Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ أَحْكَامِ الْجُنُبِ · حديث 1205

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بن عمرو يحدث عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ 2 عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ" 3.

عبد اللہ بن نجی اپنےب والد کا یہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علی ؓ کو نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ نقل کرتے ہوئے سنا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : "فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر یا کتا یا جنبی شخص موجود ہو۔"

"لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ" ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← عَلِيًّا ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ← أَبَا زُرْعَةَ بن عمرو ← عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of rulings of the side · Hadith 1205

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ أَحْكَامِ الْجُنُبِ · حديث 1206

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ بِغُسْلٍ واحد 1

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک ہی رات میں اپنی تمام ازراج کے پاس تشریف لے جاتے تھے اور پھر ایک ہی مرتبہ غسل کرتے تھے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of rulings of the side · Hadith 1206

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ أَحْكَامِ الْجُنُبِ · حديث 1207

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطُوفُ عَلَى جَمِيعِ نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ ثُمَّ يَغْتَسِلُ غُسْلًا وَاحِدًا 1.

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک ہی رات میں اپنی تمام ازراج کے پاس تشریف لے جاتے تھے اور پھر ایک ہی مرتبہ غسل کرتے تھے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← هُشَيْمٌ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of rulings of the side · Hadith 1207

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ أَحْكَامِ الْجُنُبِ · حديث 1208

أخبرنا بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي سَاعَةٍ مِنَ اللَّيْلِ أو النهار وهن إحدى عشرة فَقُلْتُ لِاَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَکَانَ یُطِیقُ ذٰلِکَ کُنَّا نَتَحَدَّثُ اَنَّہٗ اُعْطِیَ قُوَّۃَ ثَلَاثِینَ۔

حضرت انس بن مالک نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں رات یا دن میں کسی وقت آپ ﷺ اپنی تمام ازواج کے پاس تشریف لے جاتے تھے ان ازواج کی تعداد گیارہ تھی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے حضرت انس بن مالک سے دریافت کیا : کیا نبی اکرم ﷺ میں اتنی طاقت تھی تو حضرت انس بن مالک ؓ نے بتایا کہ ہم لوگ تو یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ آپ کو ۳۰ مردوں جتنی قوت دی گئی ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of rulings of the side · Hadith 1208

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ أَحْكَامِ الْجُنُبِ · حديث 1209

أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ تعالى عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ اَنَسٍ اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَطُوفُ عَلٰی نِسَائِہِ فِی اللَّیْلَۃِ الْوَاحِدَۃِ وَلَہُ یَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَۃٍ۔

حضرت انس بن مالک نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں رات یا دن میں کسی وقت آپ ﷺ اپنی تمام ازواج کے پاس تشریف لے جاتے تھے ان ازواج کی تعداد ۹ تھی۔ (امام ابن حبان رحمۃ الہ علیہ فرماتے ہیں: ) ہشام دستوئی نے قتادہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ۔" ان کی ازواج کی تعداد گیارہ تھی" جب کہ سعید نے قتادہ کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے اس میں یہ مذکور ہےاس وقت آپ کی ۹ ازواج تھیں۔جہاں تک ہشام کی روایت کردہ روایت کا تعلق ہے، تو حضرت انس ؓ نے نبی اکرم ﷺ کے اس فعل کا ذکر اس زمانے میں کے حساب سے کیا جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تھے۔ اس وقت آپ کی گیارہ ازواج تھیںجب کہ سعید نے قتادہ کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے اس میں حضرت انس ؓ نے اس زمانے کا ذکر کیا ہے، جو مدینہ منورہ میں آپ کا آخری زمانہ ہے ۔ جب آپ کی نو ازواج تھیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے یہ فعل کئی مرتبہ کیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اسے صرف ایک مرتبہ کیا ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ تعالى عَنْهُ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of rulings of the side · Hadith 1209

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ أَحْكَامِ الْجُنُبِ · حديث 1210

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: "قَالَ رَسُولُ الله صلى الله اِذَا مَسَّ اَحَدُکُمْ الْمَرْاَۃَ فَاَرَادَ أن یعود فلیتوضأ۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جب کوئی شخص عورت کو چھولے( یعنی اس کے ساتھ صحبت کرلے) اور پھر وہ دوبارہ ایسا کرنا چاہے، تو اسے پہلے وضو کرلینا چاہئے"۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of rulings of the side · Hadith 1210

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ أَحْكَامِ الْجُنُبِ · حديث 1211

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ السِّنْجِيُّ2 بِمَرْوَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ هَاشِمٍ الْعَسْكَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ ثُمَّ أَرَادَ أن يعود فليتوضأ فإنه أنشط للعود" 3 قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ: تفرد بھذا اللفظۃ الأخیرۃ مسلم بن إبراھیم۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرے پھر وہ دوبارہ یہ عمل کرنا چاہے، تو اسے پہلے وضو کر لینا چاہئے۔ اس طرح دوبارہ کرنے میں زیادہ لذت ہوگی"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) ان آخری الفاظ کو نقل کرنے میں مسلم بن ابراہیم نامی راوی منفرد ہے۔

اَبُوْ حَاتِمٍ تفرد بھذا اللفظۃ الأخیرۃ مسلم بن إبراھیم۔ ← "إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ ثُمَّ أَرَادَ أن يعود فليتوضأ فإنه أنشط للعود" ← النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← شُعْبَةُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← جَعْفَرُ بْنُ هَاشِمٍ الْعَسْكَرِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ السِّنْجِيُّ2 بِمَرْوَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of rulings of the side · Hadith 1211

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ أَحْكَامِ الْجُنُبِ · حديث 1212

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَالْحَوْضِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سمعت بن عمر يقول أن عمرا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ فَكَيْفَ أَصْنَعُ قَالَ:" اغْسِلْ ذَكَرَكَ ثُمَّ تَوَضَّأْ ثُمَّ ارْقُدْ" 2.

۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: (بعض اوقات) مجھے رات کے وقت جنابت لاحق ہو جاتی ہے، تو میں کیا کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی شرم گاہ کو دھو کر پھر وضو کرکے سوجاؤ۔

اغْسِلْ ذَكَرَكَ ثُمَّ تَوَضَّأْ ثُمَّ ارْقُدْ" ← أن عمرا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ فَكَيْفَ أَصْنَعُ ← بن عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ وَالْحَوْضِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of rulings of the side · Hadith 1212

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ أَحْكَامِ الْجُنُبِ · حديث 1213

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، ثُمَّ نَمْ». [1: 49] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَوَضَّأْ، وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ» أَمْرَ نَدْبٍ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثُمَّ نَمْ»، أَمَرُ إِبَاحَةٍ، وَلَيْسَ فِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ» دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَنِيَّ نَجِسٌ، لِأَنَّ الْأَمْرَ بِغَسْلِ الذِّكْرِ إِنَّمَا أَمْرٌ لِأَنَّ الْمَرْءَ قَلَّمَا يَطَأُ إِلَّا وَيُلَاقِي ذَكَرُهُ شَيْئًا نَجِسًا، فَإِنْ تَعَرَّى عَنْ هَذَا، فَلَا يَكَادُ يَخْلُو مِنَ الْبَوْلِ قَبْلَ الِاغْتِسَالِ، فَمِنْ أَجْلِ مُلَاقَاةِ النَّجَاسَةِ [ص:16] لِلذَّكَرِ أَمَرَ بِغَسْلِهِ، لَا أَنَّ الْمَنِيَّ نَجِسٌ، لِأَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ»

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا کہ بعض اوقات انہیں رات کے وقت جنابت لاحق ہوجاتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم وضو کرو شرم گاہ کو دھولو اور پھر سوجاؤ۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان " تم وضو کرلو اور اپنی شرمگاہ کو دھولو"۔ یہ حکم استحباب کے طور پر ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: " پھر تم سوجاؤ" یہ مباح قرار دینے کیلئے حکم ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان: "تم اپنی شرم گاہ کو دھولو" میں اس بات کی دلیل موجود نہیں ہے کہ منی نجس ہوتی ہے کیونکہ شرمگاہ کو دھونے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ آدمی جب صحبت کرتا ہے، تو اس کی شرمگاہ پر کوئی نجس چیز لگ جاتی ہے اگر یہ نہ بھی ہو تو غسل کرنے سے پہلے عام طور پر آدمی کو پیشاب کرنا پڑتا ہے، تو اس نجاست کے لگنے کی وجہ سے بھی شرمگاہ کو دھونے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس وجہ سے نہیں دیا گیا، کہ منی نجس ہوتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے اسے کھرچ دیا کرتی تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز اد کر لیا کرتے تھے۔

أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ «تَوَضَّأْ، ← عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنْ اللَّيْلِ ← ابْنِ عُمَرَ:أَنَّہُ ← عبد الله بن دينار ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of rulings of the side · Hadith 1213

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ أَحْكَامِ الْجُنُبِ · حديث 1214

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: ذَكَرَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ فَأَمَرَهُ أَنْ يتوضأ ويغسل ذكره ثم ينام 1.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا کہ انہیں رات کے وقت جنابت لاحق ہوجاتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ وضو کریں اور اپنی شرم گاہ کو دھولیں اور پھر سو جائیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ بن دينار أنه ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of rulings of the side · Hadith 1214

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ أَحْكَامِ الْجُنُبِ · حديث 1215

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ بن عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ رَسُولَ الله صلى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَیَرْقُدُ اَحَدُنَا وَھُوَ جُنُبٌ فَقَالَ: صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ اِذَا توضأ۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہین: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا ہم میں سے کوئی ایک شخص جنابت کی حالت میں ہو سکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں جب وہ وضو کرلے( تو سو سکتا ہے)

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of rulings of the side · Hadith 1215

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ أَحْكَامِ الْجُنُبِ · حديث 1216

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عن بن عُمَرَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أينام وَهُوَ جُنُبٌ فَقَالَ: "نَعَمْ وَيَتَوَضَّأُ إِنْ شَاءَ الله" 1.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا کوئی شخص جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں اگر وہ چاہے، تو وضو کرکے (سو ) جائے۔ آدمی کےلئے یہ بات مباح ہونے کا تذکرہ کہ وہ نماز کے وضو کی طرح وضو کرنے کے بعد جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے

"نَعَمْ وَيَتَوَضَّأُ إِنْ شَاءَ الله" ← عُمَرَ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ أينام وَهُوَ جُنُبٌ ← بن عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← سُفْيَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of rulings of the side · Hadith 1216

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr