Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ اِعَادَۃِ الصَّلَاۃِ · حديث 2395

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ الْعَامِرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ مِنْ مِنًى، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ إِذَا رَجُلَانِ (1) فِي آخِرِ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا، فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ: «مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟» قَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلَا، إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا، ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلِّيَا مَعَهُمْ، فَإِنَّهَا لَكُمْ نَافِلَةٌ» (2) . [4: 49]

جابر بن یزید عامری اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نبی اکرمﷺ کے حج میں شریک ہوا تھا۔ میں نے ’’ منیٰ ‘‘ میں مسجد خیف میں صبح کی نماز آپ کی اقتداء میں ادا کی جب نبی اکرمﷺ نےنماز مکمل کی تو لوگوں کے پیچھے دو ایسے افراد موجود تھے‘ جنہوں نے نماز ادا نہیں کی تھی۔ ان دونوں کو لایا گیا تو وہ کانپ رہے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: تم نے ہمارے ساتھ نماز ادا کیوں نہیں کی۔ انہوں نے عرض کی: ہم اپنی رہائشی جگہ پر پہلے ہی نماز ادا کر چکے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو جب تم اپنی رہائشی جگہ پر نماز ادا کر چکے ہو اور پھر تم باجماعت نماز والی مسجد میں آؤ تو ان لوگوں کے ساتھ بھی نماز ادا کرو یہ تمہارے لئے نفل ہو جائے گی۔

أَبِيهِ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ الْعَامِرِيِّ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← هُشَيْمٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولَابِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2395

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ اِعَادَۃِ الصَّلَاۃِ · حديث 2396

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، اَنَّہٗ رَاَی ابْنَ عُمَرَ جَالِسًا بِالْبَلَاطِ وَالنَّاسُ یُصَلُّونَ ، فَاُلْتُ: مَا یُجْنِسُکَ وَالنَّاسُ یُصَلُّونَ ؟ قَالَ: اِنِّیْ قَدْ صَلَّیْتُ ، وَاِنَّ رَسُوْلِ اللہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَھَانَا اَنْ نُعِیْدَ صَلَاۃً فِیْ یَوْمٍ مَرَّتَیْنِ۔

سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں: انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو بلاط میں بیٹھے ہوئے دیکھا لوگ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے۔ میں نے دریافت کیا: آپ کیوں بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ لوگ نماز ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: میں نماز ادا کر چکا ہوں اور نبی اکرمﷺ نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے‘ ہم ایک ہی دن میں کوئی نماز دو مرتبہ ادا کریں۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) عمرو بن شعیب نامی بذات خودثقہ ہے اس کی نقل کردہ روایات سے استدلال کیا جائے گا۔ جب وہ اپنے والد کی بجائے کسی اور کے حوالے سے روایت نقل کرے۔ جہاں تک اس کی ان روایات کا تعلق ہے جو اس نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سے نقل کی ہیں تو ان میں انقطاع اور ارسال پایا جاتا ہے اسی وجہ سے ہم ایسی کسی روایت سے استدلال نہیں کرتے ہیں۔

حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2396

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ اِعَادَۃِ الصَّلَاۃِ · حديث 2397

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالْأُبُلَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ (1) بْنُ خَالِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا مَنْ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَلْيُصَلِّ مَعَهُ» (1) . [2: 97]

حضرت ابوسعیدخدریؓ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص مسجد میں داخل ہوانبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا کوئی شخص اس پر صدقہ کرے گا‘ یوں کہ وہ اس کے ساتھ نماز ادا کر لے۔

دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ قَدْ صَلَّى، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← سُلَيْمَانَ النَّاجِيِّ، ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ، بِالْأُبُلَّةِ،

Hadith 2397

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ اِعَادَۃِ الصَّلَاۃِ · حديث 2398

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُرَّةَ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ (2) الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا مَنْ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ» (3) . [4: 5]

حضرت ابوسعیدخدریؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص مسجد میں داخل ہوا نبی اکرمﷺ اس وقت نماز ادا کر چکے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیا کوئی شخص اس پر صدقہ کرے گا‘ یوں کہ وہ اس کے ساتھ نماز ادا کرلے۔

دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ قَدْ صَلَّى، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← سُلَيْمَانَ النَّاجِيِّ، ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُرَّةَ بِالْبَصْرَةِ،

Hadith 2398

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ اِعَادَۃِ الصَّلَاۃِ · حديث 2399

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ (4) بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ» (1) . [4: 5]

حضرت ابوسعیدخدریؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نےاپنے اصحاب کو نماز پڑھادی پھر ایک شخص آیا‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: کون شخص اس پر صدقہ کرے گا‘ یوں کہ وہ اس کے ساتھ نماز ادا کرے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← سُلَيْمَانَ النَّاجِيِّ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2399

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ اِعَادَۃِ الصَّلَاۃِ · حديث 2400

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ فَيَؤُمُّهُمْ، قَالَ: فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ [ص:160] ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى مَعَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا فَتَقَدَّمَ لَيَؤُمَّنَا، فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ تَنَحَّى فَصَلَّى وَحْدَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقُلْنَا لَهُ: مَا لَكَ يَا فُلَانُ، أَنَافَقْتَ؟ قَالَ: مَا نَافَقْتُ، وَلَآتِيَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأُخْبِرَنَّهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا، وَإِنَّكَ أَخَّرْتَ الْعِشَاءَ الْبَارِحَةَ فَصَلَّى مَعَكَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا فَتَقَدَّمَ لَيَؤُمَّنَا، فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ تَنَحَّيْتُ فَصَلَّيْتُ وَحْدِي، أَيْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ، وَإِنَّمَا نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟ أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟ اقْرَأْ بِسُورَةِ كَذَا وَسُورَةِ كَذَا» قَالَ عَمْرٌو: «وَأَمَرَهُ بِسُوَرٍ قِصَارٍ» لَا أَحْفَظُهَا، قَالَ سُفْيَانُ: فَقُلْنَا لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: إِنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ قَالَ لَهُمْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «اقْرَأْ بِالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ، وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى»، قَالَ عَمْرٌو نَحْوَ هَذَا. [4: 50]

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں۔ حضرت معاذ بن جبلؓ نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے‘ پھر وہ اپنی قوم کی طرف واپس جا کر ان کی امامت کیا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ نے عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی۔ حضرت معاذ بن جبلؓ نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی پھر وہ ہمارے پاس واپس آئے اور ہماری امامت کرنے کےلئے آگے بڑھ گئے۔ انہوں نے سورہ بقرہ کی تلاوت شروع کر دی۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے جب یہ صورت حال دیکھی تو وہ پیچھے ہٹے۔ انہوں نے تنہا نماز ادا کی اور چلے گئے۔ ہم نے ان صاحب سے دریافت کیا۔ اے فلاں کیا وجہ ہےکیا تم منافق ہو گئے ہو اس نے جواب دیا: میں منافق نہیں ہوا۔ میں نبی اکرمﷺکی خدمت میں ضرور حاضر ہو کر آپ کو اس بارے میں بتاؤں گا پھر وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نےعرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! حضرت معاذآپ کی اقتداء میں نماز اد ا کرتے ہیں پھر وہ واپس آکر ہماری امامت کرتے ہیں۔ گزشتہ رات آپ نے عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی تھی۔ انہوں نے آپ کے ساتھ نماز ادا کی پھر یہ ہمارے پاس واپس آئے اور آگے کھڑے ہوئے انہوں نے سورہ بقرہ پڑھنی شروع کر دی جب میں نے یہ صورتحال دیکھی تو میں پیچھے ہٹا اور اکیلے نماز ادا کر لی۔ یا رسول اللہ (ﷺ)! ہم کام کاج کرنے والے لوگ ہیں۔ ہم خود کام کرتے ہیں( ہمارے لئے اتنی لمبی نماز پڑھنا مشکل ہوتا ہے) تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اے معاذ! کیا تم آزمائش کا شکار کرنا چاہتے ہو تم فلاں اور فلاں سورت کی تلاوت کیا کرو۔ عمرو نامی راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نےانہیں مختصر سورتوں کو پڑھنے کا حکم دیا تھا ان صورتوں کےنام مجھے یاد نہیں رہے۔ سفیان نامی راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے عمرو بن دینار نامی راوی سے کہا۔ ابوزبیر نامی راوی نے ان لوگوں کو یہ حدیث سنائی تھی‘ نبی اکرمﷺ نے حضرت معاذؓ سے یہ فرمایا تھا‘ تم سورہ طارق سورہ بروج سورہ شمس کی تلاوت کیا کرو۔ تو عمرو نے کہا: اسی کی مانند ( الفاظ ہوں گے )

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 2400

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ اِعَادَۃِ الصَّلَاۃِ · حديث 2401

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِمِصْرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ (1) بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ إِلَى قَوْمِهِ فَيُصَلِّيهَا لَهُمْ، وَكَانَ إِمَامَهُمْ» (1) . [4: 50]

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں۔ حضرت معاذ بن جبلؓ نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں عشاء کی نماز ادا کرتے تھے‘ پھر وہ اپنی قوم کی طرف واپس جا کر ان لوگوں کو یہ نماز پڑھاتے تھے۔ وہ ان کے امام تھے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِمِصْرَ،

Hadith 2401

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ اِعَادَۃِ الصَّلَاۃِ · حديث 2402

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: «كَانَ مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ فَيَؤُمُّهُمْ» (2) . [4: 1]

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں: حضرت معاذؓ ( راوی کہتے ہیں) یہ حضرت معاذ بن جبلؓ ہیں۔ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ نماز ادا کرتے تھے‘ پھر وہ اپنی قوم کی طرف واپس جا کر ان لوگوں کی امامت کرتے تھے۔

جَابِرًا ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 2402

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ اِعَادَۃِ الصَّلَاۃِ · حديث 2403

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرْكِينَ بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، «أَنَّ مُعَاذًا كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ إِلَى قَوْمِهِ فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلَاةَ» (1) . [4: 1]

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں۔ حضرت معاذؓ نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں عشاء کی نماز ادا کرتے تھے‘ پھر وہ اپنی قوم کی طرف واپس جا کر ان لوگوں کو یہ نماز پڑھاتے تھے۔

عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← هُشَيْمٌ ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← حَاجِبُ بْنُ أَرْكِينَ بِدِمَشْقَ،

Hadith 2403

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ اِعَادَۃِ الصَّلَاۃِ · حديث 2404

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ، فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلَاةَ» (2) . [4: 1]

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں: حضرت معاذؓ نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں عشاء کی نماز ادا کرتے تھے‘ پھر وہ واپس جا کر اپنی قوم کی امامت کیا کرتے تھے وہ ان لوگوں کو وہ نماز پڑھاتے تھے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 2404

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ اِعَادَۃِ الصَّلَاۃِ · حديث 2405

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي [ص:165] بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدُّئِلِ يُقَالُ لَهُ: بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ، أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟ » قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنِّي قَدْ كُنْتُ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ». [1: 78]

زید بن اسلم نے بنودئل سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بسربن محجن کے حوالے سے ان کے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے۔ وہ ایک محفل میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ موجود تھے۔ نبی اکرمﷺ نے نماز ادا کی پھر آپ واپس تشریف لے آئے تو حضرت محجن اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے‘ نبی اکرمﷺ نے ان سے دریافت کیا: کیا وجہ ہے‘ تم نےلوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی کیا تم مسلمان نہیں ہو۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں‘ یا رسول اللہ (ﷺ)! ( میں مسلمان ہوں ) لیکن میں اپنے گھر میں نماز ادا کر چکا تھا تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم آؤ تو لوگوں کے ساتھ بھی نماز ادا کر لو اگرچہ تم پہلے نماز ادا کر چکے ہو۔

أَبِيهِ ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ يُقَالُ لَهُ: بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 2405

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ اِعَادَۃِ الصَّلَاۃِ · حديث 2406

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَاءِ، قَالَ: أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ، فَأَتَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا، فَجَلَسَ عَلَيْهِ، [فَذَكَرْتُ لَهُ صَنِيعَ ابْنِ زِيَادٍ] فَعَضَّ عَلَى شَفَتِهِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِي، وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ، فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ، فَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، وَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ، فَقَالَ: «صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَ مَعَهُمْ فَصَلِّ، وَلَا تَقُلْ: إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلَا أُصَلِّي» (1) . [1: 95]

ابوالعالیہ براء بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ابن زیاد نے ایک نماز تاخیر سے ادا کی تو عبداللہ بن صامت میرے پاس تشریف لائے میں نے ان کےلئے کرسی رکھی وہ اس پر تشریف فرما ہوئے۔ میں نے ان کےسامنے ابن زیاد کے اس عمل کا تذکرہ کیا‘ تو وہ اپنے ہونٹ چبانے لگے پھر انہوں نے اپنی ہاتھ میرے زانو پر مارا اور بولے: میں نے حضرت ابوذرغفاریؓ سے ایک سوال کیا‘ تو انہوں نے میرے زانو پر اسی طرح ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمہارے زانو پر ہاتھ مارا ہے‘ پھر انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرمﷺ سے سوال کیاتھا جس طرح تم نے مجھ سے سوال کیا ہے‘ تو نبی اکرمﷺ نےمیرے زانو پر اسی طرح ہاتھ مارا تھا جس طرح میں نے تمہارے زانو پر ہاتھ مارا ہے‘ پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ ( اس طرح کی صورت حال میں ) تم نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لو اگر تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز ملے‘ تو تم اسے بھی ادا کر لو تم یہ نہ کہو‘ میں نماز ادا کر چکا ہوں اس لئے اب نہیں پڑھوں گا۔‘‘

أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 2406

All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr