف آنکھ پھوڑتی ہے اور دانت توڑتی ہے۔اس شخص نے دوبارہ یہ حرکت کی اور کنکری ماری تو حضرت عبد الله بن مغفل ؓنے اس سے کہا: میں نے تمہیں نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے حدیث بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺنے ایسا کرنے سے منع کیا ہے اور تم نے دوبارہ یہ حرکت کی ہے۔ میں تمہارے ساتھ بھی کلام نہیں کروں گا۔

خَذَفَ قَرَابَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ عِنْدَهُ، فَنَهَاهُ عَنْهَا، وَقَالَ: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 911

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 912

912 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، يَقُولُ: «كُنْتُ يَوْمَ حَكَمَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ غُلَامًا، فَنَظَرُوا إِلَى مُؤْتَزَرِي، فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ، فَهَا أَنَا ذَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ»

حضرت عطیہ قرظی ؓبیان کرتے ہیں: جس دن حضرت سعد بن معاذ ؓ کو بنو قریظہ کے بارے میں ثالث مقررکیا گیا تھا اس وقت میں لڑکا تھا۔ لوگوں نے میرے زیرناف حصے کا جائزہ لیا ہاں زیر ناف بال نہیں اگے ہوئے تھے اسی وجہ سے میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔

عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 912

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 913

913 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ، يَقُولُ: «كُنْتُ يَوْمَ حَكَمَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ غُلَامًا، فَشَكُّوا فِي، فَنَظَرُوا إِلَيَّ فَلَمْ يَجِدُوا الْمَواسِيَّ جَرَتْ عَلَيَّ فَاسْتُبْقِيتُ»

مجاہد بیان کرتے ہیں: میں نے کوفہ کی مسجد میں ایک صاحب کو یہ کہتے ہوئے سنا: جس دن حضرت سعد بن معاذؓ کو بنوقریظہ کے بارے میں ثالث مقرر کیا گیا تھا اس دن میں کم سن لڑکا تھا۔ ان لوگوں کو میرے (بالغ ہونے کے بارے میں)شک ہوا تو انہوں نے میراجائزہ لیا انہیں میرے زیرناف بال محسوس نہیں ہوئے اسی وجہ سے میں باقی رہ گیا۔

رَجُلًا فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ، ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 913

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي جُحَيْفَةَ وَهْبٍ السُّوَائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 914

914 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: مَشَيْتُ مَعَ أَبِي جُحَيْفَةَ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: " هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ "

ابن ابوخالد بیان کرتے ہیں: میں حضرت ابو حجیفہؓ کے ساتھ جمعہ کے لیے جارہاتھا میں نے ان سے دریافت کیا: کیا آپ نے نبی اکرمﷺکی زیارت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ حضرت امام حسن بن علیؓ نبی اکرمﷺکے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں۔

نَعَمْ، وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ ← مَشَيْتُ مَعَ أَبِي جُحَيْفَةَ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ ← ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 914

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي جُحَيْفَةَ وَهْبٍ السُّوَائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 915

915 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَمِسْعَرٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا آكُلُ مُتَّكِئًا»

حضرت ابوحجیفہ ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ہوں۔

أَبِي جُحَيْفَةَ ← عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ← زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَمِسْعَرٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 915

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي جُحَيْفَةَ وَهْبٍ السُّوَائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 916

916 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ مِغْوَلٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَوْنَ بْنَ أَبِي جُحَيْفَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجَ بِلَالٌ بِفَضْلِ وَضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَأَصَبْتُ مِنْهُ شَيْئًا وَلَمْ آلُ، قَالَ: وَنَصَبَ بِلَالٌ عَنَزَةً، «فَصَلَّى إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ الْكَلْبَ، وَالْمَرْأَةَ، وَالْحِمَارَ، يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ»

عون بن ابوجحیفہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حضرت بلالؓ نبی اکرم ﷺکے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر باہر آئے۔ راوی کہتے ہیں،:لوگ تیزی سے ان کی طرف لپکے۔ اس میں سے کچھ پانی مجھے بھی ملا۔ میں نے اس میں کوئی کوتاہی نہیں کی تھی ۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت بلال ؓنے نیز ہ گاڑنبی اکرم ﷺنے اس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کی، جبکہ کتے، خواتین ، گدھے اس نیزے کے دوسری طرف سے گزر رہے تھے۔

فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَأَصَبْتُ مِنْهُ شَيْئًا وَلَمْ آلُ، ← خَرَجَ بِلَالٌ بِفَضْلِ وَضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 916

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 917

917 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا، يَقُولُ: ثني دُكَيْنُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُزَنِيُّ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْبَعِمِائَةِ رَاكِبٍ نَسْأَلُهُ الطَّعَامَ، فَقَالَ: «يَا عُمْرُ اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُمْ، وَأَعْطِهِمْ» ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِنْدِي إِلَّا آصِعٍ مِنْ تَمْرٍ مَا تَقِيظُ عِيَالِي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: اسْمَعْ وَأَطِعْ، فَقَالَ عُمْرُ: سَمْعٌ وَطَاعَةٌ، قَالَ: فَانْطَلَقَ عُمَرُ حَتَّى أَتَى عِلْيَةً لَهُ، فَأَخْرَجَ مِفْتَاحًا مِنْ حُجُزَتِهِ فَفَتَحَهَا، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: ادْخُلُوا فَدَخَلُوا، وَكُنْتُ آخِرَ الْقَوْمِ دُخُولًا، فَأَخَذْتُ وَأَخَذْتُ، ثُمَّ الْتَفَتُّ فَإِذَا مِثْلُ الْفَصِيلِ مِنَ التَّمْرِ

حضرت دکین بن سعیدمزنی ؓبیان کرتے ہیں:ہم400 سواروں کے ہمراہ نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے آپﷺسے کھانے کے لیے مانگا، تو آپ ﷺنے فرمایا:اے عمر!جا وانہیں کھانا کھلاو اورانہیں عطیات دو۔ انہوں نے عرض کی:یارسول الله (ﷺ)! میرے پاس تو کھجوروں کے چند صاع ہیں۔ جو صرف میرے گھر والوں کے اس موسم کی خوراک کے لیے کفایت کریں گے۔ حضرت ابو بکرؓ بولے :تم اطاعت وفرمانبرداری کروتو حضرت عمر ؓنے عرض کی:میں اطاعت وفرمانبرداری کرتا ہوں۔راوی کہتے ہیں: پھر حضرت عمرؓگئے اور اپنے (اناج کے کمرے کے پاس آے) انہوں نے اپنے تہبند باندھنے کی جگہ سے چابی نکالی اس کے دروازے کو کھولا اور حاضرین سے کہا :تم لوگ اندر آو۔ میں اندر داخل ہونے والا سب سے آخری فردتھا۔ میں نے بھی وہاں سے خوراک حاصل کی، میں نے توجہ کی، تو وہاں اتنی کھجوریں تھیں ،جتنا اونٹنی کا بچہ ہوتا ہے، جس سے دودھ چھڑایا گیا ہو۔

«يَا عُمَرُ، اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُمْ وَأَعْطِهِمْ»، ← أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ فِي أَرْبَعِمِائَةِ رَاكِبٍ نَسْأَلُهُ الطَّعَامَ، ← دُكَيْنُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُزَنِيُّ، ← قَيْسًا ← ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 917

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا عَدِيِّ بْنِ عُمَيْرَةَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 918

918 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ عُمَيْرَةَ الْكِنْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَأَتِ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَنْ كَتَمَنَا خَيْطًا أَوْ مِخْيَطًا فَمَا سِوَاهُ، فَهُوَ غُلُولٌ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَسْوَدُ قَصِيرٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْبَلْ مِنِّي عَمَلَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَا ذَاكَ؟» ، قَالَ: الَّذِي قُلتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَنَا أَقُولُ الْآنَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَأْتِ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى»

و حضرت عدی بن عمیرہ کندیؓ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرمﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "اے لوگو! تم میں سے جس شخص کو ہم کسی کام کے لیے اہلکار مقرر کریں تو وہ تھوڑی یازیادہ جو چیز بھی ہو اسے لے کر آئے۔ جوشخص دھاگے یا سوئی یا اس کے علاوہ جس چیز کوبھی ہم سے چھپائے گا تویہ خیانت ہوگی، جسےساتھ لے کر وہ قیامت کے دن آئے گا"۔ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک سیاہ فام چھوٹے قد کا ایک شخص کھڑا ہوا، وہ منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے۔ اس نے عرض کی یارسول الله (ﷺ)! آپ ﷺنے مجھے جس کام کے لیے اہلکار مقرر کیا تھا میں اس سے دست بردار ہوتا ہوں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: وہ کیوں؟ اس نے عرض کی آپ ﷺنے جویہ فرمایا ہے ،اس کی وجہ سے ،تو نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا: میں اب بھی یہ کہہ رہا ہوں کہ ہم تم میں سے جس کسی کو جس کام کے لیے اہلکار مقرر کریں، تو وہ تھوڑی یا زیادہ(ہر) چیز کو لے آئے۔ جواسے دیا جائے اسے حاصل کر لے اور جس سے اسے منع کیا جائے اس سے باز رہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ ← قَيْسًا ← إِسْمَاعِيلُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 918

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا عَدِيِّ بْنِ عُمَيْرَةَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 919

919 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ [ص:142]: اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ عَلَى الصَّدَقَةَ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: «اتَّقِ يَا أَبَا الْوَلِيدِ أَنْ تَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَعِيرٍ تَحْمِلُهُ عَلَى رَقَبَتِكَ لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوارٌ، أَوْ شَاةٌ لَهَا ثُؤَاجٌ» ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ ذَا لِكَذَا؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَ عُبَادَةُ: فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَعْمَلُ عَمَلًا عَلَى اثْنَيْنِ أَبَدًا

طاؤس کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے حضرت عبادہ بن صامت ؓکو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے اہلکار مقرر کیا۔ پھر آپ ﷺنے ان سے فرمایا: اے ابوولید! اس بات سے بچنے کی کوشش کرنا کہ قیامت کے دن تم ایک اونٹ لے کر آؤ جسے تم نے اپنی گردن پر رکھا ہوا ہو اور وہ آوازیں نکال رہایا گردن پرگائے رکھی ہوئی ہو اور وہ آوازیں نکال رہی ہو۔ یا بکری رکھی ہوئی ہو جو منمنارہی ہو۔ انہوں نے عرض کی یارسول الله (ﷺ)! کیا اس طرح بھی ہوگا؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جی ہاں۔ حضرت عبادہ ؓبیان کرتے ہیں: اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺکو ان کے ہمراہ معبوث کیا ہے ،میں کبھی بھی دو آدمیوں کے لیے بھی (سرکاری کام) نہیں کروں گا۔

[ص:142]: اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ عَلَى الصَّدَقَةَ، ثُمَّ ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 919

chevron_left Previous
1…313233…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter