Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2551

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، وَكَانَ جَارًا لَهُ، أَنَّهُ قَالَ لِعَائِشَةَ: أَخْبِرِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: «خُلُقُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ» ، قَالَ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلُهَا عَنْ شَيْءٍ فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ: {يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ} [المزمل: 1] ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: «فَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا افْتَرَضَ الْقِيَامَ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ، وَأَمْسَكَ اللَّهُ خَاتِمَتَهَا اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا التَّخْفِيفَ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَتِهِ» (1) . [5: 1]

سعد بن ہشام بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے سیّدہ عائشہ ؓ کی خدمت میں عرض کی: آپ مجھے نبی اکرمﷺ کے اخلاق کے بارے میں بتائیں تو سیّدہ عائشہ ؓ نے فرمایا: کیا تم نے قرآن کی تلاوت نہیں کی ہے میں نے جواب دیا: جی ہاں! کی ہے تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرمﷺ کے اخلاق قرآن تھے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے یہ ارادہ کیا اب میں اٹھ جاتاہوں اب اس سے کسی چیز کے بارے میں دریافت نہیں کروں گا۔تو میں نے کہا: اے ام المومنین! آپ مجھے نبی اکرمﷺ کے قیام کے بارے میں بتائیں تو سیّدہ عائشہ ؓ نے فرمایا: کیا تم نے اس سورۃ کی تلاوت نہیں کی ہے؟ اے چادر اوڑھنے والے میں نے جواب دیا: جی ہاں!کی ہے۔ سیّدہ عائشہ ؓ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کے آغاز میں رات کے وقت نوافل ادا کرنا فرض قرار دیاتھا نبی اکرمﷺ اور آپ کے اصحاب ایک سال تک رات کے وقت نوافل ادا کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاؤں ورم آلود ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کے اختتامی حصے کو بارہ ماہ تک آسمان میں روکے رکھا پھر اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ آخر میں تخفیف کا حکم نازل کردیا تو رات کے وقت نوافل ادا کرنا نفل قراف پایا جو پہلے فرض تھا۔

أَلَسْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ: {يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ} [المزمل: قُلْتُ: بَلَى، ← قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ ← شَيْءٍ فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْبِئِينِي ← فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلُهَا ← «خُلُقُ نَبِيِّ اللَّهِ كَانَ الْقُرْآنَ»، ← ألست تقرأ القرآن قلت بلى ← خلق رسول الله ← لِعَائِشَةَ: أَخْبِرِينِي ← سَعْدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ،وَكَانَ جَارًا لَهُ، أَنَّهُ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2551

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2552

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً (1) أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا، وَكَانَ إِذَا شَغَلَهُ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ نَوْمٌ أَوْ مَرَضٌ، أَوْ وَجَعٌ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً» (2) . [5: 1]

سعد بن ہشام سیدہ عائشہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرمﷺ جب کوئی نماز ادا کرتے تھے تو آپ اس بات کو پسند کرتے تھے اسے باقاعدگی سے ادا کریں اور اگر آپ نیند یا بیماری یا تکلیف وغیرہ جیسی کسی مصروفیت کی وجہ سے رات کے وقت نوافل ادا نہیں کرپاتے تھے تو آپ دن کے وقت بارہ رکعات ادا کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2552

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2553

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الْعَابِدُ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلَاثَ عُقَدٍ يَضْرِبُ مَكَانَ كُلِّ عُقْدَةٍ: عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانَ» (1) . [1: 2]

حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: شیطان کسی شخص کی گدی پر گرہ لگاتاہے جب وہ بندہ سوتاہے وہ تین گرہیں لگاتا ہے ہر گرہ پر وہ یہ کہتا ہے رات بہت لمبی ہے تم سوئے رہو اگر وہ شخص بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے وہ وضو کرے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور اگر وہ نماز ادا کرے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور اگلے دن وہ شخص چاق و چو بند خوش مزاج ہوتاہے ورنہ اس کا مزاج بھی ٹھیک نہیں ہوتا اور وہ کاہل ہوتاہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ الزُّھْرِیُّ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الْعَابِدُ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2553

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2554

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سُفْيَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ ذَكَرٍ وَلَا أُنْثَى إِلَّا عَلَى رَأْسِهِ جَرِيرٌ مَعْقُودٌ حِينَ يَرْقُدُ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى، انْحَلَّتِ الْعُقَدُ» (1) . [1: 2]

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے مجھ سے فرمایا: جو بھی مرد یا عورت (سوتے ہیں) تو ان کے سونے کے وقت ان کے سر پر گرہ لگادی جاتی ہے اگر وہ بیدار ہوکے اللہ تعالیٰ کا ذکرکریں تو گرہ کھل جاتی ہے اگر وہ اٹھ کروضو کرے اور نماز ادا کرے تو تمام گرہیں کھل جاتی ہیں۔

وَلَا أُنْثَى إِلَّا عَلَى رَأْسِهِ جَرِيرٌ مَعْقُودٌ حِينَ يَرْقُدُ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ ← لِي رَسُولُ اللَّهِ «مَا مِنْ ← جَابِرًا ← أَبَا سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2554

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2555

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: لَا أَقُولُ الْيَوْمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا مِنْ جَهَنَّمَ» وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ يُعَالِجُ نَفْسَهُ إِلَى الطَّهُورِ وَعَلَيْهِ (2) عُقَدٌ، فَإِذَا وَضَّأَ يَدَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا وَضَّأَ وَجْهَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا وَضَّأَ رِجْلَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا لِلَّذِي وَرَاءَ الْحِجَابِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُعَالِجُ نَفْسَهُ لَيَسْأَلَنِي، مَا سَأَلَنِي عَبْدِي هَذَا فَهُوَ لَهُ، مَا سَأَلَنِي عَبْدِي هَذَا فَهُوَ لَهُ» (1) . [1: 2]

حضرت عقبہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں: میں نے آج تک نبی اکرمﷺ کے حوالے سے کوئی ایسی بات بیان نہیں کی جو نبی اکرمﷺ نے ارشاد نہ فرمائی ہو میں نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے اس کو جہنم میں اپنے گھر تک پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ تو میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سناہے: میری امت کا ایک شخص رات کے وقت اٹھتا ہے وہ وضو کرنے کے لئے جاتاہے اس پر گرہیں لگی ہوئی ہوتی ہیں جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ حجاب کے پیچھے سے فرماتا ہے: تم لوگ میرے اس بندے کی طرف دیکھو جو اپنے آپ کو اس لئے تیار کررہاہے تاکہ مجھ سےمانگے آج یہ میرا بندہ جو مانگے گا وہ اس کو ملے گا میرا یہ بندہ مجھ سے جو مانگے گا وہ اسے ملے گا۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَنَّهُ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، اَنَّ اَبَا عُشَّانَۃَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2555

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2556

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ، ذَكَرٍ وَلَا أُنْثَى، يَنَامُ إِلَّا وَعَلَيْهِ جَرِيرٌ مَعْقُودٌ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِنْ هُوَ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ أَصْبَحَ نَشِيطًا قَدْ أَصَابَ خَيْرًا، وَقَدِ انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا، وَإِنْ أَصْبَحَ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ أَصْبَحَ وَعُقَدُهُ عَلَيْهِ، وَأَصْبَحَ ثَقِيلًا كَسْلَانًا لَمْ يُصِبْ خَيْرًا» (1) . [1: 2]

حضرت جابر ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو بھی مسلمان مرد یا عورت سوتا ہے اس پر گرہیں لگ جاتی ہیں وہ بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتاہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اگر وہ وضو کرکے نماز کے لئے اٹھتا ہے تو وہ چاق و چوبند حالت میں صبح کرتا ہے اس نے بھلائی حاصل کرلی ہوتی ہے اور اس کی تمام گرہیں کھل چکی ہوتی ہیں اور ایسی اگر وہ ایسی حالت میں صبح کرتا ہےاللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتا تو وہ ایسی حالت میں صبح کرتا ہے اس کی سب گرہیں لگی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ بوجھل ذہن کے ساتھ کاہلی کے عالم میں صبح کرتا ہے اسے بھلائی نصیب نہیں ہوتی ۔

وَلَا أُنْثَى، يَنَامُ إِلَّا وَعَلَيْهِ جَرِيرٌ مَعْقُودٌ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ ← «مَا مِنْ مُسْلِمٍ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2556

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2557

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَيْنِ: رَجُلٍ ثَارَ مِنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ مِنْ بَيْنِ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى الصَّلَاةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي ثَارَ مِنْ فِرَاشِهِ وَوِطَائِهِ مِنْ بَيْنَ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ (2) رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي، وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي، وَرَجُلٍ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَانْهَزَمَ النَّاسُ، وَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ فِي الِانْهِزَامِ، وَمَا لَهُ فِي الرُّجُوعِ، فَرَجَعَ حَتَّى أُهْرِيقَ دَمُهُ، فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي، رَجَعَ (3) رَجَاءً فِيمَا عِنْدِي، وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي حَتَّى أُهْرِيقَ دَمُهُ» (1) . [3: 67]

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ہمارا پروردگار دو بندوں پر خوش ہوتا ہے ایک وہ شخص (رات کے وقت) اپنے بستر اور لحاف میں سے اپنی بیوی کے پاس سے اٹھ کر نماز کی طرف جاتاہے تو اللہ تعالیٰ فرماتاہے : میرے اس بندے کو دیکھو یہ اپنے بستر اور لحاف میں اپنی بیوی کے پاس سے اٹھ کر نماز کی طرف آیا ہے اس چیز کی رغبت رکھتے ہوئے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے جو میرے پاس ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتا ہے لوگ پسپا ہوجاتے ہیں وہ شخص بھی جانتا ہے پسپا ہونے کی صورت میں اس پر کیا وبال ہوگا اور واپس آنے کی صورت میں اسے کیا اجروثواب ملے گا تو وہ واپس (میدان جنگ میں) آجاتاہے یہاں تک کہ اس کا خون بہادیا جاتاہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے میرے اس بندے کی طرف دیکھو یہ اس چیز کی امید رکھتے ہوئے واپس آیا ہے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے آیا ہے جو میرے پاس ہے یہاں تک کہ اس کے خون کو بہادیا گیا۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2557

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2558

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَيْنِ: رَجُلٍ ثَارَ عَنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ مِنْ بَيْنَ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي، ثَارَ عَنْ فِرَاشِهِ وَوِطَائِهِ مِنْ بَيْنَ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي، وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي، وَرَجُلٍ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ، وَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ فِي الِانْهِزَامِ، وَمَا لَهُ فِي الرُّجُوعِ، فَرَجَعَ حَتَّى هُرِيقَ دَمُهُ، فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي، رَجَعَ رَجَاءً فِيمَا عِنْدِي، وَشَفَقًا (1) مِمَّا عِنْدِي حَتَّى هُرِيقَ دَمُهُ» (2) . [1: 2]

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: ہمارا پروردگار دو آدمیوں پر خوش ہوتاہے ایک وہ شخص جو اپنے بستر اور لحاف میں سے اپنی بیوی کے پاس سے اٹھ کر نماز کی طرف جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے : میرے اس بندے کی طرف دیکھو جو اپنے بستر سے اپنی بیوی کے پاس سے اٹھ کر نماز کی طرف آیا ہے اس چیز کی رغبت رکھتے ہوئے جو میرے پاس ہے اور اس چیزسے ڈرتے ہوئے جو میرے پاس ہے اور دوسرا وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتا ہے اس کے ساتھی پسپا ہوجاتے ہیں وہ شخص جانتاہے پسپا ہونے پر اسے کیاوبال ہوگا اور واپس (جنگ میں) آنے پر کیا اجروثواب ملے گا تو وہ واپس آتا ہے یہاں تک کہ اس کا خون بہادیا جاتاہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتاہے : میرے اس بندے کی طرف دیکھویہ اس چیز کی امید رکھتے ہوئے واپس آیا ہے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے آیا ہے جو میرے پاس ہے یہاں تک کےاس کے خون کو بہادیا گیا۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ، ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2558

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2559

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ (3) ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي إِذَا رَأَيْتُكَ طَابَتْ نَفْسِي، وَقَرَّتْ عَيْنِي، أَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ، قَالَ: «كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنَ الْمَاءِ» ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ إِذَا عَمِلْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، قَالَ: «أَطْعِمِ الطَّعَامَ، وَأَفْشِ السَّلَامَ، وَصِلِ الْأَرْحَامَ، وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلِ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ» (4) . [1: 2] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ، أَرَادَ بِهِ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنَ الْمَاءِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ هَذَا جَوَابُ (1) الْمُصْطَفَى إِيَّاهُ، حَيْثُ قَالَ: «كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنَ الْمَاءِ» ، فَهَذَا جَوَابٌ خَرَجَ عَلَى سُؤَالٍ بِعَيْنِهِ، لَا أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنَ الْمَاءِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَخْلُوقًا.

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں: میں نے عرض کی : یارسول اللہﷺ ! میں نے آپ کو دیکھا تو میرا نفس پاکیزہ ہوگیا ہے میری آنکھیں ٹھنڈی ہوگئی ہیں آپ مجھے ہر چیز کے بارے مین بتا دیجئے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا گیا میں نے عرض کی: آپ مجھے ایسی چیز کے بارے میں بتائیں جب میں اس پر عمل کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم کھانا کھلاؤ سلام کو پھیلاؤ صلہ رحمی کرو رات کے وقت نوافل ادا کرو جب لوگ سورہےہوں تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤگے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) حضرت ابو ہریرہ ؓ کا یہ کہنا کہ مجھے ہر چیز کے بارے میں بتا دیں اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ ہر اس چیز کے بارے میں بتائیں جو پانی سے پیدا کی گئی ہے۔اور اس بات کے صحیح ہونے کی دلیل نبی اکرمﷺ کا ان کو دیا جانے والا جواب ہے کہ آپ نے یہ فرمایا: ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے تو یہ جواب اسی طرح صادر ہوا ہے جس طرح سوال تھا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ہر چیز کو پیدا ہی پانی سے کیا گیا ہے۔خواہ وہ مخلوق نہ بھی ہو۔

قُلْتُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي مَيْمُونَةَ2 ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2559

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2560

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ سُحَيْمٌ حَرَّانِيٌّ ثَبْتٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانًا يُصَلِّي اللَّيْلَ كُلَّهُ، فَإِذَا أَصْبَحَ سَرَقَ، قَالَ: «سَيَنْهَاهُ مَا تَقُولُ» (2) . [1: 2] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ: «سَيَنْهَاهُ مَا تَقُولُ» مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا: إِنَّ الْعَرَبَ تُضِيفُ الْفِعْلَ إِلَى الْفِعْلِ نَفْسِهِ، كَمَا تُضِيفُ إِلَى الْفَاعِلِ، أَرَادَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الصَّلَاةَ إِذَا كَانَتْ عَلَى الْحَقِيقَةِ فِي الِابْتِدَاءِ وَالِانْتِهَاءِ، يَكُونُ الْمُصَلِّي مُجَانِبًا لِلْمَحْظُورَاتِ مَعَهَا، كَقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ} [العنكبوت: 45] .

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ﷺ ! فلاں شخص ساری رات نفل پڑھتا رہتا ہے جب صبح ہوتی ہے تو وہ چوری کر لیتا ہے نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ جو پڑھتا ہے وہ چیز عنقریب اسے اس عمل سے روک دے گی۔ (امام ان حبان ؒ فرماتے ہیں) نبی اکرمﷺ کے یہ الفاظ وہ جو پڑھتا ہے وہ چیز اسے عنقریب روک دے گی یہ اس نوعیت کے الفاظ ہیں۔ جس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات تحریر کر چکے ہیں کہ بعض اوقات عرب کسی فعل کی نسبت اس فعل کی طرف کر دیتے ہیں جس طرح وہ اس کی نسبت فعل کی طرف کر دیتے ۔ تو نبی اکرمﷺ کی مراد یہ ہے کہ جب نماز اپنے آغاز اور اختتام کے حوالے سے حقیقت پر مبنی ہے۔تو نمازی شخص اس نماز کے ہمراہ ممنوعہ چیزوں سے مجتنب رہتا ہے اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔ بے شک نماز فحاشی اور گناہوں سے روکتی ہے۔

قِيلَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ سُحَيْمٌ حَرَّانِيٌّ ثَبْتٌ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2560

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2561

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «فِي اللَّيْلِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ» (1) . [1: 2]

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے: رات میں ایک گھڑی ایسی ہے اس میں جو بھی مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے دنیا یا آخرت کی جس بھی بھلائی کا سوال کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے وہ عطا کردے گا۔

النَّبِيِّ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أبو خيثمة زهير بن حرب ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2561

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2562

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ نَامَ حَتَّى أَصْبَحَ، فَقَالَ: «بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ أَوْ (1) فِي أُذُنَيْهِ» (2) . قَالَ سُفْيَانُ: «هَذَا عِنْدَنَا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ نَامَ عَنِ الْفَرِيضَةِ» [3: 65]

حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا: جو سوتا ہے یہاں تک کہ وہ صبح کر دیتا ہے نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کردیا(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے) دونوں کانوں میں کیاہے؟ سفیان نامی راوی بیان کرتے ہیں : ہمارے نزدیک اس سے مراد یہ ہوگا وہ شخص فرض نماز کے وقت سو یارہ جاتاہے۔

الْفَرِيضَةِ» ← سُفْيَانُ: «هَذَا عِنْدَنَا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ نَامَ ← رَجُلٍ نَامَ حَتَّى أَصْبَحَ، فَقَالَ: «بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ أَوْ فِي أُذُنَيْهِ» ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← الْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2562

chevron_left Previous
1234…8
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr