Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ السَّفَرِ · حديث 2735

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: إِنَّا نَجِدُ صَلَاةَ الْحَضَرِ وَصَلَاةَ الْخَوْفِ، وَلَا نَجْدُ صَلَاةَ السَّفَرِ فِي الْقُرْآنِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: «ابْنَ أَخِي (1) ، إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَاهُ يَفْعَلُ» (2) . [4: 4] بِهِ، فَالْفِعْلَانِ جَمِيعًا مُبَاحَانِ مِنَ اللَّهِ، أَحَدُهُمَا إِبَاحَةٌ فِي كِتَابِهِ، وَالْآخَرُ إِبَاحَةٌ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

امیہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا: ہم حضر کی نماز اور نماز خوف کا ذکرکر پاتے ہیں لیکن ہمیں قرآن میں سفر کی نماز کا ذکرنہیں ملتا۔ حضرت عبداللہ ؓ نے ان سے فرمایا: اے میرے بھتیجے بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو ہماری طرف مبعوث کیا ہمیں کسی بھی چیز کاعلم نہیں تھا ہم ویسا ہی کرتے ہیں جس طرح ہم نے آپ ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) اللہ تعالیٰ نے خوف کی موجود گی میں نماز کے قصر کرنے کو مباح قرار دیا ہے۔جس کا ذکر اس کی کتاب میں ہے اس نے فرمایا ہے۔ تم لوگوں پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اگر تم نماز کو قصر کر دیتے ہو۔ جب تم خوف کے عالم میں ہو۔ (اور خوف یہ ہو) کہ کافر لوگ تم کو آزمائش کا شکار کردیں گے۔ جبکہ نبی اکرمﷺ نے سفر کے دوران نماز کے قصر کرنے کو مباح قرار دیا ہے۔ اس وقت جب امن کی صورت حال در پیش ہو۔ آپ نے کسی شرط کے بغیر ایسا کیا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے نماز کو قصر کرنے کے لیے شرط قرار دیا تھا۔ تو یہ دونوں فعل اللہ کی طرف سے مباح ہیں۔ جن میں سے ایک کی اباحت کا ذکر اس کی کتاب میں ہے اور دوسری کی اباحت کا ذکر اس کے رسول کی زبانی ذکر ہوا ہے۔

نَجِدُ صَلَاةَ الْحَضَرِ وَصَلَاةَ الْخَوْفِ، وَلَا نَجْدُ صَلَاةَ السَّفَرِ فِي الْقُرْآنِ، ← لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: ← أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 2735

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ السَّفَرِ · حديث 2736

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ وَزِيدَ فِي الْحَضَرِ» (1) . [1: 21]

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: پہلے نماز حضر اور سفر دونوں حالتوں میں دو دو رکعت فرض ہوئی تھی پھر سفر کی نماز کو اپنی حالت میں قرار رکھا گیا اور حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 2736

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ السَّفَرِ · حديث 2737

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِحَرَّانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «أَوَّلُ مَا فُرِضَتِ الصَّلَاةُ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ زِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ، وَأُقِرَّتْ فِي السَّفَرِ» (1) . [1: 21]

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : جب نماز فرض ہوئی تھی تو حضر اور سفر کے دوران دو دو رکعت ہی فرض ہوئی تھی پھر حضر کی نماز میں اضافہ کردیا گیا اور سفر کی نماز کو اس کی اسی حالت میں بر قرار رکھا گیا۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← النُّفَيْلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، بِحِرَّانَ،

Hadith 2737

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ السَّفَرِ · حديث 2738

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «فُرِضَتْ صَلَاةُ السَّفَرِ وَالْحَضَرِ رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ، وَتُرِكَتْ صَلَاةُ الْفَجْرِ لِطُولِ الْقِرَاءَةِ، وَصَلَاةُ الْمَغْرِبِ لِأَنَّهَا وِتْرُ النَّهَارِ» (2) . [1: 21]

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: سفر اور حضر کی نماز دو دو رکعت کی شکل میں فرض ہوئی تھیں نبی اکرمﷺ دو دو رکعات ادا کرتے رہے (پھر بعد میں نماز کی رکعات کی تعداد میں اضافہ ہوا لیکن ) فجر کی نماز کو طویل قرأت کی وجہ سے ترک کر دیا گیا۔ مغرب کی نماز کو اس لئے ترک کر دیا گیا کیونکہ وہ دن کے وتر ہیں۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← محبوب بن الحسن ← عَبْدُ اللہِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ،

Hadith 2738

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ السَّفَرِ · حديث 2739

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ (1) ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَوْلُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا: {فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ} أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ، فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ، فَقَالَ عُمَرُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَةَ اللَّهِ» (2) . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «ابْنُ أَبِي عَمَّارٍ هَذَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ مَكَّةَ» (1) . [1: 21]

یعلیٰ بن امیہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے کہا: اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے: تم لوگوں پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ یعنی اس حوالے سے کہ تم اگر (دشمن کی طرف سے ) اندیشے کا شکار ہو تو تم نماز کو قصر کر لو لیکن اب تو لوگ امن کی حالت میں آچکے ہیں تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں بھی اس بات پر حیران ہوا جس بات پر تم حیران ہوئے ہو میں نے اس بارے میں نبی اکرمﷺ سے سوال کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: یہ ایک صدقہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے تم لوگ اللہ تعالیٰ کے صدقے کو قبول کرلو۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) ابن ابو عمار نامی راوی عبدارحمن بن عمار ہے یہ اہل مکہ سے تعلق رکھنے والے ثقہ راویوں میں سے ایک ہیں۔

قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَوْلُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا: ← يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ← ابْنِ أَبِی عَمَّارٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2739

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ السَّفَرِ · حديث 2740

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَجِبْتُ لِلنَّاسِ وَقَصْرِهُمُ الصَّلَاةَ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ: {فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا} وَقَدْ ذَهَبَ هَذَا، فَقَالَ عُمَرُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هُوَ صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا رُخْصَتُهُ» (1) . [1: 21]

یعلٰی بن امیہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عمربن خطاب ؓ سے کہا: مجھے اس بات پر حیرت ہوتی ہے وہ نماز قصر ادا کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ یہ اس وقت ہے جب تم لوگوں کو اس بات کا اندیشہ ہو کافر لوگ تمہیں آزمائش کا شکار کردیں گے تو اس وقت اگر تم نماز قصر کرتے ہو(تو تمہیں کوئی گناہ نہیں ہوگا) لیکن اب یہ صورتحال رخصت ہوچکی ہے تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں بھی اس بات پر حیران ہوا تھا جس بات پر تم حیران ہوئے ہو میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرمﷺ سے کیا تھا آپ نے ارشاد فرمایا: یہ وہ صدقہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر کیا ہے تو تم ا سکی عطا کردہ رخصت کو قبول کرو۔

اللَّهُ: وَقَدْ ذَهَبَ هَذَا، ← قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَجِبْتُ لِلنَّاسِ وَقَصْرِهُمُ الصَّلَاةَ، وَقَدْ ← يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ← ابْنِ أَبِی عَمَّارٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بُنْدَارٌ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Hadith 2740

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ السَّفَرِ · حديث 2741

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ: إِقْصَارُ النَّاسِ الصَّلَاةَ وَإِنَّمَا قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: {إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا} ، فَقَدْ ذَهَبَ ذَاكَ، فَقَالَ: عَجِبْتُ مِنْهُ حَتَّى سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ» (2) . [1: 71]

یعلٰی بن امیہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عمر ؓ سے کہا : لوگ قصر نماز پڑھتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کافر لوگ تمہیں آزمائش کا شکار کردیں گے۔ تو یہ صورت حال تو اب رخصت ہوچکی ہے تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں بھی اس بات پر حیران ہوا تھا یہاں تک کہ میں نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: یہ ایک صدقہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر کیا ہے تم اس کے صدقے کو قبول کرلو۔

«صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ» ← عَجِبْتُ مِنْهُ حَتَّى سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: {إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا} فَقَدْ ذَهَبَ ذَاكَ، ← قُلْتُ لِعُمَرَ: إِقْصَارُ النَّاسِ الصَّلَاةَ وَإِنَّمَا ← يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 2741

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ السَّفَرِ · حديث 2742

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ تُؤْتَى مَعْصِيَتُهُ» (1) . [1: 71]

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے اس کی عطا کردہ رخصت پر عمل کیا جائے جس طرح وہ اس بات کو ناپسند کرتا ہے اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا جائے۔

«إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ تُؤْتَى مَعْصِيَتُهُ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ، ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← الدَّرَاوَرْدِيُّ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 2742

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ السَّفَرِ · حديث 2743

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «صَلَّيْتُ الظُّهْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ مُسَافِرًا» (1) . [4: 1]

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں۔ میں نے نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں مدینہ منورہ میں ظہر کی نماز میں چار رکعات ادا کی ہیں اور آپ کی اقتداء میں ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز کی دو رکعات اداکی ہیں آپ اس وقت سفر کر رہے تھے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2743

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ السَّفَرِ · حديث 2744

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ» ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَنَسٌ «وَسَمِعَهُمْ يَصْرُخُونَ بِهِمَا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ» (1) . [4: 1]

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے مدینہ منورہ میں ظہر کی نماز میں چار رکعات اداکی تھیں اور آپ نے ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز کی دو رکعات ادا کی تھیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت انس ؓ نے ہمیں بتایا تھا انہوں نے لوگوں کو بلند آواز میں حج اور عمرہ کا تلبیہ پڑھتے ہوئے سناتھا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Hadith 2744

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ السَّفَرِ · حديث 2745

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ، أَوْ ثَلَاثَةِ فَرَاسِخَ - شُعْبَةُ الشَّاكُّ - صَلَّى رَكْعَتَيْنِ» (1) . [4: 1]

یحییٰ بن یزید ہدنائی بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے قصر نماز کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرمﷺ جب تین میل (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تین فرسخ کے سفر کے لئے روانہ ہوتے تھے۔ یہ شک شعبہ نامی راوی کو ہے تو دو رکعات ادا کرتے تھے۔

قَصْرِ الصَّلَاةِ، ← سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ: ← يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائي ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2745

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ السَّفَرِ · حديث 2746

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَصَلَّى لَنَا عِنْدَ الشَّجَرَةِ رَكْعَتَيْنِ» (2) . [4: 1]

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں مدینہ منورہ میں ظہر کی چار رکعات ادا کی ہیں پھر آپ سفر کےلئے روانہ ہوئے تو آپ نے شجرہ کے قریب ہمیں دورکعات پڑھائی تھیں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Hadith 2746

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr