Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2102

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ خَیْثَمَۃَ، وَاَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنِ الزُّھْرِیِّ ، عَنْ اَنَسٍ ، قَالَ: سَقَطَ النَّبِیُّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شَقُّہُ الْاَیْمَنْ فَحَضَرَتْ صَلَاۃٌ فَصَلّٰی بِنَا قَاعِدًا، فَلَمَّا قَضٰی صَلَاتَہٗ قَالَ: اِنَّمَاجُعِلَ الْاِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہٖ، فَاِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوْا، وَاِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوْا، وَاِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوْا، وَاِذَا قَالَ: سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ فَقُوْلُوْا: رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ وَاِذَا صَلَّی قَاعِدًا فَصَلُّوْا قُعُوْدًا اِجْمَعِیْنِ۔ (5:1)

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ گھوڑے سے گر گئے۔ آپ کا دایاں پہلو زخمی ہو گیا۔ نماز کا وقت ہوا، تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: امام کو اس لئے مقرر کیا گیا ہے ، تاکہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب وہ تکبیر کہے ، تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع میں جائے، تو تم بھی رکوع میں جاؤ جب وہ (رکوع سے ) اٹھے تو تم بھی اٹھو اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ پڑھے تم ربنا والک الحمد پڑھو جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کر ے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔

أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2102

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2103

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَسْمَاءَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جُوَیْرِیَۃُ بْنُ اَسْمَاءَ ، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ شِھَابٍ، عَنْ اَنَسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَکِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ یَعْنِیْ فَجُحِشَ شِقُّہُ الْاَیْمَنُ، فَصَلّٰی صَلَاۃً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَھُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّیْنَا وَرَائَہٗ قُعُوْدًا فَلَمَّا اْصَرَفَ قَالَ: اِنَّمَا جُعِلَ الْاِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہٖ، فَاِذَا صَلّٰی قَائمًا فَصَلُّوْا قِیَامًا، وَاِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا، وَاِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَاِذَا قَالَ: سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ فَقُوْلُوْا: رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ وَاِذَا صَلّٰی جَالِسًا فَصَلُّوْا جُلُوْسًا اَجْمَعُونَ۔ (5:1)

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ گھوڑے پر سوار ہوئے، تو اس سے گر گئے۔ آپ کا دایا ں پہلو زخمی ہوگیا۔ آپ نے کچھ نمازیں بیٹھ کر ادا کیں ۔ ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ نے ارشاد فرمایا: امام کو اس لئے مقرر کیا گیا ہے، تاکہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے تو تم لوگ کھڑے ہو کر نماز ادا کرو جب وہ رکوع میں جائے ، تو تم بھی رکوع میں جاؤ جب وہ (رکوع سے ) اٹھے تو تم بھی اٹھو جب وہ سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ پڑھے تو تم رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر نماز اداکرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔

أَنَسٍ، ← شِھَابٍ، ← مَالِكٍ، ← جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 2103

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2104

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِیْدِ بْن، سنَانٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃِ، عَنْ اَبِیْہِ ، عَنْ عَائشَۃَ، اَنَّھَا قَالَتْ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ بَیْتِہٖ وَھُوَ شَاکٍ فَصَلّٰی جَالِسًا وَصَلّٰی وَرَائَہٗ قَوْمٌ قِیَامًا فَاَشَارَ اِلَیْھِمْ اَنِ اجْلِسُوا فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنَّمَا جُعِلَ الْاِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہٖ فَاِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا ، وَاِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَاِذَا صَلّٰی جَالِسًا فَصَلُّوْا جُلُوْسًا۔ (5:1)

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے گھر میں نماز اداکی۔ آپ بیمار تھے آپ نے بیٹھ کر نماز ادا کی۔ آپ کے پیچھے لوگوں نے کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا شروع کی تو آپ نے انہیں اشارہ کیا تم لوگ بیٹھ جاؤ جب وہ رکوع سے اٹھ جائے، تو تم بھی اٹھ جاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 2104

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2105

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِ یُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ھَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ذَرُوْنِیْ مَا تَرَکْتُکُمْ ، فَاِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ قَبْلَکُمْ بِسُؤَ ا لِھِمْ وَاخْتِلَافِھِمْ عَلٰی اَنْبِیَائِھِمْ، فَاِذَانَھَیْتُکُمْ عَنْ شَیْءٍ فَاجْتَنِبُوہُ، وَاِذَا اَمَرْتُکُمْ بَالْاَمْرِ فَاَتَوْا مِنْہُ اسْتَطَعْتُمْ۔ (5:1)

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جن معاملات میں، میں تمہیں رہنے دوں تم بھی مجھے رہنے دو کیونکہ تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء سے بکثرت (غیر ضروری) سوالات کرنے اور اختلاف رکھنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کردوں ، تو تم لوگ اس سے اجتناب کرو اور جب میں تمہیں کوئی کام کرنے کا حکم دوں تم اپنی استطاعت کے مطابق اس کو بجالاؤ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِ یُّ،

Hadith 2105

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2106

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ، عَنْ جَدِّی، عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ذِرُوْنِیْ مَا تَرَکْتُکُمْ، فَاِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِسُؤَالِھِمْ وَاخْتِلَافِھِمْ عَلٰی اَنْبِیَائھِمْ فَمَا، اُمِرْتُمْ فَاَتَوْا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَمَا نَھَیْتُ، عَنْہُ فَانْتَھُوا۔ قَالَ ابْنُ عَجْلَانَ: حَدَّثَنِیْ زَیْدُ بْنُ اَسْلَمَ ، عَنْ اَبِیْ صَالِحِ السَّمَّانِ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَزَادَ فِیْہِ: وَمَا اَخْبَرْتُکُمْ اَنَّہٗ مِنْ عِنْدِ اللہِ فَھُوَ الَّذِی لَا شَکَّ فِیْہِ۔ (5:1)

حضرت ابوہریرہ ؓ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جن معاملات میں، میں تمہیں رہنے دوں تم بھی مجھے رہنے دو تم سے پہلے والے لوگ اپنے انبیاء سے (غیر ضروری) سوالات کرنے اور اختلاف رکھنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھےجس چیزکا میں تمہیں حکم دوں تم اپنی استطاعت کے مطابق اس پر عمل کرو جس چیز سے میں تمہیں منع کردوں اس سے بعض آجاؤ۔ ابن عجلاں نامی راوی نے یہ بیان کی ہے یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے منقول ہے، جس میں یہ الفاظ زائد ہیں۔ جس چیز کے بارے میں، میں تمہیں اطلاع دوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ، تو وہ اس کے بارے میں کوئی شک نہیں ہوگا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← جَدِّي، ← أَبِي ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 2106

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2107

اَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ اِدْرِیسَ الْاَنْصَارِیُّ ، قَالَ: اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ، عَنْ مَالِکٍ ، عَنْ اَبِی الزَّنَادِ، الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنَّمَا جُعِلَ الْاِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہٖ فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَیْہِ، فَاِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوْا ، وَاِذَا رَکَعَ فَارْ کَعُوا، وَاِذَا قَالَ: سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ فَقُوْلُوْا: اللھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ وَاِذَا صَلّٰی قَاعِدًا فَصَلُّوْا قُعُوْدًا اَجْمَعُونَ۔ (5:1)

حضرت ابوہریرہ ؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: امام کو اس لئے مقرر کیا گیا ہے، تاکہ اس کی پیروی کی جائے تم اس سے اختلاف نہ کرو جب وہ تکبیر کہے ، تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع میں جائے ، تو تم بھی رکوع میں جاؤ اور جب وہ سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ پڑھے تو تم لوگ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ پڑھو جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِی الزَّنَادِ، الْاَعْرَجِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 2107

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2108

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِیْدٍ، حَدَّثَنَا اَبِیْ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ اَبِیْ حَمْزَۃَ، عَنِ الزُّھْرِیِّ ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَکِبَ فَرَسًا فَصْرِعَ عَنْہُ فَجُحِشَ شِقُّہُ الْاَیْمَنُ، قَالَ اَنَسٌ: فَصَلّٰی لَنَا یَوْمَئذٍ صَلَاۃً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَھُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّیْنَا وَرَائَہٗ قُعُوْدًا ، ثُمَّ قَالَ حِیْنَ سَلَّمَ: اِنَّمَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَاِذَا قَالَ: سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ فَقُوْلُوْا: رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ، وَاِذَا صَلّٰی قَاعِدًا فَصَلُّوْا قُعُوْدًا اَجْمَعُونَ۔ (5:1)

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ گھوڑے پر سوار ہوئے آپ اس سے گر گئے ۔ آپ کا دایا ں پہلو زخمی ہوگیا۔ حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں: اس دن نبی اکرم ﷺ نے ہمیں ایک نماز بیٹھ کر پڑھائی ۔ ہم نے آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کی جب آپ نے سلام پھیر ا تو ارشاد فرمایا: امام کو اس لئے مقرر کیا گیا ہے، تاکہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب امام کھڑا ہو کر نماز ادا کر ے تم لوگ بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو جب وہ رکوع میں جائے، تو تم بھی رکوع میں جاؤجب وہ رکوع سے سر اٹھائے ، تو تم بھی اٹھاؤ جب وہ سجدے میں جائے ، تو تو تم بھی سجدے میں جاؤ جب وہ سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ پڑھے تم رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ پڑھو جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 2108

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2109

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَوْثَرَۃُ بْنُ اَشْرَسَ الْعَدَوِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُقْبَۃُ بْنُ اَبِی الصَّھْبَاءِ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ فِیْ نَفَرٍ مِنْ اَصْحَابِہٖ فَقَالَ : اَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اَنِّنیْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَیْکُمْ ؟ قَالُوا: بَلٰی نَشْھَدُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللہِ قَالَ: اَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اَنَّہٗ مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللہُ وَمِنْ طَاعَۃِ اللہِ طَا عَتِی؟ قَالُوا: بَلٰی نَشْھَدُ اَنَّہٗ مَنْ اَطَاعَکَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ وَمِنْ طَاعَۃِ اللہِ طَاعَتُکَ ، قَالَ: فَاِنَّ مِنْ طَاعَۃِ اللہِ اَنْ تُطِیعُونِی ، وَمِنْ طَاعَتِیْ اَنْ تُطِیعُوْا اُمَرَائکُمْ ، وَاِنْ صَلُّوْا قُعُوْدًا فَصَلُّوْا قُعُوْدًا۔ (5:1)

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کچھ صحابہ کرام ؓ کے درمیان موجود تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: کیاتم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو، میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں ان لوگوں نے عرض کی : جی ہاں۔ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں، آپ اللہ کے رسول ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو جو شخص میری اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور میری اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے۔ ان لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں، جو شخص آپ کی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور آپ کی فرمانبرداری کرنا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حصہ ہے، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں یہ بات شامل ہے، تم میری اطاعت کرو اور میری اطاعت میں یہ بات شامل ہے، تم امراء کی اطاعت کرو اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہیں، تو تم لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← عُقْبَۃُ بْنُ اَبِی الصَّھْبَاءِ ← حَوْثَرَۃُ بْنُ اَشْرَسَ الْعَدَوِیُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2109

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2110

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَوْثَرَۃُ ، بِاِسْنَادِہِ نَحْوَہُ اِلَّا اَنَّہٗ قَالَ: وَمِنْ طَاعَتِیْ اَنْ تُطِیعُوْا اَئمَّتکُمْ اَخْبَرْنَاہُ اَبُوْ یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ قَالَ: سَاَلْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ ، عَنْ عُقْبَۃَ اَبِی الصَّھْبَاءِ فَقَالَ: ثَقَۃٌیہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: میری اطاعت میں یہ بات شامل ہے ، تم اپنی آئمہ کی اطاعت کرو۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں میں نے یحیٰی بن معین سے عقبہ نامی راوی کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: یہ ثقہ ہے۔

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: میری اطاعت میں یہ بات شامل ہے ، تم اپنی آئمہ کی اطاعت کرو۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں میں نے یحیٰی بن معین سے عقبہ نامی راوی کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: یہ ثقہ ہے۔

عُقْبَۃَ اَبِی الصَّھْبَاءِ ← سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ ← اَبُوْ یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ ← "وَمِنْ طَاعَتِي أَنْ تُطِيعُوا أَئِمَّتَكُمْ" ← حَوْثَرَۃُ بِاِسْنَادِہِ نَحْوَہُ اِلَّا اَنَّہٗ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2110

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2111

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجِیْرالْھَمْدَانِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْاَعْلٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ ، عَنْ اَنَسٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَتَاہُ الْقَوْمُ وَحَضَرَتِ الصَّلَاۃُ، فَصَلّٰی بِھِمْ قَاعِدًا وَھُمْ قِیَامٌ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ الْاُخْریٰ ذَھَبُوا یَقُوْمُوْنَ فَقَالَ: ائْتَمُّو ا یِاِمَامِکُمْ ، وَاِنْ صَلّٰی قَاعِدًا فَصَلُّوْا قُعُوْدًا ، وَاِنْ صَلّٰی قَائمًا فَصَلُّوْا قِیَامًا۔ (5:1)

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں: کچھ لوگ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے نماز کا وقت ہوگیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے ان کو بیٹھ کر نماز پڑھانا شروع کی۔ وہ لوگ کھڑے رہے، جب اگلی نماز کا وقت آیا تو وہ لوگ کھڑے ہونے لگے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم اپنے امام کی پیروی کرو اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو اگر وہ کھڑاہو کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی کھڑے ہوکر نماز ادا کرو۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجِیْرالْھَمْدَانِیُّ،

Hadith 2111

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2112

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنیٰ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ خَیْشَمَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِیْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: رَکِبَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَسًا بِالْمَدِینَۃِ فَصَرَعَہٗ عَلٰی جِذْعِ نَخْلَۃٍ، فَانْفَکَّتْ قَدَمُہُ فَاَتَیْنَاہُ نَعُوْدُہُ فَوَجَدْنَاہُ فِیْ مَشْرُبَۃٍ لِعَائشَۃَ یُسَبِّحُ جَالِسًا فَقُمْنَا خَلْفَہُ فَتَنَکَّبَ عَنا، ثُمَّ اَتَیْنَاہُ مَرَّۃً اُخْریٰ فَوَجَدْنَاہُ یُصَلِّیْ الْمَکْتُوْبَۃَ، فَقُمْنَا خَلْفَہُ فَاَشَارَ اِلَیْنَا فَقَعَدْنَا، فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاۃَ قَالَ: اِذَا صَلَّی الْاِمَامُ جَالِسًا فَصَلُّوْا جُلُوْسًا، وَاِذَا صَلّٰی قَائمًا فَصَلَّوْا قِیَامًا وَلَا تَفْعَلُوْا کَمَا یَفْعَلُ اَھْلُ فَارِسٌ بِعُظَمَائھَا۔ (5:1)

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ میں گھوڑے پر سوار ہوئے آپ اس سے ایک کھجور کے تنے پر گر گئے جس کی وجہ سے آپ کے پاؤں میں موچ آگئی ہم آپ کی عیادت کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے آپ کو سیدہ عائشہؓ کے بالا خانہ میں پایا، آپ بیٹھ کر نوافل ادا کر رہے تھے ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے ، تو آپ ہم سے ہٹ گئے پھر ہم دوسری مرتبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ کو فرض نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے، تو آپ نے ہماری طرف اشارہ کیا، تو ہم بیٹھ گئے، جب آپ نے نماز مکمل کی تو ارشاد فرمایا: جب امام بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔ جب وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرے تو تم بھی کھڑے ہوکر نماز ادا کرو تم لوگ اس طرح نہ کرو جس طرح ، اہل فارس اپنے بادشاہوں کے لئے کرتے ہیں۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← اَبُوْ خَیْشَمَۃَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2112

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2113

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ مَوْھِبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابِ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: خَرَّرَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ، فَصَلّٰی لَنَا قَاعِدًا فَصَلَّیْنَا مَعَہٗ قُعُوْدًا ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ: اِنَّمَا الْاِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہٖ، فَاِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوْا، وَاِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا، وَاِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَاِذَا قَالَ: سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ فَقُوْلُوْا: رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ، وَاِذَا سَجَدَ فَاسْحُدُوا، وَاِذَا صَلّٰی قَاعِدًا فَصَلُّوْا قُعُوْدًا اَجْمَعُونَ۔ (5:1)

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ گھوڑے سے گر کر زخمی ہوگئے۔ آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی ۔ ہم نے آپ کی اقتداء میں بیٹھ کر نماز ادا کی جب آپ نے ارشاد فرمایا: امام کو اس لئے مقرر کیا گیا ہے، تاکہ اس کی پیرو ی کی جائے جب وہ تکبیر کہے، تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع میں جائے، تو تم بھی رکوع میں جاؤ جب وہ (رکوع سے سر)اٹھائے، تو تم بھی اٹھاؤ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ پڑھے تم لوگ ربنا والک اللحمد پڑھو جب وہ سجدے میں جائے ، تو تم بھی سجدے میں جاؤ جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔

خَرَّرَسُوْلُ اللہِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 2113

chevron_left Previous
1234…12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr