صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1472
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ أَخْبَرَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ فقال قم فصل العصر ثم قام فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ فقال قم فصل المغرب فقام فصلى المغرب ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى ذَهَبَ الشَّفَقُ فَجَاءَهُ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ فَقَامَ فَصَلَّاهَا ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ بِالصُّبْحِ فَقَالَ قُمْ يَا محمد فصل فقام فصل الصُّبْحَ وَجَاءَهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الظُّهْرَ فقام فصل الظُّهْرَ ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الْعَصْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ جَاءَہُ حَیْنَ غَابَتِ الشَّمْسُ فقال قم فسل المغرب فقام فصلی المغرب ثُمَّ کَکَتَ حَتّٰی ذَھَبَ الشَّفَقُ فَجَاءَہُ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءِ فَقَامَ فَصَلَّاھَا ثُمَّ جَاءَہُ حَیْنَ سَطَعَ الْفَجْرُ بِالصُّبْحِ فَقَالَ قُمْ یَا محمد فصل فقام فصل الصُّبْحَ وَجَاءَہُ مِنْ الْغَدِ حَیْنَ صَارَ ظِلُّ کُلِّ شَیْءٍ مِثْلَہٗ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الظُّھْرَ فقام فصل الظُّھْرَ ثُمَّ جَاءَہُ حَیْنَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْءٍ مِثْلَیْہِ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الْعَصْرَ فَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ جَاءَہُ حَیْنَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَّاحِدًا لَمْ یَزَلْ عَنْہُ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ فَقَامَ فصل المغْرِبَ ثُمَّ جَاءَہُ الْعِشَاءَ حَیْنَ ذَھَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ فَقَامَ فَصَلَّی الْعِشَاءِ ثُمَّ جَاءَہُ الصُّبْحَ حَیْنَ اَسْفَرَ جِدًّا فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الصُّبْحَ فَقَامَ فَصَلَّی الصُّبْحَ فقال مابین ھذین وقت کلہ۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے، جب سورج ڈھل چکا تھا انہوں نے کہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ جائیے اور ظہر کی نماز ادا کر لیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے ظہر کی نماز ادا کی پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے، جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو چکا تھا انہوں نے گزارش کی آپ اٹھئے اور عصر کی نماز ادا کر لیجئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے پھر آپ نے عصر کی نماز ادا کی پھر وہ سورج غروب ہوجانے کے بعد آپ کے پاس آئے اور عرض کی آپ اٹھئے اور مغرب کی نماز ادا کر لیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئےاور آپ نے مغرب کی نماز ادا کرلی پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ جب شفق رخصت ہوگئی تو وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کی آپ اٹھئے اور عشاء کی نماز ادا کر لیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے یہ نماز ادا کرلی پھر وہ اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب صبح صادق ہو چکی تھی انہوں نے عرض کی: آپ اٹھئے اور نماز ادا کر لیجئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے صبح کی نماز ادا کرلی اگلے دن حضرت جبرائیل علیہ السلام اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو چکا تھا۔ انہوں نے گزارش کی آپ اٹھئے اور ظہر کی نماز ادا کر لیجئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے ظہر کی نماز ادا کرلی پھر وہ اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب ہر چیز کا سایہ د ومثل ہو چکا تھا انہوں نے عرض کی: آپ اٹھئے اور عصر کی نماز ادا کر لیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے عصر کی نماز ادا کرلی پھر وہ سورج غروب ہو جانے کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ ایک ہی وقت ہے اس میں کوئی فرق نہیں آیا انہوں نے کہا آپ اٹھئے اور مغرب کی نماز ادا کر لیجئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ نے مغرب کی نماز ادا کرلی پھر وہ عشاء کی نماز کے لئے اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب ایک تہائی رات رخصت ہو چکی تھی۔ انہوں نے گزارش کی آپ اٹھئے اور عشاء کی نماز ادا کیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے عشاء کی نماز ادا کرلی پھر وہ صبح کی نماز کے لئے اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب روشنی اچھی طرح پھیل چکی تھی۔ انہوں نے گزارش کی آپ اٹھئے اور صبح کی نماز ادا کر لیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے۔ آپ نے صبح کی نماز ادا کرلی۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی: ان دو اوقات کے درمیان تمام نمازوں کا وقت ہے۔
جَابِرٍ ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Hadith 1472
