Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1261

1261 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قِيلَ تِلْقَاءَ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَكَحْتَ يَا جَابِرُ؟» ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «أَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ؟» قُلْتُ: ثَيِّبٌ، قَالَ: «فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُكَ تُلَاعِبُهَا» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ، وَكُنَّ لِي تِسْعَ أَخَواتٍ، فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَجْمَعَ إِلَيْهِنَّ جَارِيَةً خَرْقَاءَ مِثْلَهُنَّ، وَلَكِنِ امْرَأَةٌ تُمَشِّطُهُنَّ، وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ، قَالَ: «أَصَبْتَ»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓبیان کرتے ہیں ،نبی اکرم ﷺنے دریافت کیا: اے جابر! کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا: کنواری کے ساتھ یا ثیبہ کے ساتھ ؟ میں نے عرض کی:ثیبہ کے ساتھ۔ نبی اکرم ﷺنے فر مایا:تم نے کسی لڑکی کے ساتھ شادی کیوں نہیں کی کہ وہ تمہارے ساتھ خوش ہوتی اور تم اس کے ساتھ خوش ہوتے؟ میں نے عرض کی یا رسول اللہ (ﷺ)! میرے والد غزوہ احد کے موقع پر شہید ہو گئے تھے۔ انہوں نے 9بیٹیاں چھوڑی ہیں، تو میری9 بہنیں ہیں مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں ان کے ساتھ ایک لڑکی کو شامل کر دوں جو ان کی مانندکم سن ہو میں ایک ایسی بیوی لانا چاہتا تھا جوان کی کنگھی کر دیا کرے ان کی دیکھ بھال کیا کرے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا :تم نے ٹھیک کیا ہے۔

«فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُكَ تُلَاعِبُهَا» قُلْتُ: ← «أَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ؟» قُلْتُ: ثَيِّبٌ، ← نَعَمْ ← لِي رَسُولُ اللَّهِ «أَنَكَحْتَ يَا جَابِرُ؟» ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قِيلَ تِلْقَاءَ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1261

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1262

1262 - قَالَ سُفْيَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ، فَحَدَّثَنِيهِ، وَزَادَ فِيهِ كَلِمَةً لَمْ يَقُلْهَا عَمْرٌو، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَكَحْتُ: «يَا جَابِرُ أَتَّخَذْتُمْ أَنْمَاطًا؟» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ؟ قَالَ: «أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ»

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں۔ جب میں نے شادی کر لی تو نبی اکرمﷺنے مجھ سے فرمایا:اے جابر کیا تم نے قالین استعمال کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ (ﷺ)!ہمارے پاس کہاں سے قالین آئیں گے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:عنقریب آئیں گے۔

جَابِرًا ← وَزَادَ فِيهِ كَلِمَةً لَمْ يَقُلْهَا عَمْرٌو، ← سُفْيَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1262

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1263

1263 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ، فَقَالَ: «لَا»

حضرت جابر بن عبدالله ؓبیان کرتے ہیں ،نبی اکرمﷺسے جب بھی کوئی چیز مانگی گئی تو آپ ﷺنے کبھی "نہ "نہیں کی۔

مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لا ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1263

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1264

1264 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: " مَرِضْتُ فَعَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَهُمَا يَمْشِيَانِ فَأُغْمِيَ عَلَيَّ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَبَّهُ عَلَيَّ، فَأَفَقْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي؟، كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي؟، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ "

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں:میں بیمار ہوا نبی اکرم ﷺاور حضرت ابوبکر ؓ میری عیادت کے لیے تشریف لائے ،یہ دونوں حضرات پیدل تشریف لائے تھے مجھ پر بے ہوشی طاری ہوئی۔ نبی اکرم ﷺنے پانی منگوایا اور وضو کیا،پھر آپ ﷺنے اسے مجھ پر انڈیلا تو مجھے ہوش آ گیا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! میں اپنے مال کے بارے میں کیا فیصلہ دوں؟ میں اپنے مال کے بارے میں کیا طریقہ اختیار کروں؟ تو نبی اکرم ﷺخاموش رہے ،یہاں تک کہ وراثت سے متعلق آیت نازل ہوگئی۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← محمد بن المنكدر أنه ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1264

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1265

1265 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ [ص:323]، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: نَزَلَتْ فِيَّ آيَةُ الْمِيرَاثِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَلَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں:وراثت (کے حکم)سے متعلق آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ امام حمیدی ؒ کہتے ہیں :سفيان نامی راوی نے ابوز بیرنامی راوی سے یہ روایت نہیں سنی ہے۔

أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَبُو بَكْرٍ: وَلَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ ← نَزَلَتْ فِيَّ آيَةُ الْمِيرَاثِ. ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ [ص:318] ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1265

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1266

1266 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ» وَقَالَ سُفْيَانُ: زَادَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ: «وَابْنُ عَمَّتِي»

حضرت جابر بن عبد الله ؓبیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے غزوہ خندق کے موقع پر (دشمن کی جاسوسی کے لیے)لوگوں کو طلب کیا، تو حضرت زبیرؓ نے خود کو پیش کیا۔ نبی اکرم ﷺنے پھر لوگوں کو طلب کیا ،تو انہوں نے خود کو پیش کیانبی اکرم ﷺپھر انہیں طلب کیا ،تو حضرت زبیرؓنے خود کو پیش کیا، تو نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا:"ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری ،ز بیر ہے“۔ سفیان کہتے ہیں:ہشام بن عروہ نامی راوی نے یہ الفاظ اضافی نقل کیے ہیں"میراپھوپھی زاد (زبیر ہے)۔“

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1266

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1267

1267 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: وُلِدَ فِي الْحَيِّ غُلَامٌ، فَأَسْمَاهُ أَبُوهُ الْقَاسِمَ، فَقُلْنَا لِأَبْيهِ: لَا نُكَنِّيكَ بِأَبِي الْقَاسِمِ، وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا، فَأَتَى أَبُوهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْمُ ابْنِكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ»

حضرت جابر بن عبد الله ؓ بیان کرتے ہیں :کسی قبیلے میں ایک بچہ پیدا ہوا تو اس کے والد نے اس کا نام "قاسم‘‘رکھا تو ہم نے اس کے والد سے کہا:ہم تمہاری کنیت"ابوالقاسم" نہیں رکھیں گے اور ہم تمہاری آنکھیں ٹھنڈی نہیں کریں گے ،تو اس کا والد نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم ﷺنے اسے فرمایا :تم اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمان رکھ لو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1267

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1268

1268 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا جَابِرُ لَوْ قَدْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَأَعْطَيْتُكَ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا» ، فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَأْتِ مَالُ الْبَحْرَيْنِ، وَأَتَى فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ، فَأَمَرَ أَبُو بَكْرٍ مُنَادِيًا فَنَادَى مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ عِدَةٌ فَلْيَأْتِ، قَالَ جَابِرٌ: فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَوْ قَدْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَأَعْطَيْتُكَ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا» فَحَثَى لِي أَبُو بَكْرٍ مَرَّةً، ثُمَّ قَالَ لِي: عُدَّهَا، فَعَدَدْتُهَا فَوَجَدْتُهَا خَمْسَمِائَةٍ، فَقَالَ خُذْ مِثْلَهَا مَرَّتَيْنِ

امام محمد الباقرؒ بیان کرتے ہیں:میں نے حضرت جابر بن عبد اللہؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ،نبی اکرم ﷺنے مجھ سے فرمایا:اے جابر!جب اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا تو میں تمہیں اتنا، اتنا اور اتنادوں گا۔پھر نبی اکرم ﷺکا وصال ہو گیابحرین کا مال نہیں آیا وہ حضرت ابوبکر ؓکے عہد خلافت میں آیا ،تو حضرت ابو بکرؓنے ایک شخص کو اعلان کرنے کے لیے کہا کہ جس شخص کو نبی اکرم ﷺنے کوئی ادائیگی کرنی ہو،یا آپ ﷺنے اس کے ساتھ کوئی وعدہ کیا ہو ،تودہ آجائے ۔ حضرت جابرؓکہتے ہیں:میں حضرت ابو بکرؓ کے پاس آیا میں نے ان سےیہ کہا: نبی اکرم ﷺنے یہ فرمایا تھا:”اگر بحر ین کا مال آیا، تو میں تمہیں اتنا ،اتنا اور اتنادوں گا۔تو حضرت ابوبکرؓ نے دونوں ہتھیلیاں ملا کر بھر کر مجھے دیا، پھر مجھ سے فرمایا :تم اس کی گنتی کرو ،میں نے اس کی گنتی کی ،تو وہ پانچ سو(درہم) تھے ۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا:تم اس سے دوگنا اور لے لو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← محمد بن علي ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1268

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1269

1269 - قَالَ سُفْيَانُ: ثُمَّ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ يُحَدَّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَحَثَى لِي ثَلَاثًا، وَزَادَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ جَابِرٌ: ثُمَّ أَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ بَعْدُ، فَقُلْتُ لَهُ: أَعْطِنِي فَلَمْ يُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: أَعْطِنِي، فَلَمْ يُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: أَعْطِنِي، فَلَمْ يُعْطِنِي، فَقُلْتُ: يَا أَبَا بَكْرٍ إِنِّي سَأَلْتُكَ أَنْ تُعْطِيَنِي فَلَمْ تُعْطِنِي، ثُمَّ سَأَلْتُكَ أَنْ تُعْطِيَنِي، فَلَمْ تُعْطِنِي، فَإِمَّا أَنْ تُعْطِيَنِي، وَإِمَّا أَنْ تَبْخَلَ عَنِّي، فَقَالَ: «قُلْتُ تَبْخَلُ عَنِّي، وَأَيُّ الدَّاءِ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ؟ فَمَا مَنَعْتُكَ مِنْ مَرَّةٍ إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُعْطِيَكَ»

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے ،تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں"حضرت ابو بکرؓ نے دونوں ہتھیلیاں ملا کر تین مرتبہ مجھے دیا۔‘‘ابن منکدر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ۔ حضرت جابر ؓبیان کرتے ہیں :اس کے بعد میں حضرت ابوبکرؓ کے پاس آیا میں نے ان سے کہا: مجھے کچھ دیجئے ،تو انہوں نے مجھے کچھ نہیں دیا، میں پھر ان کے پاس آیا اور انہیں کہا: مجھے کچھ دیجئے ،تو انہوں نے مجھے کچھ نہیں دیا میں پھر ان کے پاس آیا میں نے ان سے کہا: مجھے کچھ دیجئے تو انہوں نے مجھے کچھ نہیں دیا میں نے کہا: اے ابوبکر ! میں نے آپ سے کچھ مانگا ہے، آپ مجھے کچھ دیں لیکن آپ نے مجھے کچھ نہیں دیا پھر میں نے آپ سے مانگا کہ آپ مجھےکچھ دیں لیکن آپ نے مجھے کچھ نہیں دیا یا تو آپ مجھے کچھ دیں گے یا پھر آپ میرے حوالے سے بخل سے کام لیں گے ،تو حضرت ابوبکر ؓ بولے تم یہ کہہ رہے ہو کہ تم میرے حوالے سے بخل سے کام لو گے؟ کنجوسی سے زیادہ قابل علاج بیماری اور کون سی ہے؟ میں نے ایک مرتبہ تمہیں منع اس لیے کیا ہے کیونکہ میں تمہیں دینا چاہتا ہوں۔

ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، ← سُفْيَانُ ثُمَّ

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1269

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1270

1270 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَعْقِ الْأَصَابِعِ وَلَعْقِ الصَّحْفَةِ، قَالَ: وَقَالَ: «إِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ ذَلِكَ الْبَرَكَةُ؟»

حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے انگلیاں اور پیالہ چاٹنے کا حکم دیا ہے آپﷺنے ارشادفرمایا ہے: یہ نہیں پتہ ہے ،اس میں کہاں برکت ہے؟

وَقَالَ: «إِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ ذَلِكَ الْبَرَكَةُ؟» ← أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ بِلَعْقِ الْأَصَابِعِ وَلَعْقِ الصَّحْفَةِ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1270

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1271

1271 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ فِيهَا قَصْرًا أَوْ دَارًا، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟، فَقِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: فَلَوْلَا غَيْرَتُكَ يَا أَبَا حَفْصٍ لَدَخَلْتُهُ "، قَالَ: فَبَكَى عُمَرُ، وَقَالَ: أَيُغَارُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ

حضرت جابر بن عبداللہ ؓروایت کرتے ہیں ،نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا ہے:"میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے وہاں ایک محل (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میں نے ایک گھر دیکھا میں نے دریافت کیا:یہ گھر کس کا ہے، تو مجھے بتایا گیا:یہ عمر بن خطاب کا ہے ،اے ابوحفص! اگر تمہارے مزاج کی تیزی کا خیال نہ ہوتا، تو میں اس کے اندر چلا جاتا۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں:حضرت عمر ؓرو پڑے اور عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)! کیا میں آپ ﷺپر غصہ کروں گا؟

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1271

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1272

1272 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ فِيهَا قَصْرًا، أَوْ دَارًا، فَسَمِعْتُ فِيهَا ضَوْضَاةً، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَرَجَوْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَقِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: فَلَوْلَا غَيْرَتُكَ يَا أَبَا حَفْصٍ لَدَخَلْتُهُ "، قَالَ: فَبَكَى عُمَرُ، وَقَالَ: أَيُغَارَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟

حضرت جابر بن عبداللہ ؓروایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے:"میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اس میں ایک محل (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک گھر دیکھا میں نے اس میں آواز سنی میں نے دریافت کیا:یہ کس کا ہے ،تو مجھے کہا گیا: یہ قریش سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کا ہے، مجھے یہ امید ہوئی کہ یہ میرا ہوگا، تو مجھے یہ بتایا گیا:یہ عمر بن خطاب کا ہے۔ اے ابوحفص! اگر تمہارےمزاج کی تیزی کا خیال نہ ہوتا، تو میں اس کے اندر چلا جاتا"۔ حضرت جابرؓکہتے ہیں:حضرت عمرؓرو پڑے اور عرض کی:یا رسول اللہ (ﷺ)! کیا آپ ﷺکے سامنے غصہ کیا جا سکتا ہے؟

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1272

chevron_left Previous
1…111213…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter