صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ التَّکْلِیفِ · حديث 139
اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ الْمِنْھَالِ الضَّرِیْرُ قَالَ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ زُرَیْعِ قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ عَلَی النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ھَذِہِ الْاٰیَۃُ( لِلہِ مَافِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَاِنْ تُبْدُوا مَافِیْ اَنْفُسِکُمْ اَو تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللہُ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَاءُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَاءُ وَاللہُ عَلٰکُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) اَتَوَا النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَجَثَوْا عَلَ الرُّ کَبِ وَقَالُوْا لَا نُطِیقُ لَا نَسْتَطِیْعُ کُلِّفْنَا مِنَ الْعَمَلِ مَا لَا نُطِیقُ وَلَا نَسْتَطِیْعُ فَاَنْزَلَ اللہُ (آمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ اَلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ) إلی قولہ: (غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ) فَقَالَ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُوْلُوْا کَمَا اَھْلُ الْکِتَابِ مِنْ قَبْلِکُمْ سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا بَلْ قُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیرُ فَاَنْزَلَ اللہُ( لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا لَھَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَییْھَامَا اکْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا اِنْ نَسِینَا اَوْ اَخْطَاْنَا) قَالَ: نَعَمْ( رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا اِصْرْا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا: قَالَ نَعَمْ( رَبَّنَا وَلا تُحَمِّلْنَا مَالَ طَاقَۃَ لَنَا بَہٖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ) قَالَ نَعَمْ ۔ (3:64)
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرمﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ’’آسمانوں میں جو کچھ ہے ‘ اور زمین میں جو کچھ ہے ‘ وہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے ۔ اگر تم اسے ظاہر کر دیتے ہو ‘ یا پوشیدہ رکھتے ہو‘ تو اللہ تعالیٰ اس بارے میں تم سے حساب لے گا ‘ اور ُہر وہ جس شخص کی چاہے گا مغٖفرت کر دے گا اور جس چاہے گا ‘ وہ عذاب دے گا ‘ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے‘‘۔ (راوی بیان کرتے ہیں ) تو لوگ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘وہ گھٹنوں کے بل جھک گئے اور اہنوں نے عرض کی : ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ ہم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ہمیں ایک ایسی چیز کا پابند کر دیا گیا ہے ‘ جس کی ہم طاقت بھی نہیں رکھتے اور استطاعت بھی نہیں رکھتے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ’’رسول اس چیز پر ایمان لایا ہے ‘ جو اس کے پروردگار کی طرف سے اس پر نازل کی گئی ہے ‘ اور اہل ایمان بھی ایمان لائے ہیں ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے: ’’تجھ سے مغفرت طلب کرتےہیں اے ہمارے پروردگار ! اور بے شک تیری ہی طرف لوٹنا ہے ‘‘۔ تو نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی: ’’تم لوگ اس طرح نہ کہو‘جس طرح تم سے پہلے اہل کتاب نے کہا تھا ہم نے یہ بات سن لی ہے ‘ ہم کی نافرمانی کرتے ہیں ‘ بلکہ تم لوگ یہ کہو: ہم نے یہ بات سن لی ہے‘ اور ہم اس کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ! مغٖفرت تجھ سے حاصل ہو سکتی ہے ‘ اور تیری طرف لوٹنا ہے ‘‘۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ’’اللہ تعالیٰ ہر نفس کو اس کی استطاعت کے مطابق پابند کرتا ہے‘ جو وہ کمائے گا ‘ وہ اسے مل جائے گا اور جو وہ خرابی کرے گا اس کا وبال اس کے ذمے ہوگا۔ اےہمارے پروردگار! اگر ہم بھول جائیں ‘ یا غلطی کریں ‘ تو ہم سے مواخذہ نہ کرنا ‘‘۔پروردگار نے فرمایا: جی ہاں ! (وہ لوگ یہ دعا کریں گے) ’’اےہمارے پروردگار! تو ہمیں اس چیز کا پابند نہ کرنا ‘ جس کی ہم میں طاقت نہ ہو‘ اور تو ہم سے درگزر کرنا اور ہماری مغفرت کرنا اور ہم پر رحم کرنا تو ہمارا آقا ہے‘ اور تو کافر لوگوں کے مقابلے میں ہماری مدد کرنا ‘‘۔ تو پروردگار فرمائے گا : جی ہاں! (یعنی میں ایسا ہی کروں گا )
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Commissioning section · Hadith 139
