Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1333

1333 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «رَأَيْتُنِي الْبَارِحَةَ كَأَنَّ رَجُلًا أَلْقَمَنِي كُتْلَةَ تَمْرٍ، فَعَجَمْتُهَا، فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً، فَآذَتْنِي فَلَفِظْتُهَا، ثُمَّ أَلْقَمَنِي كُتْلَةً، فَمِثْلُ ذَلِكَ، ثُمَّ أُخْرَى، فَمِثْلُ ذَلِكَ» ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَعْبُرْهَا، قَالَ: «اعْبُرْهَا» ، قَالَ: هُوَ الْجَيْشُ الَّذِي بَعَثْتَ يُسْلِمُهُمُ اللَّهُ، وَيَغْنِمُهُمُ اللَّهُ، ثُمَّ يَلْقَوْنَ رَجُلًا، فَيُنْشِدُهُمْ ذِمَّتَكَ، فَيَدَعُونَهُ، ثُمَّ يَلْقَوْنَ آخَرَ، فَيُنْشِدُهُمْ ذِمَّتَكَ، فَيَدَعُونَهُ، ثُمَّ يَلْقَوْنَ آخَرَ، فَيُنْشِدُهُمْ ذِمَّتَكَ، فَيَدَعُونَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَذَلِكَ قَالَ الْمَلَكُ يَا أَبَا بَكْرٍ»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓنبی اکرم ﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں:گزشتہ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص نے میرے منہ میں کھجور کاٹکڑا ڈالا ہے میں نے اسے چبایا تو مجھے اس میں گٹھلی بھی ملی جس نے مجھے تکلیف دی تو میں نے اسے پھینک دیا ،پھر اس نے میرے منہ میں ایک اور کھجور ڈالی تو پھر ایسا ہی ہوا پھر اس نے ایک اور ڈالی پھر ایسا ہی ہوا۔حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کی یا رسول اللہﷺمجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی تعبیر بیان کروں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا :تم اس کی تعبیر بیان کرو، تو انہوں نے عرض کی:اس سے مراد ولشکر ہے ،جسے آپ ﷺنے روانہ کیا تھا الله تعالیٰ نے اسے سلامتی بھی عطا کی اور مال غنیمت بھی عطا کیا تھا ،پھر لوگوں کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی تو اس شخص نے انہیں آپ ﷺکے ذمہ کا واسطہ دیا ،تو ان لوگوں نے اسے چھوڑ دیا ،پھر ان کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی تو اس شخص نے انہیں آپ ﷺکے ذمہ کا واسطہ دیا ،تو ان لوگوں نے اسے چھوڑ دیا ،پھر ان کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی تو اس شخص نے انہیں آپ ﷺکے ذمہ کا واسطہ دیا ،تو ان لوگوں نے اسے چھوڑ دیا ،تو نبی اکرمﷺنے فرمایا: اے ابوبکرؓ! فرشتے نے اسی طرح بیان کیا ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الشَّعْبِيِّ، ← مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1333

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1334

1334 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نُبَيْحًا الْعَنَزِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَطْرُقَ النِّسَاءَ لَيْلًا» ثُمَّ طَرَقْنَاهُنَّ بَعْدُ

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے اس بات سے منع کیا ہے کہ تم (طویل سفر سے واپس آتے ہوئے )رات کے وقت اپنے گھر جاو (راوی کہتے ہیں:)لیکن اس کے بعد ہم نے ایسا کرنا شروع کر دیا۔

«نَهَى رَسُولُ اللَّهِ أَنْ نَطْرُقَ النِّسَاءَ لَيْلًا» ثُمَّ طَرَقْنَاهُنَّ بَعْدُ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← نُبَيْحًا الَعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1334

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1335

1335 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نُبَيْحًا الْعَنَزَيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: «أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقَتْلَى قَتْلَى أُحُدٍ، أَنْ يُرَدُّوا إِلَى مَضَاجِعِهِمْ مَنْ نُقِلَ مِنْهُمْ»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺنے غزوہ احد کے شہداء کے بارے میں یہ حکم دیا تھا کہ انہیں اس جگہ واپس لایا جائے جہاں انہیں شہید کیا گیا تھا، حالانکہ ان میں سے کچھ افراد کو وہاں سے دوسری جگہ منتقل کردیا گیا تھا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← نُبَيْحًا الَعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1335

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1336

1336 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى قَالَ: ثنا الْحُمَيْدِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا أَكَلْتُمْ هَذِهِ الْخَضِرَةَ، فَلَا تُجَالِسُونَا فِي الْمَجْلِسِ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ النَّاسُ»

حضرت جابر بن عبد الله ؓ ،نبی اکرمﷺیہ کا فرمان نقل کرتے ہیں:"جب تم اس سبز چیز کوکھا لو،تو ہماری محفل میں ہمارے ساتھ آ کر نہ بیٹھو کیونکہ فرشتوں کو اس چیز سے اذیت ہوتی ہے، جس سے لوگوں کو اذیت ہوتی ہے"۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← إبْرَاهِيمُ بْنُ إسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1336

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1337

1337 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا صَالِحُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: وَكَانَ خَيْرًا مِنْ أَبِيهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: " قَالُوا لِرَجُلٍ: تَعَرَّفْ عَلَيْنَا، قَالَ: إِنَّمَا عِرِّيفُكُمْ الْأَهْيَسُ، الْأَلْيَسُ، الْأَطْلَسُ [ص:356]، الْمُكِدُّ، الْمِلْحَسُ، الَّذِي إِذَا قِيلَ لَهُ: هَا، انْتَهَشَ، وَإِذَا قِيلَ لَهُ: هَاتِ، حَبَسَ "

امام شعبی بیان کرتے ہیں:لوگوں نے ایک صاحب سے کہا: آپ (حکمرانوں کے پاس) ہمارے نمائندے بن جائیں، تو وہ صاحب بولے: تمہارا نمائندہ وہ شخص بنے گا، جسے اپنی آمدن کی فکر ہوگی جو اپنے گھرکو نہیں چھوڑے گا، اور جو چور ہوگا جو بخیل ہو گا، اور جو اتنا لالچی ہو گا کہ جو ملے اسے حاصل کر لے جس کی یہ حالت ہوگی کہ جب اسے کہا جائے یہ لو ،تو وہ دانتوں کے ذریعے نوچ لے گا ،اور جب اسے کہا جائے گا لے کر آؤ ،تو وہ اس چیز کوروک لےگا (یعنی لے کر نہیں آئے گا)

لِرَجُلٍ: تَعَرَّفْ عَلَيْنَا، ← الشَّعْبِيِّ، ← وَكَانَ خَيْرًا مِنْ أَبِيهِ، ← صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1337

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 745

745 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَأَخَذَ حَصَاةً فَحَكَّهَا، وَنَهَى أَنْ يَبْزُقَ الرَّجُلُ بَيْنَ يَدَيْهِ، أَوْ عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ: لِيَبْزُقْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى "

حضرت ابوسعید خدری ؓبیان کرتے ہیں، نبی اکرمﷺنے مسجد کے قبلہ کی سمت میں بلغم لگا ہوا دیکھا تو آپ ﷺنے کنکری لے کر اسے کھرچ دیا۔ اور آپﷺنے اس بات سے منع کیا کہ ا ٓ دمی (نماز کے دوران)اپنے سامنے کی طرف یا اپنے دائیں طرف تھوکے۔ آپ ﷺنے ارشاد فر مایا:"(نمازی کو) اپنے بائیں طرف یا اپنے بائیں پاؤں کےنیچے تھوکنا چاہیے۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 745

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 746

746 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ [ص:4]، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ هَذِهِ الْعَرَاجِينَ، يُمْسِكُهَا فِي يَدِهِ، وَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ وَهِيَ فِي يَدِهِ، فَرَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَحَكَّهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ مُغْضَبًا، فَقَالَ: «أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُبْزَقَ فِي وَجْهِهِ» ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يُوَاجِهُ رَبَّهُ، فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْزُقْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى، فَإِنْ عَجَّلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ وَهُوَ يُصَلِّي، فَلْيَتْفُلْ فِي ثَوْبِهِ، وَلَيْقُلْ هَكَذَا» ، وَدَلَّكَ سُفْيَانُ بِكُمِّهِ

حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺکویہ عراجین (زرد رنگ کی مخصوص قسم کی لکڑی) پسند تھی۔ نبی اکرم ﷺاسے اپنے ہاتھ میں رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺمسجد میں تشریف لائے۔ وہ آپ ﷺکے ہاتھ میں تھی۔ نبی اکرم ﷺنے مسجد کے قبلہ کی سمت میں(دیوار پر) بلغم لگا ہوا دیکھا، تو آپ ﷺنے اسے کھرچ دیا۔ پھر آپ ﷺغصے کے عالم میں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشادفرمایا:"کیا کوئی شخص اس بات کو پسند کرتا ہے ،اس کے چہرے کے سامنے کی طرف تھوک دیا جائے۔" پھر آپﷺنے ارشادفرمایا: "جب بندہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے ،تو وہ اپنے پروردگار کی طرف رخ کرتا ہے ،تو اسے اپنے سامنے کی طرف یا اپنے دائیں طرف نہیں تھوکنا چاہیے۔ بلکہ اپنے بائیں طرف یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لینا چاہیے۔ اور اگر نماز کے دوران آدمی کو زیادہ شدت کے ساتھ تھوکنے کی ضرورت پیش آجائے ،تو اسے اپنے کپڑے پرتھوک کر پھر اسے اس طرح مل دینا چاہیے۔" سفيان نامی راوی نے اپنی آستین کے ذریعے اسے مل کے دکھایا۔

مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 746

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 747

747 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ، وَعَنْ لُبْسَتَيْنِ، فَأَمَّا الْبَيْعَتَانِ: فَالْمُلَامَسَةُ، وَالْمُنَابَذَةُ، وَأَمَّا اللُّبْسَتَانِ: فَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ، وَاحْتِبَاءُ الرُّجُلِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ "

حضرت ابوسعید خدری ؓبیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے دوطرح کے سودے اور دو طرح کے لباس سے منع کیا ہے جہاں تک دوطرح کے سودے کا تعلق ہے تو وہ ملامسہ اور منابذہ ہیں جہاں دو طرح کے لباس کا تعلق ہے، تو وہ اشتمال صماء اور آدمی کا ایک کپڑے کو احتباء کے طور پر یوں لپیٹنا ہے ،کہ آدمی کی شرمگاہ پر کپڑا نہ ہو۔

بَيْعَتَيْنِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 747

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 748

748 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ضَمْرَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَازِنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسَ، وَعَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ»

حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہونے تک اورصبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک کوئی بھی نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے۔

صَلَاةٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ» ← صَلَاةٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسَ، ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← ضَمْرَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَازِنِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 748

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 749

749 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو سَعِيدٍ: أَيْ بُنَيَّ، إِذَا كُنْتَ فِي هَذِهِ الْبَوادِي فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالْأَذَانِ [ص:6]، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا يَسْمَعُهُ إِنْسٌ، وَلَا جِنٌّ، وَلَا حَجَرٌ، وَلَا شَجَرٌ، وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

عبد الله بن عبد الرحمنٰؓ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جوحضرت ابوسعید خدری ؓکے زیر پرورش تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں:حضرت ابوسعید خدری ؓنے مجھ سے فرمایا: اے میرے بیٹے !جب تم آبادی سے باہر ہو تو تم بلند آواز میں اذ ان دو۔ کیونکہ میں نے نبی اکرمﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے: ۔"جوبھی انسان، جن، پتھر، درخت یا جو بھی چیز اس کوسنتی ہے۔ وہ قیامت کے دن اس شخص کے حق میں گواہی دے گی“۔

أَبِي وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي سَعِيدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 749

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 750

750 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ شَعَفَ الْجِبَالِ، وَمَواقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ»

حضرت ابوسعید خدری ؓبیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ جب کسی مسلمان شخص کا سب سے بہتر مال بکریاں ہوں گی جنہیں وہ لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور بارش کے نزول کی جگہ (یعنی ویران جنگلات میں)چلا جائے گا۔ وہ اپنے دین کوفتنوں سے بچانے کے لیے بھاگے گا“ ۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَبَاهُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 750

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 751

751 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، قَالَ: إِنِّي لَفِي حَلَقَةٍ فِيهَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ جَالِسًا، إِذْ جَاءَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ مَذْعُورًا، أَوْ قَالَ: فَزِعًا، فَقُلْنَا: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ بَعَثَ إِلَيَّ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ فَأَتَيْتُهُ، فَاسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ، وَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ» ، فَقَالَ عُمَرُ: لَتَأْتِيَنَّ عَلَى مَا قُلْتَ بِبَيِّنَةٍ، أَوْ لَأَفْعَلَنَّ بِكَ، وَلَأَفْعَلَنَّ، فَقَالَ لِي أَبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، قَالَ سَعِيدٌ: فَكُنْتُ أَنَا أَصْغَرَ الْقَوْمِ، فَأَتَيْتُ عُمَرَ، فَحَدَّثْتُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ»

حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں ایک محفل میں بیٹھا ہوا تھا۔ جس میں حضرت اُبی بن کعبؓ تشریف فرما تھے۔ اسی دوران حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ گھبرائے ہوئے ہمارے پاس آئے۔ ہم نے دریافت کیا: آپ کو کیا ہوا ہے ،تو وہ بولے:حضرت عمر ؓنے مجھے کسی کام کے لیے بلوایا۔ جب میں ان کے ہاں آیا ،تو میں نے تین مرتبہ اندرآنے کی اجازت مانگی۔ جب مجھے اجازت نہیں ملی تو میں واپس آگیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے: "جب کوئی شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ دی جائے ،تو وہ واپس چلا جائے ۔" تو حضرت عمرؓ نے یہ فرمایا۔ تم نے جو بات بیان کی ہے یاتو اس کا کوئی ثبوت لے کرآ و،ورنہ پھر میں تمہیں سخت سزا دوں گا۔ حضرت اُبی بن کعب ؓنے مجھ سے فرمایا: آپ کے ساتھ اٹھ کر وہ شخص جائے گا، جو حاضرین میں سب سے کم سن ہو۔ حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں۔ میں چونکہ وہاں سب سے کم سن تھا ،تو میں حضرت عمر ؓ کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی کہ نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے:"جب کوئی شخص (کسی کے ہاں اندر آنے کی) تین مرتبہ اجازت ما نگے اور اسے اجازت نہ ملے، تو اسے واپس چلے جانا چاہیے۔"

إِنِّي لَفِي حَلَقَةٍ فِيهَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ جَالِسًا، ← أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 751

chevron_left Previous
1…171819…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter