Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 611

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَاهِبٍ فَأَتَاهُ فقَالَ إِنَّهُ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ لَا فَقَتَلَهُ وَكَمَّلَ بِهِ مِائَةً ثُمَّ سَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فدل على رجل فقال إنه قتل مائة فَهَلْ لَهُ تَوْبَةٌ قَالَ نَعَمْ مَنْ يَحُولُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ ائْتِ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا فَإِنَّ بِهَا نَاسًا يَعْبُدُونَ اللَّهَ فَاعْبُدِ اللَّهَ وَلَا تَرْجِعْ إِلَى أَرْضِكَ فَإِنَّهَا أَرْضُ سُوءٍ فَانْطَلَقَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ الطَّرِيقَ أَتَاهُ الْمَوْتُ فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ فَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ جَاءَنَا تَائِبًا مُقْبِلًا بِقَلْبِهِ إِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا وَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ إِنَّهُ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَأَتَاهُ مَلَكٌ فِي صورة آدمي فجعلوه بينهم فقال قيسوا2- بَابُ التَّوْبَةِ ذِكْرُ الْخَبَرِ الدَّالِّ عَلَى أَنَّ النَّدَمَ تَوْبَةٌ [611] أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَاهِبٍ فَأَتَاهُ فقَالَ إِنَّهُ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ لَا فَقَتَلَهُ وَكَمَّلَ بِهِ مِائَةً ثُمَّ سَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فدل على رجل فقال إنه قتل مائة فَهَلْ لَهُ تَوْبَةٌ قَالَ نَعَمْ مَنْ يَحُولُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ ائْتِ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا فَإِنَّ بِهَا نَاسًا يَعْبُدُونَ اللَّهَ فَاعْبُدِ اللَّهَ وَلَا تَرْجِعْ إِلَى أَرْضِكَ فَإِنَّهَا أَرْضُ سُوءٍ فَانْطَلَقَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ الطَّرِيقَ أَتَاهُ الْمَوْتُ فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ فَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ جَاءَنَا تَائِبًا مُقْبِلًا بِقَلْبِهِ إِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا وَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ إِنَّهُ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَأَتَاهُ مَلَكٌ فِي صُورَةِ آدَمِيٍّ فَجَعَلُوهُ بَيْنَهُمْ فقَالَ قِيسُوا مَا بَیْنَ الْاَرْضِیْنِ اَیُّھُمَا کَانَ اَقْرَبَ فَھِیَ لَہٗ فَقَاسُوْہُ فَوَجَدُوہُ اَدْنَی اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ أراد فقبضتہ بھا ملائکۃ الرحمۃ ۔(00:0)

حضرت ابو سعید خدری ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم سے پہلے زمانے میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے لوگوں کو قتل کیا تھا۔ اس نے اس علاقے کے سب سے بڑے عالم کے بارے میں دریافت کیا‘ تو اس کی رہنمائی ایک راہت کی طرف کی گئی۔ وہ اس کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے ننانوے لوگوں کو قتل کیا ہے۔ کیا اس کے لئے توبہ کی گنجائش ہے۔ راہب نے جواب دیا : جی نہیں! تو اس شخص نے اس راہب کو بھی قتل کر دیا اور سو کی تعداد کو مکمل کر لیا پھر اس نے اس علاقے کے سب سے بڑے عالم کے باے میں دریافت کیا ‘ تو اس کی رہنمائی ایک شخص کی طرف کی گئی۔ اس نے بتایا : اس نے ایک سو لوگوں کو قتل کیا ہے۔ کیا اس کے لئے توبہ کی گنجائش ہے ؟ اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ! تمہارے اور توبہ کے درمیان کون سی چیز رکاوٹ بن سکتی ہے ؟ تم فلاں سرزمین میں چلے جاؤ وہاں کچھ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ۔ تم بھی اللہ تعالیٰ کی ( وہاں رہ کر ) عبادت کرنا اورواپس اپنی سرزمین کی طرف نہ آنا ‘ کیونکہ یہ برائی کی جگہ ہے۔ وہ شخص روانہ ہوا ‘ یہاں تک کہ جب وہ نصف راستے میں پہنچا ‘ تو اسے موت نے آلیا۔ اس کے بارے میں رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں کے درمیان اختلاف ہو گیا۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا: یہ شخص توبہ کرتے ہوئے خلوص دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف آتے ہوئے ‘ ہمارے پاس آیا ہے ۔ عذاب کے فرشتوں نے کہا: اس نے کبھی کوئی بھلائی نہیں کی پھر ایک فرشتہ ایک انسان کی شکل میں ان کے پاس آیا۔ ان لوگوں نے اسےاپنے درمیان ثالث تسلیم کیا ‘ تو فرشتے نے کہا: دونوں طرف کی زمین کو ناپ لو۔ ان میں سے جن کے زیادہ قریب ہو گا یہ اس کا حصہ شمار ہو گا ۔ ان فرشتوں نے اس زمین کو ناپا انہوں نے اس شخص کو اس زمین کے زیادہ قریب پایا جہاں وہ جا رہا تھا ‘ تو رحمت کے فرشتوں نے اسے قبضے میں لے لیا‘‘۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الصديق ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 611

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 612

أخبرنا بن نَاجِيَةَ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْتَامٍ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا مَالِكُ بن مغول عن منصور عن خيثمة عن بن مَسْعُودٍ قَالَ قِيلَ لَهُ أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ "النَّدَمُ توبة" قال نعم2. [1: 2]

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ان سےدریافت کیا گیا: آپ نےنبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ندامت توبہ ہوتی ہے ‘ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔

نَعَمْ ← "النَّدَمُ توبة" ← رَسُولِ اللَّهِ ← قِيلَ لَهُ أَنْتَ ← بن مَسْعُودٍ ← خيثمة ← مَنْصُورٌ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْحَرَّانِيُّ ← بن نَاجِيَةَ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْتَامٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 612

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 613

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا مَحْفُوظُ بْنُ أَبِي تَوْبَةَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ السهمي حدثنا بن وَهْبٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ قَالَ سَمِعْتُ حُمَيْدًا الطَّوِيلَ يَقُولُ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "الندم توبة"؟ قال نعم1. [1: 2]

حمید طویل بیان کرتی ہے : میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے دریافت کیا : کیا نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ؟ ’’ ندامت ‘ توبہ ہوتی ہے ‘‘ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں۔

نَعَمْ ← قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ "الندم توبة"؟ ← حُمَيْدًا الطَّوِيلَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن وَهْبٍ ← عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ السهمي ← مَحْفُوظُ بْنُ أَبِي تَوْبَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 613

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 614

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ أَخْبَرَنَا الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ أَسْبَاطٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ مغول عن منصور عن خيثمة عَنْ ابْنِ مَسْعُوْدٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَلنَّدَمِ تَوْبَۃ ۔(2:1)

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ندامت توبہ ہوتی ہے‘‘۔

"النَّدَمُ توبة" ← النَّبِيِّ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← خيثمة ← مَنْصُورٌ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← يُوسُفُ بْنُ أَسْبَاطٍ ← الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 614

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 615

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بشار حدثنا بن أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِنْسَانًا ثُمَّ خَرَجَ يَسْأَلُ فَأَتَى رَاهِبًا فَسَأَلَهُ هَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ لَا فَقَتَلَهُ وَجَعَلَ يَسْأَلُ فقَالَ لَهُ رَجُلٌ ائْتِ قرية كذا وكذا فأدركه الموتذكر مَا يَجِبُ عَلَى الْمَرْءِ مِنْ لُزُومِ النَّدَمِ وَالتَّأَسُّفِ عَلَى مَا فَرَطَ مِنْهُ رَجَاءَ مَغْفِرَةِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا ذُنُوبَهُ بِهِ [615] أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حدثنا بن أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِنْسَانًا ثُمَّ خَرَجَ يَسْأَلُ فَأَتَى رَاهِبًا فَسَأَلَهُ هَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ لَا فَقَتَلَهُ وَجَعَلَ يَسْأَلُ فقَالَ لَهُ رَجُلٌ ائْتِ قَرْيَةَ كَذَا وَكَذَا فَأَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَمَاتَ فَاخْتَصَمَتْ فِیْہِ مَلَائِکَۃُ الرَّحْمَۃِ وَمَلَائِکَۃُ الْعَذَابِ فَاَوْحَی اللہُ اِلٰی ھٰذِہِ تَقَرَّبِیْ ھٰذِہِ تباعدی أقرب إلی ھذہ بشبر فغفرلہ

حضرت ابو سعید خدریؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے انسانوں کو قتل کیا تھا پھروہ شخص روانہ ہوا تاکہ اس بارے میں دریافت کرے وہ ایک راہب کے پاس آیا۔ راہب سے دریافت کیا : کیا اس کے لئے توبہ کی گنجائش ہے ‘ تو اس نے جواب دیا : جی نہیں ‘ تو اس شخص نے اس راہب کو بھی قتل کر دیا۔ پھر وہ دریافت کرتا رہا ‘ تو ایک شخص نے اس سے کہا تم فلاں بستی میں چلے جاؤ پھر اس شخص کوموت آگئی اور وہ فوت ہو گیا۔ اس کے بارے میں رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں کے درمیان اختلاف ہو گیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے زمین کے اس ( حصے ) کی طرف وحی کی کہ تم قریب ہو جاؤ۔ دوسرے حصے کی طرف وحی کی کہ تم دور ہو جاؤ ‘ تو اس شخص کو ایک بالشت اس حصے ( یعنی جہاں وہ جا رہا تھا) کے قریب پایا گیا تھا ‘ تو اس شخص کی مغفرت ہو گئی‘‘۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← بن أَبِي عَدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 615

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 616

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ2 بْنُ أَبِي أَيُّوبَ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الْإِيمَانِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي آخِيَّتِهِ يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى آخِيَّتِهِ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْهُو ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْإِيمَانِ فَأَطْعِمُوا طعامكم الأتقياء وولوا معروفكم المؤمنين" 3. [3: 28]

حضرت ابو سعید خدری ؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’مومن اور ایمان کی مثال ایک ایسے گھوڑے کی مانند ہے ‘ تو اپنی کھونٹی میں ہوتا ہے وہ گھوم پھر کر پھر اسی جگہ آ جاتا ہے۔ مومن گھول جاتا ہے ‘ تو پھر وہ واپس ایمان کی طرف آ جاتا ہے ۔ لوگو! اپنا کھانا پرہیز گار لوگوں کو کھلاؤ اور اپنی چھائیوں کا رُخ اہل ایمان کی طرف کرو‘‘۔

النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أبي سليمان الليثي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← سَعِيدُ2 بْنُ أَبِي أَيُّوبَ الْخُزَاعِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 616

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 617

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "اللَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ يَسْتَيْقِظُ عَلَى بَعِيرِهِ أضله بأرض فلاة" 1. [3: 67]

حضرت انسؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے ‘ جو بیدار ہو کر اس اونٹ کو پا لیتا ہے ‘ جسے وہ بے آب و گیاہ زمین میں گم کر چکا تھا‘‘۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 617

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 618

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "اللَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ مِنْ رَجُلٍ بِأَرْضٍ دَوِّيَّةٍ مَهْلَكَةٍ وَمَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَمَا يُصْلِحُهُ فَأَضَلَّهَا فَخَرَجَ فِي طَلَبِهَا حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ قَالَ أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِي فَأَمُوتُ فِيهِ فَرَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ الَّذِي أَضَلَّهَا فِيهِ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ غَلَبَتْهُ عَيْنُهُ فَاسْتَيْقَظَ فَإِذَا رَاحِلَتُهُ عِنْدَ رَأْسِهِ عَلَيْهَا زَادُهُ وَمَا يُصْلِحُهُ فَاللَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ من هذا الرجل" 1. [3: 67]

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی ایک کے توبہ کرنے پر اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے‘ جو کسی ویران سنسان ‘ ہلاکت کا شکار کر دینے والی جگہ پر موجود ہو۔ اس کے ساتھ اس کی سواری بھی ہو ‘ جس پر اس کا زادراہ اس کا کھانا اور اس کی ضروریات کی چیزیں موجود ہوں اور پھر وہ شخص اس سواری کو گم کر دے‘ پھر وہ اس کی تلاش میں نکلے ‘ یہاں تک کہ اسے موت آ جائے‘ تو وہ یہ سوچے کہ میں اپنی جگہ پر واپس چلا جاتا ہوں اور وہاں فوت ہو جاوٗں گا ‘ تو وہ شخص واپس اس جگہ چلا جائے جہاں اس نےاپنی سواری کو گم کیا تھا‘ تو اسی حالت کے دوران اس کی آنکھ لگ جائے پھر جب وہ بیدار ہو اس کی سواری اس کے سر کے پاس موجود ہو ‘جس پر اس کا زادرہ اور چیزیں موجود ہوں ‘ تو اللہ تعالیٰ تم میں کسی ایک کی توبہ پر اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے‘‘۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← الْحَارِثِ بْنِ سويد ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 618

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 619

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ "يَا عِبَادِي إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَّالَمُوا يَا عِبَادِي إِنَّكُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَأَنَا الَّذِي أَغْفِرُ الذُّنُوبَ وَلَا أُبَالِي" فَذَكَرَهُ بِطُولِهِ وَقَالَ فِي آخِرِهِ وَكَانَ أَبُو إِدْرِيسَ إِذَا حَدَّثَ بهذا الحديث جثا على ركبتيه1. [3: 68]

حضرت ابوذر غفاریؓ ‘ نبی اکرمﷺ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اے میرے بندو! میں نےاپنی ذات کے لئے ظلم کو حرام قرار دیا ہے اور میں نے اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے ‘ تو تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو‘ اے میرے بندو! بیشک تم رات دن خطائیں کرتے ہو اور میں وہ ہوں جو گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہوں اور میں اس کی پرواہ نہیں کرتا ‘‘۔ اس کے بعد راوی نے طویل حدیث ذکر کی ہے ‘ جس کے آخر میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے ۔ ابو ادریس مانی راوی جب اس حدیث کو بیان کرتے تھے ‘ تو وہ گھٹنوں کے بل جھک جایا کرتے تھے۔

الله تَبَارَكَ وَتَعَالَى ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← اَبُوْ مُسْھِرٍ، ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 619

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 620

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ النَّخَعِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ لِعُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَدْ آنَ لَكَ أَنْ تَزُورَنَا فقَالَ أَقُولُ يَا أُمَّهْ كَمَا قَالَ الْأَوَّلُ زُرْ غِبًّا تَزْدَدْ حُبًّا قَالَ فَقَالَتْ دَعُونَا مِنْ رَطَانَتِكُمْ هَذِهِ قال بن عمير أخبرينا بأعجب شيء رأيته منذكر الْبَيَانِ بِأَنَّ الْمَرْءَ عَلَيْهِ إِذَا تَخَلَّى لُزُومُ الْبُكَاءِ عَلَى مَا ارْتَكَبَ مِنَ الْحَوْبَاتِ وَإِنْ كَانَ بَائِنًا عَنْهَا مُجِدًّا فِي إِتْيَانِ ضِدِّهَا [620] أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ النَّخَعِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ لِعُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَدْ آنَ لَكَ أَنْ تَزُورَنَا فقَالَ أَقُولُ يَا أُمَّهْ كَمَا قَالَ الْأَوَّلُ زُرْ غِبًّا تَزْدَدْ حُبًّا قَالَ فَقَالَتْ دَعُونَا مِنْ رَطَانَتِكُمْ هَذِهِ قَالَ بن عُمَيْرٍ أَخْبِرِينَا بِأَعْجَبِ شَيْءٍ رَأَيْتِهِ مِنْ مِنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قال فَسَکَتَتْ ثُمَّ قَالَتْ لَمَّا کَانَ لَیْلَۃٌ مِنَ اللَّیَالِیْ قَالَ یَا عَائِشَۃُ ذَرِیْنِیْ اَتَعَبَّدُ اللَّیْلَۃَ لِرَبِّی قُلْتُ وَاللہِ اِنِّیْ لَاُحِبُّ قُرْبَکَ وَاُحِبُّ مَا سَرَّکَ قَالَتْ فَقَامَ فَتَطَھَّرَ ثُمَّ قَامَ یُصَلِّیْ قَالَتْ فَلَمْ یَزَلْ یَبْکِی حَتّٰی حِجْرَہٗ قَالَتْ ثُمَّ بَکَی فَلَمْ یَزَلْ یَبْکِی حَتّٰی بَلَّ لِحْیَتَہٗ قَالَتْ ثُمَّ بَکَی فَلَمْ یَزَلْ یَبْکِی حَتّٰی بَلَّ الْاَرْضَ فَجَاءَ بِلَالٌ یُؤْذِنُہُ بِالصَّلَاۃِ فَلَمَّا رَآہُ یَبْکِی قَالَ یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمِ لِمَ تَبْکِ وَقَدْ غَفَرَ اللہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ وَمَا تَاَخَّرَ قَالَ اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُورًا لَقَدْ نَزَلَتْ عَلَیَّ اللَّیْلَۃَ اٰیَۃٌ وَیْکٌ لِمَنْ قَرَاَھَا وَلَمْ یَتَفَکَّرْ فِیْھَا: (اِنَ فِیْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ) الآیۃ کلھا( آل عمران:190)

عطا بیان کرتے ہیں: میں اور عبید بن عمیر سیّدہ عائشہ ؓ کی خدمت میں داخل ہوئے ‘ تو سیّدہ عائشہ ؓ نے عبید بن عمیر سے فرمایا : تمہیں ہمارےہاں آنے کا موقع ملا ہے‘ تو انہوں نے عرض کی : امی جان میں یہ کہوں گا ‘ جیسے پہلے لوگوں میں سےکسی نے کہا ہے : وقفے کے ساتھ ملا کرو محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ سیّدہ عائشہ ؓ نے فرمایا اس طرح کی چکنی چپڑی باتیں ہمارے ساتھ نہ کرو۔ ابن عمیر نے عرض کی: آپ ہمیں ا س چیز کے بارے میں بتائیے جو آپ نے نبی اکرمﷺ کے بارے میں سب سے حیرت انگیز چیز دیکھی ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ ؓ خاموش ہو گئیں پھر انہوں نےبتایا : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ نے رات کے وقت ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! تم مجھے موقع دو تاکہ میں آج رات اپنے پروردگار کی عبادت کر وں میں نے عرض کی : اللہ کی قسم! میں آپ کے ساتھ کو پسند کرتی ہوں اور میں اس چیز کو بھی پسند کرتی ہوں جو آپ کو اچھی لگے۔ سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے آپ نے اچھی طرح وضو کیا پھر آپ کھڑے ہو کر نوافل ادا کرنے لگے ۔ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ رونےلگے‘ یہاں تک کہ آپ کی آنکھ کا سوراخ گیلا ہو گیا۔ سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : پھر آ ّپ رونے لگے اور مسلسل روتے رہے ‘ یہاں تک کہ آپ کی داڑھی بھیگ گئی۔ سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں: پھر آپ روتے رہے ‘ پھر اتنی دیر تک روتے رہے کہ زمین بھیگ گئی۔ پھر بلا ل آئے اور آپ کو ( فجر کی ) نماز کے لئے بلایا جب انہوں نے آپ کو روتے ہوئے دیکھا ‘ تو عرض کی : یا رسول اللہ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ( ذنب) کی مغفرت کر دی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ آج رات مجھ پر ایک آیت نازل ہوئی ہے۔اس شخص کے لے بربادی ہے ‘ جو اس کی تلاوت کرے اور اس میں غورو فکر نہ کرے۔ ( و ہ آیت یہ ہے ) ’’ آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں ‘‘ یہ مکمل آیت ہے۔

لِعُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَدْ ← وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ عَلَى عَائِشَةَ ← دَخَلْتُ ← عَطَاءٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← إبراهيم بن سويد النخعي ← يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 620

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 621

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حدثنا بن أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عَجْلَانَ مَوْلَى الْمُشْمَعِلِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ ذَكَرُوا الْفَرَحَ عِنْدَ رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلمذكر الْإِخْبَارِ عَمَّا يَقَعُ بِمَرْضَاةِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا مِنْ تَوْبَةِ عَبْدِهِ عَمَّا قَارَفَ مِنَ الْمَأْثَمِ [621] أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حدثنا بن أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عَجْلَانَ مَوْلَى الْمُشْمَعِلِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ ذَكَرُوا الْفَرَحَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرُوا الضَّالَّۃَ یَجِدُھَا الرَّجُلُ فقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَللہُ اَشَدُّ فَرَحًا بَتَوْبَۃِ اَحَدِکُمْ مِنْ الضَّالَّۃِ یَجِدُھا الرَّجُلُ بِاَرْضِ الْفَلَاۃِ ۔(28:3)

۔ حضرت ابو رہریرہؓ ‘ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے نبی اکرمﷺ کے سامنے خوشی کا ذکر کر کیا پھر انہوں نے ایسی گمشدہ چیز کا ذکر کیا جسےکوئی شخص پا لیتا ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی ایک کی توبہ اسے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے کہ جتنا کوئی شخص بے آپ و گیاہ جگہ پر اپنی گمشدہ چیز کو پا کر ہوتا ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَجْلاَنَ مَوْلَى الْمُشْمَعِلَ ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 621

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 622

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَنَّ رَجُلًا أَذْنَبَ ذَنْبًا فقَالَ أَيْ رَبِّ أَذْنَبْتُ ذَنْبًا أَوْ قَالَ عَمِلْتُ عَمَلًا فَاغْفِرْ لِي فقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَبْدِي عَمِلَ ذَنْبًا فعلم أن له ربا يغفرذكر الْخَبَرِ الدَّالِّ عَلَى أَنَّ تَوْبَةَ الْمَرْءِ بَعْدَ مُوَاقَعَتِهِ الذَّنْبَ فِي كُلِّ وَقْتٍ تُخْرِجُهُ عَنْ حَدِّ الْإِصْرَارِ عَلَى الذَّنْبِ [622] أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَنَّ رَجُلًا أَذْنَبَ ذَنْبًا فقَالَ أَيْ رَبِّ أَذْنَبْتُ ذَنْبًا أَوْ قَالَ عَمِلْتُ عَمَلًا فَاغْفِرْ لِي فقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَبْدِي عَمِلَ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَیَاْخُذُبِہٖ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ ثُمَّ اَذْنَبَ ذَنْبًا اٰخَرَ اَوْ قَالَ عَمِلَ ذَنْبًا اٰخَرَ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ عَمِلْتُ ذُنْبًا فَاغْفِرْلِیْ فقَالَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلِمَ عَبْدِیْ اَنَّ لَہٗ رَبًّا یَغْفِرُ الذَّنْبَ وَیَاْخُذْ بِہٖ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ اَنَّ لَہٗ رَبًّا یغْفِرُ الذَّنْبَ وَیَاْخُذۃ بِہٖ اُشْھِدُ کُمْ اَنِّیْ قَدْ غَفَرْتُ لَعَبْدِیْ فَلْیَعْمَلُ مَاشَآء

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک شخص نے گناہ کا ارتکاب کیاپھر وہ بولا : اے میرے پروردگار ! میں نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔ (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں :) میں نے ایک عمل کیا ہے ‘ تو میری مغفرت کر دے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرے بندے نے گناہ کا ارتکاب کیا وہ یہ بات جانتا ہے کہ اس کا ایک پروردگار ہے ‘ جو گناہوں کی مغفرت کر سکتا ہے ۔ اور اس پر گرفت بھی کر سکتا ہے ‘ تو میں نے اپنے بندے کی مغفرت کی دی پھر اس شخص نے دوسرے گناہ کا ارتکاب کیا۔ ( راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں: ) اس نے دوسرا گنا ہ گیا‘ تو اس نے عرض کہ : اے میرےپروردگار! میں نے گناہ کاارتکاب کیا ہے‘تو میری مغفرت کر دے‘ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ میرا بندہ یہ بات جانتا ہے کہ اس کا ایک پروردگار ہے‘ تو گناہوں کی مغفرت کر سکتا ہے اور اس پر گرفت بھی کر سکتا ہے ‘ تو میں نے اپنے بندے کی مغرت کر دی پھر اس شخص نے دوبارہ اس گناہ کا ارتکاب کیا۔ ( راوی کہتے ہیں کہ شاید یہ الفاظ ہیں: ) کسی اور گناہ کا ارتکاب کیا پھر اس نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! میں نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے ‘ تو میری مغفرت کر دے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک پروردگار ہے ‘جو گناہوں کی مغفرت بھی کر سکتا ہے اور اس پر گرفت بھی کر سکتا ہے ۔ اے فرشتو! میں تمہیں گواہ بنا رہا ہوں کہ میں نے اپنے بندے کی مغفرت کر دی ہے اب وہ جو چاہے عمل کرے‘‘۔

عَمِلْتُ عَمَلًا فَاغْفِرْ لِي ← أَيْ رَبِّ أَذْنَبْتُ ذَنْبًا أَوْ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← هَمَّامٌ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← عمر بن مُحَمَّد بن يُوسُف

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 622

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr