Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا أَبِي سُرَيْحَةَ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 848

848 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سُرَيْحَةَ حُذَيْفَةَ بْنَ أُسَيْدٍ الْغِفَارِيِّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَدْخُلُ الْمَلَكُ عَلَى النُّطْفَةِ بَعْدَمَا تَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ بِأَرْبَعِينَ، أَوْ قَالَ: بِخَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ، أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى، فَيَقُولُ اللَّهُ، فَيَكْتُبَانِ، ثُمَّ يَكْتُبُ عَمَلَهُ وَرِزْقَهُ وَأَجَلَهُ، أَمْرَهُ وَمَنْعَهُ، ثُمَّ تُطْوَى الصَّحِيفَةُ فَلَا يُزَادُ فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ " رُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْهَا "

حضرت حذیفہ بن اسید غفاری ؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا ہے:"نطفہ جب چالیس دن تک رحم میں رہتا ہے (رادی کوشک ہے شایدیہ الفاظ ہیں) پینتالیس دن تک رہتا ہے تو فرشتہ اس کے پاس آتا ہے۔ وہ دریافت کرتا ہے:اے میرے پروردگار! یہ بد بخت ہے یا نیک بخت ہے؟ یہ مذکر ہے یا مؤنث ہے؟ تو الله تعالیٰ جو جواب دیتا ہے ان دونوں باتوں کو نوٹ کرلیا جاتا ہے۔ پھر اس شخص کے عمل کو اس کے رزق کو اس کی عمر کی انتہا کو ،اس کی باقی رہ جانے والی چیزوں کو اور اسے لاحق ہونے والے امور کونوٹ کیا جاتا ہے ،پھر اس صحیفے کو لپیٹ دیا جاتا ہے اس میں کوئی اضافہ یا کوکمی کی نہیں ہوتی‘‘۔بعض اوقات سفیان نامی راوی یہ الفاظ نقل کرتے تھے۔ قیامت کے دن تک ایسا ہوتا ہے، تاہم بعض وہ یہ الفاظ نہیں بھی بیان کرتے تھے۔

أبا سريحة حذيفة بن أسيد الغفاري ← أَبَا الطُّفَيْلِ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 848

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا أَبِي سُرَيْحَةَ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 849

849 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا فُرَاتٌ الْقَزَّازُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الطُّفَيْلَ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سُرَيْحَةَ الْغِفَارِيَّ، يَقُولُ: أَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِلْيَةٍ لَهُ وَنَحْنُ نَذْكُرُ السَّاعَةَ، فَقَالَ: «مَا كُنْتُمْ تَذْكُرُونَ؟» ، قُلْنَا: السَّاعَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَكُونُ حَتَّى يَكونَ فِيهَا عَشْرٌ: الدَّجَّالُ، وَالدُّخَانُ، وَالدَّابَّةُ، وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَنُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَثَلَاثَةُ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بَالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَآخِرُ [ص:76] ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ عَدَنٍ، أَوْ قَالَ: مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تَسُوقُ النَّاسَ إِلَى مَحْشَرِهِمْ "

حضرت ابوسر یحہ غفاری ؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺنے اپنے بالا خانے سے ہماری طرف جھانک کر دیکھا ہم اس وقت قیامت کا تذکرہ کررہے تھے۔ - آپ ﷺنے دریافت کیا :تم لوگ کس بات کا ذکر کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کی : قیامت کا۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک دس علامات ظاہر نہیں ہوں گی۔ دجال، دھواں، دابۃ الارض، سورج کا مغرب سے نکلنا، حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کا نزول، یاجوج ماجوج (کا خروج) اور تین تم کے دھنسنے ہوں گے۔ایک دھنسنا مشرق میں ہوگا ،ایک دھنسنا مغرب میں ہوگا اور ایک دھنسنا جزیرہ عرب میں ہوگا۔ ان سب کے آخر میں آگ نکلے گی جو "عدن‘‘ سے نکلے گی (رادی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”عدن‘‘ کے گڑھے سے نکلے گی اور لوگوں کو ہانک کر میدان محشر میں لے جائے گی۔

أَبَا سُرَيْحَةَ الْغِفَارِيَّ، ← أَنَّهُ ← أَبَا الطُّفَيْلِ ← فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 849

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ مُجَمِّعٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 850

850 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمِّي مُجَمِّعَ بْنَ جَارِيَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَقْتُلَهُ ابْنُ مَرْيَمَ بِبَابِ لُدٍّ»

حضرت مجمع بن جار یہ ؓبیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺکو سنا، آپ نے دجال کا ذکر کیا آپ ﷺنے ارشادفرمایا: اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ مریم کے صاحبزادے (حضرت عیسیٰؑ) اسبے"باب لد" کے پاس ضرورقتل کریں گے۔

«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَقْتُلَهُ ابْنُ مَرْيَمَ بِبَابِ لُدٍّ» ← الدَّجَّالِ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَمِّي مُجَمِّعَ بْنَ جَارِيَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ، ← عبيد الله بن عبد الله بن ثعلبة أنه ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 850

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 851

851 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قِلَابَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: كَانَتْ بَنُو عَقِيلٍ حُلَفَاءَ لِثَقِيفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَتْ ثَقِيفٌ قَدْ أَسَرَتْ رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ إِنَّ الْمُسْلِمِينَ أَسَرُوا رَجُلًا مِنْ عَقِيلٍ مَعَهُ نَاقَةٌ لَهُ، وَكَانَتْ لَهُ نَاقَةٌ سَبَقَتِ الْحَاجَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ كَذَا وَكَذَا مَرَّةً، وَكَانَتِ النَّاقَةُ إِذَا سَبَقَتِ الْحَاجَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ تُمْنَعْ مِنْ كَلَأَ تَرْتَعُ فِيهِ، وَلَمْ تُمْنَعْ مِنْ حَوْضٍ تَشْرَعُ فِيهِ، قَالَ: فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ بِمَ أَخَذْتَنِي وَأَخَذْتَ سَابِقَةَ الْحَاجِّ؟ فَقَالَ: بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفٍ، وَحُبِسَ حَيْثُ يَمُرُّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَمَرَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ، كُنْتَ قَدْ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ» ، قَالَ: ثُمَّ مَرَّ بِهِ مَرَّةً أُخْرَى، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي، وَظَمْآنُ فَاسْقِنِي، قَالَ: «تِلْكَ حَاجَتُكَ» ، ثُمَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَا لَهُ، فَفَادَى بِهِ الرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ أَسَرَتْ ثَقِيفٌ، وَأَمْسَكَ النَّاقَةَ لِنَفْسِهِ، ثُمَّ إِنَّهُ أَغَارَ عَدُوٌّ عَلَى الْمَدِينَةِ فَأَخَذُوا سَرْحًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَصَابُوا النَّاقَةَ فِيهَا، قَالَ: وَقَدْ كَانَتْ عِنْدَهُمُ امْرَأَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ أَسَرُوهَا، وَكَانُوا يُرَوِّحُونَ النَّعَمَ عَشِيًّا، فَجَاءَتِ الْمَرْأَةُ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِلَى النَّعَمِ، فَجَعَلَتْ لَا تَجِئُ إِلَى بَعِيرٍ إِلَّا رَغَا حَتَّى انْتَهَتْ إِلَيْهَا، فَلَمْ تَرْغُ، فَاسْتَوَتْ عَلَيْهَا، فَنَخَسَتْهَا، فَقَدِمَتِ الْمَدِينَةَ، فَقَالَ النَّاسُ: الْعَضْبَاءُ الْعَضْبَاءُ، قَالَ: فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ أَنْجَانِي اللَّهُ عَلَيْهَا أَنْ أَنْحَرَهَا [ص:79]، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِئْسَ مَا جَزَيْتِهَا، لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ»

حضرت عمران بن حصینؓ بیان کرتے ہیں:بنوعقیل زمانہ جاہلیت میں ثقیف قبیلے کے حلیف تھے۔ ثقيف قبیلے کے لوگوں نے دومسلمانوں کو قیدی بنا لیا پھر اس کے بعد مسلمانوں نے عقیل کے خاندان سے تعلق رکھنے والےایک شخص کو پکڑ لیا جس کے ساتھ اس کی اونٹنی بھی تھی اس شخص کی اونٹنی زمانہ جاہلیت میں حاجیوں سے آگے نکل جایا کرتی تھی اور وہ کئی مرتبہ یہ عمل کر چکی تھی۔زمانہ جاہلیت کایہ رواج تھا کہ جب کوئی اونٹنی حاجیوں سے آگے نکل جاتی تھی، تو پھر اسے کسی بھی جگہ پرچرنے سے نہیں روکا جاتا تھا۔ کسی بھی حوض پر آ کر پانی پینے سے نہیں روکا جاتا تھا۔(راوی بیان کرتے ہیں) اس شخص کو نبی اکرم ﷺکی خدمت میں لایا گیا وہ بولا:اے حضرت محمد (ﷺ)! آپ ﷺنے مجھے اور حاجیوں سے آگے نکل جانے والی (اونٹنی) کو کس وجہ سے پکڑا ہے؟ نبی اکرمﷺنے فرمایا:تمہارے حلیف ثقیف قبیلے کی زیادتی کی وجہ سے۔ راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺجب اس کے پاس سے گزرے ،تو وہ بندھا ہوا تھا۔ایک مرتبہ اس کے بعد نبی اکرمﷺاس کے پاس سے گزرے تو وہ بولا : اے حضرت محمد (ﷺ)!میں مسلمان ہوتا ہوں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: اگر تم یہ کہہ رہے ہو تو تم اپنی مرضی کے مالک ہو اس طرح مکمل طور پر کامیابی حاصل کرلوگے۔ راوی کہتے ہیں: پھر اس کے بعد ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺاس کے پاس سے گزرے تو وہ بولا:اے حضرت محمد (ﷺ)!میں بھوکا ہوں آپﷺمجھے کچھ کھانے کے لیے دیجئے۔ میں پیاسا ہوں کچھ پینے کے لیے دیجئے۔نبی اکرمﷺنے فرمایا: یہ لو !تمہاری ضرورت کا سامان (یعنی اسے کھانے پینے کی چیزیں فراہم کردیں)پھرنبی اکرم ﷺکو یہ بات مناسب لگی ،تو آپ ﷺنے اس کے ذریعے ان دو آدمیوں کا فدیہ دیا جنہیں ثقیف قبیلے کے لوگوں نے قیدی بنالیا تھا اور نبی اکرم ﷺنے اس اونٹنی کو اپنے لیے روک لیا۔پھر ایک مرتبہ دشمن نے مدینہ منورہ پر رات کے وقت حملہ کیا وہ لوگ نبی اکرم ﷺکے جانوروں کے باڑے میں گئے اور انہوں نے وہاں سے اس اونٹنی کو چرالیا۔راوی بیان کرتے ہیں :ان جانوروں کے پاس ایک خاتون بھی تھی انہوں نے اسے بھی قیدی بنا لیا۔وہ لوگ شام کے وقت اپنے جانوروں کو چرنے کے لیے چھوڑتے تھے۔ ایک رات وہ خاتون اونٹوں کے پاس آئی وہ جس بھی اونٹ کے پاس آتی تھی وہ اونٹ آواز نکالنے لگتا تھا۔لیکن جب وہ خاتون اس اونٹنی کے پاس آئی تو اس نے آواز نہیں نکالی وہ خاتون اس پر سوار ہوئی اور اسے وہاں سے نجات مل گئی۔ وہ عورت مدینہ منورہ آئی تولوگ بولے :یہ تو عضباء ،عضباءہے (یعنی نبی اکرمﷺکی اونٹنی کی آوازلگتی ہے) راوی کہتے ہیں: وہ عورت بولی: میں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر الله تعالیٰ نے مجھے اس اونٹنی پرنجات عطا کی، تو میں اسے ذبح کردوں گی۔نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا: تم نے تو اسے بہت برا بدلہ دیا ہے۔ الله تعالیٰ کی نافرمانی سے متعلق نذرکو پور انہیں کیا جاتا۔ اور آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو اس کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← عَمِّہٖ ← أَبَا قِلَابَةَ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 851

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 852

852 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَرْبَعَةٌ أَوْ خَمْسَةٌ مِنْهُمْ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ، فَأَقْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً، وَقَالَ: «لَوْ أَدْرَكْتُهُ مَا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ»

حضرت عمران بن حصینؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے مرنے کے قریب اپنے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا۔ اس شخص کے پاس ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا تو نبی اکرم ﷺنے ان غلاموں کے درمیان قرعہ اندازی کی اور دوکو آزاد قرار دیا اور چارکوغلام رہنے دیا۔ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: اگر میں اس تک پہنچ گیا تومیں اس کی نماز جنازه ادا نہیں کروں گا۔

الْحَسَنِ، ← أَرْبَعَةٌ أَوْ خَمْسَةٌ مِنْهُمْ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 852

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 853

853 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ جُدْعَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: ثنا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ، فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ} [الحج: 1] ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ ذَلِكَ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " ذَلِكَ يَوْمٌ يَقُولُ اللَّهُ لِآدَمَ: يَا آدَمُ قُمْ فَابْعَثْ بَعْثَ أَهْلِ النَّارِ، فَيَقُولُ: رَبَّ مَا بَعْثُ أَهْلِ النَّارِ؟ فَيَقُولُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعُمِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِلَى النَّارِ، وَوَاحِدٌ إِلَى الْجَنَّةِ، قَالَ: فَأَنْشَأَ الْقَوْمُ يَبْكُونَ "، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ إِسْلَامٌ قَطُّ إِلَّا كَانَتْ قَبْلَهُ جَاهِلِيَّةٌ فَيَؤْخَذُ الْعَدَدُ مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ، وَإِنْ لَمْ يَفِ أُكْمِلَ الْعَدَدُ مِنَ الْمُنَافِقينَ، وَمَا مَثَلُكُمْ فِي الْأُمَمِ إِلَّا كَمَثَلٍ الرَّقْمِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ، أَوِ الشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ» ، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبْعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ» ، فَكَبَّرُوا، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَكَبَّرُوا، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَكَبَّرُوا. قَالَ سُفْيَانُ: انْتَهَى حِفْظِي إِلَى النِّصْفِ، وَلَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَيْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» ، أَوْ قَالَ غَيْرَهُ

حضرت عمران بن حصین ؓبیان کرتے ہیں: ہم ایک سفر میں نبی اکرم ﷺکے ساتھ تھے۔ نبی اکرم ﷺپر یہ آیت نازل ہوئی "اے لوگو!تم اپنے پروردگار سے ڈرو! بے شک قیامت کا زلزلہ عظیم چیز ہے۔“ تو نبی اکرم ﷺنے ارشاد فر مایا:"کیا تم لوگ یہ جانتے ہو کہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول ﷺزیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا: یہ وہ دن ہے ،جس میں اللہ تعالیٰ حضرت آدم ؑ سے فرمائے گا اے آدم ! اٹھو اور اہل جہنم کو (ان کے مخصوص ٹھکانے کی طرف)بھیج دو تو وہ عرض کریں گے: اے میرے پروردگار! اہل جہنم کتنے لوگ ہیں؟ تو الله تعالیٰ فرمائے گا: ہر ایک ہزار میں سے نوسونناوے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا۔ راوی کہتے ہیں: تو حاضرین نے رونا شروع کر دیا۔ نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: جب بھی اسلام آیا اس سے پہلے جاہلیت موجودتھی تو اس تعدادکو زمانہ جاہلیت کے لوگوں سے پورا کیا جائے گا۔ اگر وہ اس سے بھی پورے نہ ہوئے ،تو منافقین کے ذریعے اس تعداد کومکمل کیا جائے گا۔ تمہاری مثال دیگر امتوں کے درمیان اسی طرح ہے، جس طرح کسی جانور کی کلائی (یعنی اگلی ٹانگ ) پرنشان ہوتا ہے۔یا اونٹ کے پہلومیں شامہ (معمولی ساکالا نشان )ہوتا ہے۔پھر نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: مجھے یہ امید ہے ،تم لوگ اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہو گے ،تو لوگوں نے تکبیر کہی پھر آپ ﷺنے فرمایا: مجھے یہ امید ہے تم لوگ اہل جنت کا ایک تہائی ہو گے ،تو لوگوں نے تکبیر کہی پھر آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:تم لوگ اہل جنت کا نصف ہو گے، تو لوگوں نے تکبیر کہی۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: میری یاداشت کے مطابق صرف نصف تک کا تذکرہ ہے ویسے میرے علم کے مطابق نبی اکرم ﷺنے یہ بھی فرمایا تھا: مجھے یہ امید ہے ،تم اہل جنت کا دو تہائی حصہ ہوگے(یا پھر یہ ہے، نبی اکرم ﷺکے علاوہ کسی دوسرے نے یہ کہا ہے)

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← ابْنِ جُدْعَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 853

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 854

854 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ جُدْعَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا أَنَا فَلَا آكُلُ مُتَّكِئًا، وَأَمَّا أَنَّهُ قَدْ أَكَلَ الطَّعَامَ، وَمَشَى فِي الْأَسْوَاقِ، يَعْنِي الدَّجَّالَ»

حضرت عمران بن حصین ؓروایت کرتے ہیں، نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا ہے: "جہاں تک میرا تعلق ہے ،تو میں ٹیک لگا کرنہیں کھاتا جہاں تک اس کا تعلق ہے، تو وہ کھانا کھائے گا اور بازاروں میں چلے پھرے گا“۔ نبی اکرمﷺکی مراد ر"دجال" تھا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← ابْنِ جُدْعَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 854

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 855

855 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ جُدْعَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، «نَشَدَ النَّاسَ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الْجَدِّ بِشَيْءٍ» ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: «أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهُ أَعْطَاهُ الثُّلُثَ» ، فَقَالَ: مَعَ مَنْ؟، قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: لَا دَرَيْتَ [ص:82]

حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطابؓ نے لوگوں کو قسم دی کہ کسی نے نبی اکرم ﷺکو سنا ہے، آپ ﷺنے دادا کے بارے میں کوئی فیصلہ دیا ہو؟ تو ایک صاحب کھڑے ہوئے اور بولے: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ نبی اکرم ﷺنے اسے ایک تہائی حصہ دیا تھا۔حضرت عمر ؓنے دریافت کیا :کسی کے ساتھ؟ وہ بولے: مجھے نہیں معلوم ،تو حضرت عمرؓبولے: پھر تمہیں پتہ نہیں ہے۔

لَا دَرَيْتَ [ص:82] ← لَا أَدْرِي ← أَشْهَدُ أَنَّهُ أَعْطَاهُ الثُّلُثَ» فَقَالَ: مَعَ مَنْ؟، ← النَّبِيَّ قَضَى فِي الْجَدِّ بِشَيْءٍ؟ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، «نَشَدَ النَّاسَ مَنْ ← الْحَسَنِ، ← ابْنِ جُدْعَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 855

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 856

856 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، فَقَالَ آخَرُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَقَامَ إِلَيْهِ آخَرُ، فَقَالَ: «أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهُ أَعْطَاهُ السُّدُسَ» ، قَالَ: مَعَ مَنْ، قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: لَا دَرَيْتَ

حضرت عمران بن حصینؓ بیان کرتے ہیں: ایک اور صاحب کھڑے ہوئے اور وہ بولے: میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ نبی اکرم ﷺنے دادا کو چھٹا حصہ دیا تھا۔حضرت عمرؓ نے دریافت کیا:کس کے ساتھ؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم ،تو حضرت عمر ؓبولے تمہیں بھی پتہ نہیں ہے۔

لا دريت ← لَا أَدْرِي ← مَعَ مَنْ ← أَشْهَدُ أَنَّهُ أَعْطَاهُ السُّدُسَ» ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَقَامَ إِلَيْهِ آخَرُ، فَقَالَ: ← الْحَسَنِ، ← سُفْيَانُ، فَقَالَ آخَرُ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 856

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 857

857 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى [ص:83]، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: " هَلْ قَرَأَ مِنْكُمْ أَحَدٌ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى "، فَقَالَ رَّجُلُ: نَعَمْ أَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا»

حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ظہر کی نماز ادا کی جب آپ ﷺنماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ ﷺنے دریافت کیا تم میں سے کسی نے سورہ الاعلیٰ کی تلاوت کی ہے، تو ایک صاحب نے عرض کیا: جی ہاں! میں نے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: مجھےیہ اندازہ ہوگیا تھا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص میرا مقابلہ کر رہا ہے۔

فَقَالَ النَّبِيُّ «قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا» ← هَلْ قَرَأَ مِنْكُمْ أَحَدٌ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى فَقَالَ رَّجُلُ: نَعَمْ ← صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَاةَ الظُّهْرِ فَلَمَّا فَرَغَ، ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى [ص:83]، ← قَتَادَةَ ← إسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 857

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 858

858 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ»

حضرت عمران بن حصین ؓ ،نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دم صرف نظر لگنے کا ہوتا ہے یا بچھو کے کاٹنے کا ہوتا ہے"۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← حُصَيْنٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 858

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 859

859 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ صَدِيقًا كَانَ لِأَبِي مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ، الدِّينُ النَّصِيحَةُ، الدِّينُ النَّصِيحَةُ» ، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ، وَلَنَبِيِّهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَلِعَامَّتِهِمْ» .

حضرت تمیم داری ؓروایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے۔:”دین خیر خواہی کا نام ہے۔ دین خیر خواہی کا نام ہے۔ دین خیر خواہی کا نام ہے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! کس کے لیے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:اللہ تعالیٰ کے لیے ،اس کی کتاب کے لیے، اس کے نبیﷺکے لیے ،مسلمان حکمرانوں کے لیے ، ان کے عام افراد کے لیے"۔

تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ← عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ صَدِيقًا كَانَ لِأَبِي مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 859

chevron_left Previous
1…262728…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter