Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1369

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، حَدَّثَنِي وَاصِلٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ، فَأَهْوَى إِلَيَّ، فَقُلْتُ: إِنِّي جُنُبٌ، فَقَالَ: «إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ» (1) . [3: 10]

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی میں اس وقت جنابت کی حالت میں تھا۔ آپ نے میری طرف ہاتھ بڑھایا تو میں نے عرض کی: میں جنابت کی حالت میں ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان نجس نہیں ہوتا۔

إِنَّ المُسْلِمَ لا يَنْجُسُ. ← جُنُبٌ، فَأَهْوَى إِلَيَّ، فَقُلْتُ: إِنِّي جُنُبٌ، ← لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ ← حُذَيْفَةَ ← أَبِي وَائِلٍ ← وَاصِلٍ، ← مِسْعَرٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Hadith 1369

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1370

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا لَقِيَ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِهِ مَسَحَهُ وَدَعَا لَهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ يَوْمًا بُكْرَةً، فَحِدْتُ عَنْهُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَقَالَ: «إِنِّي رَأَيْتُكَ فَحِدْتَ عَنِّي» ، فَقُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا فَخَشِيتُ أَنْ تَمَسَّنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ» (1) . [3: 10]

۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے اصحاب میں سے جب بھی کسی شخص کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی، تو آپ اس پر ہاتھ پھیرتے تھے اور اسے دعا دیا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے صبح کے وقت دیکھا تو ایک طرف ہٹ گیا پھر دن چڑھ جانے کے بعد میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا: میں نے تمہیں دیکھا تھا کہ تم (مجھے دیکھ کر) ایک طرف ہٹ گئے تھے میں نے عرض کی: میں اس وقت جنابت کی حالت میں تھا مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ ایسی حالت میں مجھے مس نہ کرلیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان نجس نہیں ہوتا۔

رَسُولُ اللَّهِ «إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ» ← اِنِّیْ رَاَیْتُکَ فَحِدْتَ عَنِّیْ فَقُلْتُ اِنِّیْ کُنْتُ جُنْبًا فَخَشِیتُ اَنْ تَمَسَّنِیْ ← فَرَأَيْتُهُ يَوْمًا بكرة، فَحِدْتُ عَنْہُ ثُمَّ اَتَیْتُہٗ حِیْنَ ارْتَفَعَ النَّھَارُ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إذا لقي الرجل من أَصْحَابِهِ مَسَحَهُ وَدَعَا لَهُ ← حُذَيْفَةَ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← الشَّيْبَانِيِّ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 1370

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1371

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى أَبُو يَعْلَى (1) ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ الْفَزَارِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْبُدْنِ فَنُحِرَتْ - وَالْحَلَّاقُ جَالِسٌ عِنْدَهُ - فَسَوَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَئِذٍ شَعْرَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَقِّ جَانِبِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى شَعْرِهِ» ، ثُمَّ قَالَ لِلْحَلَّاقِ: «احْلِقْ» فَحَلَقَ، «فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرَهُ يَوْمَئِذٍ بَيْنَ مَنْ حَضَرَهُ مِنَ النَّاسِ - الشَّعَرَةَ وَالشَّعَرَتَيْنِ - ثُمَّ قَبَضَ بِيَدِهِ عَلَى جَانِبِ شِقِّهِ الْأَيْسَرِ عَلَى شَعْرِهِ» ، ثُمَّ قَالَ لِلْحَلَّاقِ: «احْلِقْ» ، فَحَلَقَ، فَدَعَا أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ، فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ (2) . [5: 8] وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَتَبَرَّكُونَ بِهِ عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَا، فَلَمَّا صَحَّ ذَلِكَ مِنَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَحَّ ذَلِكَ مِنْ أُمَّتِهِ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يَكُونَ مِنْهُ شَيْءٌ طَاهِرٌ، وَمِنْ أُمَّتِهِ ذَلِكَ الشَّيْءُ بِعَيْنِهِ نَجِسًا» (1) .

محمد بن سیرین، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: قربانی کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کو کنکریاں ماریں پھر آپ کے حکم کے تحت قربانی کے اونٹوں کو نحر کر دیا گیا۔ سر مونڈنے والا شخص آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنے بال سیدھے کئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کے دائیں طرف والے حصے کو اپنی مٹھی میں لیا اور حجام سے کہا تم مونڈھ دو اس نے انہیں مونڈھ دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بال اس دن اپنے پاس موجود افراد میں ایک ، ایک دو، دو کرکے تقسیم کردئیے پھر آپ نے اپنے بائیں طرف والے بال مٹھی میں لئے اور حجام سے کہا انہیں مونڈدو تو اس نے وہ مونڈ دئیے۔ آپ نے حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور وہ انہیں دے دئیے۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے اصحاب کے درمیان اپنے بال تقسیم کرنا اس بات کا واضح بیان ہے کہ انسان کا بال پاک ہوتا ہے کیونکہ صحابہ کرام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک حاصل کیے تھے تاکہ اس کےذریعے برکت حاصل کریں، تو کسی نے اسے اپنے تہہ میں رکھ لیا۔ کسی نے اسے اپنے میں پکڑ لیا۔ کسی نے گریبان میں رکھ لیا اور وہ لوگ ان کےسمیت نماز ادا کرتے تھے اور وہ اپنی ضروریات پوری کیا کرتے تھے اور موئے مبارک ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ یہاں تک کہ ان میں زیادہ تر نے وصیت کی کہ ان موئے مبارک کو ان کے کفن میں رکھا جائے۔ اگر یہ بال ناپاک ہوتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ناپاک چیز لوگوں میں تقسیم نہ کرتے۔ جبکہ آپ کو اس بات کا علم بھی تھا کہ وہ اس طرح سے برکت حاصل کریں گے جس طریقے کا ہم نے ذکر کیا ہے، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات مستند طور پر ثابت ہے، تو آپ کی امت کے حوالے سے بھی یہ بات مستند ہوگی کیونکہ یہ بات ناممکن ہے کہ ایک چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے پاک ہو اور آپ کی امت کی طرف سے وہی چیز بعینہ ناپاک ہو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← أَبَا إِسْحَاقَ الْفَزَارِيَّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى أَبُو يَعْلَى

Hadith 1371

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1372

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ زَيْدٍ الْخَطَّابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فَيُحَنِّكُهُمْ، فَأُتِيَ بِصَبِيٍّ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَأَتْبَعَهُ الْمَاءَ، وَلَمْ يَغْسِلْهُ» (2) . [4: 1]

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بچوں کو لایا جاتاتھا۔ آپ انہیں گھٹی دیتے تھے۔ ایک بچے کو لایا گیا، تو اس نے آپ پر پیشاب کردیا۔ آپ نے اس پر پانی چھڑک دیا اس جگہ کو دھویا نہیں۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ زَيْدٍ الْخَطَّابِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ،

Hadith 1372

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1373

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ (1) الْعَدَنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةِ، قَالَتْ: «دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَرَشَّهُ عَلَيْهِ» (2) . [4: 1]

سیدہ اُم قیس بنت محصن اَسدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جو کچھ کھاتا نہیں تھا۔ اس نے آپ پر پیشاب کردیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر چھڑک دیا۔

أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةِ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ،

Hadith 1373

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1374

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةَ، أُخْتُ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ - وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الَّتِي بَايَعَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: «جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِی لَمْ یَاْکلِ الطَّعَامَ ، فَاَخَذَہٗ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاَجْلَسَہُ فِیْ حِجْرِہٖ ، فَبَالَ عَلٰی ثَوْبِ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَاَخَذَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَاءً فَنَضَّحَہُ وَلَمْ یَغْسِلْہُ۔

سیدہ اُم قیس بنت محصن اسد یہ رضی اللہ عنہا جو حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں اور ان مہاجر خواتین میں سے ایک ہیں، جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی تھی وہ بیان کرتی ہیں: میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جو کچھ کھاتا نہیں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑا اور گود میں بیٹھا لیا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں پر پیشاب کردیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی لیا اور اس جگہ پرچھڑک دیا۔ آپ نے اسے دھویا نہیں۔ ابن شہاب کہتے ہیں اس کے بعد یہ رواج چل پڑا کہ بچے کے پیشاب کو دھویا نہیں جاتا جب تک وہ کچھ کھانے کے قابل نہیں ہوتا جب وہ کھانے لگے گا، تو اس کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 1374

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1375

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي بَوْلِ الرَّضِيعِ: «يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ، وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ» (1) . [5: 8]

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیتے بچے کے پیشاب کے بارے میں یہ فرمایا ہے، لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑک دیا جائے گا، اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔

فِي بَوْلِ الرَّضِيعِ: «يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ، وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ» ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← بُنْدَارٌ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Hadith 1375

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1376

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ (1) ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ» (2) . [4: 1]

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں موجود مشک کی چمک کا منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے۔ آپ اس وقت احرام باندھے ہوئے تھے۔

كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ وَهُوَ محرم ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 1376

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1377

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُصَحِّحٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ (1) ، عَنْ مَسْرُوقٍ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، [كِلَاهُمَا] ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُلَبِّي» (2) . [4: 1]

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں موجود مشک کی چمک کا منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تلبیہ پڑھ رہے تھے (یعنی آپ حالت احرام میں تھے)

«كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ وَهُوَ يُلَبِّي» ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، [كِلَاهُمَا] ← مَسْرُوقٍ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ، ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، ← دَاوُدُ بْنُ مُصَحِّحٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 1377

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1378

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْمِسْكُ هُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ» (1) . [4: 1]

۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "مشک سب سے زیادہ پاکیزہ خوشبو ہے"۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ، ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ، ← فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Hadith 1378

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1379

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ، بِوَاسِطَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، أَنَّ رَجُلًا نَزَلَ بِعَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَصْبَحَ يَغْسِلُ ثَوْبَهُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: «إِنَّمَا كَانَ يُجْزِيكَ - إِنْ رَأَيْتَهُ - أَنْ تَغْسِلَ مَكَانَهُ، وَإِنْ لَمْ تَرَهُ نَضَحْتَ حَوْلَهُ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْكًا، فَيُصَلِّي فِيهِ» (1) . [4: 50]

علقمہ اور اسود بیان کرتے ہیں: ایک شخص اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں مہمان کے طور پر ٹھہرا۔ صبح کے وقت اس نے اپنے کپڑے (یعنی بچھونے) کو دھولیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تمہارے لئے یہ بھی جائز تھا کہ اگر تمہیں نجاست نظر آئی ہے، تو تم صرف اس کی جگہ کو دھو دو اور اگر وہ تمہیں نظر نہیں آرہی تو تم اس کے آس پاس کی جگہ پر پانی چھڑک دو مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے (منی کو) کھرچ دیتی تھی، اور آپ اس کپڑے میں نماز ادا کر لیتے تھے۔

عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، أَنَّ رَجُلًا نَزَلَ بِعَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَصْبَحَ يَغْسِلُ ثَوْبَهُ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ، بِوَاسِطَ،

Hadith 1379

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1380

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلَّانَ، بِأَذَنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا لُوَيْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ (1) ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فِيهِ» (1) . [4: 50]

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچ دیتی تھی، اور آپ اس کپڑے میں نماز ادا کر لیا کرتے تھے۔

«لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ وَهُوَ يُصَلِّي فِيهِ» ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← لُوَيْنٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلَّانَ، بِأَذَنَةَ،

Hadith 1380

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr