Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2827

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ قَالَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ فَقَالَ النَّاسُ إِنَّمَا انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فإذا رأيتموها فادعوا وصلوا حتى تنجلي" 1. [25:1]

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا۔ یہ اس دن کی بات ہے ( جب نبی اکرمﷺ کے صاحبزادے) حضرت ابراہیمؓ کا انتقال ہوا تھا لوگوں نے کہا: یہ گرہن حضرت ابراہیمؓ کے انتقال کی وجہ سے ہوا ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : بے شک سورج اور چاند اللہ کی دو نشانیاں ہیں یہ کسی کے مرنے یاکسی کے جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں جب تم انہیں ( گرہن کی حالت میں ) دیکھو تو دعا مانگو نماز ادا کرو یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائیں۔

النَّاسُ إِنَّمَا انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ← انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 2827

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2828

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الْأَمْرُ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، أُرِيدَ بِهِ أَحَدُهُمَا، لِأَنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِوَقْتٍ وَاحِدٍ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نبی اکرمﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں‘ ( آپ نے ارشاد فرمایا ہے :) ’’ بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں ‘ بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ جب تم ان دونوں کو ( گرہن کی حالت میں ) دیکھو تو نماز ادا کرو ‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) سورج یا چاند گرہن کے وقت نماز ادا کرنے کا حکم ونے سے مراد یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو گرہن ہو ۔ تو بھی نماز ادا کی جائے گی۔ ایسا نہیں ہے کہ جب ان دونوں کو ایک ہی وقت میں گرہن ہو ‘ تو اس وقت نماز ادا کرنے کا حکم ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ يُخْبِرُ ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ؛ أَنَّ عَبْد الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 2828

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2829

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ *، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا انْكَسَفَ أَحَدُهُمَا، فَافْزَعُوا إِلَى الْمَسَاجِدِ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «أَمَرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، وَهُوَ الْمَقْصُودُ، فَأَطْلَقَ هَذَا الْمَقْصُودَ عَلَى سَبَبِهِ وَهُوَ الْمَسَاجِدُ، لِأَنَّ الصَّلَاةَ تَتَّصِلُ فِيهَا لَا أَنَّ [ص:70] الْمَسَاجِدَ يُسْتَغْنَى بِحُضُورِهَا عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ أَوِ الْقَمَرِ دُونَ الصَّلَاةِ»

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا۔ نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے آپ کی اقتداء میں ہم بھی کھڑے ہوئے پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ’’ اے لوگوں ! بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں ان دونوں میں سے کسی ایک گو گرہن لگ جائے ‘ تو تم مساجد کی طرف آ ؤ ( یعنی نماز کسوف ادا کرو ) ‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) اس روایت میں نبی اکرمﷺ نے سورج یا چاند گرہن کے وقت نماز ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور یہی مقصود ہے تو یہاں مقصود کو اس کے سبب پر مطلق طور پر ذکر کیا گیا ہے اور وہ مساجد ہیں۔ کیونکہ نماز مسجد میں ادا کی جاتی ہے ایسا نہیں ہے کہ سورج یا چاند گرہن کے وقت صرف مسجد میں آ جانا کافی ہو گا۔ جبکہ نماز ادا نہ کی جائے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2829

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2830

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "صَلَاةُ الْآيَاتِ سِتُّ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعُ سَجَدَاتٍ" 1. [66:3]

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ’’ نشانی ظاہر ہونے پر ادا کی جانے والی نماز میں چھ رکوع ہوں گے اور چار سجدے ہوں گے‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ نشانیاں ظاہر ہونے کے وقت ادا کی جانے والی نماز میں یہ بات ضروری ہے کہ آدمی دو رکعات ادا کرے۔ جن میں سے ایک رکعت میں تین مرتبہ رکوع کرے۔ اور سجدے کرے۔ اس کی وضاحت عبد الملک بن ابو سلیمان کی عطاء کے حوالے سے حضرت جابرؓ سے نقل کررہ روایت ہے۔

"صَلَاةُ الْآيَاتِ سِتُّ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعُ سَجَدَاتٍ" ← النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَطَاءٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 2830

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2831

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيدَا وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ جَوْصَا بِدِمَشْقَ قَالَا حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ كَسَفَتَ الشَّمْسُ أربع ركعات في ركعتين وأربع سجدات1. [25:1]

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: جس دن سورج گرہن ہواتھا ا س دن نبی اکرمﷺ نے نماز ادا کرتےہوئے دو رکعات میں چار رکوع کیے اور چار سجدے کیے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيدَا وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ جَوْصَا بِدِمَشْقَ

Hadith 2831

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2832

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوْلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوْلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا دُونَ الْقِيَامِ الْأَوْلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوْلِ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوْلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دون الركوع الأول ثم طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوْلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: "إِنَّ الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذلك فاذكروا اللہَ فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلِ اللہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَاَیْنَاکَ تَنَاوَلْتَ شَیْئًا فِیْ مَقَامِکَ ھٰذَا ، ثُمَّ رَاَیْنَاکَ تَکَعْکَعْتَ ، قَالَ: اِنِّیْ رَاَیْتُ الْجَنَّۃَ اَوْ اُرِیتُ الْجَنَّۃَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْھَا عُنْقُودًا ، وَلَوْ اَخَذْتُہٗ لَاَ کَلْتُمْ مِنْہُ مَا بَقِیَتِ الدُّنْیَا ، وَرَاَیْتُ النَّارَ ، فَلَمْ اَرَکَالْیَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ ، وَرَاَیْتُ اَکْثَرَ اَھْلِھَا النِّسَاءَ قَالُوْا: بِمَ یَا رَسُوْلِ اللہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : بِکُفْرِھِنَّ قِیْلَ یَکْفُرْنَ بِاللہِ ؟ قَالَ: یَکْفُرْنَ الْعِشِیرَ ، وَیَکْفُوْنَ الْاِحْسَانَ ، لَوْ اَحْسَنْتَ اِلٰی اِحْدَا ھُنَّ الدَّھْرَ ، ثُمَّ رَاَتْ مِنْکَ شَیْئًا قَالَتْ: وَاللہِ مَا رَاَیْتُ مِنْکَ خَیْرًا قَطُّ

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا۔ نبی اکرمﷺ نے نماز ادا کی لوگوں نے آپ ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی نبی اکرمﷺ نے طویل قیام کیا جو تقریبًا سورہ بقرہ کی تلاوت جتنا تھا ‘ پھر آپ رکوع میں گئے ۔ آپ نے طویل رکوع کیا ‘پھر آپﷺ نے سر اٹھایا اور آپ نے طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے والی قیام سے کم تھا ‘ پھر آپ نے طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا ‘ پھر آپ نے سجدہ کیا : پھر آپ نے طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے والے قیام سے کم تھا ‘ پھر آپ نے طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا ‘ پھر آپ نے سر اٹھایا اور طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے والے قیام سے کم تھا ‘ پھر آپ نے طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا ‘ پھر آپ سجدے میں چلے گئے پھر آپ نے نماز ختم کی تو سورج روشن ہو چکا تھا آپ نے ارشاد فرمایا: ’’ بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں یہ کسی کے مرنے یاجینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے جب تم انیں ( گرہن کا حالت ) میں دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو ‘‘۔لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! ہم نے آ پ کو دیکھا ‘ آپ اپنی جگہ سے کوئی چیز پکڑنے کے لئے بڑھے تھے ‘ پھر ہم نے آپ کو دیکھا ‘ آپ پیچھے ہٹے نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے جنت کو دیکھا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) مجھے جنت دکھائی گئی تو میں اس میں سے انگوروں کا ایک گچھا حاصل کرنے لگا اگر میں اسے لے لیتا تو تم رہتی دنیا تک اسے کھاتے رہتے اور میں نے جہنم کو دیکھا میں نے آج کی طرح کا ( ہیبت ناک) منظر کبھی نہیں دیکھا میں نے دیکھا ‘ جہنم میں اکثریت خواتین کی ہے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! اس کی وجہ کیا ہے؟ نبی اکرمﷺ نےفرمایا : اس کی وجہ ان کا کفر ہے عرض کی گئی : کیا وہ اللہ کا انکار کرتی ہے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان کا انکار کرتی ہیں اگر تم ان میں سے کسی ایک کا ساتھ ایک زمانے تک بھلائی کرتے رہو اور پھر اسے تمہاری طرف سے ناگوار صورتحال دیکھنی پڑے تو وہ یہی کہتی ہے : اللہ کی قسم! میں نے تمہاری طرف سے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) نماز کسوف کے مختلف قسموں کا تعلق ہم عنقریب تفصیل کے ساتھ پانچویں قسم میں افعال سے تعلق رکھنے والی نوع میں کریں گے جو افعال مباح اختلاف کی قسم سے تعلق رکھتے ہیں ‘ اگر اللہ نے چاہا اور یہ آسان کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 2832

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2833

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الْعَابِدُ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ قَالَ خَبَّرَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أن الشمس والقمر لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ أَوْ يحدث الله أمرا" 1. [59:1]

حضرت ابو بکرؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاؒ ’’ بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے جب تم ان میں سے کسی کو ( گرہن کی حالت میں ) دیکھو تو نماز ادا کرو یہاں تک کہ وہ وہ روشن ہو جائے یا اللہ تعالیٰ کوئی نیا فیصلہ دیدے‘‘۔

الله أمرا" ← انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← خَبَّرَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ← بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الْعَابِدُ،

Hadith 2833

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2834

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا فَانْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّيهَا حَتَّى انْجَلَتْ وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ مَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّمَا انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ الله لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ اَحَدٍ ، فَاِذَا رَاَیْتُمْ ذٰلِکَ ، فَادْعُوْا حَتّٰی یَکْشِفَ مَا بِکُمْ

حضرت ابو بکرہؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے سورج گرہن ہو چکا تھا نبی اکرمﷺ گھبرا کر کھڑے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے آپ نے دو رکعات نماز ادا کی ابھی آپ نماز ادا کر ہی رہے تھے ‘ اسی دوران گرہن ختم ہو گیا۔ یہ گرہن نبی اکرمﷺ کے صاحب زادے حضرت ابراہیم ؓ کے انتقال کے موقع پر ہوتا تھا اس لئے کچھ لوگوں نے یہ کہا‘ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگوں ! بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں یہ کسی کے مرنے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے جب تم انہیں ( گرہن کی حالت میں ) دیکھو تو دعا مانگو یہاں تک کہ وہ گرہن ختم ہو جائے‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان ’’ تم لوگ دعا مانگو ‘‘ اس سے آپ کی مرادیہ ہے کہ تم لوگ نماز ادا کرو کیونکہ عرب بعض اوقات نماز کے لئے لفظ دعا استعمال کر لیتے ہیں ۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2834

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2835

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: کُنَّا عِنْدَا النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَکَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَجْلَانًا اِلَی الْمَسْجِدِ فَجَرَ اِزَارَہُ ، اَوْ ثَوْبَہُ وَثَّابَ اِلَیْہِ نَاسٌ ، فَصَلّٰی بِھِمْ رَکْعَتَیْنِ نَحْوَ مَا تُصَلُّونَ ، ثُمَّ جُلِّیَ عَنْھَا ، فَاَقْبَلَ رَسُوْلِ اللہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَثَّابَ اِلَیْہِ النَّاسُ ، فَقَالَ: اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللہِ یُخَوِّفُ بِھِمَا عِبَادَہٗ ، وَاِنَّھُمَا لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ اَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، وَکَانَ ابْنُہُ تُوُفِّیَ ، فَاِذَا رَاَیْتُمْ مِنْھَا شَیْئًا، فَصَلَّوْا حَتّٰی یَکْشِفَ مَا بِکُمْ

حضرت ابو بکرہ ؓ بیان کرتے ہیں :ہم نبی اکرمﷺ کے پاس موجود تھے سورج گرہن ہو گیا۔ نبی اکرمﷺ جلدی ک عالم میں مسجد کی اندر تشریف لے گئے آپ اپنے تہبند کو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے ) آپ اپنے کپڑے کو گھسیٹ رہے تھے لو گ بھی آپ کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے۔ نبی اکرمﷺ ن ان لوگوں کو دو رکعات نماز پڑھائی جس طرح تم لوگ نماز ادا کرتے ہو سورج گرہن ختم ہو گیا۔نبی اکرمﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے لوگ آپ کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : بے شک سورج اور چاند گرہن اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں ‘ جب کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے یہ دونوں کسی کے مرنے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں ( راوی کہتے ہیں ) نبی اکرمﷺ کے صاحبزادے کا انتقال ہوا تھا ( نبی اکرمﷺ نے فرمایا ) جب تم ان میں سےکوئی چیز ( یعنی کسی کو گرہن کی حالت میں ) دیکھو تو نماز ادا کرتے رہو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) حضرت ابو بکرہ ؓ کا یہ کہنا کہ نبی اکرمﷺ نے ان لوگوں کو دو رکعات پڑھائیں۔ جس طرح تم لوگ نماز ادا کرتے ہو۔ اس سے ان کی مرادیہ ہے جس طرح تم لوگ نماز کسوف میں دو رکعات ادا کرتے ہو۔ جس میں چار رکوع اور چار سجدے ہوتے ہیں جیسا کہ ہم اس سے پہلے ذکر کر چکے ہیں۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2835

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2836

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ زَمَنَ [ص:78] رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فَزِعًا، خَشِينَا أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ، حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَقَامَ فَصَلَّى بِأَطْوَلِ قِيَامٍ، وَرُكُوعٍ، وَسُجُودٍ مَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ فِي صَلَاةٍ قَطُّ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ هَذِهِ الْآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا، فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ، وَدُعَائِهِ، وَاسْتِغْفَارِهِ»

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا تو آپ گھبرا کر کھڑے ہوئے ہمیں یہ اندیشہ ہوا قیامت آنے والی ہے آپ مسجد میں تشریف لائے آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے طویل قیام رکوع اور سجدے والی نماز ادا کی میں نے آپ کو کسی نماز میں اتنا طویل قیام رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا پھر آپ نے ( خطبہ دیتے ہوئے ) ارشاد فرمایا: ’’ بے شک یہ نشانیاں ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے نمودار نہیں ہوتی ہیں ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں بھیجتا ہے ‘ تاکہ ان کے زریعے اپنے بندوں کو خوف دلائے ‘ تو جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو اللہ کے ذکر اس سے دعا مانگنے اس سے مغفرت طلب کرنے کی طرف جاؤ‘‘۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٌ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2836

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2837

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّاجِرُ الْمَرْوَزِيُّ بِمَرْوَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّكَّرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى فِي كسوف الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ رَکْعَتَیْنِ مِثْلَ صَلَاتِکُمْ

حضرت ابو بکرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے سورج گرہن اور چاند گرہن کی نماز میں دو رکعات ادا کی تھیں ‘ جو تمہاری نماز کی مانند تھیں۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) حضرت ابو بکرہؓ کا یہ کہنا کہ ’’ تمہاری نماز کی مانند دو رکعات ‘‘ اس سے ان کی مراد یہ ہے جس طرح تم لوگ نماز کسوف ادا کرتے ہو۔

النَّبِيِّ أَنَّهُ صَلَّى فِي كسوف الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ رَکْعَتَیْنِ مِثْلَ صَلَاتِکُمْ ← أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← أَشْعَثَ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّكَّرِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّاجِرُ الْمَرْوَزِيُّ بِمَرْوَ

Hadith 2837

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2838

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَتَّى لَمْ يَكَدْ أَنْ يَرْكَعَ ثُمَّ رَكَعَ حَتَّى لَمْ يَكَدْ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَجَعَلَ يَتَضَرَّعُ وَيَبْكِي وَيَقُولُ: "رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُكَ" فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجلت الشَّمْسُ فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ: "إن الشمس والقمر آيتين مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا انْكَسَفَا فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ" ثُمَّ قَالَ: "لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتّٰی لَوْشِئْتُ لَتَعَاطَیْتُ قِطْفًا مِنْ قُطُوفِھَا، وَعُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ، حَتّٰی جَعَلْتُ اَتَّقِیھَا حَتّٰی خَشِیتُ اَنْ تَغْشَاکُمْ ، فَجَعَلْتُ اَقُوْلُ: اَلَمْ تَعِدْنِیْ اَنْ لَّا تُعَذِّبَھُمْ وَاَنَا فِیْھِمْ ، رَبِّ اَلَمْ تَعِذْنِیْ اَنْ لَّا تُعَذِّبَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرِونَکَ ، قَالَ: فَرَاَیْتُ فِیْھَا الْحَمَیْرِیَۃَ السَّوْدَاءَ صَاحِبَۃَ الْھِرَّۃِ کَانَتْ حَبَسَتْھَا ، فَلَمْ تُطْعِمْھَا وَلَمْ تَسْقِھَا ، وَلَمْ تَتْرُکْھَا تَاْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْاَرْضِ ، فَرَ اَیْتُھَا کُلَّمَا اَدْبَرَتْ نُھِشَتْ فِی النَّارِ ، وَرَاَیْتُ فِیْھَا صَاحِبَ بَدَنَتَیْ رَسُوْلِ اللہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اَخَادَعْدَعٍ ، یُدْفَعُ فِی النَّارِ بَقَضِیبَیْنِ ذِی شُعْبَتَیْنِ ، وَرَاَیْتُ صَاحِبَ الْمِحْجَنِ ، فَرَاَیْتُہٗ فِی النَّارِ عَلٰی مَحْجَنِہٖ مُتَوَکِّئًا

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا۔ نبی اکرمﷺ نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے آپ رکوع میں جائیں گے ہی نہیں پھر آپ رکوع میں چلے گئے تو یوں محسوس ہوا ‘ آپ سر کو اٹھائیں گے ہی نہیں پھر آپ نے سر کو اٹھایا اور گریہ وزاری شروع کی اور رونا شروع کیا آپ یہ فرما رہے تھے ۔ ’’ اے میرے پروردگار کیا تم نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا تو ان لوگوں کو اس وقت تک عذاب نہیں دے گا ‘ جب تک میں ان کے درمیان موجود ہوں کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا ‘ تو ان لوگوں کو ا س وقت عذاب نہیں دے گا ‘ جب تک ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے‘‘۔ جب نبی اکرمﷺ نے نماز ادا کر لی ‘ تو سورج روشن ہو گیا نبی اکرمﷺ کھڑے ہو گئے آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی اور یہ بات ارشاد فرمائی: ’’ بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں جب یہ دونوں گرہن ہو جائیں ‘ تو اللہ کے ذکر کی طرف جاؤ ‘‘۔ پھر آپ ﷺ نےیہ ارشاد فرمایا : ’’ میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا یہاں تک کہ اگر میں چاہتا تو اس کا کوئی گچھا حاصل کر سکتا تھا اور میرے سامنے جہنم کو پیش کیا گیا یہاں تک کہ میں نے اس سے بچنے کی کوشش کی مجھے یہ اندیشہ ہوا ‘ کہیں وہ تمہیں اپنی لپیٹ میں نہ لے لے ‘ تو میں نے یہ کہنا شروع کیا کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا ‘ تو اس وقت تک عذاب نہیں دے گا ‘ جب تک میں ان کے درمیان موجود ہوں اے میرے پروردگار ! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا ‘ تو انہیں اس وقت تک عذاب نہیں دے گا ‘ جب تک ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : میں نے اس میں ایک سیاہ فام حمیری عورت کو دیکھا جو بلی کی مالک تھی اس نے اس بلی کو باندھ دیا تھا اور اسے کھانے کے لئے کچھ نہیں دیتی تھی اور پینے کے لئے کچھ نہیں دیتی تھی ‘ اس نے اسے چھوڑ ا بھی نہیں تھا کہ وہ خود ہی کچھ کھا لیتی ‘ تو میں نے اس عورت کو دیکھا ‘ وہ جب بھی آتی تھی اس کے چہرے کو نوچ لیا جاتا تھا میں نے جہنم میں ( وعدع قبیلے سے تعلق رکھنے والے ) اس شخص کو بھی دیکھا جو اللہ کے رسول کی قربانی کے دو جانوروں کا نگران تھا اسے دو کناروں والی دو ڈنڈیوں کے ذریعے جہنم میں ڈالا جا رہا تھا میں نے لاٹھی والے شخص کو بھی دیکھا میں نے اسے دیکھا ‘ وہ اپنی لاٹھی سے ٹیک لگائے ہوئے تھا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← جَرِيرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2838

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr