Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 804

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: أَخَذَ الْقَوْمُ فِي عَقَبَةٍ أَوْ ثَنِيَّةٍ، فَكُلَّمَا عَلَاهَا رَجُلٌ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَةٍ يَعْرِضُهَا فِي الْجَبَلِ (1) ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا» ، ثُمَّ، قَالَ: «يَا أَبَا مُوسَى، أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟» ، قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» (2) . 2: 59 قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا» ، لَفْظَةُ إِعْلَامٍ عَنْ هَذَا الشَّيْءِ، مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْ رَفْعِ الصَّوْتِ بِالدُّعَاءِ

حضرت موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں : لوگ یعنی ( صحابہ کرام) جب بھی کسی گھاٹی پر چڑھتے تھے ‘ تو جب آدمی اوپرپہنچ جاتا تھا ‘ تو لا الٰہ الا اللہ اور اللہ اکبر کہتا تھا نبی اکرمﷺ اس وقت اپنے خچر پر سوار تھے۔ جب آپ اس کےساتھ پہاڑ پر پہنچے ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگوں ! تم کسی بہرے یا غیر موجود ( معبو ) کو نہیں پکار رہے ‘ پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوموسیٰ ! ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) اے عبد اللہ بن قیس ! کیا میں تمہاری رہنمائی جنت کے خزانے کی طرف نہ کروں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ‘ یا رسول اللہ! نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ( و ہ یہ کلمہ ہے ) لا حول ولا قوۃ الا باللہ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں:) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان ’’ تم کسی بہرے یا غیر موجود کو نہیں پکار رہے ہو ‘‘ لفظی طور پر اس بات کی اطلاع ہے ‘ لیکن اس سے مراد دعا کرتے ہوئے آواز لند کرنے کی سے منع کرنا ہے۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِيرِيُّ،

Hadith 804

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 805

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ ابْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ، فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ الْجَمَلِ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ، فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ السَّلَامَ (1) . 5: 31

عمیر ‘ جو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام ہے وہ بیان کرتے ہیں: میں اور عبد اللہ بن یسار اور حضرت ابو جہیم حاضر ہوئے ‘ تو حضرت ابو جہیم نے بتایا : نبی اکرمﷺ بئر جمل کی طرف سے تشریف لا رہے تھے ۔ ایک شخص آپ کے سامنے آیا ۔ اس نے سلام کیا نبی اکرمﷺ نے اسے سلام کاجواب نہیں دیا۔ آپ دیوار کے پاس گئے آپ نے اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کا مسح کیا یعنی ( تیمم کیا ) پھر آپﷺ نے سلام کا جواب دیا۔

أقبلت ← عُمَيْرٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، ← جعفر ابن ربيعة ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 805

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 806

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ الْقُرَشِيُّ بِالْبَصْرَةِ، وَابْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ مُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأَ، ثُمَّ اعْتَذَرَ، فَقَالَ: «إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ إِلَّا عَلَى طُهْرٍ، أَوْ، قَالَ: عَلَى طَهَارَةٍ» (2) . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ كَرَاهِيَةَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذِكْرَ اللَّهِ إِلَّا عَلَى طَهَارَةٍ، كَانَ ذَلِكَ لِأَنَّ الذِّكْرَ عَلَى طَهَارَةٍ أَفْضَلُ، لَا أَنَّ ذِكْرَ الْمَرْءِ رَبَّهُ عَلَى غَيْرِ الطَّهَارَةِ غَيْرُ جَائِزٍ، لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى أَحْيَانِهِ

حضرت مہاجرین بن قنفذ ؓ بیان کرتے ہیں :وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ نبی اکرمﷺ اس وقت پیشاب کر رہے تھے انہوں نے سلام کیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے انہیں سلام کا جواب نہیں دیا۔ پہلے آپ نے وضو کیا پھر آپ نے عذر بیان کرتے ہوئے فرمایا : مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں بے وضو حالت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کروں۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں :) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے ۔ نبی اکرمﷺ کا بے وضو حالت میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کو نا پسند کرنا اس وجہ سے تھا کہ با وضو حالت میں ذکر کرنا افضل ہے ۔ ایسا نہیں ہے ’ آدمی کا بے وضو حالت میں اپنے پروردگار کا ذکر کرنا جائز ہی نہیں ہے کیونکہ نبی اکرمﷺ ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے۔

مُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، ← حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ الْقُرَشِيُّ بِالْبَصْرَةِ، وَابْنُ خُزَيْمَةَ،

Hadith 806

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 807

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا، مِائَةً إِلَّا وَاحِدَةً (1) ، مَنْ أَحْصَاهَا (2) دَخَلَ الْجَنَّةَ» (3) . [1: 2]

حضرت ابوہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں:نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’بے شک اللہ تعالیٰ کی 99 نام ہیں یعی ایک کم 100 ‘ جو انہیں یاد کر لے گا وہ جنت میں داخل ہو گا ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ

Hadith 807

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 808

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ فَيَّاضٍ بِدِمَشْقَ وَاللَّفْظُ لِلْحَسَنِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِینَ اسْعًا ، مِائَۃً اِلَّا وَاحِدًا ، اِنَّہٗ وِتْرٌ یُحَبُّ الْوِتْرَ ، مَنْ اَحْصَاھَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ ، ھُوَ اللہُ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ ، الرَّحِیمُ ، الْمَلِکُ ، الْقُدُّوسُ ، السَّلَامُ ، الْمُؤْمِنُ ، الْمُھَیْمِنُ ، الْعَزِیْزُ ، الْجَبَّارُ ، الْمُتَکَبِّرُ ، الْخَالِقُ ، الْبَارِءُ ، الْمُصَوِّرُ ، الْغَفَّارُ ، الْقَھَّارُ ، الْوَھَّابُ ، الرَّزَّاقُ ، الْفَتَّاحُ ، الْعَلِیْمُ ، الْقَابضُ ، الْبَاسِبُ ، الْخَافِضُ ، الرَّافِعُ ، الرَّافِعُ ، الْمُعِزُّ ، الْمُذِلُّ ، السَّمِیْعُ ، الْبَصِیرُ ، الْحَکَمُ ، الْعَدْلُ ، اللَّطِیفُ ، الْخَبِیرُ ، الْعَظِیْمُ ، الْغَفُورُ ، الشَّکُورُ ، الْعَلِیُّ ، الْکَبِیرُ ، الْحَفِیظُ ، الْمُقِیْتُ ، الْحَسِیبُ ، الْجَلِیْلٌ ، الْکَرِیْمُ ، الرَّقِیبُ ،الْوَاسِعُ ، الْحَکِیْمُ ، الْوَدُوْدُ ، الْمَجِیْدُ ، الْمُجِیْبُ ، الْبَاعِثُ ، الشَّھِیدُ ، الْحَقُّ ، الْوَکِیلُ ، الْقَوِیُّ ، الْمَتِیْنُ ، الْوَلِیُّ ، الْحَمِیْدُ ، الْمُحْصِی ، الْمُبْدِءُ ، الْمُعِیْدُ ، الْمُحْیی ، الْمُمِیتُ ، الْحَیُّ ، الْقَیُّومُ ، الْوَاجِدُ ، الْمَاجِدُ ، الْوَاحِدُ ، الْاَحَدُ ، الصَّمَدُ ، الْقَادِرُ ، الْمُقْتِدِرُ ، الْمُقَدِّمُ ، الْمُؤْخِرُ ، الْاَوَّلَ ، الْاٰخِرُ ، الظَّاھِرُ ، الْبَاطِنُ ، الْمُتَعَالِ ، الْبَرُّ ، التَّوَّابُ ، الْمُنْتَقِیمُ ، الْعَفُوُّ ، الرَّؤْوفُ ، مَالِکُ الْمُلْکِ ، ذُو الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ ، الْمُقْسِطُ ، الْمَانِعُ ، الْغَنِیُّ ، الْمُغْنِی ، الْجَامِعُ ، الضَّارُّ ، النَّافِعُ ، النُّورُ ، الْھَادِی ، الْبَدِیعُ ، الْبَاقِی ، الْوَارِثُ ، الرَّشِیدُ ، الصَّبُوْرُ ۔(2:1)

حضرت ابو ہریرہ ؓ ‘نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ کے 99 نام ہیں یعنی ایک کم 100 ‘ اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے ‘ جو شخص انہیں ‘ یاد کر لے گا وہ جنت میں داخل ہو گا‘‘۔ وہ اللہ ہے ‘ اس کے سوا کوی معبود نہیں ہے ‘ وہ رحمان ، رحم کرنے والا ہے،بادشاہ ہے،پاک ہے، سلامتی عطا کرنے والا ہے ، امن دینے والا ہے، نگرانی کرنے والا ہے ، غالب ہے ، زبردست ہے ، کبریائی والاہے، پیدا کرنے والا ہے، بنانے والا ہے، شکل و صورت عطا کرنے والا ہے ، مغفرت کرنے والا ہے ، قہر والا ہے ،عطیہ دینے والا ہے ، رزق عطا کرنے والا ہے، کھولنے والا ہے، علم رکھنے والا ہے، تنگی عطا کرنے والا ہے، کشادگی دینے والا ہے، پست کرنے والا ہے، بلند کرنے والا ہے، عزت دینے والا ہے، ذلت دینے والا ہے، سماعت والا ہے، بصیرت والا ہے، فیصلہ دینے والا ہے، عدل کرنے والا ہے ، مہربان ہے ، خبر رکھنے والا ہے، برباد رہے ، عظیم ہے، مغفرت کرنے والا ہے شکر کرنے والا ہے، بلند ہے، بڑا ہے، حفاظت کرنے والا ہے، نگرانی کرنے والا ہے ، حساب رکھنے والا ہے، عظمت والا ہے ، معزز ہے، نگران ہے ، وسعت والا ہے، حکمت والا ہے، مہربان ہے، بزرگی والا ہے، دعا قبول کرنے والا ہے ، آغاز کرنے والا ہے ، دوبارہ پیدا کرنے والا ہے ، زندگی دینے والا ہے، موت دینے والا ہے، زندہ ہے، قیوم ہے، پالنے والا ہے، بزرگی والا ہے، ایک ہے، یکتا ہے، بے نیاز ہے ، قدرت والا ہے، اقتدا ر والا ہے،آگے کرنے والا ہے، پیچھے کرنے والا ہے، پہلا ہے ، بعد والا ہے، ظاہر ہے، باطن ہے،بلند و برتر ہے، مہربان ہے، توبہ قبول کرنے والا ہے، انتقام لینے والا ہے ، معاف کرنے والا ہے، مہربان ہے، بادشاہ ہے، جلال و اکرام والا ہے، انصاف کرنے والا ہے، روکنے والا ہے، بے نیاز ہے، غنی ہے، جع کرنے والا ہے، نقصان پہنچانے والا ہے، نفع دینے والا ہے، نور ہے، ہدایت دینے والا ( کسی سابقہ شان کے بغیر پیدا کرنے والا ہے، باقی ہے، ، وارث ہے، ہدایت دینے والا ہے، صبر عطا کرنےوالا ( برداشت کرنے والا ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الثَّقَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ فَيَّاضٍ بِدِمَشْقَ وَاللَّفْظُ لِلْحَسَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 808

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 809

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «خَيْرُ الذِّكْرِ الْخَفِيُّ، وَخَيْرُ الرِّزْقِ، أَوِ الْعَيْشِ، مَا يَكْفِي» (1) . [1: 2] الشَّكُّ مِنِ ابْنِ وَهْبٍ

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ سب سے بہترین ذکر وہ ہے ‘ جو پست آ واز میں ہو ‘ سب سے بہترین رزق ( ضروریات زندگی راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : بہتر زندگی ) وہ ہے ‘ جو کہ کفایت کر جائے‘‘۔ یہاں روایت کے الفاظ میں شک ابن وہب نامی راوی کو ہے۔

النَّبِيِّ ← أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ← أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 809

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 810

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَالَ اللَّهُ: يَا ابْنَ آدَمَ اذْكُرْنِي فِي نَفْسِكَ أَذْكُرْكَ فِي نَفْسِي، اذْكُرْنِي فِي مَلَأٍ مِنَ النَّاسِ أَذْكُرْكَ فِي مَلَأٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ» (1) . [3: 20]

حضرت ابو ہریرہ ؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اےآدم کے بیٹے ! تم اپنے دل میں مجھےیاد کرو میں اپنے دل میں تمہیں ‘ یاد کروں گا تم لوگوں کی محفل میں مجھے یاد کرو میں ان سے بہتر گروہ میں تمہیں ‘ یاد کروں گا‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ،

Hadith 810

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 811

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بْنِ مَرْزُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي (1) ، وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي، إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَأٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ، وَإِنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً» (2) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہ ؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔ وہ جب جہاں مجھے یاد کرتا ہے میں وہاں ہوتا ہوں اگر وہ مجھے دل میں یاد کرتا ہے ‘ تو میں اسے دل میں ‘ یاد کرتا ہوں اور اگر وہ لوگوں میں مجھے یاد کرتا ہے ‘ تو میں اس سے بھی بہترین گروہ میں اسے یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ ایک بالشت مجھے یاد کرتا ہے ‘ تو میں ایک بالشت اس کے قریب ہوتا ہوں وہ چل کر میری طرف آتا ہے ‘ تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) اللہ تعالیٰ کی ذات اس بات سے بلند و برتر ہے ‘ مخلوق کی صفات میں سے کوئی چیز اس کی طرف منسوب کی جائے کیونکہ کوئی بھی چیز اس کی مثل نہیں ہے ۔یہ الفاظ ( جو اس روایت میں استعمال ہوئے ہیں ) یہ اس عام محاورے کے مطابق ہیں جو لوگوں کے درمیان رائج ہے ۔ جو شخص تنہائی میں زبان کے ذریعے یا عمل کے ذریعے اپنے پروردگار کا ذکر کرتا ہے ‘ جس کے ذریعے وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں قرب حاصل کرے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے تحت ‘ اپنی ملکوت میں مغفرت کے ہمراہ اس کا ذکر کرتا ہے اور جو شخص اپنے پروردگار کا ذکر اس کے بندوں کی موجودگی میں کرتاہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اپنے مقرب فرشتوں کے سامنے اس شخص کا ذکر مغفرت کے ہمراہ کرتا ہے۔ اس نے اپنے بندے کے ذکر کو قبول کر لیا ہے ( اس کے ہمراہ بندے کا ذکر کرتا ہے ) اور جو شخص ایک بالشت جتنی فرمانبرداری کے ہمراہ پروردگار کے قریب ہے ‘ تو پروردگار کی طرف سے مہربانی اور رحمت ایک ذراع ( درمیانی بڑی انگلی کےک کناے سے لے کر کہنی تک ) جتنا اس کے قریب ہوتی ہیں ۔ جو شخص ایک ذراع جتنی فرمانبرداری کے ہمراہ ( اپنے ) خالق کے قریب ہوتا ہے ‘ تو اس ( پروردگا ) کی طرف سے مغفرت ایک باع ( دونوں بازوؤں کےپھیلاؤ ) سے زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے ‘ جو شخص مختلف طرح کی نیکیاں پیدل چلنے جتنی سرعت کے ساتھ کرتا ہے ‘ تو وسائل ، مہربانی اور رحمت کے وجود اور مغفرت اتنی تیزی سے اس کی طرف آتے ہیں جس طرح دوڑنا ہوتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ بلند و برتر ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بْنِ مَرْزُوقٍ،

Hadith 811

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 812

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: عَبْدِي عِنْدَ ظَنِّهِ بِي، وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي، إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَأٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأٍ خَيْرٌ مِنْهُ وَأَطْيَبُ» (1) . [3: 67] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ جَلَّ وَعَلَا: إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، يُرِيدُ بِهِ: إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ بِالدَّوَامِ عَلَى الْمَعْرِفَةِ الَّتِي وَهَبْتُهَا لَهُ، وَجَعَلْتُهُ أَهْلًا لَهَا، ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، يُرِيدُ بِهِ: فِي مَلَكُوتِي بِقَبُولِ تِلْكَ الْمَعْرِفَةِ مِنْهُ مَعَ غُفْرَانِ مَا تَقَدَّمَهُ مِنَ الذُّنُوبِ، ثُمَّ، قَالَ: وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَأٍ، يُرِيدُ بِهِ: وَإِنْ ذَكَرَنِي بِلِسَانِهِ، يُرِيدُ بِهِ الْإِقْرَارَ الَّذِي هُوَ عَلَامَةُ تِلْكَ الْمَعْرِفَةِ فِي مَلَأٍ مِنَ النَّاسِ لِيَعْلَمُوا إِسْلَامَهُ، ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأٍ خَيْرٍ مِنْهُ، يُرِيدُ بِهِ: ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأٍ خَيْرٍ مِنْهُ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ فِي الْجَنَّةِ، بِمَا أَتَى مِنَ الْإِحْسَانِ فِي الدُّنْيَا الَّذِي هُوَ الْإِيمَانُ إِلَى أَنِ اسْتَوْجَبَ بِهِ التَّمَكُّنَ مِنَ الْجِنَانِ.

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے ‘ تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اگر وہ دل میں یاد کرتا ہے ‘ تو میں بھی دل میں اسے یاد کرتا ہوں اگر وہ لوگوں میں مجھے یاد کرتا ہے ‘ تو میں بھی اس سے بہتر اور پاکیزہ گروہ میں اس کا تذکرہ کرتا ہوں‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: )اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ’’ اگر وہ اپنے نفس میں ( یعنی دل میں یا تنہائی میں) میرا ذکر کرتا ہے ‘ تو میں اپنے من میں اس کا ذکر کرتا ہوں ‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے اگر وہ اپنے مومن میں اس معرفت کی وجہ سے باقاعدگی سے میرا ذکر کرتا ہے ‘ جو ( معرفت ) میں نے اسے ہبہ کی ہے اور میں نے اسے اس کا اہل بنایا ہے ‘ تو پھر میں اپنے من میں اس کا ذکر کرتا ہوں ۔ اس سے مراد ہے : میں اپنے ملکوت میں اس کی طرف سے اس معرفت کو قبول کرتا ہوں‘ اور اس کے ہمراہ اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہوں ۔ پھر اس نے یہ فرمایا : ’’ اگر لوگوں میں ذکر کرے ‘‘ اس سے مراد یہ ہے : اگر وہ اپنی زبان کے ہمراہ میرا ذکر کرے گا ‘ اس سے مراد وہ اقرار ہے ‘ جو لوگوں کی مغفرت کی علامت ہو گا تاکہ انہیں اس کے اسلام کا پتہ چل جائے۔ تو میں اس سے بہتر گروہ میں اس کا ذکر کرتا ہوں ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ میں اس کا ذکر ایسے گروہ میں کرتا ہوں‘ جو اس سے بہتر ہے ‘ جس میں انبیاء ‘ صدیقین ’ شہداء اور صالحین ہونگے جو جنت میں ہو نگے اس ( شخص کا ذکر کی صورت یہ ہو گی ) اس نے دنیا میں بھلائی کی ہو گی جو ایمان ہے ‘ یہاں تک اس ( ایمان ) کی وجہ سے وہ جنت میں رہنے کا مستحق ہو جائے گا۔

مَعَهُ إِذَا دَعَانِي، ← اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: عَبْدِي عِنْدَ ظَنِّهِ بِي، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ذَكْوَانَ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Hadith 812

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 813

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا يُجْلِسُكُمْ؟ قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ، قَالَ: آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟ قَالُوا: وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: «مَا يُجْلِسُكُمْ؟» قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ عَلَيْنَا بِهِ، قَالَ: «آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟» قَالُوا: وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ، قَالَ: «أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَلَكِنْ جِبْرِيلُ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابو سفیان ؓ مسجد میں ایک حلقے کے پاس تشریف لائے اور دریافت کیا : تم لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہو۔ لوگوں نے بتایا کہ ہم اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہیں۔ حضرت معاویہ ؓ نے دریافت کیا: اللہ کی قسم! کیا تم لوگ صرف اسی مقصد کے لئے بیٹھتے ہو ؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! ہم لوگ صرف اسی مقصد کے لئے بیٹھے ہیں ۔ حضرت معاویہ ؓ نے بتایا ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ اپنے اصحاب کے ایک حلقے کے پاس تشریف لائے آپ نے دریافت کیا : تم لوگ کوں بیٹھے ہوئے ہو۔ انہوںانہوں نے کہا: ہم اللہ کا ذکر کرنے کے لئے اور اس نے جو اسلام کی ہدایت دی ہے اور ہم پر یہ احسان کیا ہے اس بات پر اس کی حمد بیان کرنے کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : کیا اللہ کی قسم! تم صرف اسی مقصد کے لئے بیٹھے ہوئے ہو؟ لوگوں نے عرض کی: اللہ کی قسم! ہم صرف اسی مقصد کے لئے بیٹھے ہیں۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا : میں نے تم پر کوئی الزام عائد کرنے کے لئے تم سے قسم نہیں لی ہے‘ بلکہ جبرائیل میرے پاس آئے انہوں نے مجھے بتایا: اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کا اظہار کر رہا ہے۔

وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ، ← آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟ ← جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ، ← خَرَجَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا يُجْلِسُكُمْ؟ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، ← مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 813

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 814

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ الْكِنْدِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيَّانِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِأَمْرٍ أَتَشَبَّثُ بِهِ، قَالَ: «لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ» (1) . [1: 2]

حضرت عبد اللہ بن بسر ؓ بیان کرتے ہیں: دو دیہاتی نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے گویا ان میں سے ایک نے عرض کی : یا رسول اللہ! آپ کسی ایسی چیز کے بارے میں بتائیں جو میں مظبوطی سے پکڑ لوں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے ہمیشہ تر رہنی چاہئے۔

جَاءَ أَعْرَابِيَّانِ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ الْكِنْدِيَّ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 814

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 815

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ جُوصَا أَبُو الْحَسَنِ بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ كَرِيمَةَ بِنْتِ الْحَسْحَاسِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فِي بَيْتِ أُمِّ الدَّرْدَاءِ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَنَا مَعَ عَبْدِي مَا ذَكَرَنِي وَتَحَرَّكَتْ بِي شَفَتَاهُ» (2) . [1: 2]

کریمہ بنت حسحاس بیان کرتی ہیں: میں نے سیدہ ام درداءؓ کے گھر میں حضرت ابو ہریرہؓ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا :نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ میرا ذکر کرتاہے اور اس کے ہونٹ میرے لئے حرکت کرتے ہیں ‘‘۔

مَعَ عَبْدِي مَا ذَكَرَنِي وَتَحَرَّكَتْ بِي شَفَتَاهُ» ← الله تَبَارَكَ وَتَعَالَى ← النَّبِيِّ ← أَبَا هُرَيْرَةَ فِي بَيْتِ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ← كَرِيمَةَ بِنْتِ الْحَسْحَاسِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ1 اللَّهِ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ جُوصَا أَبُو الْحَسَنِ بِدِمَشْقَ،

Hadith 815

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr