صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ فَضْلِ الْاِیمَانِ · حديث 151
اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ حَدَّ ثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ا لْحَوْضِیُّ حَدَّ ثَنَا مُحَرَّرُ بْنُ قَعْنَبِ الْبَاھلِیُّ حَدَّثَنَا ریَاحُ بْنُ عُبَیْدَۃَ عَنْ زَکْوَانَ السَّمَّانِ عَنْ جَابَرِ بْنِ عَبْدِ اللھِ قَالَ بّعّثّنِیْ رّسُوْلُ اللھِ صَلَّی اللھُ عَلَیْھِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: نَادِفِی النَّاسِ مَنْ قَالَ:لَااِلٰھَ اِلَّا اللھُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ فَخَرَجَ فَلَقِیَھٗ عُمَرُ فِی الطَّرِیْقِ فَقَالَ:اَیْنَ تُرِیْدُ ؟ قُلْتُ:بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللھِ صَلَّی اللھُ عَلَیْھِ وَسَلَّمَ بِکَزَا وَکَزَا قَالَ:ارْجِعْ ٗ فَاَبَیْتُ فَلَھَزَنِیْ لَھْزَۃً فِیْ صَدْرِیْ اَلَمُھَا فَرَ جَعْتُ وَلَمْ اَجِدْ بُدَّاقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللھِ بَعَثْتُ ھٰذَا بِکَزَا وَکَزَا قَالَ:نَعَمْ قَالَ :یَا رَسُوْلَ اللھِ اِنَّ النَّاسَ قَدْطَمِعُوا وَخَشُوا فَقَالَ صَلَّی اللھُ عَلَیْھِ وَسَلَّمَ:اقعد۔(3:36)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:نبی اکرم ﷺنے مجھےبھیجتے ہوے یہ ارشاد فرمایا: ْلو گوں میں یہ اعلان کر دو کہ جو شخص یہ عتراف کرے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘وہ جنت میں داخل ہوگا‘‘۔ ٍٍٍ حضرت جابرؑ وہاں سے نکلے‘راستے میں حضرت عمرؑ کی ان سے ملاقات ہوئی‘توانہوں نے دریافت کیا : تم کہا ں جا رہے ہو؟ میں نے جواب دیا : مجھے نبی اکرامﷺنے اس پیغام کے ہمرا بھیجا ہے۔ تو حضرت عمر ؑ نے کہا :تم واپس جاؤ!میں نے ان کی یہ بات نہیں مانی ‘ تو انہوں نے میرے سینے پر ہاتھ مارا ‘جس کی تکلیف میں نے محسوس کی۔ میں واپس آگیا میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ حضرت عمر ؑنے عرض کی : یارسول اللہ!کیا آپ نے اسے اس ‘اس’’ پیغام ‘‘ کے ہمرا بھیجا ہے ؟ نبی اکرم نے جواب دیا : جی ہاں۔ حضرت عمرؑ نےعرض کی: یا رسول اللہ! یہ خوشخبری سن کر (لوگ) جنت کی امید رکھیں گے۔ تو نبی اکرم نے (حضرت جابر) سے فرمایا :تم بیٹھ جاؤ۔
بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← زَکْوَانَ السَّمَّانِ ← رِيَاحُ بْنُ عَبِيْدَةَ ← مُحَرَّرُ بْنُ قَعْنَبِ الْبَاھلِیُّ ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ا لْحَوْضِیُّ حَدَّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ حَدَّ
Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter of the virtue of faith · Hadith 151
