Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 776

776 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَحُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَيُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَمْسَحَ أَحَدُنَا عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ قَالَ: «نَعَمْ، إِذَا أَدْخَلَهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ»

عروہ بن مغیرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے عرض کی یارسول الله (ﷺ)! کوئی شخص موزوں پرمسح کر سکتا ہے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جی ہاں۔ جب اس نے(اپنے دونوں پاؤں موزوں میں)اس وقت داخل کیے ہوں جب وہ دونوں پاک (یعنی باوضو حالت میں)ہوں۔

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← حصين بن عبد الرحمن السلمي ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 776

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 777

777 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثني زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا»

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺقیام کیا (یعنی بکثرت نوافل ادا کیا)کرتے تھے ،یہاں تک کہ آپﷺکے پاؤں ورم آلودرہنے لگے، تو عرض کی گئی:یا رسول اللد (ﷺ)! کیا الله تعالیٰ نے آپ ﷺکے گز شتہ اور آئنده گناہوں کی مغفرت نہیں کر دی ہے؟ نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا: "کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔“

قَامَ رَسُولُ اللَّهِ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ: ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 777

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 778

778 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، قَالَ: ثنا طُعْمَةُ بْنُ عَمْرٍو الْجَعْفَرِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ بَيَانٍ التَّغْلِبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَاعَ الْخَمْرَ فَلْيُشَقِّصِ الْخَنَازِيرَ»

عروہ بن مغیرہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ جوشخص شراب فروخت کرتا ہے وہ گویا خنزیروں کا گوشت (لیکن اسے کھانے کو جائز سمجھتا ہے)

أَبِيهِ ← عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ← عُمَرَ بْنِ بَيَانٍ التَّغْلِبِيِّ ← طُعْمَةَ بْنِ عَمْرٍو الْجَعْفَرِيِّ ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 778

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 779

779 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ، وَعَبْدُ الْمَلْكِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبْجَرَ، جَمِيعًا سَمِعَا الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَنَّ مُوسَى سَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ أَيُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَدْنَى مَنْزِلَةً؟ فَقَالَ: رَجُلٌ يَجِيءُ بَعْدَمَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، فَيُقَالُ لَهُ: ادْخُلْ وَقَدْ نَزَلُوا مَنَازِلَهُمْ، وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: أَتَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مِثْلُ مَا كَانَ لِمَلِكٍ مِنْ مِلُوكِ الدُّنْيَا؟ قَالَ: فَيَقُولُ: نَعَمْ، أَيْ رَبِّ قَدْ رَضِيتُ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ هَذَا وَمِثْلَهُ وَمِثْلَهُ وَمِثْلَهُ وَمِثْلَهُ، قَالَ: فَيَقُولُ: رَضِيتُ أَيْ رَبِّ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ هَذَا وَعَشْرَةَ أَمْثَالِهِ مَعَهُ [ص:25]، فَيَقُولُ: رَضِيتُ أَيْ رَبِّ، قَالَ: فَيُقَالَ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَعَ هَذَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ، وَلَذَّتْ عَيْنُكَ، فَقَالَ مُوسَى: أَيْ رَبَّ، فَأَيُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَرْفَعُ مَنْزِلَةً؟ قَالَ: إِيَّاهَا أَرَدْتَ، وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْهُمْ، إِنِّي غَرَسْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي، وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا، فَلَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ " قَالَ: وَمِصْدَاقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ} [السجدة: 17] الْآيَةَ

حضرت مغیرہ بن شعبہؓ نے منبر تک نبی اکرم ﷺ تک ’’مرفوع "حدیث کے طور پر یہ بات بیان کی ۔ حضرت موسی ٰؑ نے اپنے پروردگار سے سوال کیا۔ انہوں نے عرض کی۔"اے میرے پروردگار! جنت میں قدرومنزلت کے اعتبار سے سب سے کم مرتبے کہ شخص کون ہو گا؟تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”وہ ایک ایسا شخص ہوگا، جو اس کے بعد آئے گا ،جب اہل جنت، جنت میں داخل ہو چکے ہوں گے، تو اسے کہا جائے گا:تم جنت میں داخل ہو جاؤ ۔ حالانکہ اہل جنت اپنی، اپنی جگہ پر پہنچ چکے ہوں گے۔ اور انہوں نے اپنی مخصوص جائے قیام پر پڑاؤ کرلیا ہو گا، تو الله تعالیٰ اس سے فرمائے گا: کیاتم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہیں (جنت میں)اتنی جگہ مل جائے ،جو دنیا میں کسی بادشاہ کے پاس ہوتی تھی؟"نبی اکرم ﷺفرماتے ہیں۔"وہ شخص عرض کرے گا۔ اے میرے پروردگار! جی ہاں! میں اس سے راضی ہوں“۔ نبی اکرم ﷺفرماتے ہیں، تو اس سے کہا جائے گا: تمہیں یہ اور اس کی مانند (مزید) اور اس کی مانند (مزید) اور اس کی مانند (مزید) اور اس کی مانند( مزید ) جگہ ملتی ہے"۔ نبی اکرمﷺفرماتے ہیں :وہ شخص عرض کرے گا۔ اے میرے پروردگار! میں راضی ہوں۔ نبی اکرم ﷺفرماتے ہیں، تو اس شخص سے کہا جائے گا۔ تمہیں یہ بھی ملتی ہے اور اس کے ساتھ اس کی دس گنا (مزید جگہ بھی) ملتی ہے ،تو وہ عرض کرے گا ۔"اے میرے پروردگار! میں راضی ہوں"۔نبی اکرم ﷺفرماتے ہیں۔"اس سے کہا جائے گا۔ اس کے ساتھ تمہیں وہ سب کچھ ملے گا، جس کی تمہارے نفس کو خواہش ہے اور جس سے تمہاری آنکھوں کو لذت حاصل ہوتی ہے"۔ نبی اکرم ﷺفرماتے ہیں۔ حضرت موسیٰؑ نے عرض کی۔"اے پروردگار! جنت میں سب سے بلندترین مرتبہ کس کا ہو گا، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا :تم اس کا ارادہ رکھتے ہو؟ میں تمہیں ان لوگوں کے بارے میں بتاتا ہوں۔"میں نے اپنے دست قدرت کے ذریعے ان کی کرامت کا پودا لگایا ہے اور میں نے اس پر مہر لگا دی ہے، تو کسی آنکھ نے اسے دیکھا نہیں، کسی کان نے اس کے بارے میں سنانہیں اور کسی انسان کے ذہن میں اس کا خیال تک نہیں آیا ہو گا۔"نبی اکرم ﷺفرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اس کی تائید موجود ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے)" کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ پوشیدہ رکھا گیا ہے؟ "

الْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ، عَلَى الْمِنْبَرِ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبْجَرَ، جَمِيعًا سَمِعَا الشَّعْبِيَّ، ← مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 779

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 780

780 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا وَرَّادًا كَاتِبَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، يَقُولُ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى الْمُغِيرَةِ: اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ الْمُغِيرَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يَقُولَ إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِي لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ "

ورادجوحضرت مغیرہ بن شعبہ ؓکے سیکرٹری ہیں وہ بیان کرتے ہیں۔ حضرت معاویہ بن ابوسفیان ؓ نے حضرت مغیرہ ؓ کو خط لکھا ۔کہ آپ مجھے کوئی ایسی حدیث لکھ کر بھجوائیں جو آپ نے نبی اکرم ﷺکی زبانی سنی ہو ،تو حضرت مغیرہؓ نے انہیں جوابی خط میں لکھا۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کوسنا۔ جب آپ ﷺنماز مکمل کر لیتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے۔"الله تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ،وہی ایک معبود ہے ،اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ !جسے تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جسے تونہ دے اسے کوئی دینے والانہیں ہے۔ تیری مرضی کے مقابلے میں کسی کوشش کرنے والے کی کوشش (یا کسی صاحب حیثیت شخص کا مال و مرتبہ) اس کے کسی کام نہیں آ سکتا۔“

إِلَيْهِ الْمُغِيرَةُ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى الْمُغِيرَةِ: اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ ← رَّادًا كَاتِبَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 780

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 781

781 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ الْعَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَمْ يَتَوَكَّلْ مَنِ اسْتَرْقَى وَاكْتَوَى»

عقاربن مغیرہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے "جو شخص دم ، جھاڑ کرتا ہے یا داغ لگواتاہے ۔ وہ تو کل نہیں کرتا۔"

أَبِيهِ ← الْعَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 781

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 782

782 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ، يَقُولُ [ص:27]: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ، مَا سَأَلْتُهُ، قَالَ: وَمَا مَسْأَلَتُكَ عَنْهُ؟ «إِنَّكَ لَنَ تُدْرِكَهُ»

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺسے دجال کے بارے میں کسی نے اتنے سوالات نہیں کیے جتنے میں نے کیے ہیں۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا: "تمہیں اس کے بارے میں دریافت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ تم اس تک نہیں پہنچ سکو گے (یا تم اس کاز مانہ نہیں پاو گے)“

وَمَا مَسْأَلَتُكَ عَنْهُ؟ «إِنَّكَ لَنَ تُدْرِكَهُ» ← الدَّجَّالِ، مَا سَأَلْتُهُ، ← مَا سَأَلَ أَحَدٌ رَسُولَ اللهِ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← [ص:149] ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 782

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 783

783 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، فَأُتِيَ بِلَحْمِ دَجَاجٍ، فَتَنَحَّى رَجُلٌ لَمْ يَأْكُلْ، فَدَعَاهُ أَبُو مُوسَى، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا، فَقَذَرْتُهُ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ»

زہدم جرمی بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حضرت ابوموسی اشعری ؓ کے پاس موجود تھے۔ وہاں مرغی کا گوشت لایا گیا تو ایک شخص پیچھے ہٹ گیا۔ اس نے کھانے میں حصہ نہیں لیا، حضرت ابوموسی ٰاشعریؓ نے اسے دعوت دی تو وہ بولا: میں نے اسے گندگی کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس لیے میں اسے گندا سمجھتا ہوں۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم ﷺکواسے کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔

زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 783

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 784

784 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَأُتِيَ بِذُودٍ غُرِّ الذُّرَى، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ احْمِلْنَا، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، ثُمَّ أُتِيَ بِذُودٍ أُخْرَى، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ احْمِلْنَا، فَحَمَلَنَا، فَلَمَّا أَدْبَرْنَا، قُلْنَا: مَاذَا صَنَعْنَا؟ تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ يَمِينَهُ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي»

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سے سواری کا جانور مانگیں۔ نبی اکرمﷺکی خدمت میں سفید کوہان والے کچھ اونٹ پیش کیے گئے تھے۔ ہم نے عرض کی یارسول اللہ (ﷺ)! ہمیں سواری کے لیے دیجئے،تو نبی اکرم ﷺنے یہ قسم اٹھائی کہ آپ ﷺہمیں سواری کے لیے جانور نہیں د یں پھر نبی اکرمﷺکی خدمت میں کچھ اور اونٹ پیش کیے گئے۔ ہم نے عرض کی : یارسول اللہ (ﷺ)! آپ ﷺہماری سواری کے لیےدیجئے، تو نبی اکرم ﷺنے ہمیں سواری کے لیے دے دیئے، جب ہم وہاں سے واپس آئے، تو ہم نے سوچا۔ یہ ہم نے کیا، کیا ہے؟ ہم نے نبی اکرم ﷺکی ،توجہ آپﷺکی قسم کی طرف مبذول نہیں کروائی پھر ہم نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے اس بات کا تذکرہ آپ ﷺسے کیا، تو آپ ﷺنے ارشادفرمایا:"میں جب بھی قسم اٹھاؤں گا اور پھر اس کے برعکس کام کو اس سے بہتر سمجھوں گا ،تو وہ کام کروں گا، جو زیادہ بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا“۔

أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ نَسْتَحْمِلُهُ، فَأُتِيَ بِذُودٍ غُرِّ الذُّرَى، فَقُلْنَا: ← أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← زَهْدَمٍ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 784

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 785

785 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ يُقَالُ لَهُ شُعْبَةُ، وَكَانَ ثِقَةً، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى فِي دَارِهِ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِهِ، فَدَعَا بَنِيهِ، فَقَالَ: يَا بَنِيَّ، تَعَالَوْا حَتَّى أُحَدِّثَكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَعْتَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ»

شعبہ کہتے ہیں : میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓکے صاحبزادے حضرت ابو بردہ ؓ کے ساتھ ان کے گھر کی پشت کی طرف کے کمرے میں موجود تھا۔ انہوں نے اپنے بچوں کو بلوایا اور بولے: اے میرے بچو! آگے آو تا کہ میں تمہیں وہ حدیث سناوں جو میں نے اپنے والد کو نبی اکرم ﷺکے حوالے سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے: میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے:"جو شخص ایک گردن (یعنی غلام یا کنیز ) کو آزاد کرتا ہے ،تو اللہ تعالیٰ اس (غلام با کنیز) کے ہر ایک عضو کے عوض میں اس( آزاد کرنے والے کے)ہرایک عضو کو جہنم سے آزاد کر دے گا۔"

سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 785

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 786

786 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الشَّعْبِيِّ وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا عُمَرَ، وَإِنَّ نَاسًا عِنْدَنَا بِخُرَاسَانَ يَقُولُونَ: إِذَا أَعْتَقَ الرَّجُلُ أَمَتَهُ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا فَهُوَ كَالرَّاكِبِ بَدَنَتَهُ، قَالَ الشَّعْبِيُّ: ثنا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ: الرَّجُلُ مِنَ أَهْلِ الْكِتَابِ كَانَ مُؤْمِنًا قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ آمَنَ بِالنَّبِيِّ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَرَجُلٌ كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ، فَعَلَّمَهَا، فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا، وَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ، وَعَبْدٌ أَطَاعَ اللَّهَ، وَأَدَّى حَقَّ سَيِّدِهِ، فَلَهُ أَجْرَانِ [ص:30] خُذْهَا بِغَيْرِ شَيْءٍ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ فِي أَدْنَى مِنْهَا إِلَى الْمَدِينَةِ "

صالح بن حیی کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں: ایک شخص امام شعبیؒ کے پاس آیا۔ میں اس وقت ان کے پاس موجود تھا۔ وہ بولا: اے ابوعمرو! خراسان میں ہمارے ہاں کچھ ایسے لوگ ہیں، جو اس بات کے قائل ہیں، اگر کوئی شخص اپنی کنیز کو آزاد کرنے کے بعد پھر اس سے شادی کرلے ،تو وہ اپنے قربانی کے جانور پر سوار ہونے والے شخص کی مانند ہے، تو امام شعبیؒ نے جواب دیا:حضرت ابو بردہ بن ابوموسیٰ اشعریؓ نے اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکایہ فرما ن نقل کیا ہے۔"تین لوگوں کو دگنا اجر ملے گا۔ اہل کتاب سے تعلق رکھنے والا وہ شخص جو نبی اکرم ﷺکی بعثت سے پہلے بھی مومن تھا اور پھر وہ نبی اکرم ﷺپر بھی ایمان لے آیا ،تو اسے دگنا اجر ملے گا۔ ایک وہ شخص جس کی کوئی کنیز وہ اس کی تعلیم وتربیت کرے اور اچھی تعلیم وتربیت کرے، پھر وہ اسے آزاد کر کے اس کے ساتھ شادی کر لے۔ اور ایک وہ غلام جواللہ تعالیٰ کے احکام کی بھی فرمانبرداری کرے اور اپنے آقا کے حق کو بھی ادا کرے تو اسے دگنا اجر ملے گا۔‘‘(امام شعبی نے فرمایا):تم کسی معاوضے کے بغیر اسے حاصل کرلو۔ حالانکہ پہلے کوئی شخص اس سے کم مضمون والی روایت کے لیے مدینہ منورہ تک کا سفر کیا کرتا تھا۔

ابْنُ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 786

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 787

787 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخَازِنُ الْأَمِينُ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ مُوتَجِرًا أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِينَ»

حضرت ابو موسی ٰاشعری ؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے:"وہ امانت دارخز انچی جواجر کی امید رکھتے ہوئے وہ چیز ( الله کی راہ میں کسی کو )دیتا ہے۔ جس کا اسے حکم دیا گیا ہے، تو وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک شمار ہوگا۔"

اَبِیْ مُوْسیٰ ← جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ← بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 787

chevron_left Previous
1…202122…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter