صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ اِفْشَاءِ السَّلَامِ وَاِطْعَامِ الطَّعَامِ · حديث 489
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ وَأَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطعام تدخلوا الجنان" 1.
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا ہے: ’’رحمان کی عبادت کرو( اپنے درمیان) سلام کو پھلاؤ کھانا کھلاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ‘‘۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : تم رحمٰن کی عبادت کرو یہ ایسے الفاظ ہیں‘ جو مخاطبین کے اختلاف ے حوالے سے کئی شعبو کے لئے استعمال ہو سکتے ہیں ‘ جن کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں‘ جو اس وصف کے ہمراہ ہے ‘ اور نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’ تم لوگ سلام کو پھیلاؤ ‘‘ یہ ایسے الفاظ ہیں‘ جو عموم پر اطلاق کیے جاتے ہیں ‘ لیکن تمام حالتوں میں ان کا استعمال واجت نہیں ہے۔ کیونکہ اگر آدمی ان کو تما م حالتوں میں استعمال کرے گا‘ اور ہر شخص کے لئے کرے گا‘ تو پھر معاملہ تنگی کا باعث بن جائے گا‘ اور یہ چیز آدمی کی گنجائش سے باہر نکل آئے گی اور اس صورت میں مسلمانوں پر یہ بات لازم کرنا آئے گا کہ وہ سلام کا جواب دیں‘ کیونکہ سلام کا جواب دینا فرض ہے۔ تو یہ چیز کفایت کر جائے گی ‘ تو وہ سلام‘ جو آغاز میں کیا جاتا ہے ‘ جس کے فرض ہونے کی تخصیص نہیں ہے مناسب ہے کہ وہ کفایت کر جائے۔ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’تم لوگ کھانا کھلاؤ‘‘۔ یہ ایسا حکم ہے کہ اس پر عمل کرنا مستحب ہے‘ اور اس کا مقصود ثواب کے حصول کے لئے اس کی ترغیب دینا ہے۔
عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى
Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of unveiling of peace and food · Hadith 489
