صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بِابُ مَاجَاءَ فِی الصِّفَاتِ · حديث 265
اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خَزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یحیی الذھل حدثنا المقریء حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ عِمْرَانَ التُّجِیْبِیُّ عَنْ اَبِیْ یُوْنُسَ مَوْلٰی اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَاسْمَہُ سُلَیْمُ بْنُ جُبَیْرٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّہٗ قَالَ فِیْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃِ( اِنَّ اللہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤْدُّوا الْاَمَانَاتِ اِلٰی اَھْلِھَا) اِلٰی قَوْلِہٖ:( اِنَّ اللہَ کَانَ سَمِیْعًا بَصَیرًا) (النساء :58 ) رَاَیْتُ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَضَعُ اِبْھَامَہُ عَلٰی اُذُنِہٖ وَاُصْبَعَۃُ الدَّعَّاءَ عَلٰی عَیْنِہِ۔ (3:37)
حضرت ابو ہریرہؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ‘ انہوں نے اس آیت کے بارےمیں یہ بات ارشاد فرمائی ہے: (ارشاد باری تعالیٰ ہے ) ’’بے شک اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو یہ حکم دیتا ہے‘ تم امانتیں ان کے اہل لوگوں کو ادا کردو‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے ۔ ’’بے شک اللہ تعالیٰ سننے والا اور دیکھنے والا ہے ‘‘۔ (حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں ) میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اپنا انگوٹھا اپنے کان پر رکھا اور اپنی انگلی جس کے ذریعے نماز کے دوران اشارہ کیا جاتا ہے اسے اپنی آنکھ پر رکھا۔ (امام ابن حبانؓ فرماتے ہٰیں : ) نبی اکرمﷺ کا اپنی انگلی کو اپنے کانوں اورا پنی آنکھوں پر رکھنے کا مطلب یہ ہے :آپ لوگوں کے سامنے اس بات کو واضح کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کان کی وجہ سے نہیں سنتا جس میں سوراخ اور موڑ ہوتا ہے اور اس آنکھ کی مدد سےنہیں دیکھتا ‘ جس میں پتلیاں اور ڈیلا اور سفیدی ہوتی ہے۔ ہمارا پروردگار اس بات سے بلند و برتر ہے کہ اسے اس کی مخلوق میں سے کسی چیز کے ساتھ مشابہ قرار یا جائے بلکہ وہ کسی آلے کے بغیر سنتا اور دیکھتا ہے جیسے وہ چاہتا ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← اَبِیْ یُوْنُسَ مَوْلٰی اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَاسْمَہُ سُلَیْمُ بْنُ جُبَیْرٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ، ← المقرىء ← مُحَمَّدُ بْنُ یحیی الذھل ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ
Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter comes in the attributes · Hadith 265
