صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ اِعَادَۃِ الصَّلَاۃِ · حديث 2395
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ الْعَامِرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ مِنْ مِنًى، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ إِذَا رَجُلَانِ (1) فِي آخِرِ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا، فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ: «مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟» قَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلَا، إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا، ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلِّيَا مَعَهُمْ، فَإِنَّهَا لَكُمْ نَافِلَةٌ» (2) . [4: 49]
جابر بن یزید عامری اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نبی اکرمﷺ کے حج میں شریک ہوا تھا۔ میں نے ’’ منیٰ ‘‘ میں مسجد خیف میں صبح کی نماز آپ کی اقتداء میں ادا کی جب نبی اکرمﷺ نےنماز مکمل کی تو لوگوں کے پیچھے دو ایسے افراد موجود تھے‘ جنہوں نے نماز ادا نہیں کی تھی۔ ان دونوں کو لایا گیا تو وہ کانپ رہے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: تم نے ہمارے ساتھ نماز ادا کیوں نہیں کی۔ انہوں نے عرض کی: ہم اپنی رہائشی جگہ پر پہلے ہی نماز ادا کر چکے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو جب تم اپنی رہائشی جگہ پر نماز ادا کر چکے ہو اور پھر تم باجماعت نماز والی مسجد میں آؤ تو ان لوگوں کے ساتھ بھی نماز ادا کرو یہ تمہارے لئے نفل ہو جائے گی۔
أَبِيهِ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ الْعَامِرِيِّ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← هُشَيْمٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولَابِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،
Hadith 2395
