Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 896

896 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَرْقَمَ الزُّهْرِيِّ، أَنَّهُ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فَصَحِبَهُ قَوْمٌ، فَكَانَ يَؤُمُّهُمْ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ يَوْمًا، وَقَدَّمَ رَجُلًا، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَوَجَدَ أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ فَلْيَبْدَأْ بِالْغَائِطِ»

حضرت عبد الله بن ارقم زہری ؓکے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک مرتبہ وہ مکہ تشریف لے جارہے تھے کچھ لوگ ان کے ساتھ تھے وہ ان کی امامت کیا کرتے تھے۔ ایک دن انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی اور ایک اور شخص کو آگے کر دیا اور یہ بات بیان کی : نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے:"جب نماز کے لیے اقامت کہہ لی جائے اور کسی شخص کو قضائے حاجت کی ضرورت محسوس ہو تو اسے پہلے قضائے حاجت کر لینی چاہیے۔"

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 896

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 897

897 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، قَالَتْ لَهُ أُمُّ مُبَشِّرٍ: اقْرَأْ عَلَى مُبَشِّرٍ السَّلَامَ، فَقَالَ لَهَا كَعْبٌ: يَا أُمَّ مُبَشِّرٍ، أَهَكَذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَتْ: لَا أَدْرِي ضَعُفْتُ فَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، فَقَالَ كَعْبٌ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ نَسَمَةَ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ خَضِرٌ تَعْلَقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ»

حضرت کعب بن مالکؓ کے صاحبزادے اپنے والد کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں، جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا، تو سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: آپ مبشر کو میری طرف سے سلام کہیے گا تو حضرت کعب نے ان سے کہا: اے ام بشر! کیا نبی اکرم ﷺنے اس طرح ارشادفرمایا ہے؟ تو اس خاتون نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم میں بوڑھی ہوگئی ہوں، میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہوں۔تو حضرت کعب ؓ بولے: نبی اکرمﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے۔"مومن کی جان سبز پرندے کی شکل میں ہوتی ہے، جو جنت کے پھلوں کو کھاتی ہے۔"

لَهَا كَعْبٌ: يَا أُمَّ مُبَشِّرٍ، أَهَكَذَا ← لَهُ أُمُّ مُبَشِّرٍ: اقْرَأْ عَلَى مُبَشِّرٍ السَّلَامَ، ← أَبِيهِ، أَنَّهُ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، ← ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 897

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَمِّ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 898

898 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَعَثَ فُلَانًا - سَمَّاهُ الزُّهْرِيُّ - إِلَى ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ نَهَاهُ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ»

حضرت کعب بن مالکؓ کے صاجزادے اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں جب نبی اکرمﷺنے فلاں صاحب کو روانہ کیا (ان کا نام زہری نے ذکر کیا تھا، لیکن سفيان نامی راوی اسے بھول گئے)انہیں ابن ابوحقیق کی طرف بھیجا تھا، تو نبی اکرمﷺنے انہیں خواتین اور بچوں کوقتل کرنے سے منع کر دیا۔

عَمِّہٖ ← ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 898

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 899

899 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخُولَانِيُّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ» ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: «وَلَمْ أَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ حَتَّى أَتَيْتُ الشَّامَ»

حضرت ابوثعلبہ حشنی ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ہرنو کیلے دانتوں والے درندے کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔زہری کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث نہیں سنی تھی یہاں تک کہ جب میں شام آیا(تو وہاں میں نے یہ حدیث سنی)

أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 899

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 900

900 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ» ، قَالَ: فَجَاءَ عُمَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ ذَئِرْنَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ مُذْ نَهَيْتَ عَنْ ضَرْبِهِنَّ، فَأَذِنَ لَهُمْ، فَضَرَبُوا، فَأَطَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ نِسَاءٌ كَثِيرٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ أَطَافَ اللَّيْلَةَ بِآلِ مُحَمَّدٍ سَبْعُونَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ تَشْتَكِي زَوْجَهَا، وَلَا تَجِدُونَ أُولَئِكَ خِيَارَكُمْ»

حضرت ایاس بن عبداللہ ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے: "اللہ کی کنیزوں کو نہ مارو"۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عمرؓ آئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ (ﷺ)!اس وقت سے خواتین اپنے شوہروں کے بارے میں شیر ہوگئی ہیں ، جب سے آپ ﷺ نے انہیں مارنے سے منع کیا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو اس کی اجازت دے دی۔ لوگوں نے ان کی پٹائی کرنا شروع کی، تو نبی اکرمﷺ کی ازواج کے پاس بہت سی خواتین حاضر ہوئیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: گزشتہ رات محمد ﷺ کے گھر والوں کے پاس 70خواتین آئیں تھیں۔ ان سب نے اپنے شوہروں کی شکایت کی، تو تم ان لوگوں کو اپنے سے بہتر نہیں پاو گے ۔(یعنی اپنی بیوی کی پٹائی کرنے والا شخص اچھانہیں ہوتا)

إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 900

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 901

901 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحَجَّاجِ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرِّضَاعِ؟ قَالَ: «الْغُرَّةُ الْعَبْدُ أَوِ الْأَمَةُ»

حجاج اسلمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے عرض کی یارسول الله (ﷺ)!رضاعت کی وجہ سے لازم ہونے کے حق کو کون سی چیز ختم کردیتی ہے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: پیشانی، یعنی غلام یا کنیز ( کورضاعت کے معاوضے کے طور پر ادا کرنا چاہیے )

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← الْحَجَّاجِ الْأَسْلَمِيِّ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 901

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ سَعْدَةَ بْنِ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 902

902 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَرَامُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ سُفْيَانُ: هَذَا الَّذِي لَا شَكَّ فِيهِ، وَأَرَاهُ قَدْ ذَكَرَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مُحَيِّصَةَ، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ حَجَّامٍ لَهُ، «فَنَهَاهُ عَنْهُ» ، فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُهُ حَتَّى قَالَ لَهُ: «اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ، أَوْ أَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ»

حضرت سعد بن محیصہ ؓ بیان کرتے ہیں: حضرت محیصہؓ نے نبی اکرم ﷺسے اپنے غلام کی آمدن کے بارے میں دریافت کیا: جو پچھنے لگانے کا کام کرتا تھا، تو نبی اکرم ﷺنے انہیں اس سے منع کر دیا وہ اس بارے میں مسلسل نبی اکرم ﷺسے بات کرتے رہے یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا۔"تم اس (معاوضے کے ذریعے) اپنے اونٹ کو چارہ کھلا ویا اپنے غلام کو کھانا کھلاو (خود استعمال نہ کرنا)"۔

لَهُ: «اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ، أَوْ أَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ» ← كَسْبِ حَجَّامٍ لَهُ فَنَهَاهُ عَنْهُ فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُهُ حَتَّى ← أَبِيهِ، أَنَّ مُحَيِّصَةَ، سَأَلَ النَّبِيَّ ← سُفْيَانُ: هَذَا الَّذِي لَا شَكَّ فِيهِ، وَأَرَاهُ قَدْ ← حَرَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 902

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 903

903 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ «رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ هَكَذَا» وَقَبَضَ الْحُمَيْدِيُّ أَصَابِعَهُ الْأَرْبَعَةَ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ قَالَ أَبُو عَلِيٍّ يَعْنِي بِشْرَ بْنَ مُوسَى: «أَبُو بَكْرٍ الَّذِي وَصَفَ لَنَا» ، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: وَقَالَ سُفْيَانُ: " وَكَانَ زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ قَدْ حَدَّثَنِي بِأَرْبَعَةٍ سَمَاعَ ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَيْتُهُ فَنَسِيتُهُ إِلَّا هَذَا، فَقَالَ لِي زِيَادٌ: إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةٌ "

عامر بن عبد اللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں :انہوں نے نبی اکرم ﷺکو نماز کے دوران اس طرح نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ امام حمیدی نے اپنی چار انگلیاں بند کیں اور شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کیا۔ ابوعلی بشر بن موسیٰ نامی راوی کہتے ہیں: امام ابوبکر حمیدی نے ہمارے سامنے یہ کر کے دکھایا تھا۔ امام حمیدی یہ کہتے ہیں: سفیان نے یہ بات بیان کی ہے زیاد بن سعد نے چار روایات ایسی بیان کی ہیں جو انہوں نے حضرت عبدالله بن زبیر ؓکے حوالے سے نقل کی ہیں تاہم میں نے ان میں سے صرف یہی روایت ذکر کی ہے۔ باقی روایات میں بھول گیا ہوں ۔ زیاد نے مجھ سے کہا تھاوه چار روایات ہیں۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ أَنَّهُمَا سَمِعَا عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 903

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبِ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 904

904 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ صَاحِبِ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْبُدْنِ؟ قَالَ: «انْحَرْهُ، ثُمَّ اغْمِسْ خُفَّهُ فِي دَمِهِ، ثُمَّ اضْرِبْ بِهَا صَفْحَتَهُ، ثُمَّ خَلِّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ»

حضرت ناجیہ خزاعیؓ جو نبی اکرم ﷺکے قربانی کے جانوروں کے نگران تھے، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی یارسول الله (ﷺ)!جواونٹ تھک جائے اس کے ساتھ میں کیا طریقہ کار اختیارکروں؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا :تم اسے ذبح کر دو!پھرتم اس کے پاؤں کو اس کے خون میں ڈبوکر اسے اس اونٹ کے پہلو پر لگاو پھر اسے لوگوں کے لیے چھوڑ دو۔

قُلْتُ ← نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ صَاحِبِ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 904

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 905

905 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ، أَخْبَرَنَا زِرُّ بْنُ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، فَقَالَ لِي: مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: ابْتِغَاءُ الْعِلْمِ، قَالَ: أَنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَطْلُبُ، قُلْتُ: حَاكَ فِي نَفْسِي مَسْحٌ عَلَى الْخُفَّيْنِ بَعْدَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، وَكُنْتَ امْرَءًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُكَ أَسْأَلُكَ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرَيْنَ أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ، إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، لَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ» ، قُلْتُ: أَسَمِعْتَهُ يَذْكُرُ الْهَوَى بِشَيْءٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَهُ فِي مَسِيرٍ لَهُ إِذْ نَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِصَوْتٍ لَهُ جَهُورِيٍّ، يَا مُحَمَّدُ، فَأَجَابَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوٍ مِنْ صَوْتِهِ: «هَاؤُمُ» ، فَقُلْنَا لَهُ: اغْضُضْ مِنَ صَوْتِكَ، فَإِنَّكَ نُهِيتَ عَنْ هَذَا، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ لَا أَغْضُضُ مِنْ صَوْتِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْمَرْءُ يُحِبُّ الْقَوْمَ، وَلَمَّا يَلْحَقُ بِهِمْ، قَالَ: «الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ» [ص:131]، قَالَ: قَالَ: ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُحَدِّثُنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَالَ: «إِنَّ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ بَابًا مَسِيرَةُ عَرْضِهِ أَرْبَعُونَ أَوْ سَبْعُونَ عَامًا، فَتَحَهُ اللَّهُ لِلتَّوْبَةِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَلَا يُغْلِقُهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْهُ»

زربن حبیش بیان کرتے ہیں: میں حضرت صفوان بن عسال مرادیؓ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے مجھ سے دریافت کیا:تم کس لیے آئے ہو؟ میں نے عرض کی:علم کے حصول کے لیے۔ انہوں نے فرمایا: طالب علم کی طلب سے راضی ہوکرفرشتے اپنے پراس کے لیے بچھادیتے ہیں۔میں نے عرض کی :پاخانے اور پیشاب کے بعد موزوں پرمسح کرنے کے بارے میں میرے ذہن میں کچھ الجھن ہے۔آپ ایک ایسے فرد ہیں جو نبی اکرم ﷺکے اصحاب سے تعلق رکھتے ہیں، تو میں آپ سے اس بارے میں دریافت کرنے کے لیے آیا ہوں کہ آپ نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺکو کچھ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نبی اکرم ﷺہمیں یہ ہدایت کرتے تھے کہ جب ہم سفرکررہے ہوں (راوی کو شک ہے شائد یہ الفاظ ہیں) "جب ہم مسا فر ہوں ،تو ہم تین دن اور تین راتوں تک موزے نہ اتاریں، البتہ جنابت کا حکم مختلف ہے ۔ تاہم پاخانہ، پیشاب یا سونے کے نتیجے میں (وضو ٹوٹنے پر موزے اتار نے کی ضرورت نہیں ہے)" میں نے دریافت کیا:کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو خواہش نفس کے بارے میں کوئی چیز ذکر کرتے ہوئے سنا ہے انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کررہے تھے ایک دیہاتی نے آپﷺ کو بلندآواز میں مخاطب کیا: اے حضرت محمد ﷺ! بنی اکرم ﷺ نے اسی جتنی آواز میں اسے جواب دیا: میں یہاں ہوں ۔ ہم نے اس دیہاتی سے کہا: تم اپنی آواز نیچی رکھو کیونکہ تمہیں اس بات سے منع کیا گیاہے، تو وہ بولا: نہیں ،اللہ کی قسم ! میں اپنی آواز نیچی نہیں کروں گا پھر اس نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)!ایک شخص کسی قوم سے محبت رکھتا ہے، لیکن ان کے ساتھ جاکر نہیں ملتاتو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :آدمی ان لوگوں کے ساتھ ہوگاجن سے وہ محبت رکھتاہے۔ راوی بیان کرتے ہیں :پھر نبی اکرم ﷺ ہمارے ساتھ بات چیت کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا :"مغرب کی سمت میں ایک دروازہ ہے، جس کی چوڑائی چالیس (راوی کو شک ہے شائد یہ الفاظ ہیں)ستر برس کی مسافت جتنی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیداکیا تھا ۔ اس دن اس کو کھول دیا تھااور یہ اس وقت تک بند نہیں ہوگا، جب تک سورج مغرب کی طرف سے طلوع نہیں ہوگا۔"

أتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 905

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 906

906 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْتَتِرٌ بِحَجَفَةٍ، فَقَالُوا: يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا أَصَابَ أَحَدَهُمُ الْبَوْلُ قَرَضَهُ بِالْمَقَارِيضِ، فَنَهَاهُمْ صَاحِبَهُمْ عَنْ ذَاكَ، فَهُوَ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ»

حضرت عبدالرحمٰن بن حسنہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺبیٹھ کر پیشاب کررہے تھے آپﷺنے ایک ڈھال کے ذریعے پردہ کیا ہوا تھا کچھ لوگوں نے کہا: یہ صاحب اس طرح پیشاب کررہے ہیں، جس طرح کوئی عورت پیشاب کرتی ہے۔تو نبی اکرمﷺنے فرمایا : بنی اسرائیل کا یہ حال تھا کہ جب (ان کے کپڑے پر)پیشاب لگ جاتا تھا ،تو وہ قینچی کے ذریعے اسے کاٹ دیتے تھے ،ان کے ایک ساتھی نے انہیں منع کیا، تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا۔

ذَاكَ، فَهُوَ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ» ← يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ؟ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ وَهُوَ مُسْتَتِرٌ بِحَجَفَةٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 906

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ مَالِكٍ الْجُشْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 907

907 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزَّعْرَاءِ عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْأَحْوَصِ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْجُشْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرِ وَصَوَّبَهُ، ثُمَّ قَالَ: «أَرَبُّ إِبِلٍ أَنْتَ، أَوْ رَبُّ غَنَمٍ؟» ، وَكَانَ يُعْرَفُ رَبُّ الْإِبِلِ مِنْ رَبِّ الْغَنَمِ بِهَيْئَتِهِ، فَقُلْتُ: مِنْ كُلٍّ قَدْ أَتَانِيَ اللَّهُ فَأَكْثَرَ، فَقَالَ: «أَلَسْتَ تُنْتِجُهَا وَافِيَهً أَعْيُنُهَا وَآذَانُهَا فَتَجْدَعُ هَذِهِ وَتَقُولُ صُرْمٌ، وَتُهِنُ هَذِهِ فَتَقُولُ بَحِيرَةٌ، وَسَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ، وَمُوسَاهُ أَحَدُّ، لَوْ شَاءَ أَنْ يَأْتِيَكَ بِهَا صَرْمَاءَ فَعَلَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلْامَ تَدْعُو؟ قَالَ: «لَا شَيْءَ إِلَّا اللَّهَ وَالرَّحِمَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا بُعِثْتَ بِهِ؟ قَالَ: " أَتَتْنِي رِسَالَةٌ مِنْ رَبِّي فَضِقْتُ بِهَا ذَرْعًا، وَخِفْتُ أَنْ يُكَذِّبَنِي قَوْمِي، فَقِيلَ لِي: لَتَفْعَلَنَّ أَوْ لَنَفْعَلَنَّ كَذَا، وَكَذَا "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَأْتِينِي ابْنُ عَمِّي، فَأَحْلِفُ أَنْ لَا أُعْطِيَهِ، وَلَا أَصِلَهُ، قَالَ: «كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ» [ص:134]، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: «أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ عَبْدَانِ أَحَدُهُمَا لَا يَخُونُكَ، وَلَا يَكْتُمُكَ حَدِيثًا، وَلَا يَكْذِبُكَ، وَالْآخَرُ، يَكْذِبُكَ وَيَكْتُمُكَ، وَيْخُونُكَ، أَيُّهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ» ؟، قُلْتُ: الَّذِي لَا يَكْذِبُنِي، وَلَا يَخُونُنِي، وَلَا يَكْتُمُنِي، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَكَذَلِكَ أَنْتُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ»

عوف بن مالک جشمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم ﷺنے اوپر سے نیچے تک میرا جائزہ لیا پھر آپ ﷺنے ارشادفرمایا: کیا تم اونٹوں کے مالک ہو؟ کیا تم بکریوں کے مالک ہو؟(راوی کہتے ہیں) اونٹوں کا اور بکریوں کا مالک اپنی مخصوص ہیئت کی وجہ سے شناخت ہو جاتا تھا۔ میں نے عرض کی : مجھے الله تعالیٰ نے ہر چیز عطا کی ہے اور بکثرت عطا کی ہے، تو نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: کیا اونٹنی اپنے ہاں (پیدا ہونے والے بچے کو)سلامت آنکھوں اور کانوں کے ساتھ جنم نہیں دیتی ہے؟ پھر کسی کا کان کاٹ دیتے ہو اور کہتے ہو یہ ’’صر ماء "ہے ،کوئی دوسری کمزور ہو جاتی ہے ،تو تم کہتے ہویہ "بحیرہ"ہے۔ تو الله تعالیٰ کا حکم زیادہ پختہ اور اس کی تلقین زبردست ہے۔ اگر وہ چاہتا تو اسے کان کٹا ہواہی پیدا کرسکتا تھا۔ میں نے عرض کی :یارسول اللہ (ﷺ)! آپ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں؟ نبی اکرمﷺنے فرمایا: یہ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور صلہ رحمی کرنی چاہیے۔ میں نے عرض کی:یارسول اللہ (ﷺ)! آپ ﷺکوکون سے احکام کے ساتھ معبوث کیا گیا ہے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: میرے پروردگار کی طرف سے رسالت میری طرف آئی ہے، تو مجھے اس کی وجہ سے مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں میری قوم مجھے جھٹلا نہ دے تو مجھ سے یہ کہا گیا:یا تو آپﷺایسا ،ایسا کریں گے ورنہ پھر ہم یہ ،یہ کر دیں گے۔ میں نے عرض کی:یارسول الله(ﷺ) ! میراچچازاد میرے پاس آتا ہے اور پھر میں قسم اٹھالیتا ہوں کہ میں اسے کچھ نہیں دوں گا اس کے ساتھ صلہ رحمی نہیں کروں گا ،تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا:تم اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے ،تمہارے دو غلام ہوں ان میں سے ایک تمہارے ساتھ خیانت نہ کرتا ہو اور تم سے کوئی بات نہ چھپاتا ہو اور تمہارے ساتھ جھوٹ نہ بولتا ہوجبکہ دوسر اتمہارے ساتھ جھوٹ بھی بولتاہو تم سے باتیں چھپانا بھی ہو اور تمہارے ساتھ خیانت بھی کرتا ہو، تو ان دونوں میں سے کون تمہارے نزدیک پسندیدہ ہوگا؟ میں نے عرض کی جو میرے ساتھ جھوٹ نہ بولے: میرے ساتھ خیانت نہ کرے اور مجھ سے کوئی بات نہ چھپائے،تو نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا:"اپنے پروردگار کی بارگاہ میں تم لوگ بھی اسی طرح ہو"۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرِ وَصَوَّبَهُ، ثُمَّ ← أَبِيهِ ← عَمِّهِ أَبِي الْأَحْوَصِ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْجُشَمِيِّ ← أَبُو الزَّعْرَاءِ عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 907

chevron_left Previous
1…303132…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter