Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 824

824 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ شَقِيقٍ [ص:51]، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: جَاءَ قَوْمٌ مُجْتَابُو النِّمَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ، فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَنْطَوْا، حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ بِقِطْعَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، أَوْ قَالَ: تَبْرٍ فَأَلْقَاهَا، فَتَتَابَعُوا النَّاسُ حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعَمِلَ بِهَا، كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعَمِلَ بِهَا، كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يُنْقِصُ ذَلِكَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا»

حضرت جریر ؓ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ پھٹے پرانے کپڑوں میں بنی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے مدد کی درخواست کی ۔ بنی اکرم ﷺ نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی، تو لوگوں نے عطیات نہیں دئیے اس کا ردعمل نبی اکرم ﷺ کے چہرہ مبارک سے ظاہر ہوا پھر انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص لوہے کا ایک ٹکڑا لے کر آیا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو لوگ یکے بعد دیگر ے (اس کی دیکھا دیکھی )چیزیں لانے لگے ، یہاں تک کہ اس چیز کا ردعمل نبی اکرم ﷺکے چہرہ مبارک پر محسو س ہو ا (یعنی آپ ﷺ بہت خوش ہو ئے ) نبی اکر م ﷺنے ارشاد فرمایا : "جو شخص کسی اچھے کام کا آغاز کرتا ہے ۔اور اس پر عمل کیا جاتا ہے ، تو اس شخص کو ان تمام لوگوں جتنا اجر ملے گا ، جو اس اچھے کام پر عمل کرتے ہیں اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ اور جو شخص کسی برے کام کا آغاز کرتاہے ۔ جس پر عمل کیا جاتاہے ، تو اس شخص کو ان تمام لوگوں جتنا گناہ ہوگا ۔ جو اس پر عمل کرتے ہیں ۔ اور ان لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔"

جَرِيرٌ ← شَقِيقٍ، ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 824

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 825

825 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَبِقَ الْعَبْدُ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» [ص:53]

حضرت جریر ؓ روایت کرتے ہیں ،نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا ہے:"جب کوئی غلام مفرور ہو کر دشمن کی سرزمین کی طرف چلا جائے، تو اس سے الله تعالیٰ ذمہ ختم ہو جاتا ہے"۔

جَرِيرٌ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 825

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 826

826 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ حَبِيبٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت جریرؓسے منقول ہے۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← جَرِيرٌ ← الْمُغِيرَةِ، ← حَبِيبٍ ← بَعْضُ أَصْحَابِنَا ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 826

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 827

827 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّحْدُ لَنَا، وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا»

حضرت جریر ؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے ہم سے فرمایا۔ ”(قبر بناتے ہوئے )لحد کا طریقہ ہمارے لیے ہے اورشق کا طریقہ دوسروں کے لیے ہے۔"

جَرِيرٌ ← زَاذَانَ ← ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ أَبِي حَمْزَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 827

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 828

828 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: «هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْءٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «هِيهِ» ، فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا ثُمَّ قَالَ: «هِيهِ» ، فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ: «هِيهِ» ، حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِائَةَ بَيْتٍ

عمرو بن شرید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نبی اکرم ﷺکے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا۔ آپ ﷺنے فرمایا: کی تمہیں امیہ بن ابوصلت کا کوئی شعر یاد ہے؟ میں نے عرض کی : جی ہاں۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا:”سنا و"تو میں نے آپ ﷺکو ایک شعر سنایا۔ آپ ﷺنے فرمایا:اور سناؤ میں نے آپ ﷺکو ایک اور شعر سنایا تو نبی اکرمﷺمسلسل یہی فرماتے رہے اور سناو‘‘ یہاں تک کہ میں نے نبی اکرم ﷺکو ایک سو اشعار سنائے۔

هِيهْ حَتَّی أَنْشَدْتُهُ مِائَةَ بَيْتٍ ← ((هيه))، فأنشدته بيتا، فلم يزل ← ((هيه))، فأنشدته بيتا، ثم ← لِي: «هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْءٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، ← كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 828

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 829

829 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، أَوْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ، كَذَلِكَ - كَانَ يَشُكُّ سُفْيَانُ فِيهِ - عَنِ الشَّرِيدِ، قَالَ: أَبْصَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا قَدْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْفَعْ إِزَارَكَ» ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْنَفُ يَصْطَكُّ رُكْبَتَاي [ص:55]، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْفَعْ إِزَارَكَ، فَكُلُّ خَلْقِ اللَّهِ حَسَنٌ» ، فَمَا رُئِيَ ذَلِكَ الرَّجُلُ بَعْدُ إِلَّا وَإِزَارُهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ

حضرت شر ید ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرمﷺنے ایک شخص کو ملاحظ فرمایا۔ جس نے اپنے تہہ بند کو اپنے (ٹخنوں سے نیچے)لٹکا یا ہوا تھا، تو نبی اکرم ﷺنے اس سے فرمایا: ”اپنے تہہ بند کواد پرکرد۔"اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ (ﷺ)! میں کچھ لنگڑا ہوں ،جس کی وجہ سے میرے گھٹنے اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں، تو اپنے اس عیب پر پردہ رکھنے کے لیے میں اپنے تہہ بند کولٹکا کر رکھتا ہوں، تو نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا:"تم اپنے تہہ بندکو اوپر رکھو اور الله تعالیٰ کی ہرمخلوق خوبصورت ہے۔" (راوی کہتے ہیں) اس کے بعد اس شخص کو ہمیشہ اس حالت میں دیکھا گیا کہ اس کا تہہ بند نصف پنڈلی تک ہوتا تھا۔

الرَجُلِ ← لَهُ النَّبِيُّ «ارْفَعْ إِزَارَكَ» ← أَبْصَرَ النَّبِيُّ رَجُلًا قَدْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ، ← الشَّرِيدَ، ← عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، أَوْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ، كَذَلِكَ كَانَ يَشُكُّ سُفْيَانُ فِيهِ ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 829

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 830

830 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَشِبْلٍ، قَالُوا: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُنْشِدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ، وَكَانَ أَفْقَهُ مِنْهُ، فَقَالَ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَإِيذَنْ لِي فَلْأَقُلْ، قَالَ: «قُلْ» : قَالَ أَنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، وَإِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأُخْبِرُتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا» ، قَالَ: فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ، فَرَجَمَهَا [ص:57]. قَالَ سُفْيَانُ: «وَأُنَيْسٌ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ»

حضرت زید بن خالدجہنی ؓ، حضرت ابو ہریره ؓ اور حضرت شبل ؓ بیان کرتے ہیں۔ ہم لوگ نبی اکرم ﷺکے پاس موجود تھے۔ ایک شخص آپ ﷺکے سامنے کھڑا ہوا۔ اس نے عرض کی :یارسول اللہﷺ! میں آپ ﷺکو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ ہمارے درمیان الله تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ د ےگا اس کا مخالف فریق کھڑا ہوا وہ اس سے زیادہ سمجھدار تھا۔ اس نے عرض کی : جی ہاں یا رسول الله (ﷺ)! آپ ﷺہمارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ دیجئے گا۔ لیکن آپ ﷺمجھے کچھ عرض کرنے کی اجازت دیجئے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: "تم بولو" اس نے عرض کی ۔ میرا بیٹا اس شخص کے ہاں ملازم تھا۔ اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کرلیا۔ مجھے یہ بتایا گیا ۔ کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا ،تو میں نے اس کے فدیے کے طور پر ایک سو بکریاں اور ایک خادم دیا۔ پھر میں نے اہل علم سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو ایک سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کے لیے جلاوطن کیا جائے گا اور اس کی بیوی کو سنگسار کیا جائے گا ،تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: "اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں تم دونوں کے درمیان الله تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ ایک سوبکریاں اور خادم تمہیں واپس کر دیئے جائیں گے تمہارے بیٹے کو ایک سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔ اے انیس! تم اس عورت کے پاس جاؤ ،اگر وہ اعتراف کر لیتی ہے، توتم اسے سنگسار کر دینا۔“حضرت انیس ؓاس عورت کے پاس گئے۔ اس عورت نے اعتراف کیا تو انہوں نے اسے سنگسار کروادیا۔ سفیان کہتے ہیں۔ حضرت انیسؓ کا تعلق اسلم قبیلے سے تھا۔

كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَشِبْلٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 830

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 831

831 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ [ص:58]، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَشِبْلٍ، قَالُوا: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسُئِلَ عَنِ الْأَمَةِ تَزْنِي قَبْلَ أَنْ تُحْصَنَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ، فَاجْلِدُوهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوهَا، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ، أَوْ فِي الرَّابِعَةِ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ» يَعْنِي الْحَبْلَ مِنَ الشَّعْرِ

حضرت زید بن خالدؓ، حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت شبل ؓبیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم ﷺکے پاس موجود تھے آپ ﷺسے ایسی کنیز کے بارے میں دریافت کیا گیا: جو محصنہ ہونے سے پہلے زناء کا ارتکاب کر لیتی ہے، تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: اگر کسی کی کنیز زنا کا ارتکاب کرے تو تم اس سے کوڑے مارو۔ اگر وہ دوبارہ ایسا کرے تو پھر اسے کوڑے مارو۔ اگر وہ پھر ایسا کرے تو پھر کوڑے مارو۔ (راوی کہتے ہیں:) تیسری مرتبہ یا شاید چوتھی مرتبہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: پھر تم اسے فروخت کر دو۔ خواہ ایک رسی کے عوض میں فروخت کرو‘‘ (امام حمیدی ؒ کہتے ہیں: )روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ "ضفیر" سے مراد بالوں سے بنی ہوئی رسی ہے۔

النَّبِيُّ «إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ، فَاجْلِدُوهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوهَا، ← الأَمَةِ تَزْنِي قَبْلَ أَنْ تُحْصَنَ ← كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ فَسُئِلَ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ وَشِبْلٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ {ص:356}، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 831

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 832

832 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا، فَلَمَّا أَصْبَحُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ رَبُّكُمُ اللَّيْلَةَ؟ قَالَ: مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مَنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ، يَقُولُونَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَأَمَّا مَنْ آمَنَ بِي وَحَمِدَنِي عَلَى سُقْيَايَ فَذَلِكَ الَّذِي آمَنَ بِي، وَكَفَرَ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا [ص:59] مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذَلِكَ الَّذِي آمَنَ بِالْكَوْكَبِ، وَكَفَرَ بِي أَوْ كَفَرَ نِعْمَتِي ". قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ مَعْمَرٌ حَدَّثَنَا أَوَّلًا عَنْ صَالِحٍ، ثُمَّ سَمِعْنَاهُ مِنْ صَالِحٍ "

حضرت زید بن خالد جہنیؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺکے زمانہ اقدس میں ایک مرتبہ رات کے وقت بارش ہوگئی۔ اگلے دن صبح نبی اکرم ﷺنے ارشاد فر مایا:کیا تم جانتے ہو؟ تمہارے پروردگار نے گزشتہ رات کیا ارشاد فرمایا ہے؟ اس نے فرمایا ہے:"میں جب بھی اپنے بندوں کو کوئی نعمت عطا کرتا ہوں ،تو ان میں سے کچھ لوگ کافر ہوتے ہیں ،تو وہ کہتے ہیں: ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش نازل ہوئی ہے لیکن جوشخص مجھ پر ایمان رکھتا ہے تو وہ میرے سیراب کرنے کی وجہ سے میری حمد بیان کرتا ہے ،تو یہ وہی ہے جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے اور ستاروں کا انکار کرتا ہے ،لیکن جو شخص یہ کہتا ہے ،فلاں، فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے تو وہ ستاروں پر ایمان رکھتا ہے۔ اور میرا انکار کرتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میری نعمت کا انکار کرتا ہے۔" سفیان کہتے ہیں:معمر نے یہ روایت پہلے صالح کے حوالے سےہمیں سنائی تھی۔ پھر ہم نے یہ روایت صالح کی زبانی سن لی۔

مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ لَيْلًا، فَلَمَّا أَصْبَحُوا، ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 832

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 833

833 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ سُفْيَانُ: لَا أَدْرِي زِيدُ بْنُ خَالِدٍ أَمْ لَا، قَالَ: سَبَّ رَجُلٌ دِيكًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ، فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ»

عبید الله بن عبد الله بیان کرتے ہیں: (یہاں سفیان نامی راوی کہتے ہیں: مجھےیہ نہیں پتہ کہ انہوں نے یہ روایت حضرت زید بن خالد ؓکے حوالے سے بیان کی ہے یا کسی اور کے حوالے سے بیان کی ہے) وہ بیان کرتے ہیں ۔ ایک شخص نے نبی اکرمﷺکے سامنے مرغ کو برا کہا تو آپ ﷺنے ارشادفرمایا:مرغ کو برانہ کہو۔ کیونکہ وہ نماز کے لیے بلاتا ہے۔

النَّبِيُّ «لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ، فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ» ← سَبَّ رَجُلٌ دِيكًا عِنْدَ النَّبِيِّ ← سُفْيَانُ: لَا أَدْرِي زِيدُ بْنُ خَالِدٍ أَمْ لَا، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 833

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 834

834 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ، فَمَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ» ، فَنَظَرُوا فِي مَتَاعِهِ، فَوَجَدُوا فِيهِ خَرَزَاتٍ مِنْ خَرَزِ يَهُودَ، لَا يَسْوَى دِرْهَمَيْنِ

حضرت زید بن خالد جہنی ؓ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ خیبر میں نبی اکرمﷺکے ساتھ موجود تھے۔ اشجع قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص فوت ہوگیا ،تو نبی اکرم ﷺنے اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی ۔ آپ ﷺنے فرمایا:"تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کرو۔“ جب لوگوں نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو انہیں اس کے سامان میں یہودیوں کا ایک ہار ملا جس کی قیمت دو درہم کے برابر بھی نہیں ہوگی۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← أَبِي عَمْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 834

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 835

835 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْرِفْ عُفَاصَهَا وَوِعَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنِ اعْتُرِفَتْ وَإِلَا فَاخْلِطْهَا بِمَالِكَ» قَالَ: وَسَأَلهُ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ، فَقَالَ: «لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ» وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ، فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، فَقَالَ: «مَا لَكَ وَلَهَا؟ مَعَهَا السِّقَاءُ وَالْحِذَاءُ، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأَكُلُ الْكَلَأَ، حَتَّى يَأْتِيَهَا رَبُّهَا» قَالَ سُفْيَانُ: " فَبَلَغَنِي أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُسْنِدُهُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: الْحَدِيثُ الَّذِي تُحَدِّثُهُ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ فِي اللُّقَطَةِ وَضَالَّةِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ هُوَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ [ص:62] فَقَالَ: نَعَمْ، وَكُنْتُ أَكْرَهُهُ لِلرَّأْيِ، فَلِذَلِكَ لَمْ أَسْأَلْهُ عَنْهُ وَلَوْلَا أَنَّهُ أَسْنَدَهُ، مَا سَأَلْتُهُ عَنْ إِسْنَادِهِ "

یزید مولیٰ منبعث بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور آپﷺسے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا: جو کہیں گری ہوئی ملتی ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:"تم اس کی تھیلی کو اور اس کی تھیلی کے منہ پر باندھنے والی رسی کو پہچان لو۔ پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو۔ اگر اس کا اعتراف کرلیا جائے ،تو ٹھیک ہے ورنہ تم اسے اپنے مال میں شامل کرلو۔‘‘راوی کہتے ہیں:نبی اکرمﷺسے گمشدہ بکری کے بارے میں دریافت کیا گیا:تو آپﷺنے ارشادفرمایا:وہ یاتمہیں ملے گی، یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی، یا بھیٹر یے کو ملے گی"۔راوی کہتے ہیں:انہوں نے نبی اکرم ﷺسے گمشده اونٹ کے بارے میں دریافت کیا تو آپﷺغضبناک ہو گئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا۔ آپ ﷺنے فرمایا:تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے؟ اس کا پیٹ اور اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں۔ وہ خودہی پانی تک پہنچ جائے گا اور گھاس کھائے گا یہاں تک کہ اس کا مالک اس تک پہنچ جائے گا۔سفیان کہتے ہیں۔ مجھے یہ بات پتہ چلی ہے ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن نامی راوی اس روایت کو حضرت زید بن خالد ؓ کے حوالے سے مسند روایت کے طور پرنقل کرتے ہیں۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے ان سے کہا: وہ حدیث جسے آپ یزید مولیٰ منبعث کے حوالے سے بیان کرتے ہیں، جو گمشدہ چیز کے، گمشده اونٹ یا بکری کے بارے میں ہے ،تو کیا وہ حضرت زید بن خالد ؓکے حوالے سے نبی اکرم اﷺسے منقول ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔سفیان کہتے ہیں: میں ان کی رائے کی وجہ سے انہیں پسند نہیں کرتا تھا۔ اس لیے میں نے ان سے اس بارے میں دریافت نہیں کیا ۔ اگر انہوں نے اس کی سند بیان نہ کی ہوتی ،تو میں ان سے اس سند کے بارے میں بھی دریافت نہ کرتا۔

يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 835

chevron_left Previous
1…242526…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter