Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2770

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ وَلَا تَغْرُبُ عَلَى يَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ تَفْزَعُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إلا هذين الثقلين الجن والإنس" 1. [2:1]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی ارکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ سورج ایسے کسی دن پر طلوع نہیں ہوتا اور غروب نہیں ہوتا جو جمعہ کے دن سے افضل ہو ہر جانور جمعہ کے دن خوفزدہ رہتا ہے صرف یہ دو گروہ جن اور انسان ( خوف زدہ نہیں ہوتے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 2770

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2771

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ بَشِيرَ بْنَ أَبِي عَمْرٍو الْخَوْلَانِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ حَدَّثَهُ. أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "خَمْسٌ مَنْ عَمِلَهُنَّ فِي يَوْمٍ كَتَبَهُ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ: مَنْ عَادَ مَرِيضًا، وَشَهِدَ جَنَازَةً، وَصَامَ يوما، وراح يوم الجمعة، وأعتق رقبة" 1. [2:1]

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ ’’ پانچ چیزیں ایسی ہیں جو شخص ایک ہی دن میں اس پر عمل کر لے‘ تو اللہ تعالیٰ اسے اہل جنت میں نوٹ کر لیتا ہے ‘ جو شخص بیمار کی عیادت کرے۔ جنازے میں شریک ہو ایک دن کا روزہ رکھے جمعہ کے لئے جائے اور غلام کو آزاد کرے‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَّهُ ← اَنَّ اَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ ← أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ ← حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ بَشِيرَ بْنَ أَبِي عَمْرٍو الْخَوْلَانِيَّ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 2771

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2772

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ، فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ، فَجَلَسْتُ مَعَهُ، فَحَدَّثَنِي عَنِ التَّوْرَاةِ، وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَتْهُ أَنْ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُهْبِطَ وَفِيهِ مَاتَ وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُصِيخَةٌ 1 يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ". قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ! فَقُلْتُ: بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ، قَالَ: فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَلَقِيتُ بَصْرَةَ بْنَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيَّ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ فَقُلْتُ: مِنَ الطُّورِ، فَقَالَ: لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ مَا خَرَجْتَ إِلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَا تُعْمَلُ الْمَطِيُّ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: إِلَى المسجد الحرام وإلى مسجدي هذا، وَاِلٰی مَسْجِدِ اِیلِیَاءَ ، اَوْ مَسْجِدِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ شَکَّ اَیُّھُمَا

حضرت ابو ہریرہ ؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں۔ میں کوہ طور کی زیارت کے لئے روانہ ہوا میری ملاقات کعب الاحبار سے ہوئی میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ انہوں نے مجھے تورات کے بارے میں کچھ باتیں بتائیں میں نے انہیں نبی اکرمﷺ کی حدیثوں کے بارے میں بتایا میں نے انہیں جو احادیث بیان کی تھیں ان میں یہ بات بھی بیان کی ‘ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’ جن دنوں پر سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے جمعہ کے دن حضرت آدم ؑ کو پیدا کیا گیا اسی دن میں انہیں زمین پر اتارا گیا اسی دن ان کا انتقال ہوا اسی دن ان کی توبہ قبول ہوئی اسی دن قیامت قائم ہو گی ہر جانور جمعہ کے دن ( گھبراہٹ کی وجہ سے ) چیختا ہے اس وقت جب صبح (صادق) ہوتی ہ یہاں تک کہ جب سورج نکل آئے ‘ ( تو چیخنا بند کر دیتا ہے) وہ ایسا قیامت کے خوف کی وجہ سے کرتا ہے البتہ جنوں اور انسانوں کا معاملہ مختلف ہے اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے ‘ جس میں اگر مسلمان بندہ نماز ادا کر رہا ہے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ وہ چیز اسے عطا کر دے گا ‘‘۔ اس پر کعب الاحبار نے کہا : یہ خصوصیات پورے سال میں صرف کسی ایک دن میں ہوتی ہے ؟ میں نے کہا: نہیں ! بلکہ ہر جمعے میں ہوتی ہے ‘ پھر کعب نے تورات کی تلاوت کی تو یہ بات بیا ن کی ‘ اللہ تعالیٰ کے رسول نے سچ کہا ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَتْهُ أَنْ قُلْتُ: ← التَّوْرَاةِ، وَحَدَّثْتُهُ ← خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ، فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ، فَجَلَسْتُ مَعَهُ، فَحَدَّثَنِي ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 2772

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2772

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ، فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ، فَجَلَسْتُ مَعَهُ، فَحَدَّثَنِي عَنِ التَّوْرَاةِ، وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَتْهُ أَنْ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُهْبِطَ وَفِيهِ مَاتَ وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُصِيخَةٌ 1 يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ". قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ! فَقُلْتُ: بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ، قَالَ: فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَلَقِيتُ بَصْرَةَ بْنَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيَّ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ فَقُلْتُ: مِنَ الطُّورِ، فَقَالَ: لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ مَا خَرَجْتَ إِلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَا تُعْمَلُ الْمَطِيُّ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: إِلَى المسجد الحرام وإلى مسجدي هذا، وَاِلٰی مَسْجِدِ اِیلِیَاءَ ، اَوْ مَسْجِدِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ شَکَّ اَیُّھُمَا

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں: میری ملاقات حضرت بصرہ بن ابو بصرہ غفاری ؓ سے ہوئی ۔ انہوں نے دریافت کیا : تم کہا ں سے آ رہے ہو۔ میں نے کہا : کوہِ طور سے۔ انہوں نے فرمایا : اگر میں تمہارے اس کی طرف جانے سے پہلے تم سے مل لیتا تو ( تمہیں بتاتا ) ‘ تم اس کی طرف نہ جاؤ کیونکہ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ’’ صرف تین مساجد کی طرف سفر کیا جا سکتا ہے۔ مسجد الحرام اور میری یہ مسجد اور مسجد ایلیاء ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) مسجد بیت المقدس ‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَتْهُ أَنْ قُلْتُ: ← التَّوْرَاةِ، وَحَدَّثْتُهُ ← خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ، فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ، فَجَلَسْتُ مَعَهُ، فَحَدَّثَنِي ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 2772

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2772

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ، فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ، فَجَلَسْتُ مَعَهُ، فَحَدَّثَنِي عَنِ التَّوْرَاةِ، وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَتْهُ أَنْ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُهْبِطَ وَفِيهِ مَاتَ وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُصِيخَةٌ 1 يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ". قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ! فَقُلْتُ: بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ، قَالَ: فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَلَقِيتُ بَصْرَةَ بْنَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيَّ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ فَقُلْتُ: مِنَ الطُّورِ، فَقَالَ: لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ مَا خَرَجْتَ إِلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَا تُعْمَلُ الْمَطِيُّ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: إِلَى المسجد الحرام وإلى مسجدي هذا، وَاِلٰی مَسْجِدِ اِیلِیَاءَ ، اَوْ مَسْجِدِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ شَکَّ اَیُّھُمَا

راوی بیان کرتے ہیں: حضرت ابو ہریرہؓ نے یہ بات بیان کی ہے ‘ پھر میری ملاقات حضرت عبد اللہ بن سلامؓ سے ہوئی تو میں نے کعب الاحبار کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں ان کے سامنے ذکر کیا ‘ اور جمعہ کے د ن کے بارے میں بھی انہیں بتایا تو میں نے ان سے کہا: کعب نے تو یہ کہا ہے ‘ یہ گھڑی سال میں صرف ایک دن ہوتی ہے ‘ تو حضرت عبد اللہ بن سلامؓ نے کہا: کعب نے غلط کہا ہے میں نے کہا: پھر انہوں نے تورات کی تلاوت کی ‘ یہ گھڑی ہر جمعہ میں ہوتی ہے ‘ تو عبد اللہ بن سلام نے کہا: کعب نے یہ بات ٹھیک کہی ہے ‘ پھر عبد اللہ بن سلام نے فرمایا: میں یہ بات جانتا ہوں‘ وہ کونسی گھڑی ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا : میں نے ان سے کہا: آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیں آپ اس حوالے سے میرے ساتھ بخل سے کام نہ لیجئے ‘ تو حضرت عبد اللہ بن سلامؓ نے فرمایا: وہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے ‘ تو حضرت ابو ہریرہ ؓ نے فرمایا: جمعہ کے دن کی آخری گھڑی کیسے ہو سکتی ہے؟ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’ اس وقت میں جو مسلمان بندہ نماز ادا کر رہا ہو‘‘۔ تو اس گھڑی میں ‘ تو کوئی نماز ادا نہیں کی جاتی ‘ تو حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ نے فرمایا: کیا نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی ۔ ’’ جو شخص بیٹھ کر نماز کا انتظار کر رہا ہو وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر لے ‘‘۔ تو حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا: جی ہاں ‘ تو حضرت عبد اللہ بن سلامؓ نے فرمایا : یہ وہی ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَتْهُ أَنْ قُلْتُ: ← التَّوْرَاةِ، وَحَدَّثْتُهُ ← خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ، فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ، فَجَلَسْتُ مَعَهُ، فَحَدَّثَنِي ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 2772

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2773

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إياه" 1. [2:1]

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں کوئی مسلمان بندہ کھڑا ہو کر نماز ادا کر رہا ہو ‘ تو وہ اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ سے جو مانگتا ہے اللہ تعالیٰ وہ چیز اسے عطا کر دیتا ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2773

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2774

أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَكَانِ يَكْتُبَانِ الْأَوْلَ فَالْأَوْلَ، فَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَدَنَةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَقَرَةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ شَاةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَدَنَۃً ، وَکَرَجُلٍٍ قَدَّمَ بَقَرَۃً ، وَکَرَجُلٍ قَدَّمَ شَاۃً ، وَکَرَجُلٍ قَدَّمَ طَیْرًا ، وَکَرَجُلٍ قَدَّمَ بَیْضَۃً ، فَاِذَا قَعَدَ الْاِمَامُ طُوِیَتِ الصُّحُفُ

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ ( جمعہ کے دن ) مسجد کے ہر دروازے پر دو فرشتے بیٹھ جاتے ہیں جو پہلے آنیوالوں کے نام نوٹ کر تے ہیں ‘ تو ان کی مثال یوں ہے :کسی شخص نے اونٹ کی قربانی کی پھر کسی ایک شخص نے گائے کی قربانی کی پھر کسی ایک شخص نے بکری کی قربانی کی پھر کسی ایک شخص نے پرندے کی قر بانی کی پھر جیسے اس نے انڈہ صدقہ کیا ‘ پھر جب امام منبر پر ( بیٹھ جاتا ) ہے تو صحیفے لپیٹ لیے جاتے ہیں‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ بِالْبَصْرَةِ،

Hadith 2774

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2775

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ" 1. [2:1] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ بِأَنَّ اسْمَ الرَّوَاحِ يَقَعُ عَلَى جَمِيعِ سَاعَاتِ النَّهَارِ ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الرَّوَاحَ لَا يَكُونُ إِلَّا بعد الزوال.

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کی طرح کا غسل کرے اور پھر روانہ ہو جائے ‘ تو گویا اس نے اونٹ کی قربانی کی جو شخص دوسری گھڑی میں ہو جائے اس نے مرغی کی قربانی کی جو شخص پانچویں گھڑی میں جاتا ہے گویا اس نے انڈہ صدقہ کیا جب امام آ جائے ‘ تو فرشتے مسجدمیں آ کر (( ذکر یعنی خطبے کو ) سنتے ہیں‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ لفظ ’’ رواح ‘‘ ( جانے ) کا اطلاق دن کی تمام گھڑیوں پر ہوتا ہے ‘ یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ لفظ ’’ رواح ‘‘ کا اطلاع صرف زوال کے بعد جانے پر ہوتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ

Hadith 2775

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2776

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا بن أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ أَبُو وَدِيعَةَ عَنْ سَلْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَتَطَهَّرَ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ، ثُمَّ ادَّهَنَ مِنْ دُهْنِهِ، أَوْ طِيبِ بَيْتِهِ، ثُمَّ رَاحَ إِلَى الْجُمُعَةِ وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى مَا بَدَا لَهُ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ أَنْصَتَ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الجمعة الأخرى" 1. [2:1]

حضرت سلمان فارسیؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور جہاں تک ممکن ہو اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرے پھر وہ تیل لگائے یا اپنے گھر میں موجود خوشبو لگائے پھر جمعہ کے لئے جائے اور دو آدمیوں کےدرمیان فرق نہ کرے پھر جتنا مناسب سمجھے نماز ( یعنی سنتیں ‘ یا نوافل ) ادا کرے پھر جب امام آ جائے‘ تو خاموشی ( کے ساتھ اس کا خطبہ سنے) تو اس شخص کے اس جمعے اورآ گلےجمعے تک کے درمیانی گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے‘‘۔

النَّبِيِّ ← سَلْمَانَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ أَبُو وَدِيعَةَ ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2776

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2777

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَرَأَى عَلَيْهِمْ ثِيَابَ النِّمَارِ1 فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ما على 2 أحدكم إن وجد سعة اَنْ یَّتَّخِذَ ثَوْبَیْنِ لِجُمُعَتِہٖ سِویٰ ثَوْبیْ مِھْنَتِہِ

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں:نبی اکرمﷺ نے جمعہ کے دن خطبہ دیا۔ آپ نے لوگوں کے جسموں پر کام کاج والے کپڑے دیکھے۔ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ تم میں سے کسی پر کوئی ( حرج ) نہیں ہو گا اگر اس کے پاس گنجائش ہو ‘ تو وہ جمعہ کے لئے دو کپڑ ے پہن لے جو ا س کے کام کاج (یعنی محنت مزدوری ) کے کپڑوں کے علاوہ ہوں ‘‘۔ سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں:نبی اکرمﷺ نے جمعہ کے دن خطبہ دیا۔ آپ نے لوگوں کے جسموں پر کام کاج والے کپڑے دیکھے۔ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ تم میں سے کسی پر کوئی ( حرج ) نہیں ہو گا اگر اس کے پاس گنجائش ہو ‘ تو وہ جمعہ کے لئے دو کپڑ ے پہن لے جو ا س کے کام کاج (یعنی محنت مزدوری ) کے کپڑوں کے علاوہ ہوں ‘‘۔

رَجُلٍ مِنْهُمْ، ← عَائِشَةَ وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 2777

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2778

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ [ص:17] إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاسْتَنَّ، وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ، وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَلَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ، ثُمَّ رَكَعَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَرْكَعَ، ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُهُ حَتَّى يُصَلِّيَ، كَانَتْ كَفَّارَةً مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا»

حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے مسواک کرے اور خوشبو لگائے اگر وہ اس کے پاس ہو اورعمدہ کپڑے پہنے پھر وہ مسجد کی طرف جائے اور لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے ‘ پھر جتنا اللہ کو منظور ہو اتنے نوافل ادا کرے پھر خاموش رہے‘ جب اما م آ جائے ‘ یہاں تک کہ وہ نماز ادا کر لے ‘ تو یہ چیز اس کے اس جمعہ اور اس سے پہلے جمعہ کے درمیان ( گناہوں) کا کفارہ بن جاتی ہیں ‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ [ص:656] إِبْرَاهِيمَ ← الدَّوْرَقِيُّ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Hadith 2778

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2779

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَسَمِعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا" 1. [2:1] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَدْ يَتَوَهَّمُ مَنْ لَمْ يَسْبُرْ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ أَنَّ الْجُمُعَةَ إِلَى الْجُمُعَةِ ثَمَانِيَةُ أَيَّامٍ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقُلْ: غُفِرَ لَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَوَقْتُ الْجُمُعَةِ زَوَالُ الشَّمْسِ، فَمِنْ زَوَالِ الشَّمْسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَى زَوَالِ الشَّمْسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى سَبْعَةُ أَيَّامٍ، وَقَوْلُهُ: "زِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ" تَمَامُ الْعَشْرِ، قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} [الأعراف: 160] وَهَذَا مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا: إِنَّ الْمَرْءَ قَدْ يَعْمَلُ طَاعَةَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا، فَيَغْفِرُ اللَّهُ لَهُ بِهَا ذَنُوبًا لَمْ يَكْتَسِبْهَا بَعْدُ.

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرےپھر جمعہ کے لئےآئے اور ( خطبے ) کو سنے خوموش رہے ‘ تو اس شخص کے اس جمعے سے لے آگے جمعے تک اور مزید تین د ن کے ( گناہوں) کی مغفرت ہو جاتی ہے اور جو شخص کنکریوں کو چھوتا ہے وہ لغو کا مرتکب ہوتا ہے ‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں :) جو شخص علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا ۔ وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوا کہ ایک جمعے سے دوسرے جمعے تک آٹھ دن بنتے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی ہے کہ ایک جمعہ سے لے کر دوسرے جمعے تک کے ‘ اس کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ۔ تو جمعے کا وقت سورج ڈھلنے کے بعد ہوتا ہے۔ تو جمعہ کے دن سورج ڈھلنے کے بعد سے اگلے جمعے کے سورج ڈھلنے تک ساتھ دن بنتے ہیں اور نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان کہ اس کے علاوہ مزید تین دن تو اس طرح دس پورے ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جو شخص نیکی کرتا ہے تو وہ دس گنا بن جاتی ہے‘‘۔ یہ وہ بات ہے۔ جس کے بارے میں ہم نے اپنی کتابوں میں یہ بات نقل کی ہے کہ آدمی جب اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے متعلق عمل کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کی ان گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے۔ جن کا ارتکاب وہ بعد میں نہیں کرتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 2779

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr