Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 643

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ1 أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ2 أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ لَمَّا قُبِرَ قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ3 طِبْتَ أَبَا السَّائِبِ فِي الْجَنَّةِ فَسَمِعَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقَالَ: " مَنْ هَذِهِ" فَقَالَتْ أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ: "وَمَا يُدْرِيكِ" قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَجَلْ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ مَا رَأَيْنَاهُ إِلَّا خَيْرًا وَهَا أَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يُصْنَعُ بِي" 4. قَالَ عَمْرٌو: وَسَمِعَہٗ اَبُو النَّضْرِ مِنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ عَنْ اَبِیْہِ۔

ابو نضر بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان بن مظعون ؓ کو جب دفن کر دیا گیا ‘ تو ام العلاء نے کہا : اے ابو سائب ! آپ نے جنت میں ٹھکانہ بنا لیا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے جب ان کی یہ بات سنی ‘ تو ارشاد فرمایا : یہ کون عورت ہے۔ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی اکرمﷺ ! میں ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : تمہاری مراد کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! حضرت عثمان بن مظعونؓ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ہاں عثان بن مظعون ‘ ہمیں اس کے بارے میں صرف بھلائی کا علم ہے ‘ لیکن میں اللہ کا رسول ہوں ‘ لیکن اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟ عمرو کہتے ہیں ابو نصر نامی راوی نے یہ روایت خارجہ بن زید کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے سنی ہے۔

"وَمَا يُدْرِيكِ" ← يَا نَبِيَّ اللَّهِ ← مَنْ هَذِهِ" ← أُمُّ الْعَلَاءِ3 طِبْتَ أَبَا السَّائِبِ فِي الْجَنَّةِ فَسَمِعَهَا نَبِيُّ اللَّهِ ← أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ لَمَّا قُبِرَ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ

Hadith 643

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 644

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمِنْهَالِ الْعَطَّارُ* بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُنْذِرُكُمُ النَّارَ، أُنْذِرُكُمُ النَّارَ، أُنْذِرُكُمُ النَّارَ» حَتَّى لَوْ كَانَ فِي مَقَامِي هَذَا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ، سَمِعَهُ أَهْلُ السُّوقِ، حَتَّى وَقَعَتْ خَمِيصَةٌ كَانَتْ عَلَى عَاتِقِهِ عَلَى رِجْلَيْهِ. [3: 79]

حضرت نعمان بن بشیرؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ میں تمہیں جہنم سے ڈرا رہا ہوں میں تمہیں جہنم سے ڈرا رہا ہوں میں تمہیں جہنم سے ڈرا رہا ہوں‘‘۔ ( حضرت نعمان ؓ بیان کرتے ہیں ) اگر نبی اکرمﷺ میری اس جگہ پر ہوتے حضرت نعمان ؓ اس وقت کوفہ میں تھے‘ تو بازار کے لوگ بھی آپ ﷺ کی یہ بات سن لیتے‘ یہاں تک کہ آپ ﷺ کے کندھے پر موجود چادر گر کر آپ کے پاؤں میں آگئی تھی۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمِنْهَالِ الْعَطَّارُ* بِالْبَصْرَةِ،

Hadith 644

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 645

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقَدْامِ الْعِجْلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَأْخُذُ رَجُلٌ بِيَدِ أَبِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرِيدُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ فَيُنَادَى أَلَا إنذكر الْإِخْبَارِ بِأَنَّ الِانْتِسَابَ إِلَى الْأَنْبِيَاءِ لَا يَنْفَعُ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يَنْتَفِعُ الْمُنْتَسِبُ إِلَيْهِمْ إِلَّا بِتَقْوَى اللَّهِ وَالْعَمَلِ الصَّالِحِ [645] أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقَدْامِ الْعِجْلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَأْخُذُ رَجُلٌ بِيَدِ أَبِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرِيدُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ فَيُنَادَى أَلَا إِنَّ الْجَنَّۃَ لَا یَدْخُلُھَا مُشْرِکٌ قَالَ فَیَقُوْلُ اَیْ رَبِّ اَبِیْ قَالَ فَیُحَوَّلُ فِیْ صُوْرَۃٍ قَبِیْحَۃٍ وَرِیحِ مُنْتِنَۃٍ فَیَتْرُکُہُ قَالَ اَبُوْ سَعِیْدٍ کَانُوْا یَقُوْلُوْنَ اِنَّہٗ اِبْرَاھِیْمُ قَالَ وَلَمْ یَزِدْھُمْ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی ذٰلِکَ۔

حضرت ابو سعید خدری ؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ قیامت کے دن ایک شخص اپنے باپ کا ہاتھ پکڑے گا وہ اسے جنت میں لے جانا چاہے گا ‘ تو پکار کر کہا جائے گا۔ خبردار ! جنت میں کوئی مشرک داخل نہیں ہو گا ‘ تو وہ بندہ عرض کرے گا‘ اے میرے پروردگار ! یہ میرا باپ ہے۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ‘ تو اس کے باپ کو انتہائی بدصورت اور بدبو دار کر دیا جائے گا ‘ تو وہ شخص اسے چھوڑ دے گا‘‘۔ حضرت ابو سعید ؓ کہتے ہیں : لوگ یہ کہا کرتے تھے :اس سے مراد حضرت ابر اہیم ؑ ( اور ان کے والد ) کا معاملہ ہے‘تاہم نبی اکرمﷺ نے اس کے علاوہ مزید کچھ ارشاد نہیں فرمایا ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ،

Hadith 645

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 646

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء:214] جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا فقَالَ "يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا" وَلِبَنِي عَبْدِ مَنَافٍ مِثْلَ ذَلِكَ وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ "يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكِ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا إلا أن لك رحما سأبلها ببلالها" 2.

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی: ’’ اور تم اپنے قریبی رشتے داروں کو ڈراؤ ‘‘۔ تو نبی اکرمﷺ نے قریش کو اکٹھا کیا آپ نے فرمایا : اے قریش کے گروہ! اپنے آپ کو جہنم سے بچا لو‘ کیونکہ میں تمہارے حوالے سے کسی نقصان یا نفع کامالک نہیں ہو ں ۔ نبی اکرمﷺ نے عبد مناف کی اولاد سے بھی یہی بات کہی ۔ عبد المطلب کی اولاد سے بھی یہی بات کہی پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اے محمد کی صاحبزادی فاطمہ ! تم اپنے آپ کو جہنم سے بچا لو ‘ کیونکہ میں تمہیں کوئی نقصان یا نفع پہنچانے کا مالک نہیں ہوں‘ البتہ میری تمہارے ساتھ رشتے داری ہے۔ اس کا فائدہ میں تمہیں پہنچاؤں گا۔ امام بن حبان ؒ فرماتے ہیں : یہ روایت منسوخ ہے ‘ کیونکہ اس میں ‘ تو یہ مذکور ہے کہ کوئی شخص کسی کے لئے شفاعت نہیں کرے گا‘ لیکن ( نبی اکرمﷺ کو ) بعد میں مدینہ منورہ میں شفاعت کا اختیار مل گیا تھا۔

لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ قُرَيْشًا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← حَكِيمُ1 بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Hadith 646

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 647

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نَشِيطٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ رُهَيْمٍ بَغْدَادِيٌّ ثِقَةٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنِي رَاشِدُ2 بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ السَّكُونِيِّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ خَرَجَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوصِيهِ مُعَاذٌ رَاكِبٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ رَاحِلَتِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: "يَا مُعَاذُ إِنَّكَ عَسَى أَنْ لَا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي هَذَا لَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِمَسْجِدِي وَقَبْرِیْ فَبَکَی مُعَاذٌ خَشَعًا لِفِرَاقِ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَِ ثُمَّ الْتَفَتَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَِ نَحْوَ الْمَدِیْنَۃِ فقَالَ: اِنَّ اَھْلَ بَیْتِیْ ھٰؤُلَاءِ یَرَوْنَ اَنَّھُمْ اَوْلَی النَّاسِ بِیْ وَاِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِیْ الْمُتَّقُونَ مَنْ کَانُوْا حَیثُ کَانُوا اللہُمَّ اِنِّیْ لَاا اَحِلُّ لَھُمْ فَسَادَ مَا اَصْلَحْتَ وَایْمُ اللہِ لَیَکْفُؤُونَ اُمَّتِیْ عَنْ دِیْنِھَا کَمَا یُکْفَاُ الإناء فِی الْبَطْحَاءِ ۔(66:3)

حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرمﷺ نے انہیں یمن بھیجا ‘ تو نبی اکرمﷺ انہیں تلقین کرنے کے لئے ان کے ساتھ نکلے۔ حضرت معاذ اس وقت سوار تھے۔ جب کہ نبی اکرمﷺ ان کی سواری کے نیچے ( پیدل ) چل رہے تھے۔ جب آپﷺ فارغ ہوئے ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے معاذ ! ہو سکتا ہے اس سال کے بعد تمہاری مجھ سے ملاقات نہ ہو۔ ہو سکتا ہے ‘ اب کی بار تمہارا میری قبر اور میری مسجد کے پاس سے ہو ‘ تو حضرت معاذ ؓ نبی اکرمﷺ کی جدائی کے خوف سے رونے لگے پھر نبی اکرمﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف توجہ کی اور ارشادفرمایا : میرے اہل بیت یہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگ باقی سب لوگوں کے مقابلے میں میرے زیادہ قریب ہیں ‘ حالانکہ میرے سب سے زیادہ قریب پرہیز گار لوگ ہیں‘ خواہ وہ جو کوئی بھی ہوں اور خواہ وہ جہاں کہیں بھی رہتے ہوں۔ اے اللہ ! میں ان کے لئے ایسی کسی چیز کے فساد کو حلال قرار نہیں دیتا جسے‘ تو نے صالح قرار دیا ہے۔ اللہ کی قسم ! یہ لوگ میری امت کے دین کے حوالے سے اسی طرح اوندھے ہوں گے ‘ جس طرح میدان میں برتن کو الٹا دیا جاتا ہے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ السَّكُونِيِّ، ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ ← أَبُو نَشِيطٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ رُهَيْمٍ بَغْدَادِيٌّ ثِقَةٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 647

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 648

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ قَالَ: "أَتْقَاهُمْ" قَالُوا لَسْنَا عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ قَالَ: "فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونَنِي خِيَارُكُمْ1 خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ إذا فقهوا" 2. [3: 65]

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی: یا رسو ل اللہ,! سب سے زیادہ معزز کون ہے؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو‘ لوگوں نے عرض کی : ہم اس کے بارے میں آپ سے دریافت نہیں کر رہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر تم عربوں کے بڑوں کے بارے میں دریافت کر رہے ہو؟ تم میں سے جو لوگ زیادہ بہتر ( شمار ہوتے ہیں ) وہ اسلام میں بھی بہتر شمار ہوں گے جبکہ وہ ( دینی تعلیمات کی ) سمجھ بوجھ حاصل کر لیں۔

قِيلَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Hadith 648

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 649

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عُقْبَةَ بن عبد الغافرذكر رَجَاءِ مَغْفِرَةِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا لِمَنْ غَلَبَتْ عَلَيْهِ حَالَةُ خَوْفِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا عَلَى حَالَةِ الرَّجَاءِ [649] أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: کَانَ فِیمَنْ سَلَفَ منَ النَّاسِ رَجُلٌ رَغَسَہُ اللہُ مَالًا وَوَلَدًا فَلَمَّا حَضَرَہُ الْمَوْتُ جَمَغَ بَنِیْہِ فقَالَ اَیَّ اَبٍ کُنْتُ لَکُمْ قَالُوْا خَیْرَ اَبٍ فقَالَ اِنَّہٗ وَاللہِ مَا ابْتَاَرَ عِنْدَ اللہِ خیر قَطُّ وَاِنَّ رَبَّہُ یُعَذِّبُہٗ فَاِذَا اَنَا مِتُّ فَأحرقونی ثم اسحوقنی ثّمَّ اذْرُوْنِیْ فِیْ رِیحِ عَاصِفٍ قَالَ اللہُ کُنْ فَاِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ قَالَ مَا حَمَلَکَ عَلٰی مَا صَنَعْتَ قَالَ مَخَافَتُکَ قَالَ فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدہٖ اِنْ یَّلْقَاہُ غَیْرَ اَنْ غُفِرَلَہٗ ۔

حضرت ابو سعید خدریؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ پہلے زمانے کے لوگوں میں سے ایک شخص تھا ‘ جسے اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد میں وسعت عطا کی تھی جب اس کی موت کا وقت قریب آیاتو اس نے اپنے بچوں کو جمع کیا اور دریافت کیا : میں تمہارے لئے کیسا باپ تھا ‘ تو انہوں نے جواب دیا ۔ بہترین باپ تھے ‘ تو اس نےکہا: اللہ کی قسم! مٰیں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے لئے کوئی بھلائی ذخیرہ نہیں کی ہے ‘ تو اب اس کا پروردگار اسے عذاب دے گا‘ تو جب میں مر جاؤں ‘ تو تم مجھے جلا دینا اور پھر مجھے پیس کر تیز چلتی ہوئی ہوا میں اڑا دینا‘ تو اللہ تعالیٰ نےفر مایا : تم کھڑے ہو جاؤ ‘ تو وہ شخص کھڑا ہو گیا ۔ اللہ تعالیٰ نے دریافت کیا :تم نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے عرض کی :تیرے خوف کی وجہ سے‘‘۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کر دی تھی۔

عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 649

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 650

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كَانَ رَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَمْ يَبْتَئِرْ1 عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا قَطُّ قَالَ لِبَنِيهِ عِنْدَ الْمَوْتِ يَا بَنِيَّ أَيَّ أَبٍ كنت لكم قالوا خير أب قال فَاِذَا اَنَامِتُّ فَاحْرَقُونِیْ وَاسْحَقُونِیْ فَاِذَا کَانَ فِی یَوْمِ رِیحِ عَاصِفٍ فَذُرُّوْنِیْ قَالَ فَمَاتَ فَفُعِلَ بِہٖ ذٰلِکَ فقَالَ لَہٗ کُنْ فَکَانَ کَاَسْرَعِ مِنْ طَرْفَۃِ الْعَیْنِ فقَالَ اللہُ یَا عَبْدِیْ مَا حَمَلَکَ عَلٰی مَا فَعَلْتَ فقَالَ مَخَافَتُکَ اَیْ رَبِّ قَالَ فَمَا تَلَافَاہُ اَنْ غُفِرَلَہٗ قَالَ الْمُعْتَمِرُ قَالَ اَبِیْ فَحَدّثْتُ ھٰذَا الْحَدِیْثَ اَبَا عُثْمَانَ النَّھْدِیَّ قَالَ ھٰکَذَا حَدَّثِنِیْ سُلَیْمَانُ وَزَادَ فِیْہِ وَذرُّوْنِیْ فِیْ الْبِحْرِ ۔(6:3)

حضرت ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا ہے : ’’ تم سے پہلے زمانے میں ایک شخص تھا جس نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے لئے کوئی بھلائی ذخیرہ نہیں کی تھی۔ اس نے مرتے وقت اپنے بیٹوں سے کہا: اے میرے بیٹو! میں تمہارے لئے کیساباپ تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : بہترین باپ تھے ۔اس شخص نے کہا : جب میں مر جاؤں تو تم مجھے کر مجھےپیس دینا اور جب تیز ہوا چل رہی ہو ‘ تو مجھے اڑا دینا نبی اکرمﷺ نے فرماتے ہیں وہ شخص فوت ہو گیا۔ اس کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا : ہو جاؤ ‘ تو وہ پلک جھپکنے سے بھی پہلے ( انسان بن کر کھڑا ہو گیا ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے میرے بندے تم نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تیرے خوف کی وجہ سے ‘نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اسے یہ بدکہ دیا کہ اس کی مغفرت کر دی گئی‘‘۔ معتمر نامی راوی بیان کرتے ہیں :میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے میں نے یہ روایت ابو عثمان نہدی کو سنائی ‘ تو انہوں نے کہا : سلیمان نے یہ حدیث مجھے اسی طرح سنائی تھی تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے تھے : ’’ تم لوگ مجھےد ریا میں ڈال دینا‘‘۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← صَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 650

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 651

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "تُوُفِّيَ رَجُلٌ كَانَ نَبَّاشًا فقَالَ لِوَلَدِهِ احْرِقُونِي ثُمَّ اسْحَقُونِي فَذُرُّونِي فِي الرِّيحِ فَسُئِلَ مَا صَنَعْتَ قَالَ مَخَافَتُكَ يَا رب قال فغفر له" 1. [3: 6]

حضرت کفن چور کا انتقال ہو گیا ۔اس نے اپنے بیٹے سے کہا تم مجھے جلا دینا پھر مجھے پیس کر مجھے ہوا میں اڑا دینا۔ اس سے دریافت کیا گیا تم نے ایسا کیو کیا ‘ تو اس نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تیرے خوف کی وجہ سے ‘ تو نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کر دی۔

فَغُفِرَ لَهُ ← مَخَافَتُكَ يَا رب ← لِوَلَدِهِ احْرِقُونِي ثُمَّ اسْحَقُونِي فَذُرُّونِي فِي الرِّيحِ فَسُئِلَ مَا صَنَعْتَ ← "تُوُفِّيَ رَجُلٌ كَانَ نَبَّاشًا ← النَّبِيِّ ← حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 651

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 652

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الأعمش عن أبي صالحذكر الْإِخْبَارِ عَمَّا يَجِبُ عَلَى الْمَرْءِ مِنْ مُجَانَبَةِ الْغَفْلَةِ وَلُزُومِ الِانْتِبَاهِ لِوِرْدِ هَوْلِ الْمَطْلَعِ [652] أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ( اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ)( مریم :39)

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے اس آیت کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے ) ‘‘ جب معاملے کا فیصلہ ہو جائے گا اور وہ لوگ غفلت میں ہوں گے‘‘۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں یہ دنیا کے بارے میں ہے۔

اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 652

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 653

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ، أَخُو مُطَرِّفٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي رَجُلَانِ آخَرَانِ أَنَّ مُطَرِّفًا حَدَّثَهُمْ: أَنَّ عِيَاضَ بْنَ حِمَارٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: «إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا، إِنَّ كُلَّ مَا أَنْحَلْتُهُ عَبْدِي حَلَالٌ، وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي [ص:423] حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ، وَإِنَّهُ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ، فَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا، وَإِنَّ اللَّهَ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ، فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ، غَيْرَ بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ، وَأُنْزِلَ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ، تَقْرَؤُهُ يَقْظَانَ وَنَائِمًا، وَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا أَمَرَنِي أَنْ أُخْبِرَ قُرَيْشًا، فَقُلْتُ: إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَتْرُكُوهُ خُبْزَةً، قَالَ [ص:424] فَاسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ، وَاغْزُهُمْ يَسْتَغْزُوكَ، وَأَنْفِقْ يُنْفَقْ عَلَيْكَ، وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةً أَمْثَالَهُمْ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ وَقَالَ: أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ: إِمَامٌ مُقْسِطٌ مُصَدِّقٌ مُوَفَّقٌ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ بِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ، وَرَجُلٌ عَفِيفٌ فَقِيرٌ مُصَّدِّقٌ وَ، قَالَ: أَصْحَابُ النَّارِ خَمْسَةٌ: رَجُلٌ جَائِرٌ لَا يَخْفَى لَهُ طَمَعٌ وَإِنْ دَقَّ، وَرَجُلٌ لَا يُمْسِي وَلَا يُصْبِحُ إِلَّا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ، وَالضَّعِيفُ الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعٌ لَا يَبْغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا»، فقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَمِنَ الْمَوَالِي هُوَ، أَوْ مِنَ الْعَرَبِ؟، قَالَ: هُوَ التَّابِعَةُ يَكُونُ لِلرَّجُلِ فَيُصِيبُ مِنْ حُرْمَتِهِ [ص:425] سِفَاحًا غَيْرَ نِكَاحٍ وَالشِّنْظِيرُ: الْفَاحِشُ وَذَكَرَ الْبُخْلَ وَالْكَذِبَ. [3: 68]

حضرت عیاض بن حمار ؓ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرمﷺ کو خطبے کے دوران یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ ’’ بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ اس نے مجھے جن چیزوں کا علم دیا ہے اور تم ان سے ناواقف ہو۔ آج میں اس جگہ تمہیں ان چیزوں کی تعلیم دیدوں ‘‘۔ ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) ہر وہ چیز جو میں نے اپنے بندے کو عطیے کے طور پر دی ہے وہ حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو مسلمان پیدا کیا ہے ۔ پھر شیاطین ان کے پاس آتے ہیں اور ان کے دین کے حوالے سے انہیں گمراہ کر دیتے ہیں اور ان کے لئے ان چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں جو میں نے ان کےلئے حلال قرار دی ہیں اور انہیں اس بات کا حکم دیتےہیں کہ وہ کسی کو میرا شریک بنا دیں حالانکہ میں نے اس بارے میں کوئی مضبوط دلیل نازل نہیں کی ہے۔ ( نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اہل زمین کی طرف جھانک کر تمام اہل عرب اور عجمیوں پر ناراضگی کا اعلان کرتا ہے ۔ ) صرف اہل کتاب میں سے باقی رہ جانے والے لوگوں کو ناراضگی کا اظہار نہیں کرتا پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے محمد! میں نےتمہیں اس لئے مبعوث کیا ہے‘ تاکہ میں تمہیں آزمائش میں مبتلا کروں اور تمہاری وجہ سے لوگوں آزماؤں اور میں نے تم پر ایک کتا ب نازل کی ہے‘ جسے پانی دھو نہیں سکے گا۔ ( یعنی وہ بالکل ختم نہیں ہو گی) بیدار شخص اور سویا ہوا شخص اس کی تلاوت کریں گے۔ ( نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں) مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ میں قریش کو یہ بات بتا دوں میں نے عرض کی : اس صورت میں وہ لوگ میرا سر کچل دیں گے اور وہ لوگ اسے پیس دیں گے‘ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم بھی انہیں نکلنے پر مجبور کرو جس طرح انہوں نے تم کو نکلنے پر مجبور کیا تھا‘‘ اور تم ان کے ساتھ جنگ کرو جس طرح انہوں نے تمہارے ساتھ جنگ کی تھی اور تم خرچ کرو تم پر خرچ کیاجائے گا اور تم ایک لشکر کو بھیجو ہم اس کے جتنے پانچ گنا بھیج دیں گے اور جو شخص تمہاری فرمانبرداری کرتا ہے اس کے ساتھ مل کر اس شخص کے ساتھ جنگ کرو جو تمہاری نافرمانی کرتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اہل جنت تین قسم کےہیں ۔ ایسا امام جو عادل ہو تصدیق کرنے والا ہو اور اسے توفیق دی گئی ہو‘ ایک وہ شخص جو مہربان ہو رقیق القلب ہو ‘ ہر قریبی رشتہ دار ہر مسلمان کے لئے ( نرم دل ہو ) ایک وہ شخص جو پاک دامن ہو ‘ غریب ہو اور تصدیق کرنے والا ہو۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اہل جہنم پاتچ قسم کےہیں۔ ’’ ایسا ظالم شخص جس کی لالچ پوشیدہ نہ ہو اگرچہ وہ بہت ہی باریک ہو ایساشخص جو صبح شام تمہارے ساتھ تمہاری بیوی اور مال کے بارے میں دھوکا دیتا ہو ایسا کمزور شخص جو تمہارے تابع ہیں وہ لوگ اہل یا مال طلب نہیں کرتے ہیں‘‘۔ ایک شخص نے ان سے دریافت کیا : اے ابو عبد اللہ! کیا یہ لوگ موالی میں سے ہوں گے یا عربوں میں سے ہوں گے ‘ تو انہوں نے جواب دیا : یہ پیرو کاروں میں سے ہوں گے ۔ یہ اس شخص کےلئے ہو گا‘ تو یہ اس کی حرمت میں سے گناہ کے طور پر ( زنا کا ارتکاب کرے گا) نکاح نہیں کرے گا اور شنظیر کا مطلب فحاشی کرنے والے کو کہتے ہیں:پھر راوی نے بخل اور جھوٹ کا بھی تذکرہ کیا ۔

رَجُلَانِ آخَرَانِ ← يَزِيدُ، أَخُو مُطَرِّفٍ، ← العلاء بن زياد ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 653

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 654

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ الْأَثْرَمِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، [ص:426] عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا، وَإِنَّهُ، قَالَ لِي: إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ، وَإِنَّ كُلَّ مَا أَنْحَلْتُ عِبَادِي فَهُوَ لَهُمْ حَلَالٌ، وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ أَتَتْهُمْ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمُ الَّذِي أَحْلَلْتُ لَهُمْ، وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا، وَإِنَّ اللَّهَ أَتَى أَهْلَ الْأَرْضِ قَبْلَ أَنْ يَبْعَثَنِي، فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ إِلَّا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَإِنَّهُ، قَالَ لِي: قَدْ أَنْزَلْتُ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ فَاقْرَأْهُ نَائِمًا وَيَقْظَانَ، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُخْبِرَ قُرَيْشًا وَإِنِّي قُلْتُ: أَيْ رَبِّ، إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً وَإِنَّهُ، قَالَ لِي: اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ، وَاغْزُهُمْ يَسْتَغْزُونَكَ، وَأَنْفِقْ نُنْفِقْ عَلَيْكَ، وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةَ أَمْثَالِهِ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ». [3: 68]

حضرت عیاض بن حمار ؓ بیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے اس بات کا حکم دیا ہے کہ میں آج تمہیں ان چیزوں کی تعلیم دوں جو علم مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ فرمایا ہے : میں نے اپنےتمام بندوں کو مسلمان پیدا کیا ہے اور میں نے اپنے بندوں کو جو چیز بھی عطا کی ہے ۔ وہ ان کے لئے حلال ہے ۔ شیاطین لوگوں کے پاس آتے ہیں اور انہیں دین کے حوالے سے گمراہ کر دیتے ہیں وہ ان کے لئے ان چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں جو میں نے ان کے لئے حلال قرار دی ہیں اور وہ ان لوگوں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ میرے ساتھ شریک کریں جس کے بارے میں میں نے کوئی حکم نازل نہیں کیا ہے۔( نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ) اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کرنے سے پہلے زمین کی طرف توجہ کی اور تمام اہل عرب اور تمام عجمیوں پر ناراضگی کا اظہار کیا ‘ البتہ اہل کتاب میں سے باقی رہ جانے والوں کا معاملہ مختلف ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا : میں نے ایک کتاب نازل کی ہے ‘ جسے پانی دھو نہیں سکے گا تم سونے اور بیداری کی حالت میں اس کی تلاوت کرو۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں قریش کو یہ بات بتا دوں میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! اس صورت میں وہ میرے سر کچل کر اسے پیس کے رکھ دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم انہیں نکلنے پر مجبور کرو جس طرح انہوں نے تم کو نکالا تھا ‘ اور تم ان سے جنگ کرو جس طرح انہوں نے تمہارے ساتھ جنگ کی تھی اور تم خرچ کرو ہم تم پر خرچ کریں گے اور تم لشکر کو بھیجو ہم اس جیسے پانچ بھیجیں گے اور جو شخص تمہاری اطاعت کرتا ہے اس شخص کے ساتھ مل کر اس شخص کے ساتھ جنگ کرو جو تمہاری نافرمانی کرتا ہے ‘‘۔

خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ← عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الْحَسَنِ، ← حَكِيمِ بْنِ الْأَثْرَمِ، ← عَوْفٌ، ← أَبُو شِهَابٍ، ← الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيِّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 654

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr