صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2551
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، وَكَانَ جَارًا لَهُ، أَنَّهُ قَالَ لِعَائِشَةَ: أَخْبِرِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: «خُلُقُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ» ، قَالَ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلُهَا عَنْ شَيْءٍ فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ: {يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ} [المزمل: 1] ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: «فَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا افْتَرَضَ الْقِيَامَ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ، وَأَمْسَكَ اللَّهُ خَاتِمَتَهَا اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا التَّخْفِيفَ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَتِهِ» (1) . [5: 1]
سعد بن ہشام بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے سیّدہ عائشہ ؓ کی خدمت میں عرض کی: آپ مجھے نبی اکرمﷺ کے اخلاق کے بارے میں بتائیں تو سیّدہ عائشہ ؓ نے فرمایا: کیا تم نے قرآن کی تلاوت نہیں کی ہے میں نے جواب دیا: جی ہاں! کی ہے تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرمﷺ کے اخلاق قرآن تھے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے یہ ارادہ کیا اب میں اٹھ جاتاہوں اب اس سے کسی چیز کے بارے میں دریافت نہیں کروں گا۔تو میں نے کہا: اے ام المومنین! آپ مجھے نبی اکرمﷺ کے قیام کے بارے میں بتائیں تو سیّدہ عائشہ ؓ نے فرمایا: کیا تم نے اس سورۃ کی تلاوت نہیں کی ہے؟ اے چادر اوڑھنے والے میں نے جواب دیا: جی ہاں!کی ہے۔ سیّدہ عائشہ ؓ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کے آغاز میں رات کے وقت نوافل ادا کرنا فرض قرار دیاتھا نبی اکرمﷺ اور آپ کے اصحاب ایک سال تک رات کے وقت نوافل ادا کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاؤں ورم آلود ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کے اختتامی حصے کو بارہ ماہ تک آسمان میں روکے رکھا پھر اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ آخر میں تخفیف کا حکم نازل کردیا تو رات کے وقت نوافل ادا کرنا نفل قراف پایا جو پہلے فرض تھا۔
أَلَسْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ: {يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ} [المزمل: قُلْتُ: بَلَى، ← قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ ← شَيْءٍ فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْبِئِينِي ← فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلُهَا ← «خُلُقُ نَبِيِّ اللَّهِ كَانَ الْقُرْآنَ»، ← ألست تقرأ القرآن قلت بلى ← خلق رسول الله ← لِعَائِشَةَ: أَخْبِرِينِي ← سَعْدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ،وَكَانَ جَارًا لَهُ، أَنَّهُ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ
Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2551
