Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بِابُ مَاجَاءَ فِی الصِّفَاتِ · حديث 265

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خَزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یحیی الذھل حدثنا المقریء حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ عِمْرَانَ التُّجِیْبِیُّ عَنْ اَبِیْ یُوْنُسَ مَوْلٰی اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَاسْمَہُ سُلَیْمُ بْنُ جُبَیْرٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّہٗ قَالَ فِیْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃِ( اِنَّ اللہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤْدُّوا الْاَمَانَاتِ اِلٰی اَھْلِھَا) اِلٰی قَوْلِہٖ:( اِنَّ اللہَ کَانَ سَمِیْعًا بَصَیرًا) (النساء :58 ) رَاَیْتُ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَضَعُ اِبْھَامَہُ عَلٰی اُذُنِہٖ وَاُصْبَعَۃُ الدَّعَّاءَ عَلٰی عَیْنِہِ۔ (3:37)

حضرت ابو ہریرہؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ‘ انہوں نے اس آیت کے بارےمیں یہ بات ارشاد فرمائی ہے: (ارشاد باری تعالیٰ ہے ) ’’بے شک اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو یہ حکم دیتا ہے‘ تم امانتیں ان کے اہل لوگوں کو ادا کردو‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے ۔ ’’بے شک اللہ تعالیٰ سننے والا اور دیکھنے والا ہے ‘‘۔ (حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں ) میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اپنا انگوٹھا اپنے کان پر رکھا اور اپنی انگلی جس کے ذریعے نماز کے دوران اشارہ کیا جاتا ہے اسے اپنی آنکھ پر رکھا۔ (امام ابن حبانؓ فرماتے ہٰیں : ) نبی اکرمﷺ کا اپنی انگلی کو اپنے کانوں اورا پنی آنکھوں پر رکھنے کا مطلب یہ ہے :آپ لوگوں کے سامنے اس بات کو واضح کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کان کی وجہ سے نہیں سنتا جس میں سوراخ اور موڑ ہوتا ہے اور اس آنکھ کی مدد سےنہیں دیکھتا ‘ جس میں پتلیاں اور ڈیلا اور سفیدی ہوتی ہے۔ ہمارا پروردگار اس بات سے بلند و برتر ہے کہ اسے اس کی مخلوق میں سے کسی چیز کے ساتھ مشابہ قرار یا جائے بلکہ وہ کسی آلے کے بغیر سنتا اور دیکھتا ہے جیسے وہ چاہتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← اَبِیْ یُوْنُسَ مَوْلٰی اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَاسْمَہُ سُلَیْمُ بْنُ جُبَیْرٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ، ← المقرىء ← مُحَمَّدُ بْنُ یحیی الذھل ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter comes in the attributes · Hadith 265

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بِابُ مَاجَاءَ فِی الصِّفَاتِ · حديث 266

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ حُزَیْمَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا یُوْسُفُ بْنُ مُوْسٰی قَالَ حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ عَنْ اَبِیْ مُوسیٰ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اللہَ لَا یَنَامُ وَلَا یَنْبَغِی لَہٗ اَنْ یَّنَامَ یَخْفِضُ الْقِسْطَ وَیَرْفَعُہٗ یُرْفَعُ اِلَیْہِ عَمَلُ النَّھَارِ قَبْلَ اللَّیْلِ قَبْلَ النَّھَارِ حِجَابُہُ النُّورُ لَوْ کُشِفَ طَبَقُھَا اَحْرَقَ سُبُحَاتُ وَجْھِہِ کُلَّ شَیْءٍ اَدْرَکَہُ بَصَرُہٗ وَاضِعٌ یَدَہٗ لِمُسِیءِ اللَّیْلِ لِیَتُوبَ بِالنَّھَارِ ولُمُسِیءِ النَّھَارِلِیَتُوبَ بِاللَّیْلِ حَتّٰی تطلع الشمس من مغربھا۔(3:67)

حضرت اب موسیٰ اشعری ؓ ‘روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’بے شک اللہ تعالیٰ سوتا نہیں ہے ‘ اور یہ اس کی شان ک لائق بھی نہیں ہے کہ وہ سو جائے‘ وہ پلڑے کو اوپر نیچے کرتا رہتا ہے۔ دن کے اعمال ‘ رات ہونے سے پہلے اور رات کے اعمال دن ہونے سے پہلے اس کی بارگاہ میں پیش کر دئیے جاتے ہیں۔ اس کی حجاب نور ہے۔ اگر اس کے ایک پردے کو ہٹا دیا جائے ۔ تو اس کی ذات کے انوار ہر اس چیز کو جلا دیں ‘ تو اس کی بصار ت کے دائرے میں ہیں ۔ اس نے اپنا دست رحمت رات کے وقت گناہ کرنے ولاے شخص کے لئے پھیلایا ہوا ہے‘ تاکہ دن میں اس کی توبہ قبول کرے اور دن میں گناہ کرنے والے شخص کے لئے پھیلایا ہوا ہے’ تاکہ رات میں اس کی توبہ قبول کرے‘‘۔ (ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا) جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہو جاتا ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← محمد بن إسحاق بن حزيمة،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter comes in the attributes · Hadith 266

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بِابُ مَاجَاءَ فِی الصِّفَاتِ · حديث 267

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ مَوْلٰی ثَقِیْفٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعِ قَالَ حَدَّثَنَاشَبَابَۃُ قَالَ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنْ اَبِیْ الزِّنَادِ عَنِ الْاَعْرَجِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَمَّ قَالَ: قَالَ اللہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: فِیْ قَوْلِہٖ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَمَّ: أولیس اَوَّلُ خَلْقِ بِاَھْوَنَ عَلَیَّ مِنْ اِعَادَتِہٖ فِیْہِ الْبَیَانُ الْوَضِحُ اَنَّ الصِّفَاتِ الَّتِیْ تُوقِعُ النَّقْصَ عَلٰی مَنْ وُجِدَتْ فِیْہِ غَیْرُ جَائزٍ اِضَافَۃُ مَثْلِھَا اِلَی اللہِ جَلَّ وَعَلَا اِذِ الْقِبَاسُ کَانَ یُوجِبُ اَنْ یُّطْلِقَ بَدَلَ ھٰذِہِ اللَّفْظَۃِ بِاَھْوَنَ عَلَیَّ بِاَصْعَبَ عَلَیَّ فَتَنَکَّبَ لَفْظَۃَ التَّصْعِیبِ اِذْ ھِیَ مِنْ اَلْفَاظِ النَّقْصِ وَاُبْدِلَتْ بِلَفْظِ التھوین الذی لایشوبہ ذلک۔

حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم مجھے جھوٹا قرار دیتا ہے۔ حالانکہ اسے اس بات کا حق نہیں ہے کہ مجھے جھوٹا قرار دے۔ ابن آدم مجھے برا کہتا ہے ’حالانکہ اسے اس کی حق نہیں ہے کہ وہ مجھے برا کہے‘ جہاں تک اس کے میری تکذیب کرنے کا تعلق ہے ‘ تو اس سے مراد اس کا یہ کہنا ہے ‘ اللہ تعالیٰ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کرے گا’ جس طرح اس نے مجھے پہلے پیدا کیا ہے تو کیااسے دوبارہ پیدا کرنے کے مقابلے میں پہلی مرتبہ پیدا کرنا میرے لئے زیادہ آسان نہیں ہے؟ جہاں تک اس کے مجھے برا کہنے کا تعلق ہے ‘تو اس سے مراد اس کا یہ کہنا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے ‘ حالانکہ میں اللہ تعالیٰ ہوں‘ میں یکتا ہوں۔ میں بے نیاز ہوں ۔ میں نے کسی کو جنم نہیں دیا ہے ‘ اور مجھے جنم نہیں دیاگیا اور کوئی میرا ہمسر نہیں ہو سکتا ‘‘۔ (امام ابن حبانؓ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’کیا پہلی مرتبہ پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کے لئے دوبارہ پیدا کرنے کے مقابلے میں زیادہ آسان نہیں تھا‘‘۔ اس میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ وہ صفات‘ جو اس شخص میں نقص واقع کر دیں جس میں وہ صفت پائی جاتی ہے ‘تو یہ بات جائز نہیں ہے کہ اس کی مثل کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے‘ کیونکہ قیاس اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ بات لازم ہو کہ ’’میرے لیے زیادہ آسان ‘‘ کے بجائے ’’میرے لیے زیادہ مشکل ‘‘ کے الفاظ ہونے چاہیے تھے۔ لیکن مشکل ہونے کے لفظ کو اس لیے ترک کیا گیا ‘کیونکہ یہ نقص کے الفاظ میں سے ہے ‘ اور اس کی جگہ آسان ہونے کے لفظ کو بدلے ک طور پر لایا گیا جس میں نقص کا پہلو نہیں پایا جاتا ۔

الله تَبَارَكَ وَتَعَالَى ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← وَرْقَاءُ ← حَدَّثَنَاشَبَابَةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter comes in the attributes · Hadith 267

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بِابُ مَاجَاءَ فِی الصِّفَاتِ · حديث 268

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَوَارِیْرِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَرَمِیُّ بْنُ عُمَارَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَہَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَمَّ قَالَ یُلْقٰی فِی النَّارِ فَتَقُوْلُ ھَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ حَتّٰی یَضَعَ الرَّبُّ جَلَّ وَعَلَا قَدَمَہُ فِیْھَا فَتَقُوْلُ قَطْ قَطْ۔(3:67)

حضرت انس بن مالک ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرت ہیں : ’’جہنم میں لوگوں کو ڈالا جائے گا‘تو جہنم کہے گی : کیا اور لوگ ہیں ؟ یہاں تک کہ پروردگار اپنا قدم اس پر رکھ دے گا‘ تو وہ کہے گی : بس ‘بس ‘‘۔ (امام ابن حبان ؓ فرماتے ہیں : ) یہ ان روایات میں سے ایک ہے ‘ جس میں مجاورت کی مثال کا اطلاق کی گیا ہے ‘ اور اس کی صورت یہ ہے :قیامت کے دن کچھ لوگوں اور جگہوں کو جہنم میں ڈال دیا جائیگا وہ جگہیں جہاں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جاتی تھی جہنم مزید کے حصول کا تقاضا کرتی رہے گی ‘ یہاں تک کہ پروردگار کفار اورجگہوں میں سے ایک جگہ جہنم میں ڈال دے گا‘ تو وہ پھر جائے گی۔ تو جہنم کہے گی: بہت ہے بہت ہے اس سے مراد یہ ہے : یہ میرے لئے کافی ہے یہ میرے کافی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے : عرب بعض اوقات لفظ ’’قدم‘‘ کو اپنی لغت میں ’’جگہ ‘‘ کے لئے استعمال کرتے ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ ’’ان کے لئے ان کے پروردگار کی بارگاہ میں سچائی کا مقام ہو گا‘‘ اس سے مراد سچائی کا مقام ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا پاؤں جہنم میں رکھ دے گا۔ ہمارا پروردگار اس سے اور اس جیسی دیگر چیزوں سے بلندو برتر ہے۔

النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ← الْقَوَارِيرِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter comes in the attributes · Hadith 268

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بِابُ مَاجَاءَ فِی الصِّفَاتِ · حديث 269

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یُوْسَفَ بِنَسَا قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ قَالَ اَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ اَبِیْ رَافِعِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَقُوْلُ اللہُ جَلَّ وَعَلَا لِلْعَبْدِ یوم القیامۃ بن اٰدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِیْ فَیَقُوْلُ یَارَبِّ وَکَیْفَ اَعُوْدُکَ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ فَیَقُوْلُ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ عَبْدِیْ فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْہُ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّکَ لَوْ عُدْتَہٗ لَوَجَدْتَنِیْ وَیَقُوْلُ یَا بن اٰدَمَا اسْتَسْقَیْتُکَ فَلَمْ تَسْقِنِیْ فَیَقُوْلُ یَا رَبِّ کَیْفَ اَسْقِیکَ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ فَیَقُوْلُ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّکَ اَنَّکَ لَوْسَقَیْتَہٗ لَوَجَدْتَ ذٰلِکَ عِنْدِیْ یَابن اٰدَمَ اسْتَطْعَمْتُکَ فَلَمْ تُطْعِمْنِیْ فَیَقُوْلُ یَا رَبِّ وَکَیْفَ اُطْعِمُکَ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ فَیَقُوْلُ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ عَبْدِیْ فُلَانًا اسْتَطْعَمَکَ فَلَمْ تُطْعِمْہُ اَمَا اِنَّکَ لَوْ اَطْعَمْتَہٗ وَجَدْتَ ذٰلِکَ عِنْدِی۔(3:67)

حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے سے فرمائے گا : اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا‘لیکن تم نے میری عبادت نہیں کی بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار ! میں تیری عیادت کس طرح کر سکتا ہوں ؟ جب کہ تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے تھے: میرا فلاں بندہ بیمار ہوا ہے‘ اور تم نے اس کی عیادت نہیں کی؟ کیا تم یہ بات نہیں جانتے تھے : اگر تم اس کی عیادت کر لیتے ُ تو اس کا اجروثواب میرے پاس پا لیتے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے آدم کے بیٹے ! میں نے تم سے پینے کے لئےپانی مانگا تھا ‘ تو تم نے مجھے پانی نہیں دیا۔ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار ! میں تجھے کیسے پانی پلا سکتا ہوں ؟ جبکہ تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا :کیا تم یہ بات نہیں جانتے تھے : اگر تم اس شخص کو پانی پلا دیتے۔ (تو اس کا اجروثواب ) میرے پاس پا لیتے۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ میرے فلاں بندے نے تم سے کھانے کے لئے مانگا تھا‘ تو تم نے اسے کھانے کے لئے نہیں دیا تھا‘ اگر تم اسے کھانے کے لئے دے دیتے‘ تو تم اس کا (اجروثواب ) میرے پاس پا لیتے۔

أَمَا عَلِمْتَ ← یَارَبِّ وَکَیْفَ اَعُوْدُکَ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ ← اللہُ جَلَّ وَعَلَا لِلْعَبْدِ یوم القیامۃ بن اٰدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِیْ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یُوْسَفَ بِنَسَا

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter comes in the attributes · Hadith 269

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بِابُ مَاجَاءَ فِی الصِّفَاتِ · حديث 270

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ بن عَجْلَانَ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ یَسَارٍ اِبِیْ الْحُبَابِ عَنْ اِبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ اَبُو الْقَاسِمِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقَ عَبْدٌ بِصَادَقَۃٍ مِّنْ کَسْبِ طَیِّبٍ وَلَا یَقْبَلُ اللہُ اِلَّا طَیْبًا وَلَا یَصْعَدُ اِلَی السَّمَاءِ اِلَّا طَیِّبٌ اِلَّا کَاَنَّمَا یَضَعُھَا فِیْ یَدِ الرَّحْمٰنِ فَیُرَبِّیھَا لَہٗ کَمَا یُرَبِّی اَحَدُکُمْ فَلُوَّہُ وَفَصِیلَہٗ حَتّٰی اِنَّ اللُّقْمَۃَ اَوِ التَّمْرَۃَ لَتَاْتِیْ یَوْمَ القیامۃ مثل الجبل العظیم ۔(3:67)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : حضرت ابو القاسم ؓ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ’’جب بھی کوئی بندہ حلال کمائی میں سے کوئی چیز صدقہ کرتا ہے‘ ویسے اللہ تعالیٰ صرف حلال چیز کو ہی قبول کرتا ہے‘ اور آسمان کی طرف صرف حلال چیز ہی بلند ہوتی ہے ‘ تو اس کے ساتھ یوں ہوتا ہے ‘ جیسے پروردگار اس صدقے کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے ‘ اور پھر اسے بڑھانا شروع کرتا ہے‘ جس طرح کوئی شخص اپنے جانور کے بچے کو پالتا پوستا ہے‘ یہاں تک کہ وہ ایک لقمہ یا ایک کھجور قیامت کے دن جب آئیں گے ‘ تو وہ بڑے پہاڑوں کی مانند ہوں گے‘‘۔ (امام ابن حبان ؓ فرماتے ہیں:) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان: ’’بالکل اسی طرح جس طرح اس نے اس کو رحمٰن کے ہاتھ میں رکھ دیا ہے‘‘۔ یہ بات آپ کے لئے اس بات کو بیان کرتی ہے کہ ان روایات میں مثال کے الفاظ کا استعمال ہوا ہے اس کی حقیقت کا موگود ہونا مراد نہیں ہے یا اس کی کیفیت پر وقوف کرنا مراد نہیں ہے ‘کیونکہ مخاطب شخص کو ان چیزوں کی معرفت صرف ان الفاظ کے ذریعے ہو سکتی ہے جب پر اس کا اطلاق کی اجاتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ ← بن عَجْلَانَ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter comes in the attributes · Hadith 270

All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr