Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 836

836 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَبُو الْجُهَيْمِ، سَأَلَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، مَا سَمِعْتَ فِي الَّذِي يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَأَنْ يَمْكُثُ أَحَدُكُمْ أَرْبَعِينَ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي» [ص:63]، لَا يَدْرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً، أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا، أَوْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، أَوْ أَرْبَعِينَ سَاعَةً

بسر بن سعید بیان کرتے ہیں:ابوجہم نے مجھے بھیجا تا کہ میں حضرت زید بن خالدجہنی سے یہ دریافت کروں ۔ کہ آپ نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے شخص کے بارے میں کیاحدیث سنی ہے تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:"کسی ایک شخص کا چالیس تک ٹھہرے رہنا اس کے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ نمازی کے آگے سے گزر جائے۔ "تاہم یہ پتہ نہیں ہے، اس سے مراد چالیس سال ہیں، چالیس مہینے ہیں، چالیس دن ہیں ،یا چالیس گھڑیاں ہیں۔

رَسُولِ اللَّهِ ← فِي الَّذِي يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي، ← أَرْسَلَنِي أَبُو الْجُهَيْمِ، سَأَلَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، مَا ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← سَالِمُ أَبُو النَّضْرِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 836

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 837

837 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ، فَقَدْ غَزَا»

حضرت زید بن خالدجہنیؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے:"جوشخص کسی غازی کو سامان فراہم کرے یا اس کی غیر موجودگی میں اس کے گھر والوں کا خیال رکھے تو اس نے بھی گویا جنگ میں حصہ لیا"۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 837

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 838

838 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا هَارُونُ بْنُ رِئِابٍ، وَكَانَ يُخْفِي الزُّهْدَ، قَالَ: سَمِعْتُ كِنَانَةَ بْنَ نَعِيمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ، قَالَ: تَحَمَّلْتَ بِحِمَالَةٍ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ، قَالَ: «نُؤَدِّيهَا أَوْ نُخْرِجُهَا عَنْكَ إِذَا قَدِمَتْ نَعَمٌ لِلصَّدَقَةِ» ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الْمَسْأَلَةَ حُرِّمَتْ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحِمَالَةٍ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةَ حَتَّى يُؤَدَّيْهَا، ثُمَّ يُمْسِكْ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ وَحَاجَةٌ حَتَّى شَهِدَ أَوْ تَكَلَّمَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ أَنَّ بِهِ فَاقَةً وَحَاجَةً، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ سَدَادًا مِنْ عَيْشٍ، أَوْ قَوامًا مِنْ عَيْشٍ، ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلْ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ سَدَادًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَوامًا مِنْ عَيْشٍ، ثُمَّ يُمْسِكُ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ سُحْتٌ "

حضرت قبیصہ بن مخارق ؓبیان کرتے ہیں: میں نے ایک ادائیگی اپنے ذمے لے لی (جو کسی دوسرے شخص کے ذمےلا زم تھی) میں نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔ تا کہ آپ ﷺسے مدد مانگوں، تو آپ ﷺنے ارشادفرمایا: "جب صدقہ کے اونٹ آئیں گے ،تو ہم تمہیں ادا کردیں گے" پھر آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: "مانگنا حرام قرار دیا گیا ہے۔ سوائے تین لوگوں کے ،ایک وہ شخص جو کسی دوسرے(کی ادائیگی) اپنے ذمے لے۔ اس کے لیے مانگنا حلال ہو جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے ،تو پھر مانگنے سے رک جائے۔ ایک وہ شخص جسے فاقہ اور حاجت لاحق ہو یہاں تک کہ اس کی قوم سے تعلق رکھنے والے تین سمجھدار لوگ اس بات کی گواہی دیں۔ یا یہ بات کریں کہ اس شخص کو فاقہ اور ضرورت لاحق ہے ،تو ایسےشخص کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کا سامان حاصل کر لے تو پھر وہ مانگنے سے رک جائے۔ اور ایک شخص جسے کوئی آفت لاحق ہو جائے، جو اس کے مال کو برباد کر دے تو اس کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے ،یہاں تک کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کے لیے امداد حاصل کر لے ،تو پھر اس سے رک جائے، ان کے علاوہ جوبھی مانگتا ہے وہ حرام ہوگا"۔

«نُؤَدِّيهَا أَوْ نُخْرِجُهَا عَنْكَ إِذَا قَدِمَتْ نَعَمٌ لِلصَّدَقَةِ» ثُمَّ ← تَحَمَّلْتَ بِحِمَالَةٍ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَسَأَلْتُهُ، ← قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ ← کِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ ← هَارُونُ بْنُ رِئِابٍ، وَكَانَ يُخْفِي الزُّهْدَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 838

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عِصَامٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 839

839 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الْمَلْكِ بْنُ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ عِصَامٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً، قَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا، أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَلَا تَقْتُلُنَّ أَحَدًا» ، قَالَ: فَبَعَثْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَأَمَرَنَا بِذَلِكَ، فَخَرَجْنَا قِبَلَ تِهَامَةَ، فَأَدْرَكْنَا رَجُلًا يَسُوقُ بِظَعَايِنَ، فَقُلْنَا لَهُ: أَسْلِمْ، فَقَالَ: وَمَا الْإِسْلَامُ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ بِهِ، فَإِذَا هُوَ لَا يَعْرِفُهُ، فَقَالَ: أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَنَا لَمْ أَفْعَلْ فَمَا أَنْتُمْ صَانِعُونَ؟ قَالَ: قُلْنَا: نَقْتُلُكَ، قَالَ: فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْظِرِيَّ حَتَّى أُدْرِكَ الظَّعَايِنَ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، وَنَحْنُ مُدْرِكُوكَ، قَالَ: فَأَدْرَكَ الظَّعَايِنَ، فَقَالَ: أَسْلِمِي حُنَيْشُ قَبْلَ نَفَادِ الْعَيْشِ، فَقَالَتِ الْأُخْرَى: أَسْلِمْ عَشْرًا، وَسَبْعًا وِتْرًا، وَثَمَانِيًا تَتْرًا، ثُمَّ قَالَ شِعْرًا: [البحر الطويل] أَتَذْكُرُ إِذْ طَالَبْتُكُمْ فَوَجُدْتُكُمْ بِحَلْبَةٍ ... أَوْ أَدْرَكْتُكُمْ بِالْخَوَانِقِ أَلَمْ يَكُ حَقًّا أَنْ يَنُولَ عَاشِقٌ ... تَكَلَّفَ إِدْلَاجَ السُّرَى وَالْوَدَائِقِ [ص:66] فَلَا ذَنْبَ لِي إِذْ قُلْتُ إِذْ أَهْلُنَا مَعًا ... أَثِيبِي بِوَصْلٍ قَبْلَ إِحْدَى الصَّفَائِقِ أَثِيبِي بِوَصْلٍ قَبْلَ أَنْ يَشْحَطَ النَّوَى ... وَيَنْأَى الْأَمِيرُ بِالْحَبِيبِ الْمُفَارِقِ قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: شَأْنَكُمْ، فَقَدَّمْنَاهُ وَضَرَبْنَا عُنُقَهُ، وَانْحَدَرَتِ الْأُخْرَى مِنْ هَوْدَجِهَا امْرَأَةٌ أَدْمَاءُ بِحَصٍّ، فَجَثَتْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَتْ

عبدالملک بن نوفل بیان کرتے ہیں :انہوں نے مز ینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام ابن عصام تھا انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا:انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی نبی اکرمﷺجب کسی مہم کو روانہ کرتے تھے، تو آپﷺیہ ارشاد فرماتے تھے: "جب تم (کسی علاقے میں) کوئی مسجد دیکھو یاتم موذن کوسنوتو وہاں کسی کو قتل نہ کرنا۔" راوی بیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ہمیں ایک مہم پر روانہ کیا آپ ﷺنے ہمیں یہی ہدایت کی ہم تہامہ کی سمت روانہ ہوئے وہاں ہمیں ایک شخص ملا جو کچھ خواتین کو لے کر جارہاتھا ہم نے اس سے کہا تم اسلام قبول کر لواس نے دریافت کیا :اسلام سے مراد کیا ہے؟ ہم نے اسے اس بارے میں بتایا تو اس سے واقف نہیں تھا۔ وہ بولا: اگر میں ایسا نہیں کرتا تو پھر تمہارا کیا خیال ہے ،پھر تم لوگ کیا کرو گے؟ راوی کہتے ہیں: ہم نے کہا: ہم تمہیں قتل کردیں گے۔ وہ بولا : کیا تم میرا انتظار کرو گے؟ میں ان خواتین تک جاؤں۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے ہم تم تک پہنچ جائیں گے۔راوی کہتے ہیں: وہ ان خواتین کے پاس گیا اور بولا:"حبیش"تم اسلام قبول کرلو۔ اس سے پہلے کہ زندگی ختم ہو جائے، تو ایک دوسری عورت بولی تم دس لوگ اسلام قبول کرو،سات لوگ کرو جو طاق ہوتے ہیں یا آٹھ کرو جو یکے بعد دیگرے ہوتے ہیں۔ پھر اس شخص نے یہ پڑھا۔"کیا تمہیں وہ دن یاد ہے ،جب میں تمہاری تلاش میں نکلا تھا ،تو میں نے تمہیں ’’حلیہ‘‘ کے مقام پر پایا تھا میں نے تمہیں ”خوانق‘‘ کے مقام پر پایا تھا کیا یہ بات لازمی نہیں تھی کی عشق کرنے والے کو رات کے وقت کے سفر اور تپتی ہوئی دوپہر کے سفر کا معاوضہ دیا جائے میں نے جو کہا ہے اس پر مجھے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اگر میری بیوی میرے ساتھ ہو اور وہ مجھےغسل کی اجازت دیدے۔ اس سے پہلے کہ حادثات میں سے کوئی ایک حادثہ لاحق ہو جائے۔ وہ مجھے وصل کی اجازت دیدے اس سے پہلے کہ گھر دور ہو جائے اور حاکم محبوب کے بارے میں علیحدگی کا حکم دیدے۔"راوی بیان کرتے ہیں: پھر وہ شخص ہمارے پاس آیا اور بولا: اب تم اپنا کام کر لو ہم آگے بڑھے اور ہم نے اس کی گردن اڑادی تو ایک عورت اپنے ہودج سے تیزی سے نیچے آئی وہ انتہائی گندمی رنگت کی مالک تھی وہ آ کر اس پر گری اور وہ بھی فوت ہوگئی۔

عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 839

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 840

840 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ حُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالنَّاسِ الصُّبْحَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقَرَأَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ، فَلَمَّا بَلَغَ ذِكْرَ عِيسَى وَأُمِّهِ أَخَذَتْهُ سَعْلَةٌ، أَوْ شَرْقَةٌ فَرَكَعَ»

حضرت عبد الله بن ؓ بیان کرتے ہیں ،نبی اکرم ﷺنے فتح مکہ کے موقع پرلوگوں کوصبح کی نماز پڑھائی تو آپﷺ نے سورہ مومنون کی تلاوت کی جب آپ ﷺحضرت عیسیٰ ؑ اور ان کی والدہ کے تذکرے پر پہنچے ،تو آپ ﷺکو کھانسی آ گئی۔ (راوی کو شک ہے شایدیہ الفاظ ہیں) آپ ﷺکے گلے میں بلغم آ گئی تو آپﷺرکوع میں چلے گئے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ حُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 840

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 841

841 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: أَبْصَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأنَا مُتَخَلِّقٌ، فَقَالَ لِي: «يَا يَعْلَى، أَلَكَ امْرَأَةٌ؟» ، فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَاغْسِلْهُ وَلَا تَعُدْ، ثُمَّ اغْسِلْهُ وَلَا تَعُدْ» قَالَ يَعْلَى: «فَغَسَلْتُهُ وَلَا أَعُودُ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ وَلَا أَعُودُ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ وَلَا أَعُودُ»

حضرت یعلیٰ بن مرہؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے مجھے ملا حظ فرمایا، میں نے مخصوص قسم کی خوشبو لگائی ہوئی تھی۔ آپ ﷺنے مجھ سے دریافت کیا: اے یعلیٰ ! کیا تمہاری بیوی ہے؟ (یعنی کیا تم شادی شدہ ہو) میں نے عرض کی:جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: پھرتم اسے دھودو اور دوبارہ نہ لگانا۔ پھر اسے دھو دو اور دوبارہ نہ لگانا پھر تم اسے دھولو اور دوبارہ نہ لگانا۔ حضرت یعلیٰؓ کہتے ہیں :تو میں نے اسے دھولیااور دوبارہ نہیں لگایا پھر میں نے اسے دھویا اور اسے دوبارہ نہیں لگایا۔ پھر میں نے اسے دھو دیا اور اسے دوبارہ نہیں لگایا۔

«فَاغْسِلْهُ وَلَا تَعُدْ، ثُمَّ اغْسِلْهُ وَلَا تَعُدْ» ← لِي: «يَا يَعْلَى، أَلَكَ امْرَأَةٌ؟» فَقُلْتُ: لَا، ← مُتَخَلِّقٌ ← «أَبْصَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ ← يَعْلَی بْنِ مُرَّةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 841

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 842

842 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنِ الرَّبَابِ، عَنْ عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَعَ الصَّبِيِّ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى»

حضرت سلمان بن عامر جہنی ؓبیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے: بچے کا عقیقہ کیا جائے گا تم اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس سے گندگی دور کر دو۔

«مَعَ الصَّبِيِّ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى» ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ← الرَّبَابِ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 842

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 843

843 - قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ، فَمَاءٌ فَإِنَّهُ طَهُورٌ»

حضرت سلمان بن عامر ؓ) بیان کرتے ہیں :میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے، جب کوئی شخص افطاری کرے تو کھجور کے ذریعے افطاری کرے کیونکہ اس میں برکت ہوتی ہے اگر کھجور نہ ہو، تو پانی کے ذریعے کرے کیونکہ یہ طہارت دیتا ہے (یا طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے)

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 843

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 844

844 - وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْمِسْكينِ ثِنْتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ»

حضرت سلمان بن عامرؓ بیان کرتے ہیں :میں نے بنی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد کرتے ہوئے سنا ہے:غریب کو صدقہ دینا صدقہ دینا ہے اور غریب رشتے دار کو صدقہ دینے میں دو پہلو پائے جاتے ہیں ، صدقہ کرنا اور صلہ رحمی کرنا۔

«الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْمِسْكينِ ثِنْتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ» ← وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 844

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ الْعَامِرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 845

845 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثني زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ شَرِيكٍ الْعَامِرِيَّ، قَالَ: شَهِدْتُ الْأَعَارِيبَ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَلْ عَلَيْنَا جُنَاحٌ فِي كَذَا فِي كَذَا؟ فَقَالَ: «عِبَادَ اللَّهِ، وَضَعَ اللَّهُ الْحَرَجَ إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ شَيْئًا فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَتَدَاوَى؟ قَالَ: «تَدَاوَوْا عِبَادَ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا وَقَدْ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً، إِلَّا الْهَرَمَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ؟ قَالَ: «خُلُقٌ حَسَنٌ»

حضرت اسامہ بن شریک عامری ؓ بیان کرتے ہیں :میں اس وقت ان دیہاتیوں کے پاس موجود تھا وہ نبی اکرم ﷺسے یہ سوال کر رہے تھے کیا ہم پر اس معاملے میں گناہ ہوگا۔ اس معاملے میں ہوگا ،تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: اللہ کے بندو! الله تعالیٰ نے حرج کو اٹھا لیا ہے ماسوائے اس شخص کے جو اپنے کسی بھائی کی عزت کے درپے ہوتا ہے، تو یہ وہ چیز ہے جو حرج میں مبتلا کرتی ہے اور ہلاکت کا شکار کر دیتی ہے۔لوگوں نے عرض کی: یا رسول الله ﷺ! کیا ہم دوا استعمال کیا کریں؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: اے اللہ کے بندو! تم دوا استعمال کیا کرو کیونکہ الله تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے الله تعالیٰ نے اس کے لیے شفا بھی نازل کی ہے۔ البتہ بڑھاپے کاحکم مختلف ہے۔ لوگوں نے عرض کی :یارسول اللهﷺ! بندہ مسلم کو جو چیزیں دی گئی ہیں ان میں سے سب سے بہتر کیا ہے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: اچھے اخلاق۔

شَهِدْتُ الْأَعَارِيبَ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ هَلْ عَلَيْنَا جُنَاحٌ فِي كَذَا فِي كَذَا؟ ← أُسَامَةَ بْنَ شَرِيكٍ الْعَامِرِيِّ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 845

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 846

846 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثني زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمِّي قُطْبَةَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ: وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ "

رَسُولَ اللَّهِ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ ← عَمِّي، قُطْبَةَ بْنَ مَالِكٍ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 846

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 847

847 -

حضرت قطبہ بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو فجر کی نماز میں یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا ۔"اور کھجوروں کے درخت جن کے خو شے تہہ بہ تہہ ہوتے ہیں "۔

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 847

chevron_left Previous
1…252627…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter