Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ قَضَاءِ الْفَوَائتِ · حديث 2647

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَسِيَ صَلَاةً، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا» (1) . [3: 43]

حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص کسی نماز کو بھول جائے تو جب وہ اسے یادآئے تو وہ اسے ادا کر لے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2647

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ قَضَاءِ الْفَوَائتِ · حديث 2648

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ (2) خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ نَسِيَ صَلَاةً، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ» (1) . [3: 43] قَالَ: أَبُو حَاتِمٍ: فِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ» دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الصَّلَاةَ لَوْ أَدَّاهَا عَنْهُ غَيْرُهُ لَمْ تُجْزِ عَنْهُ، إِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ» ، يُرِيدُ إِلَّا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَيِّتَ إِذَا مَاتَ وَعَلَيْهِ صَلَوَاتٌ لَمْ يَقْدِرْ عَلَى أَدَائِهَا فِي عِلَّتِهِ لَمْ يَجُزْ أَنْ يُعْطَى الْفُقَرَاءَ عَنْ تِلْكَ الصَّلَوَاتِ الْحِنْطَةَ، وَلَا غَيْرَهَا مِنْ سَائِرِ الْأَطْعِمَةِ وَالْأَشْيَاءِ

حضرت انس بن مالک ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص نماز ادا کرنا بھول جائے تو جب اسے (نماز ) یاد آئے تو اسے ادا کرلے اس کا کفارہ صرف یہی ہے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان جب وہ اسے یادآئے تو اسے ادا کرلے اس کا کفارہ صرف یہی ہے اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ اگر کوئی دوسرا شخص اس کی طرف سے اس کی نماز کو ادا کرتا ہے تو یہ جائز نہیں ہوگی کیونکہ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کیونکہ اس کا کفارہ صرف یہ ہی ہے اس سے نبی اکرمﷺ کی مراد یہ ہے کہ اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب وہ اسے یاد آ جائے تو خود اس کو ادا کرے۔ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے اگر کوئی شخص فوت ہوجائے۔ اس کے ذمے کچھ نمازیں ہوں جنہیں وہ اپنی بیماری کے دوران ادا نہ کر سکا ہو۔ تو اب یہ بات جائز نہ ہوگی کہ ان نمازوں کے عوض میں غریبوں کو گندم دے دی جائے۔ یا اس کے علاوہ دیگر اناج یا کوئی اور چیز دے دی جائے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2648

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ قَضَاءِ الْفَوَائتِ · حديث 2649

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ لَمَّا نَامُوا عَنِ الصَّلَاةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلُّوهَا الْغَدَ لِوَقْتِهَا» (3) . [5: 8]

حضرت ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ اور آپ کے اصحاب رات کے وقت سوتے رہ گئے تھے تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ کل اسے اس کے وقت پر ادا کرلینا۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← ثَابِتٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 2649

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ قَضَاءِ الْفَوَائتِ · حديث 2650

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ عَرَّسَ، فَمَا اسْتَيْقَظَ حَتَّى أَيْقَظَنَا حَرُّ الشَّمْسِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَقُومُ دَهِشًا فَزِعًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْكَبُوا» ، فَرَكِبَ وَرَكِبْنَا، فَسَارَ حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، وَفَرَغَ الْقَوْمُ مِنْ حَاجَاتِهِمْ، وَتَوَضَّؤُوا، وَصَلَّوَا الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقَامَ، فَصَلَّى بِنَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَقْضِيهَا لِوَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ؟ قَالَ: «يَنْهَاكُمْ رَبُّكُمْ عَنِ الرِّبَا وَيَقْبَلُهُ مِنْكُمْ؟» (1) . [5: 8]

حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرمﷺ کے ہمراہ ایک غزوے میں سفر کر رہے تھے جب رات کا آخری حصہ آیا تو نبی اکرمﷺ نے پڑاؤ کرلیا آپ بیدار نہیں ہوئے یہاں تک کہ سورج کی تپش نے ہم لوگوں کو بیدار کیا ہر شخص گھبرا کر پریشان ہو کر کھڑا ہوگیا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ سوار ہو جاؤ پھر آپ سوار ہوئے ہم بھی سوار ہوئے۔آپ کچھ دیر چلتے رہے جب سورج بلند ہوگیا نبی اکرمﷺ سواری سے اترے آپ نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی ۔ لوگ اپنی حاجات پوری کر کے فارغ ہوئے انہوں نے وضو کیا انہوں نے دو رکعات (سنت ) ادا کی پھر حضرت بلالؓ نے اقامت کہی۔ نبی اکرمﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی ہم نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ کیا ہم کل اس کے وقت میں اس کی قضانہ کریں تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تمہارے پروردگار نےتمہیں سود سے منع کیا ہے تو کیا وہ خود اسے قبول کرےگا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2650

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ قَضَاءِ الْفَوَائتِ · حديث 2651

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيَأْخُذْ كُلُّ إِنْسَانٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ، فَإِنَّ هَذَا لَمَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ» ، فَفَعَلْنَا، فَدَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ (1) . [5: 8]

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرمﷺ کے ہمراہ رات کے وقت پڑاؤ کیا۔ ہم بیدار نہیں ہوئے یہاں تک کہ سورج نکل آیا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر شخص اپنی سواری کا سر پکڑلے (اور یہاں سے روانہ ہو جائے) کیونکہ یہ ایک ایسی پڑاؤ کی جگہ ہے جہاں شیطان ہمارے پاس گیا تھا ہم نے ایسا ہی کیا(کچھ آگے جانے کے بعد) نبی اکرمﷺنے پانی منگوایا ۔ آپ نے وضو کیا آپ نے دو رکعت ( سنت ) ادا کی اور پھر نماز ادا کی گئی۔

عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو حَازِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بُنْدَارٌ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Hadith 2651

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ قَضَاءِ الْفَوَائتِ · حديث 2652

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْفُوظُ بْنُ أَبِي تَوْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ عَنْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَصَلَّاهَا بَعْدَمَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ» (1) . [5: 8]

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ فجر کی دو رکعات کی ادا ئیگی کے وقت سوئے رہ گئے تھے تو آپ نے سورج نکلنے کے بعد انہیں ادا کیا تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← مَحْفُوظُ بْنُ أَبِي تَوْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 2652

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ قَضَاءِ الْفَوَائتِ · حديث 2653

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ بَيْتِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّيْتَ صَلَاةً لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهَا، فَقَالَ: «قَدِمَ عَلَيَّ مَالٌ، فَشَغَلَنِي عَنْ رَكْعَتَيْنِ کُنْتُ اَرْکَھُعُمَا قَبْلَ الْعَصْرِ ، فَصَلَّیْتُھُمَا الْاٰنَ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلِ اللہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، صَلَّیْتَ صَلَاۃً لَمْ تَکُنْ تُصَلِّھَا ، فَقَالَ: قَدِمَ عَلَیَّ مَالٌ ، فَشَغَلَنِیْ عَنْ َکْعَتَیْنِ کُنْتُ اَرْکَھُھُمَا قَبْلَ الْعَصْرِ ، فَصَلَّیْتُھُمَا الْاٰنَ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلِ اللہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اَفَنَقْضِیھِمَا اِذَا فَاَتَتْنَا ؟ قَالَ: لَا

سیدہ ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ عصر کے نماز ادا کرنے کے بعد میرے ہاں تشریف لائے۔ آپ نے دورکعات ادا کی۔ میں نے عرض کی: آج آپ نے یہ کیسی نماز ادا کی ہے جو آپ نے اس سے پہلے ادا نہیں کی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میرے پاس کچھ مال آیا تھا تو میں مصروفیت کی وجہ سے ان دو رکعات کو عصر سے پہلے ادا نہیں کر سکا جیسے پہلے ادا کرتا تھا ان دونوں کو میں نے اب ادا کر لیا ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ اگر ہم سے یہ رکعات فوت ہوجائیں تو ہم ان کی قضاء کریں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جی نہیں۔

صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ بَيْتِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقُلْتُ: ← أُمِّ سَلَمَةَ ← ذَكْوَانَ، ← الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2653

All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr