Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2407

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيُوتِرْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيُوتِرْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيُوتِرْ بِهَا، وَمَنْ شَقَّ عَلَيْهِ (1) ذَلِكَ فَلْيُومِئْ إِيمَاءً» (2) . [1: 42]

حضرت ابو ایوب انصاریؓ نبی اکرمؓ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ وتر حق ہیں جو شخص پانچ وتر ادا کرنا چاہے وہ ادا کر لے‘ جو شخص تین وتر ادا کرنا چاہے وہ انہیں ادا کر لے جو شخص ایک وتر ادا کرنا چاہے وہ اسے ادا کر لے اور جس شخص کےلئے اسے ادا کرنا دشواری کا باعث ہو وہ اشارے کےساتھ اسے پڑھ لے۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، ← عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 2407

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2408

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ (3) ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ وَلَمْ يُوتِرْ فَلَا وِتْرَ لَهُ» (1) . [3: 43]

حضرت ابو سعیدخدریؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص صبح صادق کو پالے اور اس نے وتر ادا نہ کئے ہوں تو اس کے وتر نہیں ہوتے۔‘‘

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 2408

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2409

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَأَوْتَرَ، فَلَمَّا كَانَتِ الْقَابِلَةُ اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ، وَرَجَوْنَا أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا، فَلَمْ نَزَلْ فِيهِ حَتَّى أَصْبَحْنَا، ثُمَّ دَخَلْنَا فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ، وَرَجَوْنَا أَنْ تُصَلِّيَ بِنَا، فَقَالَ: «إِنِّي خَشِيتُ - أَوْ كَرِهْتُ - أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمُ الْوِتْرُ» (1) . [5: 29] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَذَانِ خَبَرَانِ لَفْظَاهُمَا مُخْتَلِفَانِ، وَمَعْنَاهُمَا مُتَبَايِنَانِ، إِذْ هُمَا فِي حَالَتَيْنِ فِي شَهْرَيْ رَمَضَانَ (2) ، لَا فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ فِي شَهْرٍ وَاحِدٍ»

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے رمضان کےمہینے میں ہمیں آٹھ رکعات پڑھائیں پھر آپ نے وتر ادا کئے پھر جب اگلی رات آئی تو لوگ مسجد میں اکھٹے ہو گئے ہمیں یہ امید تھی‘ آپ ہمارے پاس تشریف لائیں گے۔ ہم اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی پھر ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! ہم مسجد میں اکھٹے ہوئے تھے۔ ہمیں یہ امید تھی‘ آپ ہمیں نماز پڑھائیں گے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ مجھے یہ اندیشہ ہوا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) میں نےاس بات کو ناپسند کیا تم پر وتر لازم کر دیا جائے۔‘‘ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) ان دونوں روایات کے الفاظ ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ان دونوں کا مفہوم ایک دوسرے سے مختلف ہے کہ یہ دو مختلف رمضانوں میں دو مختلف حالتوں میں پیش آئی تھیں ایسا نہیں ہے کہ ایک ہی مہینے میں ایک ہی حالت میں واقعہ پیش آیا تھا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، ← يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2409

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2410

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِخَمْسٍ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِثَلَاثٍ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ» (1) . [5: 34]

حضرت ابو ایوب انصاریؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ وتر حق میں جو شخص چاہے وہ پانچ وتر ادا کرے اور جو چاہے تین ادا کرے اور جو چاہے وہ ایک وتر ادا کرے۔‘‘

أَبِي أَيُّوبَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 2410

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2411

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيُوتِرْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيُوتِرْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيُوتِرْ بِهَا، وَمَنْ غَلَبَهُ ذَلِكَ فَلْيُومِئْ إِيمَاءً» (2) . [5: 34]

حضرت ابو ایوب انصاریؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ وتر حق میں جو شخص پانچ وتر ادا کرنا چاہے وہ انہیں ادا کر لے اور جو تین ادا کرنا چاہے وہ انہیں ادا کر لے اور جو شخص ایک وتر ادا کرنا چاہے وہ اسے ادا کر لے اور جو شخص انہیں ادا نہ کر سکتا ہو وہ انہیں اشارے کے ساتھ پڑھ لے۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، ← عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 2411

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2412

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ «كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ، وَيَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ» (1) . [5: 34]

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے۔ وہ اونٹ پر ہی وتر ادا کر لیتے تھے اور یہ بات ذکر کرتے تھے‘ نبی اکرمﷺ بھی ایسا کر لیا کرتےتھے۔

ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ «كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ، وَيَذْكُرُ ← نَافِعٍ ← الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ،

Hadith 2412

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2413

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: أَيْنَ كُنْتَ؟ فَقُلْتُ: خَشِيتُ الْفَجْرَ فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ، فَقَالَ: «أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ؟» فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: «فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ» (2) . [5: 34]

سعید بن یسار بیان کرتے ہیں: میں حضرت عبداللہ عمرؓ کے ساتھ مکہ کے راستے میں سفر کر رہا تھا جب مجھے صبح صادق قریب ہونے کا اندیشہ ہوا‘ تو میں سواری سے اترا اور میں نے وتر ادا کر لئے پھر میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے پاس پہنچا تو حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے مجھ سے دریافت کیا: تم کہاں رہ گئے تھے۔ میں نے جواب دیا: مجھے یہ اندیشہ ہوا‘ صبح صادق ہونے والی ہے۔ اس لئے میں سواری سے اترا اور میں نے وتر ادا کر لئے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے دریافت کیا: کیا تمہارے لئے اللہ کے رسول کے طریقے میں نمونہ نہیں ہے۔ میں نے جواب دیا: جی ہاں ہے۔ انہوں نے فرمایا: نبی اکرمﷺ اونٹ پر ہی وتر ادا کر لیتے تھے۔

سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 2413

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2414

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَهُ الصُّبْحُ فَلَمْ يُوتِرْ، فَلَا وِتْرَ لَهُ» (1) . [5: 34]

حضرت ابوسعیدخدریؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جس شخص کو صبح صادق ہو جائے اور اس نے وتر ادا نہیں کئے ہوں تو اس کے وتر نہیں ہوتے۔‘‘

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Hadith 2414

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2415

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ، وَأَوْتَرَ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الْقَابِلَةُ اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ، وَرَجَوْنَا أَنْ يَخْرُجَ فَيُصَلِّيَ بِنَا، فَأَقَمْنَا فِيهِ حَتَّى أَصْبَحْنَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجَوْنَا أَنْ تَخْرُجَ فَتُصَلِّيَ بِنَا، قَالَ: «إِنِّي كَرِهْتُ - أَوْ خَشِيتُ - أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمُ الْوِتْرُ» (2) . [5: 34]

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ہمیں رمضان کے مہینے میں آٹھ رکعات پڑھائیں اور وتر ادا کیے اور جب اگلی رات آئی تو ہم لوگ مسجد میں اکھٹے ہو گئے۔ ہمیں یہ امید تھی‘ آپ تشریف لا کر ہمیں نماز پڑھائیں گے ہم وہاں ٹھہرے رہے‘ یہاں تک کہ صبح ہو گئ ( اگلے دن ) ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! ہمیں یہ امید تھی‘ آپ تشریف لا کر ہمیں نماز پڑھائیں گے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نے اس بات کو ناپسند کیا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) مجھے اس بات کا اندیشہ ہوا‘ وتر تم پر لازم ہو جائیں گے۔‘‘

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، ← یَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْقُمِّیُّ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2415

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2416

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ بِحَلَبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمِ افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ مِنَ الصَّلَاةِ؟ قَالَ: «خَمْسُ صَلَوَاتٍ» ، قَالَ: هَلْ قَبْلَهُنَّ أَوْ بَعْدَهُنَّ شَيْءٌ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا» ، قَالَ: فَحَلَفَ الرَّجُلُ بِاللَّهِ: لَا يَزِيدُ عَلَيْهِنَّ وَلَا يَنْقُصُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ صَدَقَ دَخَلَ الْجَنَّةَ» (1) . [5: 34]

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! اللہ تعالیٰ نےاپنے بندوں پرکتنی نمازیں فرض کی ہیں۔ نبی اکرمﷺ نےفرمایا: پانچ نمازیں اس نے عرض کی: کیا ان سے پہلے یا ان کے بعد بھی کوئی چیز ہے۔ نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں راوی کہتا ہے: اس شخص نے اللہ کے نام کی قسم اٹھائی‘ وہ ان میں کوئی اضافہ یا کوئی کمی نہیں کرے گا۔ نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: اگر اس نے سچ کہا ہے‘ تو یہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔

أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا ← قَتَادَةَ ← خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ ← نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ بِحَلَبَ،

Hadith 2416

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2417

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنِ الْمُخْدَجِيِّ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ أَبَا مُحَمَّدٍ - رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ - عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: الْوِتْرُ وَاجِبٌ كَوُجُوبِ الصَّلَاةِ، فَأَتَى عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: كَذَبَ أَبُو (2) مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُوْلِ اللہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَھُنَّ اللہُ عَلٰی عِبَادِہٖ ، (مَنْ) لَمْ یَنْتِقِصْ مِنْھُنَّ شَیْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّھِنَّ ، فَاِنَّ اللہَ جَلَّ وَعَلَا جَاعِلٌ لَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَھْدًا اَنْ یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ ، وَمَنْ جَاءَ بِھِنَّ وَقَدِ انْتَقَصَ مِنْھُنَّ شَیْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّھِنَّ ، لَمْ یَکُنْ لَّہٗ عِنْدَ اللہِ شَیْءٌ ، اِنْ شَاءَ عَذَّبَہٗ ، وَاِنْ شَاءَ غَفَرَلَہٗ ۔(34:5)

مخدجی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے حضرت ابومحمدؓ سے ، جو انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی ہیں،وتر کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: نماز کے فرض ہونے کی طرح وتر بھی فرض ہیں۔ وہ شخص حضرت عبادہ بن صامتؓ کی خدمت میں حاضرہوا۔ ان کے سامنے اس بات کی تذکرہ کیا گیا تو وہ بولے: حضرت ابومحمدؓ نے غلط کہا ہے میں نے یہ بات نبی اکرمﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سناہے۔ ’’ پانچ نمازیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں جو شخص ان کے حق کو کم سمجھتے ہوئے ان میں کوئی کمی نہیں کرے گا‘ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کےلئے یہ عہد مقرر کرے گا کہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص انہیں ادا کرے گا اور ان کے حق کو کم سمجھتے ہوئے ان میں کمی کر دے تو ایسے شخص کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی عہد نہیں ہے ۔ اگر وہ چاہے گا‘ تو اسے عذاب دے گا اگر چاہے گا‘ تو اس کی مغفرت کر دے گا‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، ← ذَلِكَ لَهُ، ← الْوِتْرُ وَاجِبٌ كَوُجُوبِ الصَّلَاةِ، فَأَتَى عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، ← الْوَتْرِ ← سَأَلَ رَجُلٌ أَبَا مُحَمَّدٍ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ← الْمُخْدَجِيِّ ← ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 2417

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2418

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَاتٌ لَمَّا بَيْنَهُنَّ مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ» (1) . [5: 34]

حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ پانچ نمازیں‘ ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک‘ ان کے درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں جب تک کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 2418

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr