حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
"اے اللہ! انصار کی ، انصار کے بچوں کی، انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت کر دے"۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7280
ابو بکر بن انس بیان کرتے ہیں: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا جس میں ان کی اس اولاد اور اہل خانہ کے بارے میں تعزیت کی جو واقعہ حرہ میں شہید ہوگئے تھے انہوں نے اپنے خط میں یہ بات تحریر کی میں آپ کو اس چیز کی بشارت دیتا ہوں، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:
"اے اللہ! انصار کی، انصار کی بیٹوں کی، انصار کے بیٹوں کے بیٹوں کی، انصار کی خواتین (بیویوں) کی، انصار کے بیٹوں کی خواتین( بیویوں ) کی، انصار کے بیٹوں کے بیٹوں کی خواتین (بیویوں) کی مغفرت کردے"۔
أبي بكر بن أنس ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7281
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"اے اللہ ! انصار کی، انصار کے بچوں کی، انصار کے بچوں کے بچوں کی، انصار کے غلاموں کی مغفرت کردے"۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7282
حضرت رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"اے اللہ! انصار کی، انصار کے بچوں کی، انصار کے بچوں کے بچوں کی، ان کے غلاموں کی اور ان کے پڑوسیوں کی مغفرت کردے"۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7283
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"کیا میں تم کو انصار کے سب سے بہتر گھرانے کے بارے میں نہ بتاؤں۔ لوگوں نے عرض کی۔ جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو نجار کا گھرانہ پھر بنو عبد اشہل کا گھرانہ پھر بنو حارث بن خزرج کا گھرا نہ پھر بنو ساعدہ کا گھرانہ وایسے انصار کے ہر گھرانے میں بھلائی موجود ہے"۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7284
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:
"کیا میں تمہیں انصار کے بہترین گھرانے کے بارے میں نہ بتاؤں۔ لوگوں نے عرض کی:جی ہاں یارسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو نجار کا گھرانہ پھر بنو عبد اشہل کا گھرانہ پھر بنو حارث بن خزاج کا گھرانہ پھر بنو ساعدہ کا گھرانہ ویدے انصار کے ہر گھرانے میں بھلائی موجود ہے"۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7285
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"کیا میں تم لوگوں کو انصار کے بہترین گھرانوں کے بارے میں نہ بتاؤں۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو عبد اشہل کا گھرانہ یہ لوگ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خاندان تھے۔ لوگوں نے عرض کی: پھر کون ہیں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بنو نجار ہیں۔ لوگوں نے عرض کی: پھر کون ہیں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بنو حارث بن خزرج ہیں۔ لوگوں نے دریافت کیا: پھر کون ہیں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بنو ساعدہ ہیں۔ لوگوں نے دریافت کیا: پھر کون ہیں یارسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار کے تمام گھرانوں میں بھلائی موجود ہے"۔
اس بات کی اطلاع حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملی، تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول نے ہمارا ذکر کرتے ہوئے چار گھرانوں میں سب سے آخر میں ذکر کیا ہے میں اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ضروریات کروں گا، تو ایک شخص نے ان سے کہا: کیا آپ اس بات سے راضی نہیں ہیں، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا ذکر چار گھرانوں کے آخر میں ہی کر دیا ہے۔ حالانکہ اللہ کی قسم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے جتنے گھرانوں کا ذکر کیا ہے۔ ان سے زیادہ گھرانوں کا ذکر ترک کیا ہے۔ اس پر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ باز آگئے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7286
قدامہ بن ابراہیم کہتے ہیں: میں نے حجاج کو حضرت عبید اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد حکومت میں عباس بن سہل کی پٹائی کرتے ہوئے دیکھا۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پاس آئے۔ وہ ایک عمر رسیدہ شخص تھے۔ انہوں نے لمبی زلفیں رکھی ہوئی تھیں۔ تہبند اوڑھا ہوا تھا، اور ایک چادر لی ہوئی تھی۔ وہ دو صفوں کے درمیان آکر ٹھہر گئے اور بولے: اے حجاج کیا تمہیں ہمارے بارے میں اللہ کے رسول کی وصیت یاد نہیں ہے؟ حجاج نے دریافت کیا: اللہ کے رسول نے آپ کے بارے میں کیا وصیت کی تھی، تو انہوں نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تلقین کی تھی کہ انصار کے اچھے فرد کے ساتھ اچھائی کی جائے اور ان کے برے شخص سے درگزر کیا جائے۔
قُدَامَةَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي ← مصعب بن عبد الله بن مصعب الزبيري ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7287
۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمارے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
"جب تم میں سے دو گروہوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ سستی دکھا جائیں حالانکہ اللہ تعالیٰ ان دونوں کا مددگار تھا"۔
(راوی کہتے ہیں) اس سے مراد بنو سلمہ اور بنو حارثہ تھے۔
عمر و نامی راوی کہتے ہیں۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ یہ آیت نازل نہ ہوئی ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس میں یہ بھی فرمایا ہے "اللہ تعالیٰ ان دونوں کا مددگار ہے"۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7288
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غفار قبیلے سے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مغفرت کرے اور اسلم قبیلے کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے اور عصیہ قبیلے نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7289
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"اسلم ، غفار، جہینہ اور مزینہ ، بنو تمیم ، اسد، غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ (نامی قبیلوں) سے بہتر ہیں:۔
شعبہ نامی راوی کہتے ہیں: بنو تمیم کے سردار محمد بن عبد اللہ نے عبد الرحمٰں بن ابو بکرہ کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا:
"تمہاری کیا رائے ہے، اسلم، غفار، جہینہ اور مزینہ قبیلے کے لوگ بنو تمیم ، بنو عامر بن صعصعہ ، بنو اسد اور بنو غطفان سے بہتر ہوں، تو کیا وہ (یعنی بنو تمیم وغیرہ) رسوا ہوجائیں گے اور خسارے کا شکار ہوجائیں گے۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ لوگ ان سے بہتر ہیں"۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7290
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:
"غفار، اسلم، مزینہ اور جہینہ قبیلے سے جو بھی تعلق رکھتا ہو یہ لوگ دو حریف قبیلوں غطفان اور بنو اسد سے بہتر ہیں جبکہ ہوازن اور تمیم ان سے کم درجے کے ہیں کیونکہ وہ لوگ گھوڑے پالتے ہیں اور ویرانوں میں رہتے ہیں"۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7291