Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 800

800 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا حِمًى إِلَّا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ»

حضرت عبد الله بن عباس ؓحضرت صعب بن جثامہ ؓ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ "چرا گاہ صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺکی ہے۔"

لاَ حِمَى إلاَّ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 800

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 801

801 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ، قَالَ: أَهْدَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ حِمَارٍ وَحْشٍ، وَهُوَ بِالْأَبْواءِ، أَوْ بِوَدَّانَ، فَرَدَّهُ عَلَيَّ، فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِي، قَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ، وَلَكِنَّا حُرُمٌ» [ص:38]، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا جَمَعَهُمَا مَرَّةً فِي حَدِيثٍ وَاحِدٍ وَرُبَّمَا فَرَّقَهُمَا، وَكَانَ سُفْيَانُ، يَقُولُ: «حِمَارٌ وَحْشٌ، ثُمَّ صَارَ إِلَى لَحْمِ حِمَارٍ وَحْشٍ»

حضرت عبد الله بن عباس ؓ حضرت صعب بن جثامہ ؓ کایہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نے نبی اکرم ﷺکی خدمت میں نیل گائے کا گوشت پیش کیا۔ آپ ﷺاس وقت "ابواء"یا شاید "ودان‘‘ کے مقام پر تھے۔ نبی اکرم ﷺنے وہ مجھے واپس کر دیا۔ نبی اکرم ﷺنے جب میرے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے تو ارشادفرمایا: "ہم نے یہ تمہیں واپس نہیں کرنا تھا۔ لیکن ہم اس وقت احرام کی حالت میں ہیں۔" امام حمیدی ؒبیان کرتے ہیں : سفيان بعض اوقات ان دونوں روایات کو ایک ہی حدیث میں ایک ساتھ جمع کر کے بیان کر دیتے تھے اور بعض اوقات انہیں الگ ،الگ کر کے بیان کرتے تھے اور سفیان پہلے صرف ’’نیل گائے‘‘ کے الفاظ نقل کرتے تھے، پھر بعد میں انہوں نے "نیل گائے کے گوشت "کے الفاظ نقل کرنا شروع کردیئے۔

الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 801

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 802

802 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ يَنَاقٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ لَقيَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، فَجَعَلَ يَسْتَذْكِرُهُ حَدِيثًا، فَقَالَ: كَيْفَ حَدَّثْتَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَحْمِ الصَّيْدِ؟ فَذَكَرَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ

طاؤس بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبد الله بن عباس ؓ کو دیکھا۔ ان کی ملا قات حضرت زید بن ارقم ؓ سے ہوئی تو انہوں نے حضرت زید ؓ کو ایک حدیث یاد کروانا شروع کی۔ اور بولے: آپ نے نبی اکرم ﷺکے حوالے سے یہ حدیث مجھے کیسے سنائی تھی ؟ جو شکار کے گوشت کے بارے میں ہے، تو حضرت زید بن ارقم ؓ نے ان کے سامنے نبی اکرمﷺکے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ۔ جیسی روایت حضرت صعب بن جثامہؓ سے منقول ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ نَحْوَ حَدِيثِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← رَسُولِ اللَّهِ فِي لَحْمِ الصَّيْدِ؟ ← كَيْفَ حَدَّثْتَنِي ← رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ لَقيَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، فَجَعَلَ يَسْتَذْكِرُهُ حَدِيثًا، ← طَاوْسٍ ← الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاق ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 802

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 803

803 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الْأَجْلَحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَجْيَةَ الْكِنْدِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: أَتَى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِالْيَمَنِ، فِي ثَلَاثَةِ نَفَرٍ وَقَعُوا عَلَى جَارِيَةٍ لَهُمْ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ، فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِاثْنَيْنِ مِنْهُمْ: أَتَطِيبَانِ بِهِ نَفْسًا لِصَاحِبِكُمَا؟ قَالَا: لَا، ثُمَّ قَالَ لِلْآخَرَيْنِ: أَتَطِيبَانِ بِهِ نَفْسًا لِصَاحِبِكُمَا؟ قَالَا: لَا، ثُمَّ قَالَ لِآخَرَيْنِ: أَتَطِيبَانِ نَفْسًا لِصَاحِبِكُمَا؟ قَالَا: لَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنْتُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ، إِنِّنَيْ مُقْرِعٌ بَيْنَكُمْ، فَأَيُّكُمْ أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ أَلْزَمْتُهُ الْوَلَدَ، وَأَغْرَمْتُهُ ثُلُثَيْ قِيمَةِ الْجَارِيَةِ لِصَاحِبَيْهِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «مَا أَعْلَمُ فِيهَا إِلَّا مَا قَالَ عَلِيٌّ» [ص:41]

حضرت زید بن ارقم ؓبیان کرتے ہیں۔ یمن میں حضرت علی ؓ کی خدمت میں تین آدمی پیش کیے گئے جنہوں نے اپنی کنیز کے ساتھ ایک ہی طہر کے دوران صحبت کی تھی اور اس کنیز کے ہاں بچہ پیدا ہو گیا تھا، تو حضرت علیؓ نے ان میں سے دو افراد سے کہا۔ کیا تم دونوں اپنے تیسرے ساتھی کے حق میں دستبردار ہونا چاہو گے؟ ان دونوں نے جواب دیا: جی نہیں! حضرت علیؓ نے پھر دوسرے دوسے دریافت کیا: کیا تم دونوں اپنے ساتھی کے حق میں دستبردار ہونا چاہو گے؟ ان دونوں نے بھی جواب دیا:جی نہیں ۔ پھر حضرت علی ؓنے باقی دوسے دریافت کیا: کیاتم دونوں اپنے ساتھی کے حق میں دستبردار ہونا چاہو گے؟ ان دونوں نے بھی جواب دیا: جی نہیں ،تو حضرت علیؓ نے ارشادفرمایا:”تم آپس میں اختلاف رکھنے والے شراکت دار ہو میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کرواتا ہوں۔ جس کے نام قرعہ نکل آیا میں بچے کو اس کے ساتھ لاحق کر دوں گا اور اس شخص کو اپنے باقی دو ساتھیوں کو کنیز کی دو تہائی قیمت تاوان کے طور پر دیناہوگی ۔‘‘ حضرت زید بن ارقمؓ بیان کرتے ہیں۔ جب ہم لوگ نبی اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺکے سامنے اس بات کا ذکر کیا، تو آپﷺنے ارشادفرمایا:"اس بارے میں میری بھی وہی رائے ہے ،جوعلی نے بیان کی ہے۔"

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْخَلِيلِ ← الشَّعْبِيِّ، ← الْأَجْلَحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَجْيَةَ الْكِنْدِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 803

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 804

804 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو سَهْلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ ذَرِيحٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

النَّبِیِّ بمثلہ۔ ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← عَلِيِّ بْنِ ذَرِيحٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبُو سَهْلٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 804

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 805

805 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ: {وَنَادَوْا يَا مَالِكُ} [الزخرف: 77] "

صفوان بن یعلیٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکومنبر پر یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے:"اور وہ ندادیں گے:اے مالک!"

النَّبِيَّ يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ: {وَنَادَوْا يَا مَالِكُ} [الزخرف: ← أَبِيهِ ← صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 805

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 806

806 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَحُمِلْتُ فِيهَا عَلَى بَكْرٍ، وَكَانَ أَوْثَقَ عَمَلِي فِي نَفْسِي، فَاسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ رَجُلًا، فَعَضَّ عَلَى يَدِهِ، فَانْتَزَعَهَا مَنْ فِيهِ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَيْدَعُهَا فِي فِيكَ تَقْضِمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ، وَأَهْدَرَهَا» [ص:43]

صفوان بن یعلیٰ اپنے والد کایہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نبی اکرم ﷺکے ہمراہ غزوہ تبوک میں شریک ہوا میں نے اس جنگ میں اللہ کی راہ میں ایک جوان اونٹ دیا تھا جو میرے نزدیک میرا سب سے بہترین عمل تھا۔ میں نے اس شخص کو ملازم رکھا اس کی ایک اورشخص کے ساتھ لڑائی ہوگئی۔ اس نے اس کے ہاتھ پر کاٹا تو دوسرے شخص نے اس کے منہ سے اپنے ہاتھ کو کھینچا تو پہلے شخص کے سامنے کے دانت گر گئے۔ وہ نبی اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہواتونبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا:"کیا وہ اپنے ہاتھ تمہارے منہ میں رہنے دیتا؟ تاکہ تم اسے یوں چبالیتے۔ جس طرح اونٹ چباتا ہے"۔ تو نبی اکرم ﷺنے اس کے نقصان کو کالعدم قراردیا۔

أَبِيهِ ← صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 806

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 807

807 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرٌو، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ أَجِيرًا لِيَعْلَى، وَلَمْ يُسْنِدْهُ، وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا ضَمَّهُمَا فَأَدْرَجَ فِيهِ الْإِسْنَادَ، فَإِذَا فَصَلَهُمَا جَعَلَ حَدِيثَ ابْنِ جُرَيْجٍ مُسْنَدًا، وَجَعَلَ حَدِيثَ عَمْرٍو مُرْسَلًا

ایک سند کے ساتھ یہ روایت عطاء نے بیان کی ہے اور انہوں نے اس کی سند بیان نہیں کی ۔ سفیان نامی راوی بعض اوقات ان دونوں روایات کو ایک ساتھ ذکر کر دیتے ہیں اور اس کی سند میں ادراج کرتے ہیں، لیکن جب وہ ان دونوں روایات کو الگ سے نقل کرتے ہیں:تو وہ ابن جریج سے منقول روایت کو "مسند" روایت کے طور پرنقل کرتے ہیں: اور عمرو سے منقول روایت کو ”مرسل "روایت کے طور پرنقل کرتے ہیں۔

عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 807

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 808

808 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرٌو، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَةٌ يَعْنِي جُبَّةً وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِالْعُمْرَةِ وَهَذِهِ عَلَيَّ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كُنْتَ تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ؟» ، فَقَالَ: كُنْتُ أَغْسِلُ هَذَا الْخُلُوقَ، وَأَنْزِعُ هَذِهِ الْمُقَطَّعَةَ [ص:44]، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ»

صفوان بن یعلیٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم ﷺکے ساتھ "جعرانہ‘‘ کے مقام پر موجود تھے۔ ایک شخص آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے جبہ پہنا ہوا تھا۔ اور وہ خوشبو میں لتھڑا ہوا تھا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! میں نے عمرے کا احرام باندھ لیا ہے اور یہ پہنا ہوا ہے ،تو نبی اکرمﷺنے ارشاد فر مایا:"تم نے حج کرنا ہوتا، تو تم کیا کرتے؟ " اس نے عرض کی۔ پھر میں اس خوشبو کو دھو لیتا اور اس قبےکو اتار دیتا (اور ان سلالباس پہنتا) تونبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: "جو تم نے اپنے حج میں کرنا ہوتا ہے۔ وہی اپنے عمرے میں کرو۔"

أَبِيهِ ← صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی ← عَطَاءٍ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 808

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 809

809 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا بِالْجِعْرَانَةِ إِذْ دَعَانِي عُمَرُ، فَأَتَيْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى ثَوْبًا فَكَشَفَ لِي عُمَرُ وَجْهَهُ، فَإِذَا هُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ» ، وَقَدْ كَانَ جَاءَهُ رَجُلٌ قَبْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا هُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَةٌ، فَقَالَ: إِنِّي أَحْرَمْتُ وَعَلَيَّ هَذِهِ، فَقَالَ السَّائِلُ: هَا أَنَا ذَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كُنْتَ تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ؟» ، قَالَ: كُنْتُ أَغْسِلُ هَذَا الْخُلُوقَ، وَأَنْزِعُ هَذِهِ الْمُقَطَّعَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجَّتِكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ»

صفوان بن یعلیٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓسے یہ کہا: میری یہ خواہش ہے ،میں نبی اکرمﷺکو اس وقت دیکھوں جب نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہورہی ہوتی ہے۔ حضرت یعلیٰ ؓ کہتے ہیں ۔ ہم "جعرانہ" کے مقام پر موجود تھے حضرت عمر ؓنے مجھے بلوایا۔ میں ان کے پاس آیا ،تو نبی اکرمﷺپراس وقت چادر ڈال دی گئی تھی، تو حضرت عمر ؓنے نبی اکرم ﷺکے چہرے سے کپڑا ہٹا کر مجھے دکھایا ،تو آپ ﷺکا چہرہ مبارک سرخ ہورہا تھا۔ جب نبی اکرم ﷺکی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپﷺنے یہ ارشادفرمایا:سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اس سے پہلے ایک شخص نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ وہ خوشبو میں لتھڑا ہوا تھا۔ اور اس نے جبہ پہنا ہوا تھا اور اس نے عرض کی تھی ۔ میں نے یہ جبہ پہن کر احرام باندھا ہے (حضرت یعلیٰؓ بیان کرتے ہیں) اس سائل نے عرض کی۔ میں یہاں ہوں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:تم اپنے حج میں کیا کرتے ؟ وہ بولا: میں اس خوشبو کو دھو لیتا اور جبے (یعنی سلے ہوئے کپڑے )کو اتار دیتا۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:”جوتم اپنے حج میں کرتے ہو وہی اپنے عمرے میں کرو۔“

قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنِّي أَشْتَهِي ← أَبِيهِ ← صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 809

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 810

810 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّ أَبِي كِتَابًا إِلَى أَخٍ لِي كَانَ عَامِلًا، أَنْ لَا تَقْضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا يَنْبَغِي لِلْحَاكِمِ أَنْ يَحْكُمَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ»

حضرت ابو بکرہ ؓ کے صاحبزادے عبدالرحمنٰ بیان کرتے ہیں۔ میرے والد نے مجھے ایک خط املاء کروایا۔ جو انہوں نے میرے بھائی کولکھا تھا۔ جو کسی علاقے کا گورنر تھا (اس میں یہ تحریر تھا) کہ تم غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ دینا کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "ثالث کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے، وہ دو آدمیوں کے درمیان اس وقت فیصلہ دے جب وہ غصے کی حالت میں ہو۔"

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 810

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 811

811 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِسْرَائِيلُ أَبُو مُوسَى، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ مَعَهُ إِلَى جَنْبِهِ، وَهُوَ يَلْتَفِتُ إِلَى النَّاسِ مَرَّةً وَإِلَيْهِ مَرَّةً، وَهُوَ يَقُولُ: «إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ»

حضرت ابو بکرہ ؓ بیان کرتے ہیں۔ میں نے نبی اکرم ﷺکومنبر پردیکھا۔ حضرت امام حسن ؓ آپ ﷺکے ساتھ آپ ﷺکے پہلو میں تھے۔ آپ ﷺایک مرتبہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت امام حسن ؓ کی طرف متوجہ ہوتے اور یہ ارشاد فرمارہے تھے: "میرایہ بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کروائے گا۔“

أبا بكرة ← الْحَسَنِ، ← إِسْرَائِيلُ أَبُو مُوسَى، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 811

chevron_left Previous
1…222324…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter