صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 643
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ1 أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ2 أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ لَمَّا قُبِرَ قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ3 طِبْتَ أَبَا السَّائِبِ فِي الْجَنَّةِ فَسَمِعَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقَالَ: " مَنْ هَذِهِ" فَقَالَتْ أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ: "وَمَا يُدْرِيكِ" قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَجَلْ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ مَا رَأَيْنَاهُ إِلَّا خَيْرًا وَهَا أَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يُصْنَعُ بِي" 4. قَالَ عَمْرٌو: وَسَمِعَہٗ اَبُو النَّضْرِ مِنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ عَنْ اَبِیْہِ۔
ابو نضر بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان بن مظعون ؓ کو جب دفن کر دیا گیا ‘ تو ام العلاء نے کہا : اے ابو سائب ! آپ نے جنت میں ٹھکانہ بنا لیا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے جب ان کی یہ بات سنی ‘ تو ارشاد فرمایا : یہ کون عورت ہے۔ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی اکرمﷺ ! میں ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : تمہاری مراد کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! حضرت عثمان بن مظعونؓ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ہاں عثان بن مظعون ‘ ہمیں اس کے بارے میں صرف بھلائی کا علم ہے ‘ لیکن میں اللہ کا رسول ہوں ‘ لیکن اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟ عمرو کہتے ہیں ابو نصر نامی راوی نے یہ روایت خارجہ بن زید کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے سنی ہے۔
"وَمَا يُدْرِيكِ" ← يَا نَبِيَّ اللَّهِ ← مَنْ هَذِهِ" ← أُمُّ الْعَلَاءِ3 طِبْتَ أَبَا السَّائِبِ فِي الْجَنَّةِ فَسَمِعَهَا نَبِيُّ اللَّهِ ← أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ لَمَّا قُبِرَ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ
Hadith 643
