صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 409
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَلَمَّا رَقِيَ عَتَبَةً قَالَ آمِينَ ثُمَّ رَقِيَ عَتَبَةً أُخْرَى فقَالَ آمِينَ ثُمَّ رَقِيَ عَتَبَةً ثَالِثَةً فقَالَ آمِينَ ثُمَّ قَالَ أَتَانِي جِبْرِيلُ فقَالَ يَا مُحَمَّدُ مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ قُلْتُ آمِينَ قَالَ وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ قُلْتُ آمِينَ فقَالَ وَمَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ قُلْ آمِينَ فَقُلْتُ آمين" 1.
مالک بن حسن اپنے والد کے حوالے سے اپنے داد ا ( حضرت مالک بن حورث ؓ ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ منبر پر چڑھے جب آپ نے پہلے زینے پر قدم رکھا ‘ تو آپ نے کہا :آمین اورج ب آپ نے دوسرے زینے پر قدم رکھا ‘ تو آپ نے کہا:آمین جب آپ تیسرے زینے پر قدم رکھا ‘ تو آپ نےکہا : آمین پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جبرائیل میرے آئے اور انہوں نے کہا : اے حضرت محمد ﷺ ! جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور اس کی مغفت نہ ہو‘ تو اللہ تعالیٰ اسے ( اپنی رحمت سے ) دور کر دے‘ تو میں نے کہا :مین ، جبرائیل نے کہا: جو شخص اپنے ماں باپ یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو پائے اور پھر بھی جہنم میں داخل ہو جائے ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے ( اپنی رحمت سے ) دور کرے ‘ تو میں نے کہا :آمین ، جبرائیل نے کہا : جس شخص ک سامنے آپ کا تذکرہ ہو اور وہ آپ درود نہ بھیجے ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے ( اپنی رحمت سے ) دور کر دے ‘ آپ آمین کہیں‘ تو میں نے آمین کہا۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ آدمی کے لئے یہ بات مستحب ہے کہ اپنی ذات کے لئے مدد حاصل کرنے کو ترک کر دے خصوصًا اس صورت میں جب آدمی ایسی شخصیت کا مالک ہو ‘ جس کے فعل کی پیروی کی جاتی ہو اس کی وجہ یہ ہے: نبی اکرمﷺ سےجب حضرت جبرائیلؑ نے یہ کہا ’’جو شخص رمضان کا مہینہ پا لے اور اس کی مغفرت نہ ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی مغفرت سے دور کر دے‘‘۔ تو نبی اکرمﷺ نے جلدی سے یہ کہا : آمین۔ اسی طرح جب حضرت جبرائیل ؑ نے یہ کہا : ’’جو شخص اپنے ماں باپ یا ان دونوں میں سےکسی ایک کو پائے اور جہنم میں داخل ہو جائے‘ تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے دور کر دے‘‘۔ (تو نبی اکرمﷺ نےفورًامین کہہ دیا ) لیکن جب حضرت جبرائیل ؑ نے آپ کے سامنے یہ کہا : جس شخص کے سامنے آپ کا ذکر کیا جائے ‘ اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے ( اپنی رحمت سے دور کر دے ) ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فورًا آمین نہیں کہا ۔ کیونکہ اس جملے میں آپ کی ذات کا حصہ موجود تھا۔ یہاں تک کہ حضرت جبرائیل ؑ نے آپ سےگزارش کی کہ کے آمین کہیں‘ تو نبی اکرمﷺ فرماتےہیں : میں نے آمین کہہ دیا۔ نبی اکرمﷺ کی اس سے مراد یہ تھی : اس بارےمیں آپ اسوہ قائم کریں کہ اپنی ذات کے لئے کسی دوسرے سے مدد حاصل نہیں کرنی ہے‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میںاپنے دوستوں کا مددگارہے ‘ اگر چہ وہ دنیا میں لوگوں کی مدد کو ناپسند کرتےہیں۔
وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ قُلْتُ آمِينَ ← يَا مُحَمَّدُ مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ قُلْتُ آمِينَ ← أَتَانِي جِبْرِيلُ ← آمِينَ ثُمَّ ← آمِينَ ثُمَّ رَقِيَ عَتَبَةً ثَالِثَةً ← آمِينَ ثُمَّ رَقِيَ عَتَبَةً أُخْرَى ← صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ الْمِنْبَرَ فَلَمَّا رَقِيَ عَتَبَةً ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← مَالِكُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ← عِمْرَانُ بْنُ أَبَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ
Hadith 409
