Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1300

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ فَأَقَامَ مَعَهُ النَّاسُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَجَاءَ نَاسٌ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ فَقَالُوا أَلَا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وليس معهم ماء فجاء أبو بكر، و1 رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ یَطْعُنُ بِیَدِہِ فِیْ خَاصِرَتِی فَلَا یَمْنَعُنِیْ مِنَ التَّحْرُّکِ اِلَّا مَکَانُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنَامَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی اَصْبَحَ فَاَنْزَلَ اللہَ اٰیَۃَ التَّیَمُّمِ ، (فَتَیَمَّمُوْا) ۔ قَالَ اُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ وَّھُوَ اَحَدُ النُّقَبَاءِ مَا ھٰذَا بِاَوَّلِ بَرَکَتِکُمْ یَا اٰلَ اَبِیْ بَکْرٍ قَالَتْ عَائِشَۃُ فَبَعَثْنَا الْبَعِیْرَ الَّذِیْ کُنـْتُ عَلَیْہِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَہُ۔

۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: ہم ایک سفر پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے۔ جب ہم "بیداء" کے مقام پر پہنچے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) " ذات الجیش" کے مقام پر پہنچے تو میرا ہار گر گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاش میں وہاں ٹھہر گئے۔ آپ کے ساتھ لوگ بھی ٹھہر گئے وہاں آس پاس پانی نہیں تھا اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں تھا۔ کچھ لوگ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے: کیا آپ نے دیکھا ہے، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے ہمراہ لوگوں کو ٹھہرنے پر مجبور کر دیا ہے حالانکہ یہاں آس پاس پانی نہیں ہے، اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں ہے، تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (کے پاس) آئے اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میرے زانوں پر رکھ کر سو رہے تھے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے اللہ کے رسول کو اور لوگوں کو رکنے پر مجبور کیا ہے حالانکہ یہاں آس پاس پانی نہیں ہے، اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں ہے۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ پر ناراضگی کا اظہار کیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ کہا وہ اپنے ہاتھ کے ہاتھ میرے پہلو پر مارتے رہے، لیکن میں نےحرکت اس لئے نہیں کی، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (میرے زانوں پر سر رکھ کر آرام فرما رہے تھے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے، یہاں تک کہ صبح کا وقت ہوگیا، تو اللہ تعالیٰ نے تیمم سے متعلق آیت نازل کردی تو لوگوں نے تیمم کرلیا۔ اس وقت اسید بن حضیر، جو نقیبوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے یہ کہا: اے ابو بکر کی آل! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی، تو ہمیں اس کے نیچے سے ہار بھی مل گیا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of tayammum · Hadith 1300

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1301

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، قَالَ: [ص:120] حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَإِنَّا سِرْنَا لَيْلَةً، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ - وَلَا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا - فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ، قَالَ: وَكَانَ أَوَّلُ مَنِ اسْتَيْقَظَ فُلَانٌ، ثُمَّ فُلَانٌ، ثُمَّ فُلَانٌ، - وَكَانَ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُمْ عَوْفٌ - ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الرَّابِعُ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ نُوقِظْهُ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ، لَأَنَّا لَا نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي نَوْمِهِ، قَالَ: فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ، قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا أَجْوَفَ جَلِيدًا، قَالَ: فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ بِصَوْتِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شَكَوَا الَّذِي أَصَابَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: [ص:121] «لَا ضَيْرَ - أَوْ لَا يَضِيرُ - ارْتَحِلُوا» فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، وَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، قَالَ: «مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟ » قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ»، ثُمَّ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاشْتَكَى إِلَيْهِ النَّاسُ الْعَطَشَ، قَالَ: فَنَزَلَ فَدَعَا فُلَانًا - وَكَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُ عَوْفٌ - وَدَعَا عَلِيًّا، فَقَالَ: «اذْهَبَا فَابْغِيَا لَنَا الْمَاءَ»، فَلَقِيَا امْرَأَةً بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ، أَوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا، فَقَالَا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ؟ قَالَتْ: عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ، وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ، قَالَ: فَقَالَا لَهَا: انْطَلِقِي إِذًا، قَالَتْ: إِلَى أَيْنَ؟ قَالَا: إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِي؟ قَالَا: هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ، فَانْطَلِقِي إِذًا، فَجَاءَا [ص:122] بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدَّثَاهُ الْحَدِيثَ قَالَ: فَاسْتَنْزَلُوهَا عَنْ بَعِيرِهَا، وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِإِنَاءٍ، فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ، أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ، وَأَوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا وَأَطْلَقَ الْعَزَالِي، وَنُودِيَ فِي النَّاسِ، أَنِ اسْتَقُوا وَاسْقُوا، قَالَ: فَسَقَى مَنْ شَاءَ وَاسْتَقَى مَنْ شَاءَ، وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أُعْطِيَ الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ، فَقَالَ: «اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ» قَالَ: وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى مَا يَفْعَلُ بِمَائِهَا، قَالَ: وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ أُقْلِعَ عَنْهَا حِينَ أُقْلِعَ وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ لَنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مَلْئًا مِنْهَا حِينَ ابْتُدِئَ فِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْمَعُوا لَهَا طَعَامًا» قَالَ: فَجَمَعَ لَهَا مِنْ بَيْنِ عَجْوَةٍ وَدَقِيقَةٍ وَسَوِيقَةٍ، حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا كَثِيرًا، وَجَعَلُوهُ فِي ثَوْبٍ، وَحَمَلُوهَا عَلَى بَعِيرِهَا، وَوَضَعُوا الثَّوْبَ بَيْنَ يَدَيْهَا، قَالَ: فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعْلَمِينَ أَنَّا وَاللَّهِ مَا رَزِئْنَا مِنْ مَائِكَ شَيْئًا، وَلَكِنَّ اللَّهَ هُوَ سَقَانَا» قَالَ: فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: مَا حَبَسَكِ يَا فُلَانَةُ؟ قَالَتِ: الْعَجَبُ، لَقِيَنِي رَجُلَانِ، فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الصَّابِي، فَفَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا، الَّذِي قَدْ كَانَ، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَأَسْحَرُ مَنْ بَيْنَ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ، أَوْ إِنَّهُ لِرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ [ص:123] وَسَلَّمَ، حَقًّا، قَالَ: فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ ذَلِكَ يُغِيرُونَ عَلَى مَنْ حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَلَا يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ فِيهِ، فَقَالَتْ لِقَوْمِهَا: وَاللَّهِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ يَدَعُونَكُمْ عَمْدًا، فَهَلْ لَكُمْ فِي الْإِسْلَامِ؟ فَأَطَاعُوهَا فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَام. [1: 30]

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کررہے تھے۔ ہم رات بھر سفر کرتے رہے، جب رات کا آخری حصہ ہوا تو ہمیں نیند نے آلیا اور مسافر کے نزدیک نیند سے پیاری اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ہمیں سورج کی تپش نے بیدار کیا۔ حضرت عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بیدار ہونے والوں میں سے سب سے پہلے فلاں شخص تھے پھر فلاں صاحب تھے اور پھر فلاں صاحب تھے۔ ابو رجاء نامی راوی نے ان کے نام بھی بیان کئے تھے لیکن عوف نامی راوی ان کے ناموں کو بھول گئے پھر چوتھے بیدار ہونے والے فرد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوتے تھے، تو ہم آپ کو بیدار نہیں کرتے تھے۔ آپ خود ہی بیدار ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے، ہم یہ نہٰیں جان سکتے تھے کہ نیند کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا صورتحال پیش آرہی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور انہوں نے صورت حال کو دیکھا تو راوی بیان کرتے ہیں: وہ بلند آواز کے مالک ایک سخت مزاج شخص تھے۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے بلند آواز میں تکبیر کہی اور مسلسل تکبیر کہتے رہے۔ ان کی تکبیر کی آواز بلند رہی، یہاں تک کہ ان کی آواز کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوگئے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو لوگوں نے پیش آنے والی صورت حال کی شکایت آپ کی خدمت میں کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی نقصان نہیں ہے۔ یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے۔ تم لوگ روانہ ہوجاؤ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑا آگے گئے پھر آپ سواری سے نیچے اترے پھر آپ نے پانی منگوایا وضو کیا نماز کے لئے اذان دی گئی۔ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو ایک شخص الگ موجود تھا۔ اس نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے فلاں کیا وجہ ہے، تم نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، اور (غسل کرنے کے لئے) پانی نہیں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: تم پر مٹی کو استعمال کرنا لازم ہے یہ تمہارے لئے کافی ہوگی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے لوگوں نے آپ کی خدمت میں پیاسے ہونے کی شکایت کی۔راوی بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے نیچے اترے آپ نے فلاں صاحب کو بلوایا اس شخص کا نام ابورجاء نامی نے بیان کیا تھا لیکن عوف نامی راوی اسے بھول گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلایا اور ارشاد فرمایا: تم دونوں جاؤ اور ہمارے لئے پانی تلاش کرو (یہ دونوں حضرات روانہ ہوگئے) ان دونوں حضرات کا سامنا ایک خاتون سے ہوا جو اپنے اونٹ پر دو مشکیزوں کے درمیان سوار تھی۔ ان دونوں حضرات نے اس خاتون سے دریافت کیا کہ پانی کہاں ہے۔ اس نے جواب دیا: گزشتہ کل اسی وقت میں پانی کے پاس تھی (یعنی ایک دن کے فاصلے پر ہے) اور ہمارے مرد قبیلے میں موجود نہیں تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ان دونوں حضرات نے اس خاتون سے کہا پھر تم (ہمارے ساتھ) چلو۔ اس نے دریافت کیا: کیا ان دونوں حضرات نے جواب دیا: اللہ کے رسول کی طرف اس نے دریافت کیا: کیا یہی وہ شخص ہے، جسے بے دین کہا جاتا ہے ان دونوں صاحبان نے فرمایا: وہ وہی ہیں، جو تم مراد لے رہی ہو۔ اب تم چل پڑو پھر یہ دونوں اس خاتون کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علی وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو پورے واقعے کے بارے میں بتایا۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس خاتون کو اس کے اونٹ سے نیچے اتار لیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا اور مشکیزوں کے منہ سے اس میں پانی انڈیلا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) آپ نے مشکیزےکے منہ کو بند رکھا اور اس کے نیچے کے سوراخ کو کھول دیا، اور لوگوں میں یہ اعلان کر دیا گی کہ تم لوگ خود بھی پانی حاصل کرو اور (اپنے جانوروں وغیرہ کو) بھی پلاؤ۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر جس نے چاہا اس نے پی لیا جس نے چاہا اس نے پلانے کے لئے حاصل کر لیا۔ سب سے آخر میں اس شخص کو پانی کا برتن دیا گیا جسے جنابت لاحق ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم جاؤ اور اسے اپنے جسم پر انڈیل لو۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ عورت کھڑی دیکھتی رہی۔ اس کے پانی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! جب اس میں اتنا سارا پانی نکال لیا گیا، تو پھر بھی ہمیں یوں محسوس ہوا کہ شاید یہ مشکیزے سے پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس عورت کے لئے کھانے کا سامان جمع کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو اس عورت کے لئے عجوہ کھجوریں اور دستو جمع کرلیے گئے، یہاں تک کہ اس کے لئے بہت سا اناج جمع ہوگیا اور لوگوں نے اسے ایک کپڑے میں ڈال دیا۔ اسے اس کے اونٹ پر سوار کر دیا، اور وہ کپڑا اس کے آگے رکھ دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: تم یہ بات جانتی ہو؟ اللہ کی قسم! ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں سیراب کر دا۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ عورت اپنے گھر والوں کے پاس آئی جبکہ وہ کچھ تاخیر سے گئی تھی ان لوگوں نے دریافت کیا: اے فلاں تم کہاں رہ گئی تھی۔ اس نے جواب دیا: بڑی حیرانگی کی بات ہے مجھے وہ لوگ ملے وہ مجھے ساتھ لے کر ان صاحب کے پاس چلے گئے جن کے بارے میں یہ کہاجاتا ہے،وہ بے دین ہیں۔ انہوں نے میرے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا یعنی اس چیز کے بارے میں بتایا جو ہو چکی تھی۔ اور کہا: اللہ کی قسم! وہ یہاں سے لے کر یہاں تک کے درمیانی حصے کے سب سے بڑے جادوگر ہیں یا پھر وہ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد وہاں کے مسلمانوں نے آس پاس کے مشرکیں پر حملے کئے لیکں اس بستی پر حملہ نہیں کیا جہاں وہ عورت رہتی تھی۔ اس عورت نے اپنی قوم سے کہا: اللہ کی قسم! یہ لوگ جان بوجھ کر تمہیں چھوڑ رہے ہیں تو کیا تم لوگ اسلام میں دلچسپی رکھتے ہو، تو ان لوگوں نے اس عورت کی بات مان لی اور اسلام میں داخل ہوگئے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبُو رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of tayammum · Hadith 1301

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1302

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي آخِرِ اللَّيْلِ، وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ - وَلَا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا - فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ، فَاسْتَيْقَظَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ - وَكَانَ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُمْ عَوْفٌ - ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ الرَّابِعُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ يُوقَظْ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ، لَأَنَّا لَا نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي النَّوْمِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ، وَكَانَ رَجُلًا جَلِيدًا، فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ بِصَوْتِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا إِلَيْهِ الَّذِي أَصَابَهُمْ، فَقَالَ: «لَا يَضِيرُ، فَارْتَحِلُوا» وَارْتَحَلَ، فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ، فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: «مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟ » فَقَالَ: [ص:125] يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، وَلَا مَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ» ثُمَّ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَا النَّاسُ إِلَيْهِ الْعَطَشَ، فَنَزَلَ فَدَعَا فُلَانًا - وَكَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُ عَوْفٌ - وَدَعَا عَلِيًّا رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَقَالَ: «اذْهَبَا فَأَتَيَا بِالْمَاءِ»، فَانْطَلَقَا فَاسْتَقْبَلَتْهُمَا امْرَأَةٌ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ، أَوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا، وَقَالَا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ؟ فَقَالَتْ: عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ، وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ قَالَا لَهَا: انْطَلِقِي، قَالَتْ: إِلَى أَيْنَ؟ قَالَا: إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الصَّابِي؟ قَالَا: هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ، فَانْطَلِقِي، وَجَاءَا بِهَا إِلَى النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَنْزَلُوهَا عَنْ بَعِيرِهَا، وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ، فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ، أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ، وَأَوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا، وَأَطْلَقَ الْعَزَالِي، وَنُودِيَ فِي النَّاسِ: أَنِ اسْتَقُوا وَاسْقُوا، قَالَ: فَسَقَى مَنْ شَاءَ، وَاسْتَسْقَى مَنْ شَاءَ، وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ، فَقَالَ: «اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ»، قَالَ: وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى مَا يَفْعَلُ بِمَائِهَا، قَالَ: وَايْمُ اللَّهِ، لَقَدْ أُقْلِعَ عَنْهَا حِينَ أُقْلِعَ، وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مَلْئًا مِنْهَا حِينَ ابْتُدِئَ فِيهَا، [ص:126] فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْمَعُوا لَهَا طَعَامًا»، فَجَمَعَ لَهَا مِنْ تَمْرٍ وَعَجْوَةٍ وَدَقِيقَةٍ وَسَوِيقَةٍ، حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا كَثِيرًا، وَجَعَلُوهُ فِي ثَوْبٍ وَحَمَلُوهَا عَلَى بَعِيرِهَا، وَوَضَعُوا الثَّوْبَ الَّذِي فِيهِ الطَّعَامُ بَيْنَ يَدَيْهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعْلَمِينَ وَاللَّهِ مَا رَزَأْنَا مِنْ مَائِكِ شَيْئًا، وَلَكِنَّ اللَّهَ هُوَ الَّذِي سَقَانَا» فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَنْهُمْ، قَالُوا: مَا حَبَسَكِ يَا فُلَانَةُ؟ قَالَتِ: الْعَجَبُ، لَقِيَنِي رَجُلَانِ فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الصَّابِي، فَفَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا - الَّذِي قَدْ كَانَ - وَاللَّهِ إِنَّهُ لَأَسْحَرُ مَنْ بَيْنَ هَذِهِ وَهَذِهِ - وَقَالَتْ بِأُصْبُعَيْهَا السَّبَّابَةُ الْوُسْطَى، فَرَفَعَتْهُمَا إِلَى السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدُ يُغِيرُونَ عَلَى مَنْ حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَلَا يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ فِيهِمْ، قَالَتْ يَوْمًا لِقَوْمِهَا: مَا أَرَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ يَدَعُونَكُمْ إِلَّا عَمْدًا، فَهَلْ لَكُمْ فِي الْإِسْلَامِ؟ فَأَطَاعُوهَا فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ. [5: 2] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ عِمْرَانُ بْنُ تَيْمٍ، مَاتَ وَهُوَ ابْنُ مِائَةٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً»

1302حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ جب رات کا آخری حصہ آیا تو ہمیں نیند آگئی اور مسافر کے نزدیک نیند سے زیادہ پیاری کوئی اور چیز نہیں ہوتی۔ ہمیں سورج کی پیش نے بیدار کیا فلاں، فلاں اور فلاں، بیدار ہوئے ابورجاء نامی راوی نے ان کا نام بیان کیا تھا لیکن عوف نامی راوی ان کا نام بھول گئے پھر چوتھے بیدار ہونے والے شخص حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علی وسلم جب سویا کرتے تھے، تو آپ کو بیدار نہیں کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ آپ خود ہی بیدار ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے، ہم یہ نہیں جان سکتے تھے کہ نیند کے دوران آپ کےساتھ کیا صورت حال پیش آرہی ہے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیدار ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ان پر ہو اور انہوں نے وہ چیز دیکھی جو لوگوں کو پیش آئی ہے وہ بلند آواز کے مالک تھے۔ انہوں نے تکبیر کہی اور تکبیر کہتے ہوئے آواز کو بلند کیا۔ وہ مسلسل تکبیر کہتے رہے اور بلند آواز میں تکبیر کہتے رہے یہاں تک کہ ان کی آواز کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوگئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو لوگوں نے پیش آنے والی صورت حال کی شکایت آپ کے سامنے کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں تم لوگ روانہ ہوجاؤ پھر آپ روانہ ہوئے تھوڑا آگے جانے کے بعد آپ سواری سے اترے پھر آپ نے وضو کے لئے پانی منگوایا وضو کیا نماز کے لئے اذان دی گئی۔ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ لوگوں کو نماز پڑھا کر فارغ ہوئے تو ایک شخص الگ موجود تھا، جس نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی تھی۔ آپ نے دریافت کیا: اے فلاں کیا بات ہے، تم نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں ادا کی۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہوگئی تھی، اور پانی موجود نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر مٹی استعمال کرنا لازم ہے وہ تمہارے لئے کفایت کرے گی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے لوگوں نے اپ کی خدمت میں پیاسے ہونے کی شکایت کی، تو آپ سواری سے نیچے اترتے اور فلاں کو بلایا رجاءنامی راوی نے ان کا نام بیان کیا تھا لیکن عوف نامی راوی اسے بھول گئے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) آپ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی بلایا اور فرمایا تم دونوں جاؤ اور پانی لے کر آؤ۔ دونوں حضرات روانہ ہوئے ان کا سامنا ایک عورت سے ہوا جو اپنے اونٹ پر دو مشکیزوں کے درمیان سوار تھی (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) ان دونوں حضرات نے اس سے دریافت کیا پانی کہاں ہے۔ اس نے جواب دیا: گزشتہ دن اسی وقت میں پانی کے پاس موجود تھی۔ ہمارے قبیلے کے مرد موجود نہیں ہیں ( اس لئے میں اتنی دور سے پانی لے کر آئی ہوں) ان دونوں حضرات نے اس سے کہا تم چلو اس نے دریافت کیا: کہاں؟ ان دونوں حضرات نے جواب دیا: اللہ کے رسول کی طرف اس نے دریافت کیا: کیا یہ وہی صاحب ہیں، جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے، وہ بے دین ہیں ان دونوں صاحبان نے جواب دیا: یہ وہی ہیں، جو تم مراد لے رہی ہو تم چلو۔ دونوں حضرات اس عورت کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ لوگوں نے اس عورت کو اس کےاونٹ سے نیچے اتارا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا۔ آپ نے مشکیزوں کے منہ سے پانی انڈیلا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منہ کو بند کردیا۔ ان کے نیچے والے سوراخ کو کھول دیا۔ لوگوں میں اعلان کر دیا کہ وہ پانی حاصل کرلیں اور (جانوروں وغیرہ کو بھی) پانی پلائیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر جس نے چاہا اس نے پانی پلایا اور جس نے چاہا پانی پی لیا۔ سب سے آخر میں اس شخص کو دیا، جسے جنابت لاحق ہوئی تھی۔ پانی کا برتن دیا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اور اسے اپنے اوپر بہا لو۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ عورت کھڑی دیکھتی رہی کہ اس کے پانی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! اس میں سے جتنا بھی پانی نکلا اس کے بعد بھی ہمیں یوں محسوس ہوا تھا شاید وہ مشکیزے پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس عورت کے لئے کھانے کا سامان اکٹھا کرو، تو اس عورت کے لئے عجوہ کھجوریں آٹا اور ستواکٹھے کئے گئے، یہان تک کہ لوگوں نے اس کے لئے بہت سا اناج اکٹھا کر لیا۔ لوگوں نے اسے ایک کپڑے میں رکھا اور اس عورت کو اس کے اونٹ پر سوار کرکے، وہ تھیلا اس کے آگے رکھ دیا جس میں اناج موجود تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا تم یہ بات جانتی ہو اللہ کی قسم! ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں سیراب کیا ہے، پھر وہ عورت اپنے اہل خانہ کے پاس آئی وہ تاخیر سے ان کے پاس پہنچی تھی، تو ان لوگوں نے دریافت کیا: اے فلانہ تمہیں کس چیز نے روک لیا تھا۔ وہ بولی بڑی حیران کن بات ہے۔ مجھے دو آدمی ملے وہ مجھے ساتھ لے گئے اور ان صاحب کے پاس لے گئے جنہیں بے دین کہا جاتا ہے، پھر انہوں نے میرے ساتھ اس، اس طرح کا سلوک کیا یعنی جو کچھ ہوا تھا( اس کو اس نے بیان کیا) اللہ کی قسم! یہاں سے لے کر یہاں تک کے درمیان موجود اس جگہ میں وہ سب سے بڑے جادوگر ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس عورت نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو پہلے آسمان کی طرف اٹھایا۔ پھر زمین کی طرف کیا (اور یہ بات کہی) یا پھر وہ واقعی اللہ کے سچے رسول ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد مسلمانوں نے اس کے آس پاس کے علاقوں میں موجود مشرکین پر حملے کئے لیکن اس بستی پر حملہ نہیں کیا جہاں وہ عورت رہتی تھی۔ ایک دن اس عورت نے اپنی قوم سے کہا میرا یہ خیال ہے، یہ لوگ تم لوگوں کو جان بوجھ کر چھوڑ رہے ہیں، تو کیا تم لوگ اسلام میں دلچسپی رکھتے ہو، تو لوگوں نے اس کی بات مان لی اور اسلام میں داخل ہوگئے۔ (امان ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) ابورجاء بن عطاردی کا نام عمران بن تیم ہے ان کا انتقال 120 سال کی عمر میں ہوا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبُو رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of tayammum · Hadith 1302

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1303

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قال سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّيَمُّمِ فَأَمَرَنِي بِالْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً1. وكان قتادة به يفتي.

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تیمم کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے چہرے اور دونوں بازوؤں کے لئے مجھے ایک ضرب (زمین پر) مارنے کی ہدایت کی۔ قتادہ اس کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں۔

التَّيَمُّمِ فَأَمَرَنِي بِالْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً1. وكان قتادة به يفتي. ← سَأَلَتِ النَّبِيَّ ← عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← عَزْرَۃَ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of tayammum · Hadith 1303

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1304

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى فَقَالَ أَبُو مُوسَى يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّجُلُ يُجْنِبُ فَلَا يَجِدُ الْمَاءَ أَيُصَلِّي فَقَالَ لَا فَقَالَ أَمَا تَذْكُرُ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَنْتَ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: "كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا"، وَضَرَبَ بِيَدِهِ الْأَرْضَ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ فَقَالَ لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ1. قَالَ فَمَا تصنع بِھٰذِہِ الْاٰیَۃِ( فَلَمْ تَجِدُوْا مَاءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیْبًا) فَقَالَ اَمَا اِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَھُمْ فِیْ ھٰذَا لَکَانَ اَحَدُھُمْ اِذَا وَجَدَ بَرْدَ الْمَاءِ تَیَمَّمَ بِالصَّعِیْدِ زَادَ یَعْلٰی قَالَ الْاَعْمَشُ فَقُلْتُ لشقیق فلم یکن ھٰذا إلا لھٰذَا۔

شقیق بیان کرتے ہیں: میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابو عبد الرحمٰن! ایک شخص کو جنابت لاحق ہوجاتی ہے، اور اسے پانی نہیں ملتا تو کیا وہ نماز ادا کرے گا۔ حضرت عبد اللہ نے جواب دیا: جی نہیں۔ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا: کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے، حضرت عمار نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا تھا کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور آپ کو کسی جگہ بھیجا تھا، تو مجھے جنابت لاحق ہوگئ تھی، تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگیا پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو اپ نے فرمایا: تمہارے لئے اس طرح کرلینا کافی تھا۔ پھر آپ نے دونوں ہاتھ زمین پر مارے اور انہیں اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں پر پھیر لیا۔ تو حضرت عبد اللہ بند مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہیں دیکھا ۔ انہوں نے اس بیان پر قناعت کی ہو۔ تو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر آپ اس آیت کے بارے میں کیا کہیں گے: "اور تمہیں پانی نہیں ملتا تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو"۔ تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمای: اگر ہم اس بارے میں لوگوں کو رخصت دینا شروع کردیں تو ان دونوں میں سے کسی ایک شخص کو پانی ٹھنڈا لگے تو وہ مٹی کے ذریعے تیمم کر لیا کرے گا۔ لعلی نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے اعمش نے یہ بات بیان کی ہے، میں نے شقیق سے کہا یہ حکم صرف اس کے لئے ہے۔

شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of tayammum · Hadith 1304

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1305

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ لَوْ أَنَّ جُنُبًا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا لَمْ يُصَلِّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَا قَالَ أَبُو مُوسَى أَمَا تَذْكُرُ حِينَ قَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِعُمَرَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ أَلَا تَذْكُرُ حِينَ بَعَثَنِي وَإِيَّاكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِبِلِ فَأَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا"، وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَا جَرَمَ مَا رَأَيْتُ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ قَالَ أَبُو مُوسَى فَكَيْفَ بِهَذِهِ الْآيَةِ فِي سُورَةِ النِّسَاءِ {فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيداً طَيِّباً} [المائدة: 6] فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي ذَلِكَ يُوشِكُ إِذَا بَرَدَ عَلَى جِلْدِ أَحَدِهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمَ قَالَ الْأَعْمَشُ فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ أَمَا كَانَ لِعَبْدِ اللَّهِ غَيْرُ ذَلِكَ قال لا1.

۔ شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں؛ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا اگر کسی جنبی کو ایک مہینے تک پانی نہیں ملتا تو کیا وہ نماز ادا نہیں کرے گا۔ حضرت عبد اللہ نے فرمایا: نہیں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ کہا تھا کہ اے امر المومنین کیا آپ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ہیں۔ کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے، اللہ کے رسول نے مجھے اور آپ کو (اونٹوں) کے باڑے میں بھیجا تھا، تو مجھے جنابت لاحق ہوگئی تھی، تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگیا جب میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے لئے یہ کافی تھا کہ تم اس طرح کرلو، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک زمین پر مارا اور اپنے چہرے اور بازوؤں پر پھیر لیا۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا: یہ بات طے ہے، میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا تھا کہ انہوں نے اس پر قناعت نہیں کی تھی، تو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: پھر آپ سورۃ نساء میں موجود اس آیت کے بارے میں کیا کہیں گے۔ "اور تمہیں پانی نہیں ملتا تو تم پاک مٹی کے ذریعے تیمم کرلو"۔ اس پر حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اگر ہم لوگوں کو اس بارے میں رخصت دینا شروع کردیں تو عنقریب ایسا وقت آجائے گا کہ جب ان میں سے کسی ایک کو پانی ٹھنڈا لگے گا، تو وہ تیمم کر لیا کرے گا۔ اعمش نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے میں ے شقیق سے کہا کیا حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (کی اس مسئلے کے بارے میں) کوئی اور دلیل بھی ہے۔ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔

أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ لَوْ ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of tayammum · Hadith 1305

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1306

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ، فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارٌ، أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ، فَأَجْنَبْنَا، فَلَمْ نَجْدِ الْمَاءَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا، فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ، فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا، وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ». [5: 42]

عبدالرحمٰن بن ابزیٰ بیان کرتے ہیں: ایک شخص حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ بولا: مجھے جنابت لاحق ہوگئی ہے، اور مجھے پانی نہیں ملا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تم نماز نہ پڑھو تو حضرت عمار نے کہا: اے امیرالمومنین کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے، میں اور آپ ایک جنگ میں تھے اور ہمیں جنابت لاحق ہوگئی اور پانی نہیں ملاآپ نے تو نماز ادا نہیں کی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگیا تھا، اور میں نے نماز ادا کرلی۔ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہیں اتنا کافی تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک زمین پر مارا اس پر پھونگ ماری اور ان دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے اور بازوؤں پر پھیر لیا۔

فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ، فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، ← وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ، فَأَجْنَبْنَا، فَلَمْ نَجْدِ الْمَاءَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا ← عَمَّارٌ، أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ ← عُمَرُ: لَا تُصَلِّ، ← إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ ← أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← ذَرٍّ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of tayammum · Hadith 1306

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1307

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى فَقَالَ أَبُو مُوسَى يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّجُلُ يُجْنِبُ فَلَا يَجِدُ الْمَاءَ يُصَلِّي فَقَالَ تَسْمَعُ قَوْلَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ لِعُمَرَ إِنَّ رَسُولَ الله صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَنَا اَنَا وَاَنْتَ فَاَجْنَبْتُ فَتَمَعَّکْتُ بِالصَّعِیْدِ فَاَتَیْتِ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاَخْبَرْتُہٗ فَقَالَ: اِنَّمَا یَکْفِیکَ ھٰذا ، وَمَسَحَ وَجْھَہُ وَکَفِّیْہِ وَاحِدَۃً فَقَالَ اِنِّیْ لَمْ اَرَ عُمَرَ قَنَعَ بِذٰلِکَ فَقَالَ کَیْفَ تَصْنُعُونَ بِھٰذِہِ الْاٰیَۃِ( فَلَمْ تَجِدُوْا مَاءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیَبًا) قَالَ لَوْ رَخَّصْنَا لَھُمْ فِیْ ھٰذِہِ کَانَ اَحَدُھُمْ اِذَا وَجَدَ الْمَاءَ الْبَارِدَ یَمْسَحُ بِالصَّعِیْدِ قَالَ الْاَعْمَشُ فَقُلْتُ لِشَقِیقٍ مَا کَرِھَہُ اِلَّا لھٰذا۔

۔شقیق بیان کرتے ہیں: میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ موجود تھا، تو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: عبد الرحمٰن ایک شخص کو جنابت لاحق ہوگئی اور اسے پانی نہیں ملتا تو وہ نماز ادا کرے گا؟ پھر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا آپ نے حضرت عمار بن یاسر کا قول سنا تھا جو انہون نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور آپ کو ایک مہم پر روانہ کیا تھا۔ میں جنابت کا شکار ہوگیا۔ میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگیا پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا: تمہارے لئے اس طرح کرلین کافی تھا پھر آپ نے اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کا ایک مرتبہ مسح کیا۔ اس پر حضرت عبد اللہ نے فرمایا: میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہیں دیکھا کہ انہوں نے اس بات پر قناعت کی ہو، تو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا پھر آپ اس آیت کے بارے میں کیا کہیں گے۔ "اور تمہیں پانی نہیں ملتا تم پاک مٹی کے ذریعے تیمم کرلو"۔ تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اگر ہم لوگوں کو اس بارے میں رخصت دینا شروع کردیں تو ان میں سےکسی ایک کو اگر پانی ٹھنڈا لگے گا۔ تو وہ مٹی سے مسح کر لیا کرے گا۔ اعمش نامی راوی کہتے ہیں میں نے شقیق سے کہا: کیا وہ (حضرت ابن مسعود) اس وجہ سے اسے ناپسند کرتے تھے۔

تَسْمَعُ قَوْلَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ لِعُمَرَ ← أَبُو مُوسَى يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّجُلُ يُجْنِبُ فَلَا يَجِدُ الْمَاءَ يُصَلِّي ← كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of tayammum · Hadith 1307

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1308

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّيَمُّمِ فَأَمَرَنِي بِالْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً2. وَكَانَ قَتَادَةُ بِهِ يُفْتِي.

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تیمم کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ نے چہرے اور دونوں بازوؤں کے لئے مجھےایک ضرب (زمین پر) لگانے کا حکم دیا۔ قتادہ اس کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں۔

التَّيَمُّمِ فَأَمَرَنِي بِالْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً1. وكان قتادة به يفتي. ← سَأَلَتِ النَّبِيَّ ← عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← عَزْرَۃَ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of tayammum · Hadith 1308

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1309

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ [ص:133] الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ *، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارٌ: أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا، فَلَمْ نَجْدِ الْمَاءَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «إِنَّمَا يَكْفِيكَ وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا، وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ». [1: 30] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «اللَّفْظُ لِمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ رَحِمَهُ اللَّهُ»

حضرت عبد الرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا مجھے جنابت لاحق ہوگئی ہے۔ مجھے پانی نہیں ملا تو انہوں نے فرمایا: تم نماز نہ پڑھو تو حضرت عمار نے کہا: اے امیر المومنین کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے، جب میں اور آپ ایک مہم میں شریک تھے۔ ہمیں جنابت لاحق ہوگئی اور ہمیں پانی نہیں ملا تو آپ نے نماز ادا نہیں کی اور میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہوکر نماز پڑھ لی جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تومیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لئے یہ کافی تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک زمین پر مارا دونوں ہاتھوں پر پھونک باری۔ پھر ان دونوں کو چہرے اور دونوں بازوؤں پر پھیر لیا۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) روایت کے الفاظ حمد بن اسحاق (یعنی امام ابن خزیمہ) کے نقل کردہ ہیں۔

أَبِيهِ ← ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← ذَرٍّ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of tayammum · Hadith 1309

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1310

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ بن أَخِي جُوَيْرِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ أبيه، عَنْ عَمَّارٍ قَالَ تَیَمَّمْنَا مَعَ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَی الْمَنَاکِبِ۔

۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کندھوں تک تیمم کیا ہے۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) یہ اس وقت کی بات ہے، جب تیمم کے حکم کے حوالے سے آیت نازل ہوگئی تھی لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تیمم کا طریقہ تعلیم نہیں دیا تھا۔ پھر اس کے بعد آپ نے انہیں تعلیم دیتے ہوئے بتایا، چہرے اور دونوں ہاتھوں کیلئے ایک ہی مرتبہ ضرب لگائی جائی گی۔ اس وقت جب حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تیمم کے بارے میں سوال کیا تھا۔

تَیَمَّمْنَا مَعَ النَّبِیِّ اِلَی الْمَنَاکِبِ۔ ← عَمَّارٍ ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مالک بن أنس ← جُوَيْرِيَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ بن أَخِي جُوَيْرِيَةَ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of tayammum · Hadith 1310

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1311

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ اجْتَمَعَتْ غَنِيمَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "يَا أَبَا ذَرٍّ ابْدُ فِيهَا" قَالَ فَبَدَوْتُ فِيهَا إِلَى الرَّبَذَةِ فَكَانَتْ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأَمْكُثُ الْخَمْسَ وَالسِّتَّ فَدَخَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "أَبُو ذَرٍّ" فَسَكَتُّ ثُمَّ قَالَ: "أَبُو ذَرٍّ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ" فَأَخْبَرْتُهُ فَدَعَا بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ فَجَاءَتْ بِعُسٍّ مِنْ مَاءٍ فَسَتَرَتْنِي وَاسْتَتَرْتُ بِالرَّاحِلَةِ فَاغْتَسَلْتُ فَكَأَنَّهَا أَلْقَتْ عَنِّي جَبَلًا فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ فَإِذَا وَجَدْتَ الماء، فأمسسہ جلدک فإن ذلک خیر۔

۔ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ بکریاں اکٹھی ہوگئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوذر! تم ان کے ہمراہ دیہات میں رہو۔ حضرت ابوذر کہتے ہیں میں انہیں لے کر رہذہ کے مقام پر آگیا۔ مجھے جنابت لاحق ہوگئی۔ میں پانچ یا چھ دن تک اسی حالت میں رہا۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: ابو ذر میں خاموش رہا پھر آپ نے فرمایا: اے ابوذر تمہاری ماں تمہیں روئے پھر میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سیاہ فام کنیز کو بلوایا وہ پانی کا ایک برتن لے کر آئی اور اس نےمیرے لئے پردہ تان دیا۔ میں سواری کی اوٹ میں ہوگی۔ میں نے غسل کیا، تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں اپنے اوپر سے پہاڑ اتار دیا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پاک مٹی مسلمان کے لئے طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ اگرچہ دس سال تک اسے (پانی نہ ملے) جب پانی ملے، تو پھر تم اسے اپنی جلد کے ساتھ مس کر لو (یعنی غسل کرلو) یہ زیادہ بہتر ہے"۔

"أَبُو ذَرٍّ" فَسَكَتُّ ثُمَّ ← فَبَدَوْتُ فِيهَا إِلَى الرَّبَذَةِ فَكَانَتْ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأَمْكُثُ الْخَمْسَ وَالسِّتَّ فَدَخَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ ← "يَا أَبَا ذَرٍّ ابْدُ فِيهَا" ← اجْتَمَعَتْ غَنِيمَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of tayammum · Hadith 1311

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr