صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1096
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ، أَصَابَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ امْرَأَةَ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلًا أَتَى زَوْجُهَا وَكَانَ غَائِبًا، فَلَمَّا أُخْبِرَ حَلَفَ لَا يَنْتَهِي حَتَّى يُهْرِيقَ فِي أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمًا، فَخَرَجَ يَتْبَعُ أَثَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا، فَقَالَ: «مَنْ رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ؟ » فَانْتُدِبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَا: [ص:376] نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَكُونَا بِ فَمِ الشِّعْبِ»، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ نَزَلُوا إِلَى شِعْبٍ مِنَ الْوَادِي، فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلَانِ إِلَى فَمِ الشِّعْبِ، قَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْمُهَاجِرِيِّ: أَيُّ اللَّيْلِ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أَكْفِيَكَ، أَوَّلَهُ أَوْ آخِرَهُ؟، قَالَ: اكْفِنِي أَوَّلَهُ، قَالَ: فَاضْطَجَعَ الْمُهَاجِرِيُّ فَنَامَ، وَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ يُصَلِّي، وَأَتَى زَوْجُ الْمَرْأَةِ، فَلَمَّا رَأَى شَخَصَ الرَّجُلِ، عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةَ الْقَوْمِ، فَرَمَاهُ بِسَهْمٍ، فَوَضَعَهُ فِيهِ، فَنَزَعَهُ، فَوَضَعَهُ، وَثَبَتَ قَائِمًا يُصَلِّي، ثُمَّ رَمَاهُ بِسَهْمٍ آخَرَ، فَوَضَعَهُ فِيهِ، فَنَزَعَهُ، وَثَبَتَ قَائِمًا يُصَلِّي، ثُمَّ عَادَ لَهُ الثَّالِثَةَ، فَوَضَعَهُ فِيهِ، فَنَزَعَهُ، فَوَضَعَهُ، ثُمَّ رَكَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ أَهَبَّ صَاحِبَهُ وَقَالَ: اجْلِسْ، فَقَدْ أُتِيتُ، فَوَثَبَ، فَلَمَّا رَآهُمَا الرَّجُلُ عَرَفَ أَنَّهُ قَدْ نَذِرَ بِهِ، هَرَبَ، فَلَمَّا رَأَى الْمُهَاجِرِيُّ مَا بِالْأَنْصَارِيِّ مِنَ الدِّمَاءِ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، أَفَلَا أَهْبَبْتَنِي أَوَّلَ مَا رَمَاكَ؟، قَالَ: كُنْتُ فِي سُورَةٍ أَقْرَؤُهَا، فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَقْطَعَهَا حَتَّى أُنْفِذَهَا، فَلَمَّا تَابَعَ عَلَيَّ الرَّمْيَ رَكَعْتُ فَآذَنْتُكَ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا أَنْ أُضَيِّعَ ثَغْرًا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِهِ، لَقَطَعَ نَفْسِي قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَهَا أَوْ أُنْفِذَهَا [4: 50]
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ غزوہ ذات الرقاع میں روانہ ہوئے ، مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی بیوی کو قتل کر دیا ( یا اسے نقصان پہنچایا) جب نبی اکرم ﷺ واپس تشریف لارہے تھے ، تو اسی دوران اس عورت کا شوہر وہاں آ چکا تھا ۔ جو پہلے وہاں موجود نہیں تھا۔ جب اسے اس بارے میں بتا یا گیا، تو اس نے یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اس وقت تک بعض نہیں آئے گا ، جب تک حضرت محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے کسی کا خون نہیں بہائے گا ۔ وہ نبی اکرم ﷺ کا پیچھا کرتے ہوئے آیا، نبی اکرم ﷺ نے ایک جگہ پڑاو کیا اور فرمایا: آج رات کون یہاں ہماری پہرے داری کرے گا ۔ تو مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص اور انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنے آپ کو پیش کیا ۔ ان دونوں نے عرض کی : یا رسو ل اللہ ! ہم ایسا کریں گے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم گھاٹی کے سرے پر رہنا، راوی بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب نے وادی کی گھاٹی میں پڑاو کر لیا ۔ جب یہ دونوں صاحبان گھاٹی کے سرے کی طرف جانے کے لئے نکلے، تو انصاری شخص نے مہاجر کو کہا کہ آپ کو کیا پسند ہے، میں رات کے کون سے حصہ میں آپ کی جگہ کفایت کروں ، ابتدائی حصے میں یا آخری حصے میں ؟تو مہاجر نے کہا اس کےابتدائی حصے میں میں کفایت کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں: مہاجر شخص لیٹ کر سو گیا، انصاری اٹھ کر نماز ادا کرنے لگا۔اس دوران اس عورت کا شوہر آیا جب اس نے اس شخص کے ہیولے کو دیکھا تو اسے اندازہ ہو گیا کہ یہ لوگوں کا پہرے دار ہے۔ اس نے ایک تیر مارا وہ جا کر اس انصاری کو لگا۔ انصاری نے اس تیر کو نکال کر ایک طرف رکھا اور کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگا پھر اس شخص نے انصاری کو دوسرا تیر ماراوہ بھی اسے لگا۔ انصاری نے اسے باہر نکالا اور کھڑے ہو کر نماز ادا کرتا رہا ۔ پھر اس نے تیسری مرتبہ تیر مارا وہ بھی اسے لگا۔ انصاری نے اسے باہر نکالا اور اسے ایک طرف رکھ دیا پھر وہ رکوع میں چلا گیا پھر اس نے سجدہ کیا پھر اس نے اپنے ساتھی کو بیدار کیا اور کہا اٹھو! کہ مجھ پر حملہ ہو گیا ہےتو وہ ( مہاجر) فورا اٹھ گیا جب اس نے ان دو آٓدمیوں کو دیکھا تو اسے اندازہ ہو گیا کہ اب مجھے مشکل ہو جائے گی ، تو وہ شخص بھاگ گیا۔جب مہاجر نے انصاری کا بہتا ہوا خون دیکھا تو بولا کہ سبحان اللہ!جب اس نے تمہیں پہلی مرتبہ تیر مارا تھا تو تم نے مجھے بیدار کیوں نہیں کیا تھا ، تو انصاری نے جواب دیا میں ایک سورت کی تلاوت کر رہا تھا ، تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اسے ختم کرنے سے پہلے ہی منقطع کر دوں لیکن جب اس نے مسلسل مجھے تیر مارے تو میں رکوع میں چلا گیا ۔ میں نے تمہیں اطلاع کی ، اللہ کی وسم ! اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے جس کام کی حفاظت کو حکم دیا ہے میں اسے ضائع کر دوں گا ، تو میرے اس سورت کو ختم کرنے سے پہلے میری جان چلی جاتی یا پھر یہ ہے، میں اسے مکمل کر لیتا۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ، ← صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،
Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1096
