Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 752

752 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ الْمَازِنِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ» ، قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، يَرْوِيَانِ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى

حضرت ابوسعید خدری ؓروایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے۔ : "پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰة لازم نہیں ہوتی پانچ وسق سے کم اناج میں زکو ٰۃلازم نہیں ہوتی۔ پانچ اوقیہ سے کم(چاندی میں) ز کو ٰۃلازم نہیں ہوتی‘‘۔ سفیان کہتے ہیں:عمرو بن دینا راور یحییٰ بن سعید نے یہ روایت عمرو بن یحییٰ کے حوالے سے نقل کی ہے۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَبِي أَنَّهُ ← عمرو بن يحيى بن عمارة بن أبي الحسن المازني ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 752

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 753

753 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ»

حضرت ابوسعید خدریؓ، نبی اکرم ﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ شخص پر لازم ہے۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 753

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 754

754 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثني الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، مَوْلَى الْحُرَقَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَسَأَلْتُهُ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِزَارِ شَيْئًا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، تَعَلَّمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ، لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ، مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ، لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا»

علاء بن عبدالرحمن ٰبیان کرتے ہیں۔ میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔ میں حضرت ابوسعید خدری ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے ان سے سوال کیا۔ کیا آپ نے نبی اکرم ﷺکوتہبند کے بارے میں کوئی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ میں نے نبی اکرمﷺکویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "بندہ مومن کا تہبند اس کی نصف پنڈلی تک ہوتا ہے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، جو اس نصف پنڈلی اورٹخنوں کے درمیان ہو۔ لیکن جوٹخنوں سے نیچے ہو وہ جہنم میں ہوگا ۔" الله تعالیٰ اس شخص کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا، جو تکبر کے طور پر اپنے تہبند کولٹکائے گا۔“

رَسُولِ اللَّهِ ← نَعَمْ تَعَلَّمْ ← مِنْ رَسُولِ اللهِ فِي الْإِزَارِ شَيْئًا، ← أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَسَأَلْتُهُ هَلْ ← أَبِي ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 754

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 755

755 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْأَعْشَى، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ، أَوْ ثَلَاثُ أَخَواتٍ، أَوِ ابْنَتَانِ، أَوْ أُخْتَانِ، فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ، وَصَبَرَ عَلَيْهِنَّ، وَاتَّقَى اللَّهَ فِيهِنَّ، دَخَلَ الْجَنَّةَ»

حضرت ابوسعید خدری ؓروایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: "جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں (رادی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تین بہنیں ہوں، یا دو بیٹیاں ہوں یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور(ان کی ذمہ داری اٹھانے کے حوالے سے)صبر سے کام لے اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتار ہے ،تو وہ شخص جنت میں داخل ہوگا۔‘‘

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدٍ الْأَعْشَی ← أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 755

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 756

756 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو عُمَيْرٍ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا مِنْ أَبِي طُوَالَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ نَهَّارٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ لَيَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَقُولَ: مَا مَنَعَكَ إِذَا رَأَيْتَ الْمُنْكَرِ فِي الدُّنْيَا أَنْ تَكْرَهَ، فَإِذَا لَقَّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدَهُ حُجَّتَهُ، قَالَ: يَا رَبِّ رَجَوْتُكَ وَخِفْتُ النَّاسَ "

حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک الله تعالیٰ قیامت کے دن بندے سے سوال کرے گا اور فرمائے گا تمہیں کس بات نے روک لیا تھا کہ، جب تم نے دنیا میں منکر چیز کو دیکھا تو تم نے اس کا انکار کیوں نہیں کیا؟ پھر الله تعالیٰ بندے کو اس کی دلیل کی تلقین کرے گا، تو وہ بندہ عرض کرے گا۔ اے میرے پروردگار! میں نے تجھ سے امید رکھی اور میں لوگوں سے خوفزدہ ہو گیا۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← نَهَارِ الْعَبْدِيِّ، ← أَبُو عُمَيْرٍ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا مِنْ أَبِي طُوَالَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 756

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 757

757 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ الْعَامِرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ: «أَنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ نَبَاتِ الْأَرْضِ، وَزَهْرَةُ الدُّنْيَا» ، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ يُنَزَّلُ عَلَيْهِ، وَكَانَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ غَشِيَهُ بُهْرٌ وَعَرَقٌ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ؟» [ص:10] قَالَ: هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ أُرِدْ إِلَّا خَيْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ، إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ، إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ، وَلَكِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، وَكُلُّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يُقْتَلُ حَبَطًا، أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آكِلَةُ الْخَضِرِ، تَأْكُلُ حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ، فَثَلَطَتْ أَوْ بَالَتْ، ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ، ثُمَّ أَفَاضَتْ فَاجْتَرَّتْ، مَنْ أَخَذَ مَالًا بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَ مَالًا بِغَيْرِ حَقِّهِ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى» قَالَ سُفْيَانُ: «كَثِيرًا مَا كَانَ الْأَعْمَشُ يَسْتَعِيدُنِي هَذَا الْحَدِيثَ كُلَّمَا جِئْتُهُ»

حضرت ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے منبر پر یہ بات ارشادفرمائی ہے:”مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ اس بات کا ہے، اللہ تعالیٰ تمہارے لیے زمین کے نباتات اور دنیاوی آرائش و زیبائش کو ظاہر کردے گا۔"حضرت ابوسعید خدری ؓبیان کرتے ہیں ۔ ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! کیا بھلائی برائی کو لے کر آئے گی؟ انہوں نے تین مرتبہ یہ بات عرض کی راوی کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺخاموش رہے، یہاں تک کہ ہمیں یہ محسوس ہوا کہ آپ ﷺپر وحی نازل ہورہی ہے۔ نبی اکرم ﷺپر جب وحی نازل ہوتی تھی، تو آپ ﷺکا سانس پھول جاتا تھا اور آپ ﷺکو پسینہ آجاتا تھا۔ جب آپﷺ کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ ﷺنے دریافت کیا:سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے عرض کیا: یارسول اللہ(ﷺ) میں یہاں ہوں۔ میں نے صرف بھلائی کا ارادہ کیا تھا۔ نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا:"بھلائی صرف بھلائی کو لے کر آتی ہے۔ بے شک بھلائی صرف بھلائی ہی کو لے کر آتی ہے۔ بے شک بھلائی صرف بھلائی ہی کو لے کر آتی ہے۔ تا ہم دنیا سرسبز اورمیٹھی ہے موسم بہار جو کچھ اگاتا ہے اس کے نتیجے میں کچھ جانور زیاده کھانے کی وجہ سے مر جاتے ہیں اور کچھ موت کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔ تاہم سبزہ کھانے والے کا حکم مختلف ہے کیونکہ وہ اسے کھاتا ہے ،تو اس کے پہلو پھول جاتے ہیں۔ وہ دھوپ میں آتا ہے وہاں لید کرتا ہے پیشاب کرتا ہے پھر واپس جاتا ہے، پھر کھاتا ہے، پھر روانہ ہوتا ہے اور جگالی کرتا ہے ،تو جوشخص مال کو اس کے حق کے ہمراہ حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس مال میں برکت رکھی جاتی ہے۔ اور جو شخص مال کو ناحق طور پر حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس مال میں برکت نہیں رکھی جاتی ۔ اور اس کی مثال اس شخص کی مانند ہوتی ہے جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔“ سفیان کہتے ہیں۔ میں جب کبھی اعمش کے پاس گیا انہوں نے مجھ سے بار بار یہی روایت سنانے کی فرمائش کی۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ الله بْنِ سَعْدِ بِنْ أبِي سَرْحٍ الْعَامِرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 757

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 758

758 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، قَالَ: ثنا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، قَالَ [ص:11]: رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، جَاءَ وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَامَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ، فَجَاءَ إِلَيْهِ الْأَحْرَاسُ لِيُجْلِسُوهُ، فَأَبَى أَنْ يَجْلِسَ حَتَّى صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَتَيْنَاهُ، فَقُلْنَا لَهُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ كَادَ هَؤُلَاءِ أَنْ يَفْعَلُوا بِكَ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: مَا كُنْتُ لِأَدَعَهُمَا لِشَيْءٍ بَعْدَ شَيْءٍ رَأَيْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَ رَجُلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصَلَّيْتَ» ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: «فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ» ، ثُمَّ حَثَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَلْقَى النَّاسُ ثِيَابًا، فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ، فَلَمَّا جَاءَتِ الْجُمُعَةُ الْأُخْرَى، جَاءَ الرَّجُلُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ» ، ثُمَّ حَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَلْقَوْا ثِيَابًا، فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ، فَلَمَّا جَاءَتِ الْجُمُعَةُ الْأُخْرَى، جَاءَ الرَّجُلُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ» ، ثُمَّ حَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَلْقَوْا ثِيَابًا، فَطَرَحَ الرَّجُلُ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ، فَصَاحَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «خُذْهُ، فَأَخَذَهُ» ، ثُمَّ قَالَ: " انْظُرُوا إِلَى هَذَا، جَاءَ تِلْكَ الْجُمُعَةَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ، فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ، فَأَلْقَوْا ثِيَابًا، فَأَعْطَيْتُهُ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ، فَلَمَّا جَاءَتْ هَذِهِ الْجُمُعَةُ أَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ، فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ، قَالَ سُفْيَانُ: يَقُولُ: لَا صَدَقَةَ إِلَّا عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَلَا غِنًى بِهَذَا عَنْ ثَوْبِهِ "

عياض بن عبداللہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے حضرت ابوسعید خدری ؓ کو دیکھا وہ تشریف لائے۔ مروان اس وقت جمعہ کے دن کا خطبہ دے رہا تھا۔ حضرت ابوسعیدؓدورکعات ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے سپاہی ان کے پاس آئے تا کہ انہیں زبردستی بٹھا دیں، تو انہوں نے بیٹھنے سے انکار کر دیا اور دو رکعات ادا کیں جب انہوں نے نمازمکمل کی، تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے کہا: اے حضرت ابوسعید قریب تھا کہ یہ لوگ آپ سے کوئی ناروا سلوک کرتے ،تو حضرت ابوسعید خدریؓ بولے: میں نے ان کے بارے میں نبی اکرمﷺکے حوالے سے جو کچھ دیکھا ہے اس کے بعد میں کسی اور وجہ سے ان دونوں رکعات کو ترک نہیں کروں گا۔ مجھے نبی اکرمﷺکے بارے میں، یاد ہے۔ ایک شخص آیا۔ نبی اکرمﷺاس وقت جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے۔ وہ شخص اس وقت عام سی حالت میں مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرمﷺ نے اس سے دریافت کیا: کیا تم نے نماز ادا کر لی ہے؟ اس نے عرض کی :جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: ”تم دورکعات ادا کرلو۔“ پھر نبی اکرمﷺنے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی تو لوگوں نے اپنے کپڑے صدقہ کئے ۔ نبی اکرمﷺنے اس شخص کو ان کپڑوں میں سے دو کپڑے عطا کیے۔ جب اگلا جمعہ آیا ،تو ایک شخص آیا۔ نبی اکرم ﷺاس وقت خطبہ دے رہے تھے۔ نبی اکرم ﷺنے دریافت کیا: کیا تم نے دورکعات ادا کر لی ہیں؟ اس نے عرض کیا”جی نہیں "نبی اکرم ﷺنے فرمایا تم دورکعات ادا کرلو۔ پھرنبی اکرم ﷺنے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی ،تو لوگوں نے اپنے کپڑے دئیے۔ نبی اکرم نے اس شخص کوان میں سے دو کپڑے دے دیئے جب اس سے اگلا جمعہ آیا تو ایک شخص آیا۔ نبی اکرم ﷺاس وقت خطبہ دے رہے تھے۔ نبی اکرم ﷺنے دریافت کیا: کیا تم نے دورکعات ادا کر لی ہیں؟ اس نے عرض کی:جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: "تم دورکعات ادا کر لو" پھر نبی اکرم ﷺنے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی۔ لوگوں نے اپنے کپڑے پیش کیے تو اس شخص نے بھی اپنے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑاوہاں رکھ دیا، تو نبی اکرم ﷺنے بلند آواز میں اسے پکارا اور فرمایا :تم اسے حاصل کر لو۔ اس نے اسے لے لیا۔ پھر نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: "اس شخص کو دیکھو۔ یہ اس دن برے حال میں جمعے کے دن آیا تھا۔ میں نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی۔ لوگوں نے اپنے کپڑے پیش کیےتو میں نے اس میں سے دو کپڑ ے اسے دے دیئے۔ اب جب یہ اس جمعے آیا ہے ،تو میں نے لوگوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے، تو اس نے دو میں سے ایک کپڑا دے دیا ہے۔"سفیان یہ کہا کرتے تھے۔ صدقہ وہ ہوتا ہے ،جسے کرنے کے بعد بھی آدمی خوشحال رہے۔ اور وہ شخص اگر کپڑا دے دیتا تو پھر اس کے پاس خوشحالی نہیں رہنی تھی۔

عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 758

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 759

759 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ عَجْلَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ [ص:12]: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: «مَا كُنَّا نُخْرِجُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زَكَاةِ الْفِطْرِ إِلَّا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ»

حضرت ابوسعید خدری ؓفرماتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺکے زمانہ اقدس میں ہم صدقہ فطر میں کھجور کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع دیا کرتے تھے۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← [ص:149] ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابن عجلان، أنه ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 759

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 760

760 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، فَيَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، فَيَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ لَهُمْ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، فَيَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ "

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابوسعید خدری ؓنے مجھے یہ بات بتائی ہے۔ نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا،جس میں بہت سے لوگ جنگ میں حصہ لیں گے، تو یہ کہا جائے گا: کیا تمہارے در میان کوئی ایسے صاحب موجود ہیں جو نبی اکرم ﷺکے صحابی ہوں؟ تو جواب دیا جائے گا۔ جی ہاں، تو ان لوگوں کو فتح نصیب ہوگی۔ پھر لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا۔ جب بہت سے لوگ جنگ میں حصہ لینے کے لیے جائیں گے، تو ان سے دریافت کیا جائے گا کیا تم میں کوئی ایساشخص موجود ہے ،جو صحابہ کرام ؓ کی خدمت میں رہا ہو ،تو انہیں جواب دیا جائے گا۔ جی ہاں ،تو انہیں بھی فتح نصیب ہوگی۔ پھر لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا، جس میں بہت سے لوگ جنگ کرنے کے لیے جائیں گے، تو دریافت کیا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایساشخص موجود ہے ،جس نے نبی اکرم ﷺکے صحابہؓ کے ساتھیوں کو پایاہو؟ تو جواب دیا جائے گا:جی ہاں ،تو انہیں بھی فتح نصیب ہوجائے گی۔"

أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 760

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 761

761 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمُ، وَالدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، مِثْلَا بِمِثْلٍ، لَيْسَ بَيْنَهُمَا فَضْلٌ» ، فَقُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قَدْ لَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ لَهُ: أَخْبِرْنِي عَنْ هَذَا الَّذِي تَقُولُ، أَشَيْءٌ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟ أَوْ شَيْءٌ سَمِعْتَهُ مَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَلَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي، وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ»

حضرت ابوسعید خدری ؓ نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"درہم کے عوض میں درہم اور دینار کےعوض میں دینار کا برابر، برابر لین دین کیا جائے گا۔ اور اس میں کوئی اضافی ادائیگی نہیں ہوگی"۔راوی کہتے ہیں: میں نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے گزارش کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ تو اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں۔ پھر حضرت ابوسعید خدری ؓ بو لے: میری حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے ملاقات ہوئی تھی۔ میں نے ان سے کہا: آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیے جو آپ کہتے ہیں: کیا آپ نے اس بارے میں اللہ کی کتاب میں کوئی حکم پایا ہے؟ یا پھر نبی اکرمﷺکی زبانی اس بارے میں کوئی بات سنی ہے؟ انہوں نے بتایا: میں نے الله کی کتاب میں اس بارے میں کوئی حکم نہیں پایا ہےاور میں نے نبی اکرم ﷺکی زبانی بھی کوئی بات نہیں سنی۔ آپ نبی اکرم ﷺکے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں تاہم حضرت اسامہ بن زید ؓنے مجھے یہ بات بتائی تھی۔ نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے: ’’سود، ادھار میں ہوتا ہے۔“

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 761

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 762

762 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ضَمْرَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَازِنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عُمَرَ بِحَدِيثِ الصَّرْفِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ، فَسَأَلَهُ عَنْهُ وَأَنَا حَاضِرٌ، قَالَ سُفْيَانُ: إِنِّي لَا أَحْفَظُ شَيْئًا فِيهِ إِلَّا أَنَّهُ نَحْوٌ مِمَّا يُحَدِّثُ النَّاسُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فِي الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، الْوَرِقُ بِالْوَرِقِ مِثْلًا بِمِثْلٍ»

ضمرہ بن سعید مز نی بیان کرتے ہیں۔ میں نے حضرت ابوسعید خدری ؓ کو حضرت عمرؓکے حوالے سے بیع صرف کے بارے میں نبی اکرمﷺکی حدیث نقل کرتے ہوئے سنا ہے:حضرت عبداللہ بن عمرؓتشریف لائے اور انہوں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا: میں اس وقت وہاں موجودتھا۔ سفیان کہتے ہیں: اس بارے میں مجھے صرف یہی بات یاد ہے ،کہ اسی کی مانند حدیث تھی۔ جو لوگوں نے حضرت ابوسعید خدری ؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺسے نقل کی ہے۔"سونے کے عوض میں سونے کا لین دین برابر ہوگا اور چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین برابر ہوگا‘‘۔

النَّبِيِّ «فِي الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، الْوَرِقُ بِالْوَرِقِ مِثْلًا بِمِثْلٍ» ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← النَّاسُ: ← سُفْيَانُ: إِنِّي لَا أَحْفَظُ شَيْئًا فِيهِ إِلَّا أَنَّهُ نَحْوٌ مِمَّا ← رَسُولِ اللَّهِ وَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ، فَسَأَلَهُ عَنْهُ وَأَنَا حَاضِرٌ، ← عُمَرَ بِحَدِيثِ الصَّرْفِ، ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← ضَمْرَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَازِنِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 762

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 763

763 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أَوْقَفْتُ جَارِيَةً لِي أَبِيعُهَا فِي سُوقِ بَنِي قَيْنُقَاعٍ، فَجَاءَنِي رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، مَا هَذِهِ الْجَارِيَةُ؟ قُلْتُ: جَارِيَةٌ لِي أَبِيعُهَا، قَالَ: فَلَعَلَّكَ أَنْ تَبِيعَهَا وَفِي بَطْنِهَا مِنْكَ سَخْلَةٌ، قُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ أَعْزِلُ عَنْهَا، قَالَ: فَإِنَّ تِلْكَ الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «كَذَبَتْ يَهُودُ، وَلَا عَلَيْكُمْ أَلَّا تَفْعَلُوا»

حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں: میں اپنی ایک کنیز کو لا کر بنوقينقاع کے بازار میں کھڑا ہوا۔ تا کہ میں اس کنیز کو فروخت کر دوں ۔ ایک یہودی میرے پاس آیا اور بولا : اے ابوسعید خدری! یہ لڑ کی یہاں کس لیے ہے؟ میں نے جواب دیا: یہ میری کنینر ہے میں اسے فروخت کرنا چاہتا ہوں ،تو وہ بولا: شاید تم اسے ایسی حالت میں فروخت کر رہے ہو کہ جب اس کے پیٹ میں تمہاری اولا د موجود ہے ،تو میں نے کہا: میں تو اس سے عزل کیا کرتا تھا ،تو وہ بولا: یہ زندہ درگور کرنے کی جھوٹی قسم ہے۔ میں نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے اس کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا۔ آپ ﷺنے ارشاد فر مایا: "یہودیوں نے غلط کہا ہے ،تا ہم اگرتم ایسا نہ کرو ،تو تم پرکوئی حرج بھی نہیں ہوگا"۔

«كَذَبَتْ يَهُودُ، وَلَا عَلَيْكُمْ أَلَّا تَفْعَلُوا» ← فَإِنَّ تِلْكَ الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، ← فَلَعَلَّكَ أَنْ تَبِيعَهَا وَفِي بَطْنِهَا مِنْكَ سَخْلَةٌ، قُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ أَعْزِلُ عَنْهَا، ← يَا أَبَا سَعِيدٍ، مَا هَذِهِ الْجَارِيَةُ؟ قُلْتُ: جَارِيَةٌ لِي أَبِيعُهَا، ← أَوْقَفْتُ جَارِيَةً لِي أَبِيعُهَا فِي سُوقِ بَنِي قَيْنُقَاعٍ، فَجَاءَنِي رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 763

chevron_left Previous
1…181920…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter