Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 409

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَلَمَّا رَقِيَ عَتَبَةً قَالَ آمِينَ ثُمَّ رَقِيَ عَتَبَةً أُخْرَى فقَالَ آمِينَ ثُمَّ رَقِيَ عَتَبَةً ثَالِثَةً فقَالَ آمِينَ ثُمَّ قَالَ أَتَانِي جِبْرِيلُ فقَالَ يَا مُحَمَّدُ مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ قُلْتُ آمِينَ قَالَ وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ قُلْتُ آمِينَ فقَالَ وَمَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ قُلْ آمِينَ فَقُلْتُ آمين" 1.

مالک بن حسن اپنے والد کے حوالے سے اپنے داد ا ( حضرت مالک بن حورث ؓ ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ منبر پر چڑھے جب آپ نے پہلے زینے پر قدم رکھا ‘ تو آپ نے کہا :آمین اورج ب آپ نے دوسرے زینے پر قدم رکھا ‘ تو آپ نے کہا:آمین جب آپ تیسرے زینے پر قدم رکھا ‘ تو آپ نےکہا : آمین پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جبرائیل میرے آئے اور انہوں نے کہا : اے حضرت محمد ﷺ ! جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور اس کی مغفت نہ ہو‘ تو اللہ تعالیٰ اسے ( اپنی رحمت سے ) دور کر دے‘ تو میں نے کہا :مین ، جبرائیل نے کہا: جو شخص اپنے ماں باپ یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو پائے اور پھر بھی جہنم میں داخل ہو جائے ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے ( اپنی رحمت سے ) دور کرے ‘ تو میں نے کہا :آمین ، جبرائیل نے کہا : جس شخص ک سامنے آپ کا تذکرہ ہو اور وہ آپ درود نہ بھیجے ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے ( اپنی رحمت سے ) دور کر دے ‘ آپ آمین کہیں‘ تو میں نے آمین کہا۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ آدمی کے لئے یہ بات مستحب ہے کہ اپنی ذات کے لئے مدد حاصل کرنے کو ترک کر دے خصوصًا اس صورت میں جب آدمی ایسی شخصیت کا مالک ہو ‘ جس کے فعل کی پیروی کی جاتی ہو اس کی وجہ یہ ہے: نبی اکرمﷺ سےجب حضرت جبرائیلؑ نے یہ کہا ’’جو شخص رمضان کا مہینہ پا لے اور اس کی مغفرت نہ ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی مغفرت سے دور کر دے‘‘۔ تو نبی اکرمﷺ نے جلدی سے یہ کہا : آمین۔ اسی طرح جب حضرت جبرائیل ؑ نے یہ کہا : ’’جو شخص اپنے ماں باپ یا ان دونوں میں سےکسی ایک کو پائے اور جہنم میں داخل ہو جائے‘ تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے دور کر دے‘‘۔ (تو نبی اکرمﷺ نےفورًامین کہہ دیا ) لیکن جب حضرت جبرائیل ؑ نے آپ کے سامنے یہ کہا : جس شخص کے سامنے آپ کا ذکر کیا جائے ‘ اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے ( اپنی رحمت سے دور کر دے ) ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فورًا آمین نہیں کہا ۔ کیونکہ اس جملے میں آپ کی ذات کا حصہ موجود تھا۔ یہاں تک کہ حضرت جبرائیل ؑ نے آپ سےگزارش کی کہ کے آمین کہیں‘ تو نبی اکرمﷺ فرماتےہیں : میں نے آمین کہہ دیا۔ نبی اکرمﷺ کی اس سے مراد یہ تھی : اس بارےمیں آپ اسوہ قائم کریں کہ اپنی ذات کے لئے کسی دوسرے سے مدد حاصل نہیں کرنی ہے‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میںاپنے دوستوں کا مددگارہے ‘ اگر چہ وہ دنیا میں لوگوں کی مدد کو ناپسند کرتےہیں۔

وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ قُلْتُ آمِينَ ← يَا مُحَمَّدُ مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ قُلْتُ آمِينَ ← أَتَانِي جِبْرِيلُ ← آمِينَ ثُمَّ ← آمِينَ ثُمَّ رَقِيَ عَتَبَةً ثَالِثَةً ← آمِينَ ثُمَّ رَقِيَ عَتَبَةً أُخْرَى ← صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ الْمِنْبَرَ فَلَمَّا رَقِيَ عَتَبَةً ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← مَالِكُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ← عِمْرَانُ بْنُ أَبَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ

Hadith 409

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 410

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّاجِرُ بِمَرْوَ حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْمَرْوَزِيُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ عَطَاءٍ عن عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَاصِمُ أَبَاهُ فِي دَيْنٍ عَلَيْهِ فقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أنت ومالك لأبيك" 1.

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جس نے اپنے والد کے ذمےلازم قرض کی وجہ سے اپنے والد کے ساتھ جھگڑا کیا تھا‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کی ملکیت ہے ‘‘۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں: ) اس کا مطلب یہ ہے : نبی اکرمﷺ نے اس شخص کو اس چیز سے منع کیا ہےکہ وہ باپ کے ساتھ اسا طرز عمل اختیار کرے جس طرح کو سلوک اجنبی لوگوں کے ساتھ کیا جاتا ہے‘ اور نبی اکرمﷺ نے اسے اپنے والد کے ساتھ بھلائی کرنے اور زبان اور فعل کے حوالے سے نرمی کرنے کا حکم دیا ہے یہاں تک کہ آپ نے اس کے مال کو اس کے والد کے ساتھ ملا دیا ہے‘ اور آپ نے اس سے فرمایا: ’’تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کی ملکیت ہے ‘‘۔ لیکن اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ بیٹے کے مال کامالک باپ بن جاتا ہے ‘جبکہ بیٹا زندہ ہو اور بیٹے کی یہ خواہش بھی یہ ہو کہ (اس کا باپ اس کی مرضی کےبغیر اس مال کو استعمال کرے)

عَطَاءٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← حُصَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْمَرْوَزِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّاجِرُ

Hadith 410

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 411

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إبراهيم عن حميد بن عبد الرحمنذكر الزَّجْرِ عَنِ السَّبَبِ الَّذِي يَسُبُّ الْمَرْءُ وَالِدَيْهِ بِهِ [411] أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ من الْکَبَائِرِ اَنْ یَّسُبَّ الرَّجُلُ وَالِدَیْہٖ قِیْلَ وَکَیْفَ یَسُبُّ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ قَالَ یَتَعَرَّضُ لِلنَّاسِ فَیَسُبُّ والدیہ ۔(109:2)

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ ‘ روایت کرتےہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’کبیرہ گناہوں میں سے ایک چیز یہ ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ کو برا کہے عرض کی گئی: کوئی شخص اپنے ماں باپ کو کیسے برا کہہ سکتا ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ لوگوں کے ماں باپ کے در پے ہوتا ہے اور وہ اس کےماں با پ کو برا کہتے ہیں‘‘

حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ من الْکَبَائِرِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ← السَّبَبِ الَّذِي يَسُبُّ الْمَرْءُ وَالِدَيْهِ بِهِ ← الزَّجْرِ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 411

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 412

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: ’’بیشک بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ کو برا کہے ( حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ ) نے عرض کی :کوئی شخص اپنے ماں باپ کو کیسے برا کہہ سکتا ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : آدمی دوسرے کے باپ کو برا کہتا ہے ‘ تو وہ اس کے باپ کو برا کہتا ہے۔ وہ اس کی مان کو برا کہتا ہے ‘ تو وہ اس کی ماں کو برا کہتا ہے‘‘۔

مُحَمَّدُ بن ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ

Hadith 412

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 413

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ:

حضرت عبد اللہ بن عبا سؓ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب ؓ نے جو آخری حج کیا تھا اس کے دوران حضرت عبدلرحمان بن عوف ؓ اپنی منیٰ میں موجود رہائش گا ہ سے واپس آئے اور بولے : فلاں شخص یہ کہہ رہا ہے اگر حضرت عمر ؓ کا انتقال ہو گیا ‘ تو میں فلاں کی بیعت کر لوں گا‘ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا : آج شام میں لوگوں کے درمیان کھڑا ہوں گا ( یعنی ان سے خطاب کروں گا) اور انہیں ان لوگوں سے بچاؤں گا‘جو ان کے معاملے کو غصب کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت عبد الرحمانؓ کہتے ہیں : میں نے کہا : آپ ایسا نہ کیجئے ۔ امیر المومنین صبح کے موقع پر ہر طرح کے لوگ اکٹھے ہو جائے ہیں ۔ جب آپ لوگوں کے درمیان ( خطاب کرنے کے لئے ) کھڑے ہوں گے ‘ تو یہ لوگ آپ کی محفل میں غالب آ جائیں گے اور آپ کی گفتگو کو آگے اپنے رنگ میں پیش کریں گے اور اسے درست طور پر بیان نہیں کریں گے۔ آپ ابھی ٹھہر جائیں۔ جب آپ مدینہ منورہ تشریف لے آئیں ‘ تو وہ ہجرت کی جگہ ہے وہاں صرف لوگوں میں سے اہل علم اور معززین ہوں گے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا : اگر میں مدینہ منورہ پہنچ گیا ‘ تو اللہ نے چاہا ‘ تو میں اپنی سب سے پہلی گفتگو ( یا خطاب ) میں اسی بارے میں بات کروں گا۔ پھر ذوالحجہ کے آخر میں حضرت عمر ؓ مدینہ منورہ آ گئے جب جمعہ کا دن آیا ‘ تو شدید گرمی کے دن کے باوجود میں جلدی مسجد چلا گیا ‘ تو میں نے حضرت سعید بن زیدؓ کو پایا کہ وہ مجھ سے بھی پہلے وہاں پہنچ چکے تھے۔ وہ منبر کے دائیں کنارے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان کے پہلوں میں بیٹھ گیا ۔ میرا گھٹنا ان کے گھٹنے کے ساتھ مس ہو رہا تھا تھوڑی ہی دیر بعد حضرت عمر ؓ بھی تشریف لے آئے ‘ تو میں نے حضرت سعید ؓ سے کہا کہ آج حضرت عمر ؓ نے ایسی بات چیت اس منبر پر کرنی ہے ‘ جو انہوں نے خلیفہ بننے کے بعد کبھی نہیں کی ‘ تو حضرت سعید ؓ نے کہا : وہ کیا بات کریں گے پھر حضرت عمر ؓ منبر پر تشریف فرما ہوئے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق ان کی حمدوثناء بیان کی پھر انہوں نے یہ فرمایا : ’’ میں آپ لوگوں کے ساتھ ایسی بات کرنا چاہتا ہوں جسے کرنے کا مجھے موقع دیا گیا ہے مجھے نہیں معلوم ہو سکتا ہے میری موت کا وقت میرے قریب آ چکا ہو اور جو شخص اس بات کو سمجھ لے اور اسے محفوظ رکھ لے وہ اس بات کو یہاں تک پہنچا دے جہاں تک اس کی سواری جا سکتی ہے‘ جو شخص اس کو نہیں سمجھ پاتا ‘ تو کسی مسلمان کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ میر ی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے۔ بیشک اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو مبعوص کیا۔ اس نے آپ پر کتاب نازل کی۔ اس نے جو چیز نبی اکرمﷺ پر نازل کی اس میں سنگسار کرنے کرنے حکم والی آیت بھی تھی۔ نبی اکرمﷺ نے اس کو تلاوت بھی کیا ۔ نبی اکرمﷺ نے سنگسار کروایا ۔ بھی آپ کے بعد ہم نے بھی سنگسار کر وایا ۔ مجھے یہ اندیشہ ہے ‘جب طویل زمانہ گزر جائے گا ‘ تو کوئی شخص یہ کہے گا ہمیں اللہ کی کتاب میں سنگسار کرنے سے حکم سے متعلق آیت نہیں ملتی ‘ تو وہ لوگ ایسے فریٖضے کو ترک کی وجہ سے گمراہ ہو جائیں گے ‘ جس کو اللہ تعالی ٰ نے نزل کیا تھا حالانکہ ہر ایسے شخص کو سنگسار کرنا لازم ہے ‘جو مرد ہو یا عورت ہو اور اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو جبکہ ثبوت کے ذریعے یہ بات ہو جائے یا ( عورت ) حاملہ ہو جائے یا ( مرد یا عورت ) اعتراف کر لیں ‘ اگر اللہ کی قسم ! اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ یہ کہیں گے کہ عمر نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اضافہ کر دیا ہے ‘ تو میں اس چیز کو نوٹ کروا دیتا۔ خبر دار ! ہم پہلے یہ آیت تلاوت کیا کرتے تھے۔ ’’تم لوگ اپنے آباؤ اجداد سے منہ نہ موڑو‘ کیونکہ آباؤ اجداد سے تمہارا منہ موڑنا تمہارا کفر ہے‘‘۔ پھر نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی: ’’تم مجھے اس طرح نہ بڑھا دینا ‘ جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ بن مریم کو بڑھا دیا تھا۔ بیشک میں بندہ ہوں ‘ تو تم لوگ یہ کہنا :اللہ کے بندے اور اس کے رسول ‘‘۔ (حضرت عمرؓ نے فرمایا :) خبر دار ! مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ فلاں شخص یہ کہتا ہے کہ اگر حضرت عمر ؓ کا انتقال ہو گیا ‘ تو میں فلاں کا بیعت کر لوں گا‘ جو بھی شخص مسلمانوں ک مشورے کے بغیر کسی بھی امیر کی بیعت کرے گا‘ تو اس کی کوئی بیعت نہیں ہو گی اور وہی اس شخص کی ہو گی ‘ جس کی اس نے نیت کی ہے ۔ کوئی بھی شخص اس غلط فہمی کا شکار ہو کر یہ نہ کہے کہ حضرت ابو بکر ؓ کی بیعت اچانک ہو گئی تھی۔ خبر دار وہ اچانک ہوئی تھی‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی خرابی سے بچا رکھا اور آج تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص نہیں ہے ‘ جس کو حضرت ابو بکر ؓ کی طرح حیثیت حاصل ہو ‘ خبر دار ! جس دن اللہ کے رسول کا انتقال ہوا تھا۔ اس وقت وہ ہم میں سب سے زیادہ بہتر تھے۔ بیشک مہاجرین حضرت ابو بکر ؓ ( کی بیعت کرنے کے لئے ) اکٹھے ہوئے تھے‘ لیکن انصار ہم سے الگ سقیفہ بنو ساعدہ میں اکٹھے ہوئے میں نے حضرت ابو بکر ؓ سے کہا : آپ ہمارے ساتھ انصار بھائیوں کے ساتھ چلیں تاکہ ہم اس بات کا جائزہ لیں کہ وہ کیا کر تے رہے ہیں ‘ تو ہم لوگ روانہ ہوئے ۔ ہمارا ارادہ ان کی طرف جانے کا تھا ہماری ملاقات ان میں سے دو نیک آدمیوں سے ہوئی ‘ تو ان دونوں نے دریافت کیا : اے مہاجرین کے گروہ آپ لوگ کہا ں جا رہے ہو؟ میں نے جواب دیا : ہم نؤاپنے انصار بھائیوں کے پاس جا رہے ہیں ‘ تو ان صاحب نے کہا : آپ پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر آپ ان کے پاس نہ جائیں آپ اپنا معاملہ خود نمٹالیں اے مہاجرین کے گروہ ‘ تو میں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک ہم ان لوگوں کے پاس چلے نہیں جاتے پھر ہم ان کے پاس آئے ‘ تو وہ لوگ سقیفہ بنو ساعدہ میں اکٹھےہو چکے تھے وہاں ان کے درمیان ایک شخص چادر اوڑھ کر بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے دریافت کیا : کون ہے ؟ یہ تو لوگوں نے بتایا حضرت سعد بن عبادہ ؓ ہیں میں نے دریافت کیا : انہیں کیا ہوا ہے ۔ لوگوں نے بتایا انہیں تکلیف ہے : جب ہم بیٹھ گئے ‘ تو ان کا خطیب کھٹا ہوا۔ اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی پھر اس نے یہ کہا : اما بعد ! ہم اللہ تعالیٰ کے مددگار اور اسلام کا لشکر ہیں۔ اےمسلمانوں کے گروہ ! اب ہمیں پیچھے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور وہ لوگ حکومت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں سرے سے ہی نکال دینا چاہتے یں ‘ حضرت عمر ؓ بیان کرتے ہیں : جب وہ خاموش ہوا‘ تو میں نے کلام کرنے کا ارادہ کیا۔ میں نےاپنے ذہن میں مضمون سوچ لیا تھاجو مجھےبہت پسند آیا کہ اگر میں حضرت ابو بکر ؓ کے سامنے اس بیان کو کروں گا ‘ تو یہ بہت عمدہ ہو گا اور میں اس کی وجہ سے ان لوگوں کی ناراضگی کو کسی حد تک کم کر دوں گا ‘ لیکن حضرت ابو بکر ؓ مجھ سےز یادہ بردبار اور زیادہ پروقار تھے۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : تم بیٹھے رہوں۔ مجھے انہیں ناراض کرنا پسند نہیں آیا پھر حضرت ابو بکر ؓ نے کلام کرنا شروع کیا ۔ اللہ کی قسم ! جو بھی گفتگو میں نے سوچی ہوئی تھی حضرت ابو بکر ؓ نے فی البدیہہ اس کی مانند بلکہ اس سے بھی بہتر گفتگو کی اور کوئی پہلو نہیں چھوڑا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کرنے کے بعد یہ بات ارشاد فرمائی: اما بعد ! تم نے جس بھلائی کا ذکر کیا ہے تم لوگ اس کے اہل ہو ‘لیکن اہل عرب حکومت کے معاملے میں صرف قریش قبیلے سے واقف ہیں ‘ کیونکہ اپنی رہائش اور نسب کے اعتبار سے یہ عربوں میں سب سے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ میں تم لوگوں کے لئے ان دو میں سے کسی ایک شخص سے راضی ہوں تم ان دونو ں میں سے جسے چاہو اس کی بیعت کر لو پھر حضرت ابو بکر ؓ نے میرا ہاتھ پکڑا اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کا ہاتھ پکڑا وہ ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے حضرت ابو بکر ؓ کی صرف یہ بات اچھی نہیں لگی ۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ اللہ کی قسم ! اگر مجھے آگے کر کے میری گردن اڑادی جاتی جو بغیر کسی جرم کے ہوتی ‘ تو یہ بات میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ تھی کہ مجھے کسی ایسی قوم کا امیر مقرر کیا جائے‘ جس میں حضرت ابو بکر ؓ بھی موجود ہوں ۔ انصار کے ایک نوجوان نے کہا : میںایک ایسی شاخ ہوں جس کے ساتھ خارش کی جاتی ہے ( یعنی اُمور میں میری رائے اور مشورے پر عمل کیا جاتا ہے ) اور ایک ایسی کھجور ہوں جسے بچایا جاتا ہے ( یعنی میرے قبیلے کے لوگ میرے پس پشت نہ ہیں ) ایک امیر ہم میں سے ہو‘ اے قریش کے گروہ! اور ایک میرا آپ لوگوں میں سے ہو‘ اس پر آوازیں بلند ہوئیں ‘لوگوں کے درمیان اختلاف ہو گیا ‘ تو میں نےکہا : اے حضرت ابو بکر ؓ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیے حضرت ابو بکر ؓ نے ہاتھ آگے بڑھایا ۔ میں نے ان کی بیعت کر لی پھر مہاجرین اور انصار نے بھی ان کی بیعت کر لی۔ ہم نےحضرت سعد ؓ کو بالکل نظر انداز کر دیا ‘ تو کسی شخص نےکہا ‘ تم لوگوں نے حضرت سعد ؓ کو قتل کر دیا ہے ‘ تو میں نے کہا : اللہ تعالی ٰ نے حضرت سعد ؓ کو قتل کیا ہے ‘تو ہمیں اس وقت کوئی ایسی چیز نہیں ملی جو حضرت ابو بکر ؓ کی بیعت کرنے سے افضل ہو۔ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ اگر ہم ان لوگوں سے جدا ہو گئے ‘ تو وہ کہیں ہمارے بعد نئے سرے سے بیعت نہ کر لیں ‘ تو یا ‘ تو ہمیں اس چیز پر بیعت کرنی پڑے گی‘ جس سے ہم راضی نہیں ہیں ‘ یا ‘ پھر مخالف کرنی پڑے گی ‘ تو فساد اور اختلافت ہو گا اس لئے ہم سب نے حضرت ابو بکر ؓ کی بیعت کر لی اور اس سے راضی ہو گئے۔ امام ابن حبان فرماتےہیں: ) حضرت عمر ؓ کا یہ کہنا ہے : اللہ تعالیٰ نے حضرت سعد ؓ کو قتل کیا ہے۔ اس سےمراد یہ ہے : اللہ کی راہ میں ایسا ہوا۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← هُشَيْمٌ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 413

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 414

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ بِنَسَا وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِالْمَوْصِلِ وَالْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ بِالْبَصْرَةِ وَاللَّفْظُ لِلْحَسَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ بن أَخِي جُوَيْرِيَةَ بْنِ أَسْمَاءَ قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ يقرىء عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ فَلَمْ أَرَ رَجُلًا يَجِدُ مِنَ الْأَقْشَعْرِيرَةِ مَا يَجِدُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عِنْدَ الْقِرَاءَةِ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَجِئْتُ أَلْتَمِسُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ يَوْمًا فَلَمْ أَجِدْهُ فَانْتَظَرْتُهُ فِي بَيْتِهِ حَتَّى رَجَعَ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ لِي لَوْ رَأَيْتَ رَجُلًا آنِفًا قَالَ لِعُمَرَ كَذَا وَكَذَا وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِمِنًى فِي آخِرِ حَجَّةٍ حَجَّهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَذَكَرَ

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : وہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے عہد خلافت میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کو قرآن پڑھایا کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں: میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جس کہ وہ حالت ہو جاتی ہو ‘ جو حضرت عبد الرحمان ؓ کی قرأت کرتے وقت ہوتی تھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں حضرت عبد الرحمٰن ؓ کو تلاش کرتا ہوا آیا۔ وہ مجھے نہیں میں ان کے گھر میں ان کے حضرت عمر ؓ کے پاس آنے کا انتظار کرتا رہا۔ جب وہ واپس آ گئے ‘ تو انہوں نے مجھ سے کہا کاش تم اس شخص کو بھی دیکھتے جس نے حضرت عمر ؓ کو یہ بات کہی ہے ‘ وہ ان دنوں منیٰ میں مقیم تھے۔ یہ اس آخری حج کی بات ہے ‘ جو حضرت عمر بن خطاب ؓ نے کہا تھا۔ پھر حضرت عبد الرحمٰن ؓ نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اس بات کا تذکرہ کیا کہ ایک شخص حضرت عمر ؓ کے آیا ‘ اور اس نے یہ بتایا کہ ایک شخص یہ کہہ رہا ہے کہ اللہ کی قسم ! اگر حضرت عمر ؓ کا انتقال ہو گیا ‘ تو میں فلاں کی بیعت کر لو ں گا‘ جب حضرت عمر ؓ کو یہ اطلاع ملی ‘ تو انہوں نے فرمایا ا کہ آج شام میں لوگوں سے خطاب کرتے کے لئے کھڑا ہوں گا اور انہیں اس طرح کے لوگوں سے بچنے کی تلقین کروں گا ‘ جو اس امت سےاس کے معاملے کو غصب کرنا چاہتےہیں‘حضرت عبد الرحمٰن کہتے ہیں ‘ میں نے کہا : اے امیر المومنین آپ آج کے دن ایسا نہ کیجئے‘ کیونکہ حج کے موقع پر ہر طرح کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ یہ لوگ آپ کی محفل میں غالب آ جائیں اور مجھے یہ اندیشہ ہے کہ آج ان کے درمیان آپ جو بات کہیں گے یہ اس کا فسانہ بنا دیں گے۔ یہ اسے محفوظ نہیں رکھیں گے اور غلط جگہ استعمال کر دیں گے۔ ابھی آپ ٹھہر جائیں جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائیں ‘ تو وہ ہجرت اور سنت کا گھر ہے۔ وہاں لوگوں کے علماء اور اشراف کے سامنے آپ جو منسب سمجھیں وہ بات آرام سے کرلیں وہ لوگ آپ کی بات کو محفوظ بھی رکھیں گے اور درست استعمال بھی کریں گے حضرت عمر ؓ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر میں صحیح ہو سلامت مدینہ منورہ پہنچ گیا ‘ تو میں لوگوں سےاپنے پہلے خطاب میں اسی موضوع پر بات کروں گا۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتےہیں : ذولحجہ کے آخرت میں ہم مدینہ منورہ آ گئے جب جمعہ کا دن آیا ‘ تو میں ایک نابینا شخص کی طرح ( یعنی) وقت اور موسم کی پرواہ کئے بغیر جلدی ( مسجد کی طرف ) چلا گیا ‘ کیونکہ حضرت عبدالرحمٰن ؓ مجھے اس بارے میں بتا چکے تھے وہاں مجھے حضرت سعید بن زیدؓ مجھ سے پہلے آ چکے تھے وہ منبر کے دائیں طرف والےکنارے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ میں ان کے پہلو میں آ کر بیٹھ گیا ‘ تو میرا گھٹنا ان کے گھٹنے کے ساتھ مس ہو رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد حضرت عمر ؓ بھی تشریف لے آئے وہ منبر کی طرف تشریف لائے ‘ تو میں نے حضرت سعید بن زید ؓ سےکہا جبکہ حضرت عمر ؓ اس وقت آ رہے تھے۔ اللہ کی قسم ! آج امیر المومنین اس منبر پر ایسی گفتگو کریں گے ‘جو انہوں نے اس سے پہلےکبھی نہیں کی ‘ تو حضرت سعید بن زید ؓ نے میری بات کو تسلیم کیا اور بولے : وہ آج ایسی کون سی بات کریں گے ‘ جو اس سے پہلے انہوں نے کبھی نہیں کی ۔ جب حضرت عمرؓ منبر پر بیٹھ گئے اور مؤذن نے اذان دی جب خاموش ہوا‘ تو حضرت عمرؓ کھڑے ہوئے ‘ تو انہوں نے کلمہ شہادت پڑھا ۔ اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی ثناء بیان کی ۔ پھر یہ بات ارشاد فرمائی: اما بعد آج میں آپ لوگوں کے ساتھ ایسی گفتگو کرتا چاہتا ہوں جسےکرنے کا مجھے موقع دیا گیا ہے ہو سکتا ہے کہ یہ میر مرنے سے پہلے ( کی آخری بڑی اہم ) گفتگو ہو ‘ توشخص اسےسمجھ لے وہ اسے محفوظ رکھے اور جہاں تک اس کی سواری جا سکتی ہو وہاں تک اسے پہنچا دے اور جس شخص کو یہ اندیشہ ہو کہ اس نے اسے محفوظ نہیں رکھا‘ تو میں اس کے لئے اس بات کو جائز قرار نہیں دوں گا کہ وہ گا کہ وہ میری طرف کوئی جھوٹی بات منسو ب کرے ۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو مبعوث کیا ۔ اس نے ان پر کتاب نازل کی۔ اس نے ان پر جو چیز نازل کی تھی اس میں سنگسار کرنے والی آیت بھی تھی۔ہم نے اس کی تلاوت کی اور اسے سمجھا اور اسے محفوظ رکھا۔ نبی اکرمﷺ نے سنگسار کروایا ۔ آپ کے بعد ہم نے بھی سنگسار کرویا۔ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ جب طویل زمانہ گزر جائے گا ‘ تو کوئی شخص یہ نہ کہے ۔ اللہ کی قسم ! ہمیں ‘ تو اللہ کتاب میں سنگسار کرنے کی آیت نہیں ملتی ہے ‘ تو وہ شخص ایک ایسے فریضے کو ترک کر دے گا ‘ جسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا تھا۔ اللہ کی کتاب میں سنگسار کرنے کا حکم ایسے شخص کے بارے میں ہے ‘ جس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو جبکہ وہ مرد ہو یا عورت ہو ‘ لیکن محصن ہو جب ثبوت قائم ہو جائے یا ( عورت ) حاملہ ہو جائے یا اعتراف کر لے پھر ہم یہ بھی پڑھتے رہتےہیں۔ ’’تم لوگ اپنے آباؤ اجداد سے منہ نہ موڑو‘ کیونکہ تمہارا آباؤ اجداد سے منہ موڑنا تمہارا کفر کرنا ہے‘‘۔ پھر نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی : ’’تم لوگ مجھے اس طرح نہ بڑھا دو ‘ جس طرح ابن مریم کو بڑھایا گیا ۔ میں بندہ ہوں ‘ تو تم لوگ یہ کہو: اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ‘‘۔ (پھر حضرت عمر ؓ نے فرمایا ) مجھے اس بات کا پتہ چلا ہے کہ تم میں سے فلاں شخص یہ کہتا ہے کہ اگر عمر فوت ہو گیا ‘ تو میں فلاں کی بیعت کر لوں گا۔ یہ بات کسی کو بھی دھوکے کا بھی شکار نہ کرے۔ کوئی شخص یہ کہے کہ حضرت ابو بکر ؓ کی بیعت اچانک ہو گئی اور مکمل ہو گئی ‘ وہ ہوئی اچانک ہی تھی ‘ لیکن اللہ تعالی ٰ نے اسے خرابی سے محفوظ رکھا تھا‘ اور تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص نہیں ہے ‘ جسے حضرت ابو بکرؓ جیسی نمایا ں حیثیت حاصل ہو جب نبی اکرمﷺ کا وصال ہوا تھا اس وقت وہ ہم میں سے سب سے بہتر تھے۔ بیشک علی‘ زبیر اور ان کے ساتھ کے دیگر افراد ہم سے پیچھے رہ گئے تھے اور انصار بھی ہم سےکچھ پیچھے رہے تھے۔ وہ لوگ بنو ساعدہ کی بیٹھک میں اکٹھے ہوئے مہاجرین حضرت ابو بکرؓ کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے تھے۔ ابھی ہم نبی اکرمﷺ کی رہائش گاہ میں تھے کہ دیوار کے پرے سے ایک شخص نے بلند آواز میں کہا : اے خطاب کے صاحب زادے! میرے پاس باہر تشریف لائیں میں نےکہا : تم مجھ سے دور رہو۔ میری تمہارے علاوہ اور بھی مصروفیات ہیں ‘ تو وہ شخص بولا ایک ایسا معاملہ رونما ہو گیا ہے جہاں آپ کی موجودگی ضروری ہے ۔ انصار بنو ساعدہ کی بیٹھک میں اکٹھے ہو چکے ہیں۔ آپ لوگ ان کے پاس پہنچ جائیں۔ اس سےپہلے کہ وہ کوئی نیا فیصلہ کر لیں اور بعد میں آپ کے اور ان کے درمیان جنگ ہو ‘ تو میں نے حضرت ابو بکرؓ سے کہا آپ بھی ہمارے ساتھ ہمارے ان انصار بھائیوں کی طرف چلیں ‘ تو ہم لوگ ان لوگوں کی طرف جانے کے اراد ے سے روانہ ہوئے حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کی ہم سے ملاقات ہوئی‘ تو حضرت ابو بکر ؓ نے ان کا ہاتھ پکڑلیا۔ وہ میرے اور ان کے درمیان چلنے لگے‘ یہاں تک کہ ہم لوگ ان لوگوں کے قریب ہوئے ‘ تو دو نیک آدمی ہم سے ملے ان دونوں نے اس بات کا تذکرہ کیا ‘ جو ان کی قوم کے افراد کر رہے ہیں ان دونوں نے دریافت کیا۔ اے مہاجرین کے گروہ! آپ کہاں جا رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا: ہم لوگ پانے ان انصار بھائیوں کی طرف جا رہے ہیں ۔ ان دونوں نے کہا : آپ کے لئے مناسب نہیں ہے کہ آپ ان کے قریب جائیں۔ اے مہاجرین کے گروہ ! آپ لوگ اپنا فیصلہ خود کر لیں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم ! ہم ان کے پاس ضرور جائیں گے۔ پھر ہم لوگ فوانہ ہوئے اور ان لوگوں کےپاس آ گئے ‘ تو ہو بنو ساعدہ کے سقیفے میں موجود تھے۔ ان کے درمیان ایک شخص چادر اوڑھ کر بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے دریافت کیا : یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے بتایا یہ سعد بن عبادہ ہیں۔ میں نے کہا : انہیں کیا ہوا ہے ۔ لوگوں نے بتایا یہ بیمار ہیں۔ جب ہم بیٹھ گئے ‘ تو انصار کے خطیب نے گفتگو شروع کی۔ اس نے اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی ثنا بیان کی پھر یہ بات کہی۔ اما بعد ! ہم لوگ اللہ تعالیٰ کے مددگار اور اسلام کے لشکر ہیں اور ہم لوگ اے مہاجرین کے گروہ! ہمارا ایک گروہ ہو تمہیں تمہاری قوم نے پرے کر دیا تھا۔ حضرت عمر ؓ بیان کرتے ہیں : وہ لوگ یہ چاہتے تھے کہ وہ ہمیں اصل سے دور کر دیں اور ہمیں ایک طرف کر دیں جب اس شخص نے اپنی گفتگو مکمل کر لی‘ تو میں نے بات چیت کرنے کا ارادہ کیا۔ میں نے اپنے ذہن میں ایک مضمون سوچ لیا تھا۔ جو مجھے پسند بھی آیا۔ میں یہ چاہتا تھا۔ کہ میں حضرت ابو بکر ؓ کے سامنے کھڑا ہو جاؤں اور میں حضرت ابو بکرؓ کی طرف سے کچھ صورت حال کو بہتر کر سکوں ۔ جب میں نے یہ بات چیت کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو حضرت ابو بکرؓ نے کہا : تم ٹھہر جاؤ۔ مجھے ا نہیں ناراض کرنا اچھا نہ لگا پھر حضرت ابو بکرؓ نے بات چیت شروع کی وہ مجھ سے زیادہ بردبار اور زیادہ پروقار تھے۔ اللہ کی قسم! میں نےا پنے ذہن میں جو مضمون سوچا تھا‘ اور جو مجھے اچھا لگا تھا۔ انہوں نے اس میں سے کوئی بھی بات ترک نہیں کی۔ انہوں نے اس کی مانند یا اس سے زیادہ عمدہ انداز میں بات کی ‘ یہاں تک کہ جب وہ خاموش ہو گئے‘ تو حضرت ابو بکرؓ نے کلمہ شہادت پڑھا اور اللہ تعالیٰ کی حمد ثناء بیان کرنے کے بعد کہا۔ اما بعد! اے انصار ! تم لوگوں نےا پنے اند موجود جس بھلائی کا ذکر کیا ہے تم لوگ اس کے اہل ہو‘ لیکن عرب اس معاملے ( یعنی حکومت ) کے بارے میں صرف اسی قبیلےقریش سے واقف ہیں‘ کیونکہ یہ نسب اور رہائش کے اعتبار سے عربوں میں سب سے ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ میں تم لوگوں کے لئے ان دو میں سے کسی ایک فرد سے راضی ہوں تم جس کی چاہو بیعت کر لو پھر حضرت ابو بکرؓ نے میرا ہاتھ پکڑا اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کا ہاتھ پکڑا مجھے حضرت ابو بکرؓ کی صرف یہی بات اچھی نہیں لگی۔اللہ کی قسم ! اگر مجھے آگے کر دیا جائے اور میری گردن اڑادی جائے اور وہ کسی گناہ کی پاداش میں نہ ہو۔ یہ بات میرے نزدیک اسے زیادہ پسندیدہ ہے کہ مجھے کسی یسی قوم کا امیر مقرر کیا جائے جس میں حضرت ابو بکرؓ موجود ہوں‘ البتہ اگر مرنے کے قریب میری صورتحال تبدیل ہو جائے تو اس کا معاملہ مختلف ہے ‘ جب حضرت ابو بکرؓ نے اپنی بات مکمل کرلی‘ تو انصار میں سے ایک شخص نے کہا : میں وہ شاخ ہوں جس کے ذریعے کھجایا جاتا ہے اور وہ کھجور ہوں جس کی حفاظت کی جاتی ہے ( یعنی مشکل وقت میں مجھ سے مشورہ لیا جاتا ہے اور میری قوم میرے ساتھ ہوتی ہے ) اسے قریش کے گروہ ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک ایک امیر تم میں سے ہو۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں: اس پر شور شرابا شروع ہو گیا اور آوازیں بلند ہو گئیں‘ یہاں تک کہ میں نے اس اختلافت کو چیرا اور میں نے کہا : اے حضرت ابو بکرؓ آپ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں‘ تو حضرت ابو بکر ؓ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ میں نے ان کی بیعت کرلی۔ مہاجرین اور انصار نے بھی ان کی بیعت کر لی۔ ہم نے حضرت سعد بن عبادہ ؓ کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا‘ تو انصار میں سے ایک صاحب نے کہا: تم لوگوں نے حضرت سعد ؓ کو قتل کر دیا ہے ۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں: میں نے کہا: میں سے وقت غصے میں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سعد کو قتل کیا ہے ‘ کیونکہ یہ فتنہ اور شر پیدا کرنا چاہتا تھا۔ مہیں یہ اندیشہ ہوا کہ اگر ہم لوگ ان لوگوں سے الگ ہو گئے اس سے پہلے کے بیعت ہو جائے‘ تو کہیں ہمارے بعد وہ نئی بیعت نہ کرلیں‘ تو پھر یا ‘ تو ہمیں ایسی بیعت کرنی پڑے گی‘ جس سے ہم راضی نہیں ہوں گے یا اس کی مخالفت کرنی پڑے ‘ تو پھر فساد پیدا ہو گا ‘ تو کسی بھی شخص کا یہ کہنا ہرگز غلط فہمی کا شکار نہ کرے کہ حضرت ابو بکرؓ کی بیعت کی اچانک ہو گئی تھی‘ لیکن وہ مکمل ہو گئی تھی۔ وہ اچانک ہوئی تھی ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی خرابی سے محفوظ رکھا تھا۔ خبردار ! اب تمہارے درمیان ابو بکر جیسا اور کوئی شخص نہیں ہے۔ امام مالک ؓ بیان کرتے ہیں : زہری نے عروہ بن زبیر کی یہ باے نقل کی ہے کہ وہ انصاری افراد جن کی جہاجرین سے ملاقات ہوئی تھی وہ حضرت عویم بن ساعدہ اور حضرت معن بن عدی تھے۔ امام مالک بیان کرتے ہیں: زہری نے سعید بن مسیّب کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ایک دن انہوں نے یہ کہا روایت کے یہ الفاظ : ’’ میں وہ شاخ ہوں جس کے زریعے کھجایا جاتا ہے ‘‘۔ یہ با ت کہنے والا شخص بنو سلمہ سے تعلق رکھتا تھا۔ جس کا نام حباب بن المنذر تھا۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں: ) حضرت عمر ؓ کا یہ کہنا کہ حضرت ابو بکر ؓ کی بیعت اچانک ہوئی تھی‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو برائی سے محفوظ رکھا ‘ ا س سے مراد یہ ہے : حضرت ابو بکرؓ کی بیعت کے آغاز میں سب لوگ شامل نہیں تھے اور وہ چیزجس میں سب لوگ شامل نہ ہوں اس کے لئے لفظ اچانک استعمال ہوتا ہے ‘ اور جس چیز میں سب لوگ شریک نہ ہوں اس کے بارے میں خرابی کا اندیشہ بھی ہوتا ہے ‘ اسی لئے حضرت عمر ؓ یہ کہا: اللہ تعالیٰ نے اس کو خرابی سے محفوظ رکھا۔ اس سے مراد وہ خرابی ہے ‘ جو اچانک ہو جانے والی چیزوں میں متوقع ہوتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حضرت ابو بکرؓ کی بیعت میں کوئی خرابی تھی۔

أَنَّهُ كَانَ يقرىء عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مالک بن أنس ← عَمِّي جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ بن أَخِي جُوَيْرِيَةَ بْنِ أَسْمَاءَ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ بِالْبَصْرَةِ وَاللَّفْظُ لِلْحَسَنِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، ← الحسن بن سفيان بنسا

Hadith 414

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 415

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: لَمَّا ادُّعِيَ زِيَادٌ2 لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ فقلت ما هذا الذي صَنَعْتُمْ اِنِّیْ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ یَقُوْلُ سَمِعَ اُذَنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِیْ اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قال من ادَّاعَی ابًا فِی الْاِسْلَامِ وَھُوَ یَعْلَمُ اَنَّہٗ غَیْرُ اَبِیْہِ فَالْجَنَّۃُ عَلَیْہِ حَرَامٌ فقَالَ اَبُوْ بَکْرَۃَ وَاَنَا سَمِعْتُہٗ مِنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔(19:3)

ابو عثمان بیان کرتے ہیں: جب زیاد کے بارے میں دعویٰ کیا گیا‘ تو میری ملاقات حضرت ابو بکرؓ سے ہوئی میں نے کہا : یہ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو یہ بات کہتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں: میرے دونوں کانوں نے اس بات کا سنا اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا۔ نبی اکرمﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ’’جو شخص اسلام میں کسی باپ کی طرف خود کو منسوب کرے اور وہ یہ جانتا ہو کہ یہ اس کا باپ نہیں ہے ُ تو ایسے شخص پر جنت حرام ہو گئی ‘‘۔ تو حضرت ابو بکرؓ نے بتایا میں نے بھی نبی اکرمﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے۔

اُذَنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِیْ ← سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← لَمَّا ادُّعِيَ زِيَادٌ2 لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ فقلت ما هذا الذي صَنَعْتُمْ اِنِّیْ ← أَبِي عُثْمَانَ ← خَالِدٌ، ← هُشَيْمٌ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Hadith 415

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 416

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ " مَنِ ادَّعَى أَبًا فِي الْإِسْلَامِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ" قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي بَكْرَةَ قَالَ وَأَنَا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم"1. [2: 109]

حضرت سعد بن مالک ؓ بیان کرتےہیں : میں نے اپنے دونوں کانوں کے ساتھ یہ بات سنی ہے اور میرے دل نے نبی اکرمﷺ کی زبانی سن کر اسے محفوظ رکھا ہے آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’جو شخص اسلام میں کسی باپ ( کی اولاد ہونے ) کا دعویٰ کرے اور وہ شخص یہ بات جانتا ہو کہ یہ اس کا باپ نہیں ہے ‘ تو ایسے شخص پر جنت حرام ہو گئی ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت ابو بکر ؓ سے کیا ‘ تو انہوں نے کہا : میں نے بھی اپنے دونوں کانوں کے ذریعے اس بات کو سنا تھا ‘ اور میرے دل نے بھی اسے نبی اکرمﷺ کی زبانی سن کر محفوظ رکھا ہے۔

سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ ← أَبِي عُثْمَانَ ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ،

Hadith 416

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 417

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حدثنا أبو خثيمة قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سعيد بن جبير عن بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ والملائكة والناس أجمين" 1. [2: 109]

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے یا اپنے آزاد کرنے والے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے‘ تو ایسے شخص پر اللہ تعالیٰ ‘ تمام فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ‘‘۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ، ← أبو خثيمة ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 417

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 418

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ قَالَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ وَأَنَا عِنْدَهُ فقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَوَيَّ قَدْ هَلَكَا فَهَلْ بَقِيَ لِي بَعْدَ مَوْتِهِمَا مِنْ بِرِّهِمَا شَيْءٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نَعَمْ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَإِنْفَاذُ عُهُودِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا وَصِلَةُ رَحِمِهِمَا الَّتِي لَا رَحِمَ لَكَ إِلَّا مِنْ قِبَلِهِمَا" قَالَ الرَّجُلُ مَا أَكْثَرَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَطْيَبَهُ قَالَ "فَاعْمَلْ به" 1. [1: 2]

حضرت ابو اُسید ؓ بیان کرتے ہیں: بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں اس وقت نبی اکرمﷺ کےپاس موجود تھا۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ انتقال کر چکے ہیں۔ کیا ان کے انتقال کے بعد ان کے ساتھ نیکی کرنے کی کوئی صورت ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! تم ان کے لئے دعائے رحمت کرو ان کے لئے دعائے مغفرت کرو اور ان کے بعد ان کے لے ہوئے عہد کو پورا کرو۔ ان کے دوستوں کی عزت افزائی کرو ان کے رشتے داروں کے حقوق کا خیال رکھو وہ رشتے دار جن کے ساتھ تمہارا رشتہ صرف انہی کے حوالے سے ہے۔ اس شخص نے عرض کی :یا رسول اللہ ! یہ کتنی زبردست اور عمدہ بات ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم اس پر عمل کرو۔

أَتَى رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ وَأَنَا عِنْدَهُ فقَالَ ← أَبِي أُسَيْدٍ ← أَبِيهِ ← أُسَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 418

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 419

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ السَّرَّادُ بِتُسْتُرَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا بن جُرَيْجٍ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ جَاءَ رجل فقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُبَايِعَكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَتَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ فقَالَ "ارجع إليهما فأضحكهما كما أبكيتهما" 1. [1: 2]

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص آیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ہجرت پر آپ کی بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے اپنے ماں باپ کو روتے ہوئے چھوڑا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم ان کے پاس واپس جاؤ اور جس طرح ‘ توم نے انہیں رُلایا ہے اس طرح انہیں ہنساؤ۔

جَاءَ رجل فقَالَ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← بن جُرَيْجٍ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ السَّرَّادُ بِتُسْتُرَ

Hadith 419

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 420

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ وَهُوَ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُجَاهِدُ فقَالَ "لَكَ أَبَوَانِ" قَالَ نَعَمْ قَالَ "ففيهما فجاهد" 1. [1: 2]

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں جہاد میں حصہ لینا چاہتا ہوں ‘ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : تمہارے ماں باپ ہیں؟ اس نے عرض کی : جی ہاں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم ان دونوں کی بھر پور ( خدمت کرو)

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي الْعَبَّاسِ وَهُوَ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 420

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr