Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ حُسْنِ الظَّنِّ بِاللہِ تَعَالٰی · حديث 631

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ العبادة" 1. [00: 00]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ( اللہ تعالیٰ کے بارے میں ) ’’ اچھا گمان رکھنا اچھی عبادت کا حصہ ہے‘‘۔

حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ العبادة" ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 631

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ حُسْنِ الظَّنِّ بِاللہِ تَعَالٰی · حديث 632

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَخْرُجُ رَجُلَانِ مِنَ النَّارِ فَيُعْرَضَانِ عَلَى اللَّهِ ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِمَا إلى النار فليلتفت أَحَدُهُمَا فَيَقُولُ يَا رَبِّ مَا كَانَ هَذَا رَجَائِي قَالَ وَمَا كَانَ رَجَاؤُكَ قَالَ كَانَ رَجَائِي إِذْ1 أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا أَنْ لَا تُعِيدَنِي فيرحمه الله فيدخله الجنة" 2. [00: 00]

حضرت انس بن مالکؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ دو آدمی جہنم سے نکلیں گے انہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا پھر انہیں جہنم کی طرف جانے کا حکم ہو گا‘ تو ان میں سے ایک مڑ آئے گا اور عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! مجھے اس بات کی امید نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ دریافت کرے گا تمہیں کس بات کی امید تھی؟ وہ عرض کرے گا مجھے اس بات کی امید تھی کہ جب ‘ تو نے مجھے اس ( جہنم ) سے نکال دیا ہے ‘ تو اب ‘ تو مجھے دوبارہ اس میں داخل نہیں کرے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے گا اور اسے جنت میں داخل کر دے گا‘‘۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 632

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ حُسْنِ الظَّنِّ بِاللہِ تَعَالٰی · حديث 633

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ قَالَ حَدَّثَنَا حَيَّانُ أَبُو النَّضْرِ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يقول: "قال الله تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي فليظن بي ما شاء" 1. [3: 68]

حضرت واثلہ بن اشقع بیان کرتے ہیں ‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔ اب اس کی مرضی ہے وہ میرے بارے میں جو چاہے گمان کرے‘‘۔

عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي فليظن بي ما شاء" ← الله تَبَارَكَ وَتَعَالَى ← رَسُولِ اللَّهِ ← وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← حَيَّانُ أَبُو النَّضْرِ ← هِشَامِ بْنِ الْغَازِ ← شَبَابَةُ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 633

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ حُسْنِ الظَّنِّ بِاللہِ تَعَالٰی · حديث 634

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ قَالَ حَدَّثَنِي حَيَّانُ أَبُو النَّضْرِ قَالَ سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ يَقُولُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يُحَدِّثُ عَنِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا قَالَ: "أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي فَلْيَظُنَّ بِي مَا شاء" 1. [3: 68]

حضرت واثلہ بن اسقع ؓ ‘ بیان کرتے ہیں : میں نےنبی اکرمﷺ کو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتےہوئے سنا ہے: ’’میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔ اب وہ جو چاہے میرے بارے میں گمان کر لے‘‘۔

عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي فليظن بي ما شاء" ← اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← حَيَّانُ أَبُو النَّضْرِ ← هِشَامِ بْنِ الْغَازِ ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Hadith 634

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ حُسْنِ الظَّنِّ بِاللہِ تَعَالٰی · حديث 635

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الدِّمَشْقِيُّ بِجُرْجَانَ وَإِسْحَاقُ بنذكر إِعْطَاءِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ مَا أَمَّلَ وَرَجَا مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ [635] أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الدِّمَشْقِيُّ بِجُرْجَانَ وَإِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ حَدَّثَنَا ھِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا صَدَقَۃُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ھِشَامُ بن الغاز قال حدثنا حیان بن أبو النضر قال سمعت واثلۃ بن الأسقع یَقُوْلُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ عَنِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا قَالَ: اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ فَلْیَظُنَّ بِیْ مَاشَآءَ (00؛00)

حضرت واثلہ بن اسقع ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ ’’ میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔ اب وہ جو چاہے میرے بارے میں گمان کر لے‘‘۔

مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الدِّمَشْقِيُّ بِجُرْجَانَ وَإِسْحَاقُ بن

Hadith 635

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ حُسْنِ الظَّنِّ بِاللہِ تَعَالٰی · حديث 636

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ2 عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ "لَا يَمُوتَنَّ أحدكم إلا وهو يحسن بالله الظن" 3. [1: 94]

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو آپ کے وصال سے تین دن پہلے یہ ارشاد فرماتےہوئے سنا: ’’ تم میں سے کوئی بھی شخص ہرگز فوت نہ ہو‘ مگر یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو‘‘۔ ( یعنی تم میں سے ہر ایک شخص کو مرتے وقت اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہئے )۔

قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ "لَا يَمُوتَنَّ أحدكم إلا وهو يحسن بالله الظن" ← النَّبِيِّ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 636

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ حُسْنِ الظَّنِّ بِاللہِ تَعَالٰی · حديث 637

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ قَالَ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ "مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَمُوتَ إِلَّا وظنه بالله حسن فليفعل" 1.

حضرت جابر ؓ بیان کرتےہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو آپ کے وصال سے تین دن پہلے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ تم میں سےجو شخص یہ کر سکے کہ وہ مرتے وقت اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھ سکے ‘ تو اسے ایسا کرنا چاہئے ‘‘۔

النَّبِيِّ ← جَابِرًا ← أَبِي سُفْيَانَ ← سُلَیْمَانَ ← فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 637

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ حُسْنِ الظَّنِّ بِاللہِ تَعَالٰی · حديث 638

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقولذكر حَثِّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حُسْنِ الظَّنِّ بِمَعْبُودِهِمْ جَلَّ وَعَلَا [638] أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَبْلَ مَوْتِہٖ بِثَلَاثٍ لَایَمُوتَنَّ اَحَدُ کُمْ اِلَّا وھو یحسن الظن باللہ جل وعلا ۔(4:5)

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ ‘ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو آپ کے وصال سے تین دن پہلے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ تم میں سے کوئی بھی شخص ہرگز فوت نہ ہو‘ مگر یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو‘‘۔ ( یعنی تم میں سے ہر ایک شخص کو مرتے وقت اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہئے ) ‘‘

النَّبِيِّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى ← النَّبِيَّ يقولذكر حَثِّ الْمُصْطَفَى عَلَى حُسْنِ الظَّنِّ بِمَعْبُودِهِمْ جَلَّ وَعَلَا ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 638

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ حُسْنِ الظَّنِّ بِاللہِ تَعَالٰی · حديث 639

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَذَكَرَ بن سَلْمٍ آخَرَ مَعَهُ أَنَّ أَبَا يُونُسَ حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا يَقُولُ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي إِنْ ظَنَّ خَيْرًا فَلَهُ وَإِنْ ظَنَّ شَرًّا فله" 2.

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ بیشک اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں اگر وہ بھلائی کا گمان رکھتا ہے ‘ تو وہ اسے مل جائے گی اور اگر وہ برائی کا گمان رکھتا ہے ‘ تو وہ اسے مل جائے گی‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) ابو یونس نامی راوی کا نام سلیم بن جبیر ہے ‘ اور یہ تابعی ہے۔

عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي إِنْ ظَنَّ خَيْرًا فَلَهُ وَإِنْ ظَنَّ شَرًّا فله" ← "إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَذَكَرَ بن سَلْمٍ آخَرَ مَعَهُ أَنَّ أَبَا يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 639

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ حُسْنِ الظَّنِّ بِاللہِ تَعَالٰی · حديث 640

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ جَلَّ وَعَلَا قَالَ: "وَعِزَّتِي لَا أَجْمَعُ عَلَى عَبْدِي خَوْفَيْنِ وَأَمْنَيْنِ إِذَا خَافَنِي فِي الدُّنْيَا أَمَّنْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِذَا أَمِنَنِي فِي الدُّنْيَا أخفته يوم القيامة" 2. [1: 2]

حضرت ابوہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ مجھے اپنی عزت کی قسم ے میں اپنے کسی بندے پر دو طرح کا خوف اور دو طرح کا امن اکٹھا نہیں کروں گا۔ اگر وہ دنیا میں مجھ سے خوف رکھے گا ‘ تو میں قیامت میں اسے امن عطا کروں گا اور اگر وہ دنیا میں مجھ سے مامون رہے گا‘ تو میں قیامت میں اسے خوف میں مبتلا کروں گا‘‘۔

رَبِّهِ جَلَّ وَعَلَا ← النَّبِيِّ يَرْوِي ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 640

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ حُسْنِ الظَّنِّ بِاللہِ تَعَالٰی · حديث 641

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ حَيَّانَ أَبِي النَّضْرِ قَالَ خَرَجْتُ عَائِدًا لِيَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ فَلَقِيتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ وَهُوَ يُرِيدُ عِيَادَتَهُ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَلَمَّا رَأَى وَاثِلَةَ بَسَطَ يَدَهُ وَجَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْهِ فَأَقْبَلَ وَاثِلَةُ حَتَّى جَلَسَ فَأَخَذَ يَزِيدُ بِكَفَّيْ وَاثِلَةَ فَجَعَلَهُمَا عَلَى وَجْهِهِ فقَالَ لَهُ وَاثِلَةُ كَيْفَ ظَنُّكَ بِاللَّهِ قَالَ ظَنِّي بِاللَّهِ وَاللَّهِ حَسَنٌ قَالَ فَأَبْشِرْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا "أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي إِنْ ظَنَّ خَيْرًا وإن ظن شرا" 1. [1: 95]

حیان ابو نضر بیان کرتے ہیں :میں یزید بن اسود کی عیادت کرنے کے لئے روانہ ہوا‘ تو میری ملاقات حضرت واثلہ بن اسقع ؓ سے ہوئی وہ بھی ان کی عیادت کے لئے جا رہے تھے ہم یزید کے پاس پہنچے جب انہوں نے حضرت واثلہؓ کو دیکھا ‘ تو اپنا پاتھ پھیلایا اور ان کی طرف اشارہ کرنےلگے۔ حضرت واثلہ ؓ آگے ہوئے اور تشریف فرما ہوئے ‘ تو یزید نے حضرت واثلہ ؓ کے دونوں ہاتھ پکڑ لئے اور ان دونوں کو اپنے چہرے پر رکھا۔ حضرت واثلہؓ نے ان سے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمہارا گمان کیا ہے ؟ یزید نے کہا : اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ کے بارے میں میرا گمان اچھا ہے ‘ تو حضرت واثلہ ؓ نےفرمایا : تم خوشخبری قبول کرو‘ کیونکہ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔ خواہ وہ بھلائی کا گمان رکھے خواہ وہ برائی کا گمان رکھے‘‘۔

حَيَّانَ أَبِي النَّضْرِ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبِيدَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 641

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ حُسْنِ الظَّنِّ بِاللہِ تَعَالٰی · حديث 642

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بن مسرهدذكر الْإِخْبَارِ عَنْ تَفَضُّلِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا بِأَنْوَاعِ النِّعَمِ عَلَى مَنْ يَسْتَوْجِبُ مِنْهُ أَنْوَاعَ النِّقَمِ [642] أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ عَنْ یَّحْیَی الْقَطَّانِ عَنِ الْاَعْمَشِ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِیْد بْنُ جُبَیْرٍ عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ قَیْسِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا اَحَدٌ اَصْبَرَ عَلٰی اَذًی یَسْمَعُہٗ مِنَ اللہِ یَجْعَلُوْنَ لَہٗ نِدًّا وَیَجْعَلُوْنَ لَہٗ وَلَدًا وھو فی ذلک یرزقھم ویعافیھم ویعطیھم ۔(66:3)

حضرت عبدا للہ بن قیسؓ ’ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ کوئی بھی شخص تکلیف دہ بات کو سن کر اللہ تعالیٰ سے زیادہ صبر نہیں کرتا ‘ لوگ اس کا شریک بناتے ہیں۔لوگ اس کی اولاد قرار دیتے ہیں اور وہ اس کے باوجود ان لوگوں کو رزق دیتا ہے۔ ان کو عافیت دیتا ہے ان کو ( مختلف طرح کی نعمتیں ) عطا کرتا ہے‘‘۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ قَیْسِ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ← تَفَضُّلِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا بِأَنْوَاعِ النِّعَمِ عَلَى مَنْ يَسْتَوْجِبُ مِنْهُ أَنْوَاعَ النِّقَمِ ← مُسَدَّدُ بن مسرهدذكر الْإِخْبَارِ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 642

All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr