Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ · حديث 1277

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ بِالْبَصْرَةِ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْكَرْمَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ تَغْلِبَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ قَالَ كَتَبَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا من الميتة بإهاب ولا عصب1.

حضرت عبد اللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے ایک مہینہ پہلے ہمیں یہ خط لکھا تھا کہ جس میں یہ تحریر تھا۔ "تم لوگ مردار کی کھال اور اس کے پٹھوں سے نفع حاصل نہ کرو"۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← اَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ← حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← بِشْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْكِرْمَانِيُّ، ← عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ بِالْبَصْرَةِ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ

Hadith 1277

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ · حديث 1278

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا، الْحَکَمُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلٰی یُحَدِّثُ، : عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُکَیْمٍ الْجُھَنِیِّ قَالَ قُرِءَ عَلَیْنَا کِتَابُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِاَرْضِ جُھَیْنَۃَ اَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَیْتَۃِ بِاِھَابٍ وَّلَا عصب۔

حضرت عبداللہ بن عکیم جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمارے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پڑھ کے سنایا گیا۔ ہم اس وقت جہینہ کی سرزمین پر موجود تھے۔ (اس میں تحریر تھا)

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ الْجُهَنِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 1278

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ · حديث 1279

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَشْيَخَةٌ لَنَا مِنْ جُهَيْنَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِمْ " أَنْ لَا تَسْتَمْتِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بشيء 2.

۔ حضرت عبد اللہ بن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: جہینہ سے تعلق رکھنے والے ہمارے بزرگوں نے یہ بات ہمیں بتائی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو خط میں یہ تحریر کیا تھا۔ "تم لوگ مردار کی کسی بھی چیز سے فائدہ حاصل نہ کرو"۔ (امام) ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) روایت میں یہ الفاظ کہ "جہینہ" قبیلے سے تعلق رکھنے والے ہمارے بزرگوں نے یہ بات بتائی ہے۔ اس نے بہت سے لوگوں کو اس غلط فہمی کا شکار کیا ہے کہ یہ روایت متصل نہیں ہے، جبکہ ہم اپنی کتابوںمیں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ بعض اوقات صحابہ کرام، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں بھی آپ کی زبانی کوئی بات سنتے ہیں اور پھر وہ اسی بات کو ایسے شخص کے حوالے سے سن لیتے ہیں جو اس صحابی سے زیادہ مرتبے کا مالک ہوتا ہے اور اس کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتے ہیں تو بعض اوقات وہ ایسی روایت نقل کرتے ہیں جس میں وہ خو د موجود تھے اور بعض اوقات وہ اس شخص کے حوالے سے روایت نقل کرتے ہیں جس سے انہوں نے سنا تھا، کیا آپ نے غور کیا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اس وقت موجود تھے جب حضرت جبرائیل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کے بارے میں سوال کیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے یہ روایت حضرت عمر بن خطاب سے بھی سنی ہے، تو ایک مرتبہ انہوں نے وہ روایت بیان کی جس میں وہ خود موجود تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے اسے اپنے والد کے حوالےسے سنی ہوئی روایت کے طور پر بیان کر دیا۔ اسی طرح عبد اللہ بن عکیم بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خط کے وقت موجود تھے جب جہینہ قبیلے میں ان لوگوں کے سامنے اس خط کو پڑھا گیا تھا اور انہوں نے جہینہ قبیلے کے مشائخ کو بھی یہ بات ذکر کرتے ہوئے سنا تو ایک مرتبہ انہوں نے وہ روایت نقل کردی جس میں وہ موجود تھے اور ایک مرتبہ وہ کردی جس کو انہوں نے سناتھا تو اب اس روایت میں کوئی انقطاع نہیں ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عکیم کی نقل کردہ روایت کے یہ الفاظ "تم مردار کی کھال یا پٹھے سے نفع حاصل نہ کرو" اس مردا یہ ہے کہ تم دباغت سے پہلے ایسا نہ کرو۔ اس بات کے صحیح ہونے کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: "جس بھی کھال کی دباغت کر لی جائے وہ پاک ہوجاتی ہے"۔

مَشْيَخَةٌ لَنَا مِنْ جُهَيْنَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Hadith 1279

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ · حديث 1280

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ قَالَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَاتَتْ شَاةٌ لَزَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ1، فَقَالَ: "أَلَا انْتَفَعْتُمْ بِمَسْكِهَا"؟ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَسْكُ مَيْتَةٍ؟! قَالَ فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " {قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّماً عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً} إلى آخر الآية [الأنعام: 145] ؛ إِنَّكُمْ لَسْتُمْ تَأْكُلُونَهُ". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَبَعَثَتْ إِلَيْهَا فَسُلِخَتْ فَجَعَلَتْ مِنْ مَسْكِهَا قِرْبَةً قَالَ ابن عباس فرأيتها بعد سنة2.

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ کی بکری مر گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے ہاں تشریف لائے انہوں نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی کھال سے نفع حاصل کیوں نہیں کرتے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا مردار کی کھال سے راوی بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت تلاوت کی۔ "تم یہ فرمادو جو چیز میری طرف کی گئی ہے اس میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جو کھانے والے کے لئے حرام ہو ماسوائے اس کے کہ وہ مردار ہو"۔ یہ آیت آخر تک تلاوت کی (پھر آپ نے ارشاد فرمایا:) لوگ اسے کھا نہیں رہے۔ حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پھر اس خاتون نے اس کی کھال کو بھجوایا اس کی دباغت کی گئی اور اس کی کھال سے مشکیزہ بنا لیا گیا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے ایک سال کے بعد وہ مشکیزہ دیکھا تھا۔

مَاتَتْ شَاةٌ لَزَوْجَةِ النَّبِيِّ فَأَتَاهَا النَّبِيُّ فَأَخْبَرَتْهُ1، فَقَالَ: "أَلَا انْتَفَعْتُمْ بِمَسْكِهَا"؟ فَقَالَتْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Hadith 1280

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ · حديث 1281

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَاتَتْ شَاةٌ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَتْ فُلَانَةٌ يَعْنِي الشَّاةَ قَالَ: "فَهَلَّا أَخَذْتُمْ مَسْكَهَا" قَالَتْ: فَنَأْخُذُ مَسْكَ شَاةٍ مَاتَتْ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّمَا قَالَ: {قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّماً} -إِلَى آخِرِ الْآيَةِ- لَا بَأْسَ أَنْ تَدْبُغُوهُ فَتَنْتَفِعُوا بِهِ". قَالَ فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا فَسَلَخَتْ مَسْكَهَا فَاتَّخَذَتْ مِنْهَا قِرْبَةً حَتَّى تحرقت1.

۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہما کی بکری مرگئی۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! فلاں مرگئی ہے یعنی بکری، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی کھال کیوں نہیں حاصل کرتے۔ انہوں نے عرض کی: کیا ہم ایک ایسی بکری کی کھال حاصل کریں جو مر گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (اللہ تعالیٰ) نے ارشاد فرمایا ہے: "تم یہ فرمادو! جو چیز میری وحی کی گئی ہے میں اس میں کوئی چیز حرام نہیں پاتا"۔ یہ آیت کے آخر تک ہے۔ (پھرنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تم اس کی دباغت کرکے نفع حاصل کرلو۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ہم نے اسے اس خاتون کی طرف اسے بھجوایا تو انہوں نے اس کی کھال کی دباغت کی اور اس سے مشکیزہ بنا لیا یہاں تک کہ وہ جل گیا۔

مَاتَتْ شَاةٌ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فَقَالَتْ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1281

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ · حديث 1282

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ2 قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم مَرَّ بِشَاۃٍ مَیْتَۃٍ قَالَ: ھَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِجِلْدِھَا؟ قَالُوْ یَا رُسُوْلَ اللہِ ، اِنَّھَا مَیْتَۃٌ ، قَالَ: اِنَّمَا حُرِّمَ أَکْلُھَا۔

۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اس کی کھال سے فائدہ حاصل کیوں نہیں کرتے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ مردار ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کھانے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 1282

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ · حديث 1283

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ حدثنا حجاج عن بن جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ مُنْذُ حِينٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ شَاةً لَهُمْ [مَاتَتْ] ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هلا دبغتم إهابها فاستمتعتم به" 2.

حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے، ان کی ایک بکری مرگئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اس کی کھال کی دباغت کرکے اس سے فائدہ حاصل کیوں نہیں کرتے۔

النَّبِيُّ "هلا دبغتم إهابها فاستمتعتم به" ← حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ أَنَّ شَاةً لَهُمْ [مَاتَتْ] ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ مُنْذُ حِينٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← بن جُرَيْجٍ ← حجاج، ← يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ،

Hadith 1283

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ · حديث 1284

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قال أخبرنا بن وهب قال حدثنا يونس عن بن شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الله عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَدَ شَاۃً مَیْتَۃً اُعْطِیَتْھَا مَوْلَاۃٌ لِمَیْمُوْنَۃَ مِنَ الصَّدَقَۃِ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ھَلَّا انْتَفَعْتُمُ بِجِلُدِھَا ؟ قَالُوْا اِنَّھَا مَیْتَۃٌ قَالَ: اِنَّمَا حُرِّمَ اَکْلُھَا۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی بکری کو مردار پایا جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہما کی کنیز کو صدقے میں سے دی گئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اس کی کھال سے نفع حاصل کیوں نہیں کرتے۔ لوگوں نے عرض کی: یہ مردار ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کھانے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بن قتيبة

Hadith 1284

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ · حديث 1285

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ2 بْنُ بَحْرٍ الْبَزَّارُ قَالَ حَدَّثَنَا بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابن عباس عَنْ مَّیْمُوْنَۃَ قَالَتْ: : مَرَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشَاۃٍ مِنَ الصَّدَقَۃِ مَیْتَۃٍ اُعْطِیَتْھَا مَوْلَاۃٌ لِمَیْمُوْنَۃَ ، فَقَالَ: اَلَا اَخَذُوْا اِھَابَھَا فَدَبِغُوْھَا فَانْتَفَعُوا بِھَا ؟ فَقَالُوْا یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَیْتَۃٌ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّمَا حرم اٗکلھا

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہما یہ بات بیان کرتی ہیں۔ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صدقے کی ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے جو سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کنیز کو دی گئی تھی۔ آپ نے ارشاد فرمایا: انہوں نے اس کی کھال حاصل کرکے اس کی دباغت کرکے اس سے نفع حاصل کیوں نہیں کیا لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ مردار ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کھانے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

اَلَا اَخَذُوْا اِھَابَھَا فَدَبِغُوْھَا فَانْتَفَعُوا بِھَا ← مَرَّ رَسُوْلُ اللہِ بِشَاۃٍ مِنَ الصَّدَقَۃِ مَیْتَۃٍ اُعْطِیَتْھَا مَوْلَاۃٌ لِمَیْمُوْنَۃَ ← مَيْمُونَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرٍ الْبَزَّارُ

Hadith 1285

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ · حديث 1286

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ الرُّوَاسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أُمِّهِ2، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ 3.

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا حکم دیا ہے، مردار کی کھال کو دباغت کے بعد استعمال کر لیا جائے۔

عَائِشَةَ ← أُمِّهِ2، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ← مَالِكٍ، ← زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ الرُّوَاسِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1286

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ · حديث 1287

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَيُّمَا إهاب دبغ فقد طهر" 1.

۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علی وسلم نے ارشاد فرمایا: "جس بھی کھال کی دباغت حاصل کرلی جائے، تو وہ پاک ہوجاتی ہے"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 1287

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ · حديث 1288

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ قال حدثنا بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ قَالَ سمعت بن وَعْلَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "أَيُّمَا إهاب دبغ فقد طهر" 1.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "جس بھی کھال کی دباغت حاصل کرلی جائے وہ پاک ہوجاتی ہے"۔

"أَيُّمَا إهاب دبغ فقد طهر" ← رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← بن وَعْلَةَ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Hadith 1288

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr