صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَاءِ الْمُسْتَعْمَلِ · حديث 1266
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ لَا أَعْقِلُ فَتَوَضَّأَ وَصَبَّ مِنْ وَضُوئِهِ عَلَيَّ فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَنِ الْمِيرَاثُ فَإِنَّمَا يَرِثُنِي كَلَالَةً فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ1.
دستیاب نہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کرنے کے لئے میرے پاس تشریف لائے میں اس وقت بیمار تھا اور مجھے ہوش نہیں تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی مجھ پر چھڑک دیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! (میری) میراث کس کے لئے ہوگی، کیونکہ میری میراث کی صورت کلالہ کی ہے، تو وراثت کے حکم سے متعلق آیت نازل ہوگئی۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے وضو کے بچے ہوئے پانی کا حضرت جابر پر چھڑکنا اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ جس پانی سے وضو کیا گیا ہو وہ پانی پاک ہوتا ہے اور جس شخص کو یہ پانی میسر ہو اس کو تیمم کرنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ وہ پاک پانی کو پانے والا شمار ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے تیمم کو اس وقت مباح قرار دیا ہے، جب پانی ہو تو پاک پانی کو پانے والا شخص۔ تیمم کیسے کر سکتا ہے۔
جَاءَنِي النَّبِيُّ يَعُودُنِي ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،
Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Door of used water · Hadith 1266
