Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1037

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، أَنَّ أَبَا كَبْشَةَ السَّلُولِيَّ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ ثَوْبَانَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ». [1: 2]

حضرت ثوبان ؓ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " تم سنت کی پیروی کرو اور میانہ روی اختیار کرو۔" اور یہ بات جان لو کہ تمہارے اعمال میں سے سب سے بہتر نماز ہے، اور وضو کی حفاظت صرف مومن کرتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) یہ وہ الفاظ ہیں ، جن کا ہم اپنی کتابوں میں کئی بار ذکر کر چکے ہیں ، عرب اپنے محاورے میں کسی چیز کے مختلف اجزا میں سے کسی ایک چیز پر مکمل چیز کا نام استعمال کرتے ہیں ۔ وہ اس چیز کے نام کو اس ایک جز کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان " وضو کی حفاظت صرف مومن کرے گا " ۔ یہاں لفظ ایمان کے لفظ کی اطلاق وضو کی حفاظت کرنے والے پر کیا گیا ہے۔ حٓلانکہ وضو ایمان کے اجزا میں سے ایک جز ہے۔ اس طرح لفظ ایمان کا اطلاق ایک وضو کی حفاظت کرنے والے پر کیا گیا ہے۔ حالانکہ وضو ایمان کے اجزا میں سے ایک جز ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں ۔ سالم بن ابو الجعد نے حضرت ثوبان ؓ کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے وہ " منقطع " ہے۔ اس لئے ہم نے اس سے پہلو تہی کی ہے۔

ثَوْبَانَ، ← أَنَّهُ ← حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، أَنَّ أَبَا كَبْشَةَ السَّلُولِيَّ ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ: ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The section of E-mail · Hadith 1037

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1038

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟ إِسْبَاغُ الْوُضُوءُ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرباط، فذلكم الرباط، فذلكم الرباط" 1. 2:1

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں نہ بتاوں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ خطاوں کو مٹا دیتا ہے، اور اس کے ذریعے درجات کو بلند کر دیتا ہے۔ جب طبیعت آمادہ نہ ہو تو اچھی طرح وضو کرنا زیادہ قدموں کے ساتھ چل کر مسجد تک جانااور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہی تیاری ہے یہی تیاری ہے یہی تیاری ہے۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہن علیہ فرماتے ہیں : ) اس کا مطلب گناہوں سے بچنے کے لئے پہرہ ہے، کیونکہ وضو گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ بِالْبَصْرَةِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The section of E-mail · Hadith 1038

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1039

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ، حَدَّثَنَا هَوْبَرُ بْنُ مُعَاذٍ الْكَلْبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ شرحبيل بْنِ سَعْدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيُكَفَّرُ بِهِ الذُّنُوبَ؟ " قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكْرُوهَاتِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصلاة، فذلك الرباط" 2. 2:1

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← شرحبيل بن سعد ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← هَوْبَرُ بْنُ مُعَاذٍ الْكَلْبِيُّ، ← أَبُو عَرُوبَةَ بِحِرَّانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The section of E-mail · Hadith 1039

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1040

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ، بِمَنْبِجَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ -أَوِ الْمُؤْمِنُ- فَغَسَلَ وَجْهَهُ، خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ، وَمَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، أَوْ نَحْوَ هَذَا، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ، أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، حَتَّى يَخْرُجَ نقيا من الذنوب" 1. 2:1

حضرت ابو ہریرہ ؓ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " جب مسلمان بندہ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) مومن بندہ وضو کرتے ہوئے اپنے چہرے کو دھوتا ہے، تو پانی کے ساتھ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ یا اس کی مانند کوئی اور الفاظ ہیں ۔ اس کے ھہرے سے ہر وہ ھناہ نکل جاتا ہے، جس کے ذریعے وہ اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھتا ہے، جب وہ اپنے دونوں بازو دھوتا ہے، اس سے ہر وہ گناہ دھل جاتا ہے جس کو اس نے اپنے ہاتھوں سے پکڑا تھا ۔ پانی کے ساتھ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ یہاں تک کہ وہ شخص گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The section of E-mail · Hadith 1040

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1041

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حمران اَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ جَلَسَ عَلَی المَقَاعِدِ ، جَجَاءَہُ الْمُؤَذِّنُ ، فَآنَہُ بِصَلَاۃِ الْعَصْرِ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّاَ ، ثُمَّ قَالَ: لَاُ حَدِّثَنَّکُمْ حَدِیثًا لَوْلَا اٰیَۃٌ فِیْ کِتَابِ اللہِ لَمَّا حَدَّثْتُکُمُوْہُ ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یقول: مامن امرِءٍ یَتَوَضَّاُ فَیُحْسِنُ الْوُضُوْءَ ،ثُمَّ یُصَلِّی الصَّلَاۃَ ، اِلَّا غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الصَّلَاۃِ الأخری حتی یصلیھا۔

حمران بیان کرتے ہیں: حضرت عثمان غنی ؓ صحن میں بیٹھے تھے موذن ان کے پاس اطلاع دینے کے لئے آیا۔ انہوں نے پانی منگوایا وضو کیا پھر یہ بات ارشاد فرمائی میں تم لوگوں کو ایک حدیث بیان کرنے لگا ہوں ، اگر اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ایک آیت موجود نہ ہوتی تو میں وہ حدیظ بیان نہ کرتا ۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے سنا ہے: " جو بھی شخص اچھی طرح وضو کرتا تھا پھر نماز ادا کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے اس نماز اور اس کے بعد والی نماز کے درمیانی گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے، جب تک وہ اگلی نماز ادا کرتا۔" امام مالک بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے حضرت عثمان غنی کی مراد یہ آیت تھی: " تم دن کے دونوں کناروں اور رات کے کچھ حصہ میں نماز قائم کرو۔ بے شک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں ۔ یہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے۔"

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The section of E-mail · Hadith 1041

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1042

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةَ السَّلَاسِلِ، فَفَاتَهُمُ الْعَدُوُّ فَرَابَطُوا2 ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ أَبُو أَيُّوبَ وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ، فَقَالَ عَاصِمٌ: يَا أَبَا أَيُّوبَ فَاتَنَا الْعَدُوُّ الْعَامَ وَقَدْ، أُخْبِرْنَا أَنَّهُ مَنْ صَلَّى فِي الْمَسَاجِدِ الْأَرْبَعَةِ غفر له ذنبه. قال: يا بن أخي، اَدُلُّکَ عَلٰی مَاھُوَ اَیْسَرُ مِنْ ذٰلِکَ ؟ اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَقُوْلُ: مَنْ تَوَضَّاَ کَمَا اُمِرَ ، وَصَلّٰی کَمَا اُمِرَ ، غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذُنْبِہِ اَکَذٰلِکَ یَا عُقْبَۃُ ؟ قَالَ نَعَمْ۔

عاصم بن سفیان ثقفی بیان کرتے ہیں : لوگوں نے غزوہ سلاسل میں شرکت کی لیکن و ہ دشمنوں پر قابو نہ پا سکے وہ پہرے داری کرتے رہے، پھر جب حضرت معاویہ ؓ کے پاس واپس آئے ، تو اس وقت ان کے پاس حضرت ابو ایوب انصاری ؓ اور حضرت عقبہ بن عامر ؓ موجود تھے۔ عاصم بن سفیان نے کہا : اے ابو ویوب : اس سال ہم دشمن پر قابو نہیں پا سکے۔ ہمیں یہ بات بتائی گئی ہے جو شخص چار مساجد میں نماز ادا کر لیتا ہےاس کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ تو انہوں نے فرمایا:! اے میرے بھتیجے! میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جو تمہارے لئے اس سے زیادہ آسان ہے۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " جو شخص اس طرح وضو کرتا ہے، جس طرح اسے حکم دیا گیا ہے، اور اسی طرح نماز ادا کرتا ہے جس طرح اسے حکم دیا گیا ہے، تو اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے۔" ( پھر انہوں نے حضرت عقبہ ؓ سے دریافت کیا ) اے عقبہ! کیا اسی طرح ہے۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں: ) وہ چار مساجد یہ ہیں۔ مسجد حرام ، مسجد مدینہ ، مسجد اقصی ٰ اور مسجد قبا جنگ سلاسل حجرت معاویہ ؓ کے عہد خلافت میں ہوئی تھی، اور غزوہ سلاسل نبی اکرم ﷺ کے عہد میں ہوا تھا ۔

عاصم بن سفيان الثقفي ← سفيان بن عبد الرحمن ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The section of E-mail · Hadith 1042

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1043

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، أَنَّهُ اَنَّہٗ سَمَعَ حُمْرَانَ بْنَ اَبَانَ یُحَدِّثُ اَبَابُرْدَۃَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنِ النَّبِیِّ ، صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: مَنْ اَتَمَّ الْوُضُوْءَ کَمَا اَمَرَہُ اللہُ جَلَّ وَعَلَا ، فَالصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ کفارۃ لما بینھن۔1:2

جامع بن شداد بیان کرتے ہیں؛ انہوں نے حمران کو ابو بردہ کو یہ بات بتاتے ہوئے سنا حضرت عثامن غنی ظ نے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے: " جو شخص اس طرح مکمل وضو کرے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے، تو پانچ نمازیں ، اپنے درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہین ۔"

النَّبِيِّ ← عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← اَبَابُرْدَۃَ ← حُمْرَانَ بْنَ اَبَانَ ← جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، أَنَّهُ اَنَّہٗ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The section of E-mail · Hadith 1043

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1044

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَدَعَا بِطَهُورٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وَرُكُوعَهَا وَخُشُوعَهَا، إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ، مَا لَمْ يَأْتِ كَبِيرَةً، وَذَلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ" 2. 2:1

اسحاق بن سعید اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ۔ ایک مرتبہ میں حضرت عثامن غنی ؓ کے ساتھ تھا ۔ انہوں نے وضو کے لئے پانی منگوایا پھر یہ بات بتائی میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " جس بھی مسلمان کے سامنے فرض نماز کا وقت ہو جاتا ہے، اور وہ اچھی طرح وضو کر کے ، اچھی طرح رکوع اچھی طرح خشوع ( کے ساتھ ) نماز ادا کرے ، تو یہ نماز اس کے پہلے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے، جبکہ اس نے کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کیا ہو اور یہ ( فضیلت ) ہمیشہ حاصل ہوتی ہے۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← كُنْتُ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَدَعَا بِطَهُورٍ، ← أَبِيهِ ← أَبِي ← إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The section of E-mail · Hadith 1044

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1045

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "تَبْلُغُ حِلْيَةُ أهل الجنة مبلغ الوضوء" 1. 2:1

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " اہل جنت کے زیور وہاں تک جائیں گے جہاں تک وضو کیا جاتا ہے۔"

"تَبْلُغُ حِلْيَةُ أهل الجنة مبلغ الوضوء" ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The section of E-mail · Hadith 1045

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1046

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ الْمَقْبَرَةَ فَقَالَ: " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ. وَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ إِخْوَانَنَا". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْنَا إِخْوَانَكَ؟ قَالَ: "بَلْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ، وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ يَأْتِي بَعْدَكَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ فقال: "أرأيت لو كانت لرجل خيل غير مُحَجَّلَةٌ فِي خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ، أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ"؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَلَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي، كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ، أُنَادِيهِمْ: أَلَا هَلُمَّ، أَلَا هَلُمَّ، فَيُقَالُ: إِنَّهُمْ قَدْ بدلوا بعدك. فأقول: فسحقا فسحقا، فسحقا" 1.

حجرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ قبرستان تشریف لے گئے، تو آپ نے یہ دعا پڑھی: " تم پر سلام ہو اے اہل ایمان کی بستی کے رہنے والو! بے شک ہم بھی اللہ نے چاہا تو تم سے آ ملیں گے، میری یہ خواہش ہے میں نے اپنے بھائیوں کو دیکھ لیا ہوتا۔" لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ؛ تم میرے ساتھی ہو ، ہمارے بھائی وہ لوگ ہیں جو بعد میں آئئیں گےاور میں حوض پر تمہارا پیش رو ہو گا۔ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ! آپ اپنی امت کے بعد میں آنے والے لوگوں کو کیسے پہنچا نیں گے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارا کی اخیال ہے، کہ اگر کسی شخص کا ایسا سیاہ گھوڑا ہو، جس کے ماتھے اور چاروں پاوں کے پاس سفید نشان ہو، تو وہ مکمل سیاہ گھوڑوں کے درمیان اس کو پہچان نہیں لے گا ۔ لوگوں نے عرض کی : جہ ہاں ، یو رسول اللہ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ لوگ بھی جب قیامت کے دن آئین گےتو وضو کی وجہ سے ان کی پیشانیاں چمک رہی ہوں گی اور میں غرض ان لوگوں پر پیش رو ہوں گا، اور میرے حوض سے کچھ لوگوں کو پرے کر دیا جائے گا ، جس طرح گم شدہ اونٹ کو پرے کیا جاتا ہے۔ میں انہیں پکار کر کہوں گا ؛ آگے آو! آگے آو! تو کہا جائے گا ان لوگوں نے آپ کے بعد تبدیلی کی تھی ، تو میں کہوں گا : پرے ہو جاو، پرے ہو جاو، پرے ہو جاو۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں : )ماضی کی چیز استثنیٰ کرنا نا ممکن ہے۔ استثنیٰ صرف ان چیزوں میں ہو سکتا ہے، جو مستقبل سے تعلق رکھتی ہوں ۔ استثنیٰ کے بارے میں انسان کی حالت دو طرح کی ہو سکتی ہے ۔ اس وقت جب وہ اپنے ایمان میں استثنیٰ کرتا ہے ان میں سے ایک قسم وہ ہے، جس کو مطلق طور پر کرنا آدمی کے لئے مباح ہے۔ دوسری قسم وہ ہے اس میں انسان استثنیٰ کرے، تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔جہاں تک اس قسم کا تعلق ہے جو جائز نہیں ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی سے کہا جائےکیا تم اللہ تعالیٰ اس کے فرزتوں ، اس کی کتابوں ، رسولوں ، جنت ، جہنم ، دوبارہ زندہ ہونے، میزان اور ان جیسی دوسری چیزوں پر یقین رکھتے ہو تو آدمی پر لازم ہے وہ یہ کہے: میں اللہ تعالیٰ کے حق ہونے اور ان چیزوں کے حق ہونے پر ایمان رکھتا ہوں ۔ جب آدمی ان چیزوں کے بارے میں استثنیٰ کرے گا ، تو وہ کافر ہو جائے گا ، اور دوسری قسم یہ ہے، جب آدمی سے سوال کیا جائے کہ کیا تم ان مومنوں میں سے جو نماز قائم کرتے ہیں زکوۃ ادا کرتے ہیں اور ان میں خشوع کرتے ہیں اور وہ لغو چیزوں سے اعراض کرتے ہیں ، تو وہ شخص پھر یہ کہے، میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میں ان میں سے ہوں گا ۔ یا اس سے یہ کہا جائے کہ کیا تم جنتی ہو، تو جنتین ہونے میں استثنیٰ کر لے۔ یہ فائدہ روایت سے اس طرح ثابت ہوتا ہے، نبی اکرم ﷺ یہ بات ارشاد فرمائی ہے، " بے شک اگر اللہ نے چاہا تو ہم تم سے ملیں گے" ۔ یہ اس وقت ہواتھا جب نبی اکرم ﷺ چند صحابہ کے ہمراہ جنت البقیع تشریف لائے تھے ۔ جس میں مومن اور منافق دونوں لوگ تھے " بے شک اگر اللہ نے چاہا تو وہ مسلمان ہو کر تم لوگوں سے آملیں گے۔ اس کی بنیاد پر یہ بات ثابت ہوتی ہے، لغت اس بات کو درست قرار دیتی ہے ، مستقبل سے تعلق رکھنے والی کسی چیز کے بارے میں استثنیٰ کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس کے ہونے کے بارے میں شک نہ ہو۔اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: " اگر اللہ نے چاہا تو تم لوگ ضرور بہ ضرور امن کی حالت میں مسجد حرام میں داخل ہو گے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The section of E-mail · Hadith 1046

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1047

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ عَنِ بن مَسْعُودٍ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ تَرَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: "غر محجلون بلق من آثار الطهور" 2.

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! آپ نے اپنی امت کے جن افراد کو دیکھا نہیں آپ انہیں کیسے پہنچانیں گے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ وضو کے آثار سے چمک دار پیشانیوں والے ہوں گے۔

بن مَسْعُودٍ، أَنَّهُمْ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The section of E-mail · Hadith 1047

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1048

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرِدُونَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الوضوء سيما أمتي ليس لأحد غيرها" 1.

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: نبی اکرم ﷺ تم لوگ وضو کہ وجہ سے چمکدار پیشانیاں لے کر آو گے یہ میری امت کا مخصوص علامتی نشان ہو گا ۔ یہ ان کے علاوہ کسی اور کا نہیں ہو گا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The section of E-mail · Hadith 1048

chevron_left Previous
1234…34
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr