Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1096

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ، أَصَابَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ امْرَأَةَ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلًا أَتَى زَوْجُهَا وَكَانَ غَائِبًا، فَلَمَّا أُخْبِرَ حَلَفَ لَا يَنْتَهِي حَتَّى يُهْرِيقَ فِي أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمًا، فَخَرَجَ يَتْبَعُ أَثَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا، فَقَالَ: «مَنْ رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ؟ » فَانْتُدِبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَا: [ص:376] نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَكُونَا بِ فَمِ الشِّعْبِ»، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ نَزَلُوا إِلَى شِعْبٍ مِنَ الْوَادِي، فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلَانِ إِلَى فَمِ الشِّعْبِ، قَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْمُهَاجِرِيِّ: أَيُّ اللَّيْلِ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أَكْفِيَكَ، أَوَّلَهُ أَوْ آخِرَهُ؟، قَالَ: اكْفِنِي أَوَّلَهُ، قَالَ: فَاضْطَجَعَ الْمُهَاجِرِيُّ فَنَامَ، وَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ يُصَلِّي، وَأَتَى زَوْجُ الْمَرْأَةِ، فَلَمَّا رَأَى شَخَصَ الرَّجُلِ، عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةَ الْقَوْمِ، فَرَمَاهُ بِسَهْمٍ، فَوَضَعَهُ فِيهِ، فَنَزَعَهُ، فَوَضَعَهُ، وَثَبَتَ قَائِمًا يُصَلِّي، ثُمَّ رَمَاهُ بِسَهْمٍ آخَرَ، فَوَضَعَهُ فِيهِ، فَنَزَعَهُ، وَثَبَتَ قَائِمًا يُصَلِّي، ثُمَّ عَادَ لَهُ الثَّالِثَةَ، فَوَضَعَهُ فِيهِ، فَنَزَعَهُ، فَوَضَعَهُ، ثُمَّ رَكَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ أَهَبَّ صَاحِبَهُ وَقَالَ: اجْلِسْ، فَقَدْ أُتِيتُ، فَوَثَبَ، فَلَمَّا رَآهُمَا الرَّجُلُ عَرَفَ أَنَّهُ قَدْ نَذِرَ بِهِ، هَرَبَ، فَلَمَّا رَأَى الْمُهَاجِرِيُّ مَا بِالْأَنْصَارِيِّ مِنَ الدِّمَاءِ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، أَفَلَا أَهْبَبْتَنِي أَوَّلَ مَا رَمَاكَ؟، قَالَ: كُنْتُ فِي سُورَةٍ أَقْرَؤُهَا، فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَقْطَعَهَا حَتَّى أُنْفِذَهَا، فَلَمَّا تَابَعَ عَلَيَّ الرَّمْيَ رَكَعْتُ فَآذَنْتُكَ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا أَنْ أُضَيِّعَ ثَغْرًا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِهِ، لَقَطَعَ نَفْسِي قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَهَا أَوْ أُنْفِذَهَا [4: 50]

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ غزوہ ذات الرقاع میں روانہ ہوئے ، مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی بیوی کو قتل کر دیا ( یا اسے نقصان پہنچایا) جب نبی اکرم ﷺ واپس تشریف لارہے تھے ، تو اسی دوران اس عورت کا شوہر وہاں آ چکا تھا ۔ جو پہلے وہاں موجود نہیں تھا۔ جب اسے اس بارے میں بتا یا گیا، تو اس نے یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اس وقت تک بعض نہیں آئے گا ، جب تک حضرت محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے کسی کا خون نہیں بہائے گا ۔ وہ نبی اکرم ﷺ کا پیچھا کرتے ہوئے آیا، نبی اکرم ﷺ نے ایک جگہ پڑاو کیا اور فرمایا: آج رات کون یہاں ہماری پہرے داری کرے گا ۔ تو مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص اور انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنے آپ کو پیش کیا ۔ ان دونوں نے عرض کی : یا رسو ل اللہ ! ہم ایسا کریں گے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم گھاٹی کے سرے پر رہنا، راوی بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب نے وادی کی گھاٹی میں پڑاو کر لیا ۔ جب یہ دونوں صاحبان گھاٹی کے سرے کی طرف جانے کے لئے نکلے، تو انصاری شخص نے مہاجر کو کہا کہ آپ کو کیا پسند ہے، میں رات کے کون سے حصہ میں آپ کی جگہ کفایت کروں ، ابتدائی حصے میں یا آخری حصے میں ؟تو مہاجر نے کہا اس کےابتدائی حصے میں میں کفایت کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں: مہاجر شخص لیٹ کر سو گیا، انصاری اٹھ کر نماز ادا کرنے لگا۔اس دوران اس عورت کا شوہر آیا جب اس نے اس شخص کے ہیولے کو دیکھا تو اسے اندازہ ہو گیا کہ یہ لوگوں کا پہرے دار ہے۔ اس نے ایک تیر مارا وہ جا کر اس انصاری کو لگا۔ انصاری نے اس تیر کو نکال کر ایک طرف رکھا اور کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگا پھر اس شخص نے انصاری کو دوسرا تیر ماراوہ بھی اسے لگا۔ انصاری نے اسے باہر نکالا اور کھڑے ہو کر نماز ادا کرتا رہا ۔ پھر اس نے تیسری مرتبہ تیر مارا وہ بھی اسے لگا۔ انصاری نے اسے باہر نکالا اور اسے ایک طرف رکھ دیا پھر وہ رکوع میں چلا گیا پھر اس نے سجدہ کیا پھر اس نے اپنے ساتھی کو بیدار کیا اور کہا اٹھو! کہ مجھ پر حملہ ہو گیا ہےتو وہ ( مہاجر) فورا اٹھ گیا جب اس نے ان دو آٓدمیوں کو دیکھا تو اسے اندازہ ہو گیا کہ اب مجھے مشکل ہو جائے گی ، تو وہ شخص بھاگ گیا۔جب مہاجر نے انصاری کا بہتا ہوا خون دیکھا تو بولا کہ سبحان اللہ!جب اس نے تمہیں پہلی مرتبہ تیر مارا تھا تو تم نے مجھے بیدار کیوں نہیں کیا تھا ، تو انصاری نے جواب دیا میں ایک سورت کی تلاوت کر رہا تھا ، تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اسے ختم کرنے سے پہلے ہی منقطع کر دوں لیکن جب اس نے مسلسل مجھے تیر مارے تو میں رکوع میں چلا گیا ۔ میں نے تمہیں اطلاع کی ، اللہ کی وسم ! اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے جس کام کی حفاظت کو حکم دیا ہے میں اسے ضائع کر دوں گا ، تو میرے اس سورت کو ختم کرنے سے پہلے میری جان چلی جاتی یا پھر یہ ہے، میں اسے مکمل کر لیتا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ، ← صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1096

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1097

أخبرنا محمد بن إسحاق بن حزيمة، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بن أبي كثير، أن بن عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ يَعِيشَ بْنَ الْوَلِيدِ حَدَّثَهُ، أَنَّ مَعْدَانَ بْنَ طَلْحَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ، فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: صَدَقَ أنا صببت له وضوءاً1. 9:5

معدان بن طلحہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابو دردا نے انہیں یہ بات بتائی کہ نبی اکرم ﷺ نے قے کر کے روزہ ختم کر دیا تھا ( راوی کہتے ہیں ) پھر میری ملاقات دمشق میں حضرت ثوبان ؓ سے ہوئی میں نے ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا ، تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے یعنی حضرت ابو دردا نے سچ کہا ہے کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو وضو کروایا تھا۔

أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ ← أَنَّ مَعْدَانَ بْنَ طَلْحَةَ ← أَنَّ يَعِيشَ بْنَ الْوَلِيدِ ← يَحْيَى بن أبي كثير، أن بن عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيَّ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← أَبُو مُوسَى، ← محمد بن إسحاق بن حزيمة،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1097

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1098

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حدثنا بن جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ: لِعَطَاءٍ أَيُّ حِينٍ1 أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ لِلْعَتَمَةِ إِمَّا إِمَامًا وَإِمَّا خَلْوًا؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: اعْتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَمَةِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا، وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا، فَقَالَ عُمَرُ رضي الله تعالى عَنْهُ: الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ تَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ فَقَالَ: "لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يصلوا هكذا" 2. 34:3

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے رات کی نماز ادا کرنے میں تا خیر کر دی، یہاں تک کہ لوگ سو گئے پھر وہ بیدار ہو گئے ، تو حضرت عمر ؓ نے عرض کی : نماز، نماز، تو نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لائے ( حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ) گویا کہ یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے، آپ کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھے ہوئے تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: " اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا ، تو میں انہیں ہدایت کرتا کہ وہ اسے اسی طرح ادا کریں ( یعنی عشا کی نماز کو اسی وقت میں ادا کیا کریں )

بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1098

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1099

أخبرنا بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عبد الرزاق، حدثنا بن جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، حَدَّثَنَا ابْنِ عُمَرَ، إِنَّ النَّبِيَّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شُغِلَ ذَاتَ لَيْلَةٍ عَنْ صَلَاةِ الْعَتَمَةِ، حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ رَقَدْنَا، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيْسَ يَنْتَظِرُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ الصَّلَاةَ غيركم" 1. 34:3

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : ایک رات نبی اکرم ﷺ عشا کی نماز کے وقت کسی کام میں مصروف رہے، یہاں تک کہ ہم لوگ مسجد میں ہی سو گئے پھر ہم بیدار ہو گئے پھر ہم سو ھئے پھر ہم بیدار ہو گئے پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لوئے اور آپ نے فرمایا: " اس وقت رائے زمین پر تمہارے علاوہ اس نماز کا انتظار نہیں کر رہا"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← بن جُرَيْجٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1099

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1100

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ فَقَالَ لِي: مَا حَاجَتُكَ؟ قُلْتُ لَهُ: ابْتِغَاءُ الْعِلْمِ، قَالَ: فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًى بِمَا يَطْلُبُ، قُلْتُ: حَكَّ فِي نَفْسِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ بعد الغائط والبول، وكنت امرأ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُكَ أَسْأَلُكَ: هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا فِي سَفَرٍ1 -أَوْ مُسَافِرِينَ- أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أيام

زربن حبیش بیان کرتے ہیں : میں حضرت صفوان بن عسال مرادی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے مجھ سے دریافت کیا تمہیں کیا کام ہے۔ میں نے ان سے گزارش کی علم کا حصول انہوں نے فرمایا: فرشتے طالب علم کی طلب سے راضی ہو کر اپنے پر اس کے لئے بچھا دیتے ہیں۔ میں نے کہا پیشاب کرنے کے بعد ( وضو کرتے ہوئے ) موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں میرے ذہن میں کچھ الجھن ہے۔ آپ نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں میں آپ کے پاس اس بارے میں دریافت کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں کہ آپ نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ کی زبانی کوئی بات سنی ہے، تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، نبی اکرم ﷺ ہمیں یہ ہدایت کرتے تھے کہ جب ہم لوگ سفر کی حالت میں ہوں ۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) جب ہم مسافر ہوں ، تو ہم تین دن اور تین راتوں تک اپمے موزے نہ اتاریں البتہ جنابت کا حکم مختلف ہے تاہم پاخانہ یا پیشاب یا سونے ( کی وجہ سے وضو ختم ہونے کی صورت میں ہم موزے نہ اتاریں) ( امام ابن حبان رحمتہاللہ علیہ فرماتے ہیں ) رقاد ( رعنی سونے ) کا ایک آغاز ہے اور ایک اختتام ہے۔ اس کا آغاز وہ اونگھ ہے، جو نیند کے شروع میں ہوتی ہے، اور اس کی یہ حالت ہوتی ہے، اس دوران اگر آدمی کے ساتھ کلام کیا جائے، تو وہ سن لیتا ہے اور اگر بے وضو ہو جائے ، تو اسے یہ پتہ ہوتا ہے البتہ اگر وہ ایک طرف ڈھلک جائے ( تو معاملہ مختلف ہے ) اور اس کا اختتام یعنی شعور کا زائل ہو جانا ہے۔ اور اس کی حالت یہ ہوتی ہے ، جب آدمی اس حالت کے دوران بے وضو ہو جائے ، تو اسے پتہ نہیں چلتا اور اگر اس کے ساتھ کلام کیا جائاے تو اسے پتہ نہیں چلتاتو اونگھ کسی بھی شخص پر وضو کو لازم نہیں کر تی ہےخواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ ہو خواہ اونگھنے کی حالت کوئی سی بھی ہو جبکہ نیند وضو کو لازم کر دیتی ہے۔ خواہ وہ کسی بھی حالت میں پائی جائے جو سونے والی کی ہوتی ہے ۔ اس کے ہمراہ بعض اوقات لفظ نوم ( یعنی نیند ) کا اطلاق نعاس ( یعنی اونگھ ) پر بھی ہوتا ہے، اور لفظ نعاس کا اطلاق لفظ نوم پر بھی ہوتا ہے۔ لیکن ان دونوں کا معنی مختلف ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان فرق کو بیان کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: " اسے اونگھ نہیں آتی ہے اور نیند بھی نہیں آتی ہے " تو جب نبی اکرم ﷺ نے حضرت صفوان کی نقل کردہ روایت میں نیند ، پاخانے اور پیشاب کو وضو کرنے والی چیزوں میں شامل کر لیا تو جس طرح پیشاب اور ماخانے میں کوئی فرق نہیں ہے یہ دونوں جس کسی سے بھی صادر ہوں گے خواہ وہ تھورے ہو ں یا زیادہ اس شخص پر وضو لازم ہو جائیگا ۔ خواہ پیشاب کرنے والا شخص بیتھ کر کرے یا کھڑے ہو کر کرے یا رکوع کی حالت میں کرے یا سجدے کی حالت میں کرے ، تو ہر وہ شخص جس کی عقل زائل ہو جائے اور وہ سو جائے تو اس پر وضو کرنا لازم ہو جائے گا ۔ خواہ اس کی حالتوں میں اختلاف ہو یا حلتوں میں اتفاق ہو ، کیونکہ اس میں بنیادی علت عقل کا زائل ہو جانا ہے۔ حالت کا تبدیل ہونا بنیادی علت نہیں ہے۔ جیسا کہ پیشاب اور پاخانے میں علت ان دونون کا پایا جانا ہے ۔ پیشاب کرنے والے یا پاخانہ کرنے والے کی حالت کو متغیر ہونا ( علت نہیں ) ہے۔

زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← هَارُونُ بن معروف ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1100

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1101

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْاَسْوَادِ ، اَنَّ عَلِیَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ اَمَرَہُ اَنْ یَسْاَلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الرَّجْلِ اِذَا دَنَا مِنْ اَھْلِہٖ مَاذَا عَلَیْہِ ؟ فَاِنْ عِنْدِیْ ابْنَتَہٗ وَاَنَا اَسْتَحْیِی اَنْ اَسْاَلَہُ ، قَالَ الْمِقْدَادُ : فَسَاَلْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَلَ: اِذَا وَجَدَ ذٰلِکَ ،فَکْیَنْضَحْ فَرْجَہُ ، وَلْیَتَوَضَّاْ وُضُوْءَ ہُ لِلصَّلَاۃِ ۔1:78

حضرت مقداد بن اسود ؓ بیان کرتے ہیں : حضرت علی بن ابو طالب نے انہیں ہدایت کی کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کریں کہ جب وہ اپنی بیوی کے قریب ہوتا ہے ( تو اس کی مذی خارج ہو جاتی ہے ) تو ایسے شخص پر کیا بات لازم ہو گی ( حضرت علی ؓ نے وضاحت کی ) کیونکہ نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی میری اہلیہ ہیں ۔ اس لئے مجھے خود ان سے حیا آتی ہے۔ حضرت مقداد بن اسود ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا: جب وہ شخص اس طرح کی صورت حال پائے تو اپنی شرم گاہ پر پانی چھڑک لے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کر لے ۔ ( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) حضرت مقداد بن اسود ؓ کا انتقال ۳۳ ہجری میں ہوا جبکہ سلیمان بن یسار کا انتقال ۹۴ ہجری میں ہوا جس وقت سلیمان بن یسار نے ھضرت مقداد بن اسود ؓ سے احادیث کا سماع کیا تھا ۔ اس وقت ان کی عمر دس سال سے کم تھی۔

الْمِقْدَادِ بْنِ الْاَسْوَادِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1101

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1102

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنِي الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْفَزَارِيُّ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ1 عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ، فَاغْسِلْ ذكرك، وإذا رأيت الماء، فاغتسل" 2. 78:1

حضرت علی بن ابو طالب ؓ بیان کرتے ہیں : میں ایک ایسا شخص تھا جس کی مذی بکثرت خارج ہوتی تھی۔ میں نے نبی اکرم ﷺ سو سوال کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم مذی کو دیکھو تو اپنی شرم گاہ کو دھو لو اور جب تم پانی ( منی ) کو دیکھو تا غفل کرو ۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) اس بات کا مکان موجود ہے ، حجرت علی بن ابو طالب نے حجرت مقداد ؓ کو اس بات کی ہدایت کی ہو کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے اس چیز کا حکم دریافت کریں ۔ حضرت مقداد ؓ نے آپ ﷺ سے دریافت کیا ۔ آپ نے انہیں بتایا پھر حضرت مقداد ؓ نے حضرت علی ؓ کو بتایا پھر حضرت علی نے خود نبی اکرم ﷺ سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا جس کے بارے میں حضرت مقداد نے انہیں بتایا تھا ، تو یہ دو سوال ہونگے جو مختلف موقعوں پر کئے گئے۔ اور اس بات کی دلیل یہ دونون سوال مختلف موقعوں پر کئے گئے ، یہ ہے ، جب حضرت علی ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا تھا ، تو آپ نے منی کے نزول کے وقت انہیں غسل کرنے کا حکم دیا تھا اور یہ بات حضرت مقداد کی روایت کردہ حدیث میں نہین ہے۔ یہ بات آپ کی رہنمائی اس چیز کی طرف کرے گی کہ یہ دو مختلف احادیث ہیں۔

كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ← الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْفَزَارِيُّ، ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1102

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1103

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَھْلِ بْنِ حُنَیْفٍ قَالَ : ( متن حدیث ) : کُنْتُ اَلْقٰی مِنَ الْمَذْیِ شِدَّۃً ، فَکُنْتَ اُکْثِرُالْاِ غْتِسَالَ مِنْہُ ، فَسَاَلْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَنْ ذٰلِکَ ، فَقَالَ: اِنَّمَا یُجْزِئُکَ مِنْہُ الْوُضُوْءُ فَقُلْتُ فَکَیْفَ بِمَا یُصِیْبُ ثَوْبِیْ مِنْہُ ؟ قَالَ: یَکْفِیکَ اَنْ تَاْخُذَ کَفًّا مِنْ مَّاءٍ فَتَنْضَحَ بِھَا مِنْ ثُوْبِکَ حَیْثُ تَرَی اَنَّہٗ اَصَابَہُ ۔1:78

حضرت سہل بن حنیف ؓ بیان کرتے ہیں : مجھے مذی کی وجہ سے مشکل کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ مجھے اس کی وجہ سے بکثرت غفل کرنا پڑتا تھا ۔ میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے مین دریافت کیا ، تو آپ نے ارشاد فرما یا: اس کی وجہ سے تمہارے لئے وضو کر لینا کافی ہے ، میں نے عرض کی کہ اگر یہ میرے کپڑے پر لگ جائے تو کیا ہو گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارے لئے اتنا کافی ہے ، تم چلو میں پانی لو اور اسے اپنے کپڑے پر اس جگہ چھڑک لو جہاں تمہیں نظر آرہا ہے کہ یہ لگی ہوئی ہے۔

سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← أَبِيهِ ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1103

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1104

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِذَا رَأَيْتَ الْمَاءَ، فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ، وإذا رأيت المني فاغتسل" 2. 65:3

حضرت علی بن ابو طالب ؓ بیان کرتے ہیں : میں ایک ایسا شخص تھا جس کی مذی بکثرت خا رج ہوتی تھی۔ میں نے نبی اکرم ﷺ سو سوال کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم مذی کو دیکھو تو اپنی شرم گاہ کو دھو لو اور جب تم پانی ( منی ) کو دیکھو تا غفل کرو ۔

كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← أَبِي حَصِينٍ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1104

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1105

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ القاسم، عن1 بن أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ خَلِيفَةَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ عَلِيًّا أَمَرَ عَمَّارًا2 أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْمَذْيِ، فَقَالَ: "يَغْسِلُ مذاكيره ويتوضأ "3. 65:3

حضرت رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں : حضرت علی ؓ نے حضرت عمار ؓ کو یہ ہدایت کی کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے مذی کے بارے میں دریافت کریں تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ شخص اپنی شرمگاہ کو دھو لے اور وضو کر لے۔

الْمَذْيِ، فَقَالَ: "يَغْسِلُ مذاكيره ويتوضأ ← رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ عَلِيًّا أَمَرَ عَمَّارًا2 أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ، ← إِيَاسِ بْنِ خَلِيفَةَ ← عَطَاءٍ، ← بن أَبِي نَجِيحٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1105

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1106

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عن الرَّجُلِ اِذَا دَنَا مِنْ اَھْلِہٖ فَخَرَجَ مِنْہُ الْمَذْیُ مَاذَا عَلَیْہِ ؟ فَاِنْ عِنْدِیْ ابْنَتَہٗ وَاَنَا اَسْتَحْیِی اَنْ اَسْاَلَہُ قَالَ: الْمِقْدَادُ: فَسَاَلَتْ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَ: اِذَا وَجَدَ اَحَدُکُمْ ذٰلِکَ ، فَکْیَنْضَحُ فَرْجَہُ ، وَلْیَتَوَضَّاْ وُضُوْءَہُ لِلصَّلَاۃِ ۔3:65

حضرت مقداد بن اسود ؓ بیان کرتے ہیں : حضرت علی بن ابو طالب نے انہیں ہدایت کی کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کریں کہ جب وہ اپنی بیوی کے قریب ہوتا ہے ( تو اس کی مذی خارج ہو جاتی ہے ) تو ایسے شخص پر کیا بات لازم ہو گی ( حضرت علی ؓ نے وضاحت کی ) کیونکہ نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی میری اہلیہ ہیں ۔ اس لئے مجھے خود ان سے حیا آتی ہے۔ حضرت مقداد بن اسود ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا: جب وہ شخص اس طرح کی صورت حال پائے تو اپنی شرم گاہ پر پانی چھڑک لے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کر لے۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ) ان روایات کو سننے والے بعض ایسے افراد جنہوں نے علم حدیث کو اس کے اصل ماخذ سے حاصل نہیں کیا اور حقیقت کو اس کے اپنے دائرے میں نہیں گھمایا، وہ اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ان روایات کے درمیان اختلاف اور تضاد پایا جاتا ہےکیونکہ ابو عبدالرحمٰن سلمی کی نقل کردہ روایت میں یہ ہے ، میں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا جبکہ ایاس بن خلیفہ کی بیان کردہ روایت میں ہے، انہوں نے حضرت عمار ؓ کو ہدایت کی تھی کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے سوال کریں جبکہ سلیمان بن یسار ؓ کی روایت میں ہے ، انہوں نے حضرت مقداد ؓ کو ہدایت کی تھی کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے سوال کریں ۔ حالانکہ ان روایات کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، کیونکہ اس بات کا احتمال موجود ہے ، پہلے حضرت علی نے حضرت عمار کو یہ حکم دیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے سوال کریں ۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سوعال کیا ۔پھر حضرت علی نے بذات خود نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا ہو۔ میں نے جو چیز نقل کی ہے اس کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے ، ان میں ہر روایت کا متن دوسری روایت کے متن سے مختلف ہے کیونکہ ابو عبدالوحمٰن سلمی کی نقل کردہ روایت میں یہ الفاظ ہیں : "میں ایک ایسا شخص تھا جس کی مذی بکثرت خا رج ہوتی تھی۔ میں نے نبی اکرم ﷺ سو سوال کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم مذی کو دیکھو تو اپنی شرم گاہ کو دھو لو اور جب تم پانی ( منی ) کو دیکھو تا غفل کرو۔" ایاس بن خلیفہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت علی ؓ نے حضرت عمار ؓ کو یہ حکم دیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے سوال کریں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ شخص اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کر لے۔ اس روایت میں منی کا تزکرہ نہیں ہے جو ابو عبدالرحمٰن کی نقل کردہ روایت ہے، جبکہ حضرت مقداد کی نقل کردہ روایت میں مذکور ہے، انہوں نے پہلے سوال کیا تھ اتو یہ پہلے والے دو سوالات نہیں ہیں جو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں ، حضرت مقداد ؓ کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت علی بن ابو طالب نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کریں ، جو اپنی بیوی کے قریب ہوتا ہے ، تو اس کی منی خارج ہو جاتی ہے، تو ایسے شخص پر کیا بات لازم ہو گی کیونکہ نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی میری اہلیہ ہیں ۔ میں ( اس لئے براہ راست آپ سے سوال نہیں کر سکتا ) تو ہم نے جو چیز ذکر کی ہے وہ اس بات کی دلالت کرتی ہے ، یہ مختلف سوالات ہیں جو مختلف مواقعوں پر کئے گئے جن کی اپنی مخصوص علتیں ہیں ۔ ان کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف نہیں ہے۔؎

الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1106

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1107

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الْحَذَّاءُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَجَعَلْتُ أَغْتَسِلُ فِي الشِّتَاءِ حَتَّى تَشَقَّقَ ظَهْرِي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ ذُكِرَ لَهُ، فَقَالَ: "لَا تَفْعَلْ، إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ، فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، وَتَوَضَّأْ وضوءك للصلاة، وإذا نضحت الماء فاغتسل" 1. 49:4

حضرت علی بن ابو طالب ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک ایسا شخص تھا جس کی مذی بکثرت خارج ہوتی تھی ، میں اس کی وجہ سے سردی کے موسم میں غسل کرتا تھا ، تو اس کی وجہ سے میری پشت کو تکلیف کا شکار ہونا پڑتا تھا ۔ میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا ، یا آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ ایسا نہ کرو جب تم مذی کو دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھو کر نماز کے وضو کی طرح وضو کر لیا کرو اور جب تم پانی چھڑکو ( یعنی منی خارج ہو ) تو تم غسل کیا کرو۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ← الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ، ← عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الْحَذَّاءُ ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1107

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr