صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1300
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ فَأَقَامَ مَعَهُ النَّاسُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَجَاءَ نَاسٌ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ فَقَالُوا أَلَا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وليس معهم ماء فجاء أبو بكر، و1 رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ یَطْعُنُ بِیَدِہِ فِیْ خَاصِرَتِی فَلَا یَمْنَعُنِیْ مِنَ التَّحْرُّکِ اِلَّا مَکَانُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنَامَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی اَصْبَحَ فَاَنْزَلَ اللہَ اٰیَۃَ التَّیَمُّمِ ، (فَتَیَمَّمُوْا) ۔ قَالَ اُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ وَّھُوَ اَحَدُ النُّقَبَاءِ مَا ھٰذَا بِاَوَّلِ بَرَکَتِکُمْ یَا اٰلَ اَبِیْ بَکْرٍ قَالَتْ عَائِشَۃُ فَبَعَثْنَا الْبَعِیْرَ الَّذِیْ کُنـْتُ عَلَیْہِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَہُ۔
۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: ہم ایک سفر پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے۔ جب ہم "بیداء" کے مقام پر پہنچے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) " ذات الجیش" کے مقام پر پہنچے تو میرا ہار گر گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاش میں وہاں ٹھہر گئے۔ آپ کے ساتھ لوگ بھی ٹھہر گئے وہاں آس پاس پانی نہیں تھا اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں تھا۔ کچھ لوگ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے: کیا آپ نے دیکھا ہے، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے ہمراہ لوگوں کو ٹھہرنے پر مجبور کر دیا ہے حالانکہ یہاں آس پاس پانی نہیں ہے، اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں ہے، تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (کے پاس) آئے اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میرے زانوں پر رکھ کر سو رہے تھے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے اللہ کے رسول کو اور لوگوں کو رکنے پر مجبور کیا ہے حالانکہ یہاں آس پاس پانی نہیں ہے، اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں ہے۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ پر ناراضگی کا اظہار کیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ کہا وہ اپنے ہاتھ کے ہاتھ میرے پہلو پر مارتے رہے، لیکن میں نےحرکت اس لئے نہیں کی، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (میرے زانوں پر سر رکھ کر آرام فرما رہے تھے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے، یہاں تک کہ صبح کا وقت ہوگیا، تو اللہ تعالیٰ نے تیمم سے متعلق آیت نازل کردی تو لوگوں نے تیمم کرلیا۔ اس وقت اسید بن حضیر، جو نقیبوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے یہ کہا: اے ابو بکر کی آل! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی، تو ہمیں اس کے نیچے سے ہار بھی مل گیا۔
عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،
Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of tayammum · Hadith 1300
