صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 611
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَاهِبٍ فَأَتَاهُ فقَالَ إِنَّهُ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ لَا فَقَتَلَهُ وَكَمَّلَ بِهِ مِائَةً ثُمَّ سَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فدل على رجل فقال إنه قتل مائة فَهَلْ لَهُ تَوْبَةٌ قَالَ نَعَمْ مَنْ يَحُولُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ ائْتِ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا فَإِنَّ بِهَا نَاسًا يَعْبُدُونَ اللَّهَ فَاعْبُدِ اللَّهَ وَلَا تَرْجِعْ إِلَى أَرْضِكَ فَإِنَّهَا أَرْضُ سُوءٍ فَانْطَلَقَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ الطَّرِيقَ أَتَاهُ الْمَوْتُ فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ فَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ جَاءَنَا تَائِبًا مُقْبِلًا بِقَلْبِهِ إِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا وَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ إِنَّهُ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَأَتَاهُ مَلَكٌ فِي صورة آدمي فجعلوه بينهم فقال قيسوا2- بَابُ التَّوْبَةِ ذِكْرُ الْخَبَرِ الدَّالِّ عَلَى أَنَّ النَّدَمَ تَوْبَةٌ [611] أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَاهِبٍ فَأَتَاهُ فقَالَ إِنَّهُ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ لَا فَقَتَلَهُ وَكَمَّلَ بِهِ مِائَةً ثُمَّ سَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فدل على رجل فقال إنه قتل مائة فَهَلْ لَهُ تَوْبَةٌ قَالَ نَعَمْ مَنْ يَحُولُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ ائْتِ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا فَإِنَّ بِهَا نَاسًا يَعْبُدُونَ اللَّهَ فَاعْبُدِ اللَّهَ وَلَا تَرْجِعْ إِلَى أَرْضِكَ فَإِنَّهَا أَرْضُ سُوءٍ فَانْطَلَقَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ الطَّرِيقَ أَتَاهُ الْمَوْتُ فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ فَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ جَاءَنَا تَائِبًا مُقْبِلًا بِقَلْبِهِ إِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا وَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ إِنَّهُ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَأَتَاهُ مَلَكٌ فِي صُورَةِ آدَمِيٍّ فَجَعَلُوهُ بَيْنَهُمْ فقَالَ قِيسُوا مَا بَیْنَ الْاَرْضِیْنِ اَیُّھُمَا کَانَ اَقْرَبَ فَھِیَ لَہٗ فَقَاسُوْہُ فَوَجَدُوہُ اَدْنَی اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ أراد فقبضتہ بھا ملائکۃ الرحمۃ ۔(00:0)
حضرت ابو سعید خدری ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم سے پہلے زمانے میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے لوگوں کو قتل کیا تھا۔ اس نے اس علاقے کے سب سے بڑے عالم کے بارے میں دریافت کیا‘ تو اس کی رہنمائی ایک راہت کی طرف کی گئی۔ وہ اس کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے ننانوے لوگوں کو قتل کیا ہے۔ کیا اس کے لئے توبہ کی گنجائش ہے۔ راہب نے جواب دیا : جی نہیں! تو اس شخص نے اس راہب کو بھی قتل کر دیا اور سو کی تعداد کو مکمل کر لیا پھر اس نے اس علاقے کے سب سے بڑے عالم کے باے میں دریافت کیا ‘ تو اس کی رہنمائی ایک شخص کی طرف کی گئی۔ اس نے بتایا : اس نے ایک سو لوگوں کو قتل کیا ہے۔ کیا اس کے لئے توبہ کی گنجائش ہے ؟ اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ! تمہارے اور توبہ کے درمیان کون سی چیز رکاوٹ بن سکتی ہے ؟ تم فلاں سرزمین میں چلے جاؤ وہاں کچھ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ۔ تم بھی اللہ تعالیٰ کی ( وہاں رہ کر ) عبادت کرنا اورواپس اپنی سرزمین کی طرف نہ آنا ‘ کیونکہ یہ برائی کی جگہ ہے۔ وہ شخص روانہ ہوا ‘ یہاں تک کہ جب وہ نصف راستے میں پہنچا ‘ تو اسے موت نے آلیا۔ اس کے بارے میں رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں کے درمیان اختلاف ہو گیا۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا: یہ شخص توبہ کرتے ہوئے خلوص دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف آتے ہوئے ‘ ہمارے پاس آیا ہے ۔ عذاب کے فرشتوں نے کہا: اس نے کبھی کوئی بھلائی نہیں کی پھر ایک فرشتہ ایک انسان کی شکل میں ان کے پاس آیا۔ ان لوگوں نے اسےاپنے درمیان ثالث تسلیم کیا ‘ تو فرشتے نے کہا: دونوں طرف کی زمین کو ناپ لو۔ ان میں سے جن کے زیادہ قریب ہو گا یہ اس کا حصہ شمار ہو گا ۔ ان فرشتوں نے اس زمین کو ناپا انہوں نے اس شخص کو اس زمین کے زیادہ قریب پایا جہاں وہ جا رہا تھا ‘ تو رحمت کے فرشتوں نے اسے قبضے میں لے لیا‘‘۔
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الصديق ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى
Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 611
