صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3002
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "اقرؤوا على موتاكم يس" 1. [102:1] قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَوْلُہُ : اقْرَاءُ عاعَلٰی مَوْتَاکُمْ یس ، اَرَادَ بِہٖ مَنْ حَضَرَتْہُ الْمَنِیَّۃُ لَا اَنَّ الْمَیِّتَ یُقْرَاُ عَلَیْہِ وَکَذٰلِکَ قَوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَقِّنُوْا مَوْتَاکُمْ لَا اِلَہَ اِلَّا اللہُ
حضرت معقل بن یساررضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " اپنے قریب المرگ لوگوں پر سورۃ یسٰین کی تلات کرو۔" (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان"تم اپنے مردوں پر اسے پڑھو، اس سے مرادیہ ہے: جس شخص کا آخری وقت قریب آچکا ہو اس پر سورت یسٰین پڑھو، اس کی وجہ یہ ہے: مردوں پر تلاوت نہیں کی جاتی۔ اسی طرح نبی اکرم کا یہ فرمان:" تم اپنے مردوں کو لا الہٰ الا اللہ کی تلقین کرو" (یعنی قریب المرگ لوگوں کو اس کی تلقین کرو۔
مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبُو عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← اَبُوْ بَکْرِ بْنِ خَلَّادٍ الْبَاھِلِیُّ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ
Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3002
