Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1472

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ أَخْبَرَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ فقال قم فصل العصر ثم قام فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ فقال قم فصل المغرب فقام فصلى المغرب ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى ذَهَبَ الشَّفَقُ فَجَاءَهُ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ فَقَامَ فَصَلَّاهَا ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ بِالصُّبْحِ فَقَالَ قُمْ يَا محمد فصل فقام فصل الصُّبْحَ وَجَاءَهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الظُّهْرَ فقام فصل الظُّهْرَ ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الْعَصْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ جَاءَہُ حَیْنَ غَابَتِ الشَّمْسُ فقال قم فسل المغرب فقام فصلی المغرب ثُمَّ کَکَتَ حَتّٰی ذَھَبَ الشَّفَقُ فَجَاءَہُ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءِ فَقَامَ فَصَلَّاھَا ثُمَّ جَاءَہُ حَیْنَ سَطَعَ الْفَجْرُ بِالصُّبْحِ فَقَالَ قُمْ یَا محمد فصل فقام فصل الصُّبْحَ وَجَاءَہُ مِنْ الْغَدِ حَیْنَ صَارَ ظِلُّ کُلِّ شَیْءٍ مِثْلَہٗ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الظُّھْرَ فقام فصل الظُّھْرَ ثُمَّ جَاءَہُ حَیْنَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْءٍ مِثْلَیْہِ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الْعَصْرَ فَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ جَاءَہُ حَیْنَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَّاحِدًا لَمْ یَزَلْ عَنْہُ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ فَقَامَ فصل المغْرِبَ ثُمَّ جَاءَہُ الْعِشَاءَ حَیْنَ ذَھَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ فَقَامَ فَصَلَّی الْعِشَاءِ ثُمَّ جَاءَہُ الصُّبْحَ حَیْنَ اَسْفَرَ جِدًّا فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الصُّبْحَ فَقَامَ فَصَلَّی الصُّبْحَ فقال مابین ھذین وقت کلہ۔

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے، جب سورج ڈھل چکا تھا انہوں نے کہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ جائیے اور ظہر کی نماز ادا کر لیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے ظہر کی نماز ادا کی پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے، جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو چکا تھا انہوں نے گزارش کی آپ اٹھئے اور عصر کی نماز ادا کر لیجئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے پھر آپ نے عصر کی نماز ادا کی پھر وہ سورج غروب ہوجانے کے بعد آپ کے پاس آئے اور عرض کی آپ اٹھئے اور مغرب کی نماز ادا کر لیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئےاور آپ نے مغرب کی نماز ادا کرلی پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ جب شفق رخصت ہوگئی تو وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کی آپ اٹھئے اور عشاء کی نماز ادا کر لیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے یہ نماز ادا کرلی پھر وہ اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب صبح صادق ہو چکی تھی انہوں نے عرض کی: آپ اٹھئے اور نماز ادا کر لیجئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے صبح کی نماز ادا کرلی اگلے دن حضرت جبرائیل علیہ السلام اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو چکا تھا۔ انہوں نے گزارش کی آپ اٹھئے اور ظہر کی نماز ادا کر لیجئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے ظہر کی نماز ادا کرلی پھر وہ اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب ہر چیز کا سایہ د ومثل ہو چکا تھا انہوں نے عرض کی: آپ اٹھئے اور عصر کی نماز ادا کر لیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے عصر کی نماز ادا کرلی پھر وہ سورج غروب ہو جانے کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ ایک ہی وقت ہے اس میں کوئی فرق نہیں آیا انہوں نے کہا آپ اٹھئے اور مغرب کی نماز ادا کر لیجئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ نے مغرب کی نماز ادا کرلی پھر وہ عشاء کی نماز کے لئے اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب ایک تہائی رات رخصت ہو چکی تھی۔ انہوں نے گزارش کی آپ اٹھئے اور عشاء کی نماز ادا کیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے عشاء کی نماز ادا کرلی پھر وہ صبح کی نماز کے لئے اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب روشنی اچھی طرح پھیل چکی تھی۔ انہوں نے گزارش کی آپ اٹھئے اور صبح کی نماز ادا کر لیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے۔ آپ نے صبح کی نماز ادا کرلی۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی: ان دو اوقات کے درمیان تمام نمازوں کا وقت ہے۔

جَابِرٍ ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1472

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1473

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي1 أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ الله صلى الله عليه وسلم قَالَ: "وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ ووقت العصر ما لم تصفر الشمس، وَوَقْتُ الْعِشَاءِ اِلٰی شَطْرِ اللَّیْلِ اَوْنِضْفِ اللَّیْلِ وَوَقْتُ الْفَجْرِ مَالَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ۔

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي أَيُّوبَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 1473

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1474

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَیُّ الْعَمَلِ اَفْضَلُ قَالَ الصَّلَاۃُ لمقاتھا۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نمازوں کو ان کے مخصوص اوقات میں ادا کرنا۔

الصَّلَاۃُ لمقاتھا۔ ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ اَیُّ الْعَمَلِ اَفْضَلُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 1474

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1475

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَيْزَارٍ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ: "الصلاة في أول وقتها" 1.

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا۔

"الصلاة في أول وقتها" ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← الْوَلِيدِ بْنِ عَيْزَارٍ ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،

Hadith 1475

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1476

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ: "الصَّلَوَاتُ لِمَوَاقِيتِهَا". قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ قَالَ: "ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ"، قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ قَالَ: "ثُمَّ الْجِهَادُ"، وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي1.

حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا عمل اللہ تعالیٰ نے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرنا میں نے دریافت کیا: پھر کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: پھر والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے۔ میں نے دریافت کیا: پھر کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: پھر جہاد کرنا ہے۔

قُلْتُ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1476

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1477

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ يَقُولُ: حَدَّثَنَا صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ اِلَی اللہِ قَالَ الصَّلَاۃُ لِوَقْتِھَا قَالَ ثُمَّ اَیُّ قَالَ بِرُّ الْوَلِدَیْن ، قَالَ ثُمَّ اَیُّ قَالَ: الْجِھَادُ فِیْ سَبِیلِ اللہِ ، قَالَ حَصَّنِیْ بِھِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُہٗ لَزَادَنِی۔

ابو عمر و شیبانی بیان کرتے ہیں: اس گھر کے مالک نے ہمیں حدیث بیان کی ہے۔ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔ (حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں) انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کون سا عمل اللہ تعالیٰ نے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے مخصوص وقت میں ادا کرنا انہوں نے دریافت کیا؛ پھر کون سا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا انہوں نے دریافت کیا: پھر کون سا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صرف انہی چیزوں کے بارے میں بتایا تھا اگر میں آپ سے مزید دریافت کرتا تو آپ مزید جواب عنایت کرتے۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) ابو عمر و سیبانی مخضر مین میں سے ہیں جب کسی شخص نے زمانہ کفر میں ساٹھ سال گزارے ہوں اور زمانہ اسلام میں ساٹھ سال گزارے ہوں، تو اسے مخضری کہا جاتا ہے۔

صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ← الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ← شُعْبَةُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 1477

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1478

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ عَنْ سَعْدِ1 بْنِ إِيَاسٍ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أفضل؟ قال: "الصلاة لوقتها" 2.

۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے مخصوص وقت میں ادا کرنا۔

"الصلاة لوقتها" ← سَأَلْتُ النَّبِيَّ أَيُّ الْعَمَلِ أفضل؟ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← سَعْدِ1 بْنِ إِيَاسٍ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ← الشَّيْبَانِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1478

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1479

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ عَنْ أَبِي عمرو الشيباني عن بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " الصَّلَاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا" 1. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: "الصَّلَاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا" تفرد به عثمان بن عمر2.

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں:) نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا یہ الفاظ نقل کرنے میں عثمان بن عمر بن راوی منفرد ہیں۔

قُلْتُ ← بن مَسْعُودٍ ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ

Hadith 1479

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1480

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ خَبَّابٍ قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّ الَّمْضَاءِ فَلَمْ یُشْکِنَا۔

حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گرمی کی شدت کی شکایت کی، تو آپ نے ہماری شکایت کو قبول نہیں کیا۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) ابو معمر نامی راوی کا نام عبد اللہ بن سخبرہ ہے۔

شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ حَرَّ الَّمْضَاءِ فَلَمْ یُشْکِنَا۔ ← خَبَّابٍ ← أَبِي مَعْمَرٍ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1480

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1481

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الْيَمَنَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا فَسَمِعْتُ تَكْبِيرَهُ مَعَ الْفَجْرِ رَجُلٌ أَجَشُّ الصَّوْتِ فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ مَحَبَّتِي فَمَا فَارَقْتُهُ حَتَّى دَفَنْتُهُ بِالشَّامِ. ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى أَفْقَهِ النَّاسِ بعده فأتيت بن مَسْعُودٍ فَلَزِمْتُهُ حَتَّى مَاتَ فَقَالَ لِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كَيْفَ بكم إذ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ مِيقَاتِهَا"؟ قُلْتُ فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "صَلِّ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا وَاجْعَلْ صلاتك معهم سبحة "1.

۔عمر و بن میمون اودی بیان کرتے ہیں: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے پاس یمن تشریف لائے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف بھیجا تھا۔ میں نے فجر کے ہمراہ ان کی تکبیر سنی وہ ایک ایسے شخص تھے جن کی آواز دھیمی تھی ان کے دل میں میری محبت گھر کر گئی میں ان سے اس وقت جدا ہوا جب میں نے انہیں شام میں دفن کر دیا۔ پھر میں نے ان کے بعد لوگوں مین سب سے بڑے عالم کا جائزہ لیا تو میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا میں ان کے ساتھ رہا، یہاں تک کہ ان کا بھی انتقال ہوگیا۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "اس وقت تمہارا کیا عالم ہوگا، جب تم پر ایسے امراء مسلط کر دئیے جائیں گے جو نماز کو اس کے مخصوص اوقات کے علاوہ ادا کریں گے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں انہیں پاؤں تو آپ اس بارے میں مجھے کیا ہدایت کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نماز کو اس کے مخصوص وقت میں ادا کر لینا اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لینا"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان " تم ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنالو" یہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ نفل ادا کرنے والے شخص کی نماز ایسے شخص کے پیچھے جائز ہوتی ہے ، جو فرض ادا کر رہا ہو۔ یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جس نے اس کے متضاد کا حکم دیا ہے اس میں اس بات کی بھی دلیل موجود ہے کہ نفل نماز جماعت کے ساتھ ادا کی جا سکتی ہے۔

عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيُّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 1481

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1482

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا"؟ قَالَ: كَيْفَ أَفْعَلُ؟ قَالَ: "صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِذَا أَدْرَكْتَهُمْ لَمْ يُصَلُّوا فَصَلِّ مَعَهُمْ وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلَا أُصَلِّي" 1.

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " اس وقت تمہار کیا عالم ہوگا، جب تم ایسے لوگوں میں باقی رہ جاؤگے جو نمازوں کو ان کےمخصوص وقت سے تاخیر سے ادا کریں گے۔ حضرت ابو ذر نے دریافت کیا: پھر میں کیا کروں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نماز کو اس کے مخصوص وقت میں ادا کرلینا اور اگر تم ان لوگوں کو پاؤ اور انہوں نے ابھی نماز ادا نہیں کی، تو تم ان کے ساتھ بھی نماز ادا کر لینا تم یہ نہ کہنا کہ میں نماز پڑھ چکا ہوں۔ اس لئے اب نماز نہیں پڑھوں گا"۔

كَيْفَ أَفْعَلُ؟ ← وَقْتِهَا» ← "كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ← أَيُّوبَ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Hadith 1482

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1483

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عن مالك عن بن شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ فَقَدْ أدرك الصلاة" 2.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص نماز کی ایک رکعت (اس کے مخصوص وقت میں) پالے اس نے نماز کو پالیا"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← بن شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 1483

chevron_left Previous
1234…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr