Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3002

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "اقرؤوا على موتاكم يس" 1. [102:1] قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَوْلُہُ : اقْرَاءُ عاعَلٰی مَوْتَاکُمْ یس ، اَرَادَ بِہٖ مَنْ حَضَرَتْہُ الْمَنِیَّۃُ لَا اَنَّ الْمَیِّتَ یُقْرَاُ عَلَیْہِ وَکَذٰلِکَ قَوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَقِّنُوْا مَوْتَاکُمْ لَا اِلَہَ اِلَّا اللہُ

حضرت معقل بن یساررضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " اپنے قریب المرگ لوگوں پر سورۃ یسٰین کی تلات کرو۔" (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان"تم اپنے مردوں پر اسے پڑھو، اس سے مرادیہ ہے: جس شخص کا آخری وقت قریب آچکا ہو اس پر سورت یسٰین پڑھو، اس کی وجہ یہ ہے: مردوں پر تلاوت نہیں کی جاتی۔ اسی طرح نبی اکرم کا یہ فرمان:" تم اپنے مردوں کو لا الہٰ الا اللہ کی تلقین کرو" (یعنی قریب المرگ لوگوں کو اس کی تلقین کرو۔

مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبُو عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← اَبُوْ بَکْرِ بْنِ خَلَّادٍ الْبَاھِلِیُّ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3002

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3003

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ قَوْلَ لَا إِلَهَ إلا الله" 1. [102:1]

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " اپنے قریب المرگ لوگوں کو لا الہٰ الا اللہ پڑھنے کی تلقین کرو۔"

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3003

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3004

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنِ الْأَغَرِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِنَّهُ مَنْ كَانَ آخِرُ كَلِمَتِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عِنْدَ الْمَوْتِ دَخَلَ الْجَنَّةَ يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ وإن أصابه قبل ذلك ما أصابه" 1. [102:1]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " اپنے قریب المرگ لوگوں کو لا الہٰ الا اللہ پڑھنے کی تلقین کرو، کیونکہ جس شخص کا مرنے کے قریب آخری کلمہ لا الہٰ الا اللہ ہو وہ آخر کار جنت میں داخل ہو گا اگر چہ اس سے پہلے اسے جس قسم کے بھی (عذاب کا سامنا کرنا پڑے)"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَغَرِّ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3004

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3005

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَيِّتَ فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى مَا تَقُولُونَ" قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَقُولُ؟ قَالَ: "قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَأَعْقِبْنَا عُقْبَى صَالِحَةً" قَالَتْ: فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم1. [104:1]

سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی : جب تم کسی میت کے پاس جاو، تو اچھی بات کہو، کیونکہ تم لوگ جو کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہی۔ سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب (میرے سابقہ شوہر) حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہہ کا انتقال ہوا، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! اب میں کیا پڑھوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم یہ کہو: "اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر اور ہمیں اس کی جگہ اچھابدل عطا کر"۔ سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کی جگہ حضرت محمد ﷺ (بطور شوہر ) عطا کر دئیے۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3005

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3006

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ1 بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ قال: حدثنا بن وَهْبٍ عَنْ أَبِي يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنَّا2 مَقْدَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حُضِرَ الْمَيِّتُ آذَنَّاهُ فَحَضَرَهُ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ حَتَّى يُقْبَضَ فَإِذَا قُبِضَ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ فَرُبَّمَا طَالَ ذَلِكَ مِنْ حَبْسِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا خَشِينَا مَشَقَّةَ ذَلِكَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِبَعْضٍ وَاللَّهِ لَوْ كُنَّا لَا نُؤْذِنُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَحَدٍ3 حَتَّى يُقْبَضَ فَإِذَا قُبِضَ آذَنَّاهُ فَلَمْ يَكُنْ فِي ذلك مشقة عليه ولا حرص قَالَ فَفَعَلْنَا فَكُنَّا لَا نُؤْذِنُهُ4 إِلَّا بَعْدَ أَنْ يَمُوتَ فَيَأْتِيهِ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ فَرُبَّمَا انْصَرَفَ عِنْدَ ذَلِكَ وَرُبَّمَا مَكَثَ حَتَّى يُدْفَنَ الْمَيِّتُ قَالَ: وَكُنَّا عَلَى ذَلِكَ حِينًا ثم قلنا: وَاللہِ لَوْ اَنَّا لَا نُحْضِرُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَحَمَلْنَا اِلَیْہِ جَنَائِزَ مَوْتَانَا حَتّٰی یُصَلِّیَ عَلَیْھَا عِنْدَ بَیْتِہٖ ، لَکَانَ ذٰلِکَ اَرْفَقَ بِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَاَیْسَرَ عَلَیْہِ فَفَعَلْنَا ذٰلِکَ فَکَانَ الْاَمْرُ اِلَی الْیَوْمِ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: پہلے ہم لوگوں کا یہ معمول تھا کہ جب کسی شخص کا آخری وقت قریب آتا، تو ہم نبی اکرم ﷺ کو اس کی اطلاع دے دیتے تھے نبی اکرم ﷺ اس شخص کے پاس تشریف لاتے تھے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتےرہتے تھے، یہاں تک کہ جب اس کا انتقال ہو جاتا ، تو نبی اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھی واپس تشریف لے جایا کرتے تھے بعض اوقات نبی اکرم ﷺ کو خاصی دیر رکنا پڑتاتھا ہمیں اس حوالے سے آپ ﷺ کے لیے دشواری کا اندیشہ ہوا، تو کسی نے دوسرے سے کہا: اللہ کی قسم! اب ہم نبی اکرم ﷺ کو کسی بھی شخص کے بارے میں اس وقت تک اطلاع نہیں دیں گے جب تک اس کا انتقال نہیں ہو جاتا جب اس کا انتقال ہو جائے گا، تو ہم نبی اکرمﷺ کو اس بات کی اطلاع دیں گے، تاکہ نبی اکرمﷺ کو اس حوالے سے مشقت کا سامنا نہ کرنا پڑے اور خاصی دیر تک نہ رکنا پڑے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے ایسا ہی کیا اس کے بعد ہم نبی اکرم ﷺ کو متعلقہ شخص کے انتقال کے بعد اطلاع دینے لگے۔ نبی اکرم ﷺ اس شخص کے پاس تشریف لاتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے بعض اوقات آپ ﷺ اسی وقت واپس تشریف لے جاتے اور بعض اوقات آپ ﷺ ٹھہرے رہتے،یہاں تک کہ میت کو دفن کیا جاتا۔ راوی کہتے ہیں: ہم ایک عرصے تک ایسا ہی کرتے رہے پھر ہم نے سوچا اللہ کی قسم! اب ہم نبی اکر مﷺ کو نہیں بلوائیں گے بلکہ اپنے مرُدوں کےجنازے اٹھا کر لے جایا کریں گے، تا کہ نبی اکرم ﷺ اپنے گھر کے پاس ہی اس کی نماز جنازہ ادا کرلیں یہ چیز نبی اکرم ﷺ کے لیے زیادہ آسانی اور سہولت کا باعث ہو گی، تو پھر ہم نے ایسا ہی کرنا شروع کر دیا اور اس کے بعد آج تک ایسا ہی ہوتا آرہا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ← أَبِي يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ ← بن وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3006

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3007

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ1 قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَتْ جَنَازَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ" قُلْنَا: مَا يَسْتَرِيحُ وَيُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ وَيَسْتَرِيحُ مِنْ أَوْصَابِ الدُّنْيَا وَبَلَائِهَا وَمُصِيبَاتِهَا وَالْكَافِرُ يَمُوتُ فيستريح منه العباد والبلاد والشجر والدواب" 2. [66:3]

حضرت ابو قتا دہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران ایک جنازہ سامنے آیا، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یا تو اس نے راحت حاصل کر لی ہے یا پھر اس سے راحت حاصل کر لی گئی ہے۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! اس نے کیا راحت حاصل کی ہوگی یا اس سے کیسے راحت حاصل کی گئی ہو گی، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب مومن کا انتقال ہوتا ہے، تو وہ دنیا کی تکلیفوں ، پریشانیوں اور مصیبتوں سے راحت حاصل کر لیتا ہے اور جب کافر کا انتقال ہوتا ہے، تو لوگ ، شہر، درخت اور جانور اس سے راحت حاصل کرتے ہیں۔

النَّبِيُّ "مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ" قُلْنَا: مَا يَسْتَرِيحُ وَيُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟ ← كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ إِذْ طَلَعَتْ جَنَازَةٌ ← أَبِي قَتَادَةَ، ← مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَحْمد بن بكار ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3007

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3008

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ لَمْ يُحِبَّ لِقَاءَ اللَّهِ لَمْ يُحِبَّ الله لقاءه" 1. [70:3]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند نہیں کرتا اللہ تعالی ٰ بھی اس کی حاضری کو پسند نہیں کرتا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3008

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3009

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بن سريج النفال قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ" فَقَالَتْ عَائِشَةُ:إِنَّا نَكْرَهُ الْمَوْتَ فَذَاكَ كَرَاهِيَتُنَا لِقَاءَ اللَّهَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حُضِرَ فَبُشِّرَ بِمَا أَمَامَهُ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَإِنَّ الكافر إذا حضر فبشره بِمَا أَمَامَهُ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لقاءه" 1. [70:3]

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ ، حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو نا پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو نا پسند کرتا ہے ، تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ہم تو موت کو پسند نہیں کرتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی بارگا ہ میں حاضری کو پسند نہیں کرتے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جی نہیں! جب مومن کا آخری وقت قریب آتا ہے ، تو اسے آگے (ملنے والی نعمتوں) کے بارے میں خوشخبری دی جاتی ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جب کافر کا آخری وقت قریب آتا ہے، تو اسے آگے (ملنے والے عذاب وغیرہ) کے بارے میں بتایا جاتا ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے۔"

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الْحَارِثُ بن سريج النفال ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3009

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3010

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ الله أحب الله لقاءه ومن كره الله لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ" قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ فَكُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ؟ قَالَ: "لَيْسَ كَذَلِكَ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا بُشِّرَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَرِضْوَانِهِ وَجَنَّتِهِ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَسَخَطِهِ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وكره الله لقاءه" 1. [70:3]

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ کے ارشاد فرمایاہے: " جو شخص اللہ تعالی ٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو نا پسند کرتا ہے اللہ تعالی ٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے۔ سیّدہ عا ئشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی ﷺ کیا اس سے مراد موت کو نا پسند کرنا ہے؟ ہم میں سے ہرایک موت کو نا پسند کرتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایس نہیں ہے بلکہ جب مومن کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کی رضا مندی اور جنت کے حوالے سے خوشخبری دی جاتی ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جب کافر کو اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضگی کے بارے میں بتا یا جاتا ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو نا پسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو نا پسند کرتا ہے۔"

عَائِشَةَ ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3010

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3011

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ دَخَلَ فَرَأَى ابْنًا لَهُ يَرْشَحُ جَبِينُهُ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يقول: "يموت المؤمن بعرق الجبين" 1. [66:3]

عبداللہ بن بریرہ اپنے والد کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: وہ (گھر میں ) داخل ہوئے، تو انہو ں نے اپنے بیٹے کو دیکھا کہ (موت کے قریب) اس کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ رہا تھا، انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: مومن کا انتقال پیشانی کے پسینے کے ہمراہ ہوتا ہے۔

"يموت المؤمن بعرق الجبين" ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ أَنَّهُ دَخَلَ فَرَأَى ابْنًا لَهُ يَرْشَحُ جَبِينُهُ فَقَالَ: ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← قَتَادَةَ ← الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3011

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3012

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ: "مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ" فَقَالُوا:يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنِ الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟ فَقَالَ: "الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ الْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ والبلاد والشجر والدواب" 1. [70:3]

حضرت ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ راحت حاصل کرنے والا ہے یا اس سے راحت حاصل کر لی گئی ہے۔ لوگوں نے عرض کی: کون شخص راحت حاصل کرنے والا ہے اور کون وہ ہے، جس سے راحت حاصل کر لی گئی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومن بندہ دنیا کی پریشانیوں اور تکلیفوں سے راحت حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف چلا جاتا ہے اور جس سے راحت حاصل کی جائے وہ کافر بندہ ہے، جس سے لوگ، شہر، درخت اور جانور راحت حاصل کرتے ہیں۔

أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ أَنَّهُ كَانَ ← مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3012

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3013

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم قال: "الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ حَضَرَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ فَإِذَا قُبِضَتْ نَفْسُهُ جُعِلَتْ فِي حَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ فَيُنْطَلَقُ بِهَا إِلَى بَابِ السَّمَاءِ فَيَقُولُونَ مَا وَجَدْنَا رِيحًا أَطْيَبَ مِنْ هَذِهِ فَيُقَالَ دَعُوهُ يَسْتَرِيحُ فَإِنَّهُ كَانَ فِي غَمٍّ فَيُسْأَلُ مَا فَعَلَ فُلَانٌ مَا فَعَلَ فُلَانٌ مَا فَعَلَتْ فُلَانَةُ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَإِذَا قُبِضَتْ نَفْسُهُ وَذُهِبَ بِهَا إِلَى بَابِ الْأَرْضِ يَقُولُ خَزَنَةُ الْأَرْضِ مَا وَجَدْنَا رِيحًا أَنْتَنَ مِنْ هَذِهِ فَتَبْلُغُ بها إلى الأرض السفلى" 1 قَالَ قَتَادَۃَ : وَحَدَّثَنِیْ رَجُلٌ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ اَرْوَاحُ الْمُؤْمِنِینَ تُجْمَعُ بِالْجَابِیَتِیْنِ ، وَاَرْوَاحُ الْکُفَّارِ تُجْمَعُ بِبُرْھُوتَ : سَبِخَۃٌ بِحَضْرَمَوْتَ۔ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : ھٰذَا الْخَبَرُ رَوَاہُ مُعَاذُ بْنُ ھِشَامٍ ، عَنْ اَبِیْہِ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ قَسَامَۃ بْنِ زُھَیْرٍ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، نَحْوَہُ مَرْفُوعًا۔ الْجَابِیَتَانِ بِالْیَمَنِ ، وَبُرْھُوتَ مِنْ نَاحِیَۃِ الْیَمَنِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب مومن کا آخری وقت قریب آتا ہے، تو رحمت کے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں جب اس کی جان قبض کر لی جاتی ہے، تو اسے سفید رنگ کے کپڑے میں رکھا جاتا ہے فرشتے اسے لے کر آسمان کے دروازے کی طرف جاتے ہیں وہ (یعنی پہلے آسمان کے فرشتے) یہ کہتے ہیں: ہم نے اس سے زیادہ پاکیزہ بو کبھی محسوس نہیں کی، تو یہ کہا جاتا ہے اسے چھوڑ دو اس نے راحت حاصل کر لی ہے، کیونکہ پہلے یہ غم (کی دنیا) میں تھا، تو دریافت کیا جاتا ہے :فلاں نے کیاعمل کیا فلاں نے کیا عمل کیا اور فلاں عورت نے کیا عمل کیا اور جب کافر شخص کی جان قبض کی جاتی ہے، تو اس لے کر زمین کے دروازے پرآیا جاتا ہے زمین کے نگران کہتے ہیں: ہم نے اس سے زیادہ بدبو دار کوئی چیز محسوم نہیں کی پھر و ہ اسے لے کر زمین کے سب سے نچلے طبقے تک جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں۔" ایل ایمان کی روحیں"جابیتین" میں اکٹھی ہوئی ہیں اور کفا ر کی روحیں "برہوت " میں اکٹھی ہوتی ہیں جو "حضر موت" میں شور زدہ زمین ہے۔"(امام ابن حباب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) اس روایت کو معاذ بن ہشام نے اپنے والد کے حوالے سے قتادہ سے قسامہ بن زہیر کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ سے اسی کی مانند مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ جابیتین یمن میں ہے اور برہوت یمن کا نواحی علاقہ ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْجَوْزَاءِ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3013

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr