Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ الْفِطْرَۃِ · حديث 128

اَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَزِیْدَ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ عَنِ الْاَوزَاعِیِّ عَنِ الزُّھْرِیِّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہٖ اَوْ یُنَصِّرَانِہٖ اَوْ یُمَجِّسَانَہٖ

’’ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے ‘ لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں ‘‘۔ حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :

کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہٖ اَوْ یُنَصِّرَانِہٖ اَوْ یُمَجِّسَانَہٖ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter of breakfast · Hadith 128

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ الْفِطْرَۃِ · حديث 129

اَخْبَرْنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا یَحْبَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا الَّیْتُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ یَّحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ عَنْ سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالَحِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صِلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہٖ اَوْ یُنَصِّرَانِہٖ اَوْ یُمَجِّسَانَہٖ

حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے ‘ لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں ‘‘۔ (امام ابن حبانؓ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’ ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہ ‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے : وہ اس فطرت پر پیدا ہوتا ہے جو فطرت اللہ تعالیٰ نے اس دن مقرر کی تھی ‘ جب ان لوگوں کو حضرت آدم کی پشت سے نکالا تھا۔اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کی یہ فرمان ہے : ’’اللہ کی (مقرر کردہ) وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے تو اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی‘‘۔ وہ یہ فرماتا ہے : اس خلقت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ‘ جس کے لئے اس نے ان لوگوں کو پیدا کیا ہے ‘ خواہ وہ جنت کے لئے ‘ خواہ جہنم کے لئے ہو ‘ اس وقت جب اس نے انہیں حضرت آدم علیہ السلام کی پشت سے باہر نکالا تھا ‘ اور یہ فرمایا تھا : یہ لوگ جنت کے لئے ہیں اور یہ لوگ جہنم کے لئے ہیں۔ کیا آپ نے غور نہیں کیا : حضرت خضر علیہ السلام نے جس لڑکے کو قتل کر دیا تھا اس کے بارے میں نبی اکرمﷺ نے یہ فرمایا تھا: ’’اللہ تعالیٰ نے اسے فطری طور پر کافر بنایا تھا ‘‘۔ حالانکہ وہ مؤمن ماں باپ کے درمیان تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے حضرت خضر علیہ السلام کو اس بارے میں علم دیا ‘ حالانکہ اس نے اپنے کلیم حضر ت موسیٰ علیہ السلام کو اس بارے میں علم نہیں دیا۔ جیسا کہ ہم اپنی کتابوں میں دیگر مقامات پر اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔

ھُرَیْرَۃَ ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← الَّیْتُ بْنُ سَعْدٍ ← یَحْبَی بْنُ بُکَیْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter of breakfast · Hadith 129

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ الْفِطْرَۃِ · حديث 130

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَھِیْمَ اَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزَُّھْرِیّ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیْبِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہٖ وَیُنَصِّرَانِہٖ وَیُمَجِّسَانِہٖ کَمَا تَنْتِجُونَ اِبِلَکُمْ ھٰذِہِ ھَلْ تُحِسُّونَ فِیْھَا مِنْ جَدْ عَاءَ ؟ ثُمَّ یَقُوْلُ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ: فَاقْرَؤُ واإِنْ شِئْتُمْ( فِطْرَۃَ اللہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیلَ لِخَلْقِ اللہِ۔(3:35)

حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے ‘ اس کے ماں باپ اسے یہودی ‘ عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جس طرح تمہارے اونٹوں کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے ‘ تو کیا تمہیں ان میں سے تمہیں کوئی ایسا نظر آتا ہے ‘ جس کے کان کٹے ہوئے ہوں؟‘‘ پھر حضرت ابو ہریرہؓ نے یہ بات ارشاد فرمائی : تم لوگ چاہو ‘ تو (اس حدیث کی تائید میں ) یہ آیت تلاوت کر سکتے ہو۔ ’’یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ وہ فطرت ہے ‘ جس پر اس نے لوگوں کو بنایا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی‘‘۔ (امام ابن حبانؓ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان ہے : ’’اس کے ماں باپ اسے یہودی ‘ عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں‘‘ یہ ان باتوں میں ایک ہے ‘ جس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ عرب بعض اوقات فعل کی نسبت حکم دینے والے کی طرف کرتے ہیں جس طرح وہ فعل کی نسبت فاعل کی طرف کرتے ہیں۔ تو نبی اکرمﷺ نے یہاں یہودی بنانے یا عیسائی بنانے یا مجوسی بنانے کے لفظ کا اطلاق اس شخص پر کیا ہے ‘ جو اپنے بچے کو ان میں سے کسی ایک چیز کا حکم دیتا ہے‘ اور نبی اکرمﷺ نے اس کا استعمال فعل کے لفظ کے ذریعے کیا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ مشرکین اپنی اولاد کو یہودی بنا دیتے ہیں یا عیسائی بنا دیتے ہیں ‘ یا مجوسی بنا دیتے ہیں‘ اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے علاوہ ہوتا ہے‘جو اس کے اپنے بندوں کے بارے کے بارے میں علم کے حوالے سے ہے۔ یہ اس کے مطابق ہوگا ‘ جس کاذکر ہم اپنی کتابوں میں دوسری جگہ کر چکے ہیں۔ اور یہ حضرت عمرؓ کے اس بیان کے مطابق ہوگا۔ ’’نبی اکرمﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر اپنا سر منڈوایا ‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے : سر مونڈوانے والے نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ یہ فعل کیا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے خود یہ نہیں کیا تھا۔اس کی مثال نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان ہے۔ ’’جب کوئی شخص اپنے گھر سے نماز کے لئے نکلتا ہے ‘ تو اس کے دونوں قدم ان میں سے ایک برائی کو مٹادیتا ہے ‘ اور دوسرا درجے کو بلند کرتا ہے ‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے : اللہ تعالیٰ اس بات کا حکم دیتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ قدم اس برائی کو مٹاتا ہے یا درجے کو بلند کرتا ہے۔ اور یہ لوگوں کے اس مقولے کی طرح ہوگا کہ امیر نے فلاں شخص کو ایک سوکوڑے مارے۔ اس سے مراد یہ ہے : امیر نے ایسا کرنے کا حکم دیا۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ اس نے خود ایسا کیا تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَھِیْمَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter of breakfast · Hadith 130

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ الْفِطْرَۃِ · حديث 131

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَاحَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰی حَدَّثَنَا بْنُ وَھَبٍ أَنْبَانَا یُوْنُسُ عَنِ ابْنِ شِھَابِ اَنَّ عَطَاءَ بْنَ یَزِیْدَ اَخْبَرَہُ اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَا ھُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ سُئلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَرَارِیِّ الْمُشْرِکِیْنَ فَقَالَ: اَللہُ أَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ ۔(3:35)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ سے مشرکین کے نا بالغ فوت ہو جانے والے بچوں کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے ‘ جو انہوں نے عمل کرنا تھا ‘‘۔

ذَرَارِیِّ الْمُشْرِکِیْنَ فَقَالَ: اَللہُ أَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← ابْنِ شِھَابِ اَنَّ عَطَاءَ بْنَ یَزِیْدَ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَاحَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰی

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter of breakfast · Hadith 131

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ الْفِطْرَۃِ · حديث 132

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ یَحْیَی اَبُو الْھَیْثَمِ وَکَانَ عَاقِلًا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنِ الْاَسْوَد، بْنِ سَرِیِعِ وَکَانَ شَاعِرًا وَکَانَ اَوَّلَ مَنْ قَصَّ فِیْ ھٰذَا الْمَسْجِدِ قَالَ: اَفْضَی بِھِمُ الْقَتْلُ اِلٰی اَنْ قَتَلُوْا الذُّرِّیَّۃَ فَبَلَغَ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اَوَلَیْسَ خِیَارُکُمْ اَوْلَادَ الْمُشْرِکِیْنَ مَا مِنْ مَّوْلُوْدٍ یُوْلَدُ اِلَّا عَلٰی فِطْرَۃِ الْاِسْلَامِ حَتّٰی یُعْرِبَ فَاَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہٖ وَیُنَصِّرَانِہٖ وَیُمَجِّسَانِہٖ۔(3:35)

حدیث 132: حسن نامی راوی ‘ اسود بن سریع کے حوالے سے نقل کرتے ہیں ‘ جو ایک شاعر تھے۔ یہ وہ پہلے شخص ہیں ‘ جنہوں نے اس مسجد میں وعظ کہنا شروع کیا تھا ‘ وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ صورتحال ایسی ہو گئی کہ (مشرکین ک ) نابالغ بچوں کو قتل کرنا پڑ گیا۔ جب اس بات کی اطلاع نبی اکرمﷺ کو ملی‘ تو آپ نےارشاد فرمایا : کیا تمہارے بہترین لوگ مشرکین کی اولاد نہیں ہیں؟ جس بھی بچے نے پیدا ہونا ہوتا ہے ‘ وہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ جب وہ بولنا شروع کرتا ہے تو اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں ‘‘۔ (امام ابن حبان ؓ فرماتے ہیں : ) روایت کے یہ الفاظ : ’’جس بھی بچے نے پیداہونا ہوتا ہے ‘ وہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے ‘‘۔ اس سے مراد وہ فطرت ہے ‘ جس کا اعتقاد اہلِ اسلام رکھتے ہیں ‘ جس کے بارے میں ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق (بنی نوع انسان ) کو حضرت آدم علیہ السلام کی پشت سے باہر نکالا تھا تو آدمی کا س فطرت کا اقرار کرنا اسلام کا حصہ ہے تو اس فطرت کی نسبت اعتقاد کے وقت مجاورت کے طور پر اسلام کی طرف کی جائے گی۔

اَفْضَی بِھِمُ الْقَتْلُ اِلٰی اَنْ قَتَلُوْا الذُّرِّیَّۃَ فَبَلَغَ النَّبِیَّ ← الْاَسْوَد، بْنِ سَرِیِعِ وَکَانَ شَاعِرًا وَکَانَ اَوَّلَ مَنْ قَصَّ فِیْ ھٰذَا الْمَسْجِدِ ← الْحَسَنِ، ← السَّرِیُّ بْنُ یَحْیَی اَبُو الْھَیْثَمِ وَکَانَ عَاقِلًا ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← الْفَضْلُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter of breakfast · Hadith 132

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ الْفِطْرَۃِ · حديث 133

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِیْدٍ الطَّائیُّ بِمَنْبَحَ اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ الزُّھْرِیُّ عَنْ مَّالِکٍ عَنْ اَبِیْ الزِّنَادِ عَنِ الْاَعْرَجِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَہُ یُھَوِّدَانِہٖ وَیُنْصِّرَانِہٖ کَمَا تُنَاتَجُ الْاِبِلُ مِنْ بَھِیْمَۃٍ جَمْعَاءَ ھَلْ تُحِسُّ مِنْ جَدْ عَاءَ ؟ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللہِ اَفَرَ اَیْتَ مَنْ یَّمُوْتَ وَھُوَ صَغِیْرٌ قَالَ: اَللہُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ ۔(3:35)

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ہر بچہ پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے ‘ لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں ‘ جس طرح اونٹنیاں صحیح وسالم بچے کو جہنم دیتی ہیں ۔ کیا تمہیں ان میں سے کوئی کان کٹا ہوا ملتا ہے‘‘۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایسے بچے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ‘جوکمسنی میں انتقال کر جائے ؟ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے ‘ جو اس نے عمل کرنے تھے ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ الزُّھْرِیُّ ← عُمَرُ بْنُ سَعِیْدٍ الطَّائیُّ بِمَنْبَحَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter of breakfast · Hadith 133

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ الْفِطْرَۃِ · حديث 134

سَمِعْتُ اَبَا خَلِیْفَۃَ یَقُوْلُ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنِ بَکْرِ بْنِ الرَّبِیْعِ بْنِ مُسْلِمٍ یَقُوْلُ سَمِعْتُ الرَّبِیْعَ بْنَ مُسْلِمٍ یَقُوْلُ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِیَادٍ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ اَبَا ھُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ سَمِعْتُ اَبَا الْقَاسِمِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ اَقْوَامِ یُقَادُوْنَ اِلَی الْجَنَّۃِ فِی السَّلَاسِلِ ۔ (3:35)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابو القاسم ؓ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ہمارا پروردگار ان لوگون پر حیران ہوتا ہے ‘ جنہیں بیڑیوں میں جکڑ کر جنت میں لے جایا جائے گا ‘‘۔ (امام ابن حبان ؓ فرماتےہیں : ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان: ’’ ہمارا پروردگار ان لوگوں پر حیران ہوتا ہے ‘۔ یہ لوگوں کے محاورے کے مطابق ہے ‘ کیونکہ جب کسی شخص کے ساتھ کلام کیا جاتا ہے تو وہی الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں جو لوگوں کے درمیان رائج ہوتےہیں اور اس روایت میں جکڑے جانے سے مراد یہ ہے : مسلمانوں نے ان لوگوں کو مشرکین کے علاقوں سے قیدی بنایا ہو گا ‘ انہیں زنجیروں میں باندھا گیا ہو گا اور پھر اسلامی سلطنت کی طرف لایا گیا ہو گا ‘ یہاں تک کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ حضرت اسود بن سریعؓ سے منقول روایت میں نبی اکرمﷺ کے اس فرمان سے بھی یہی مراد ہے : ’‘کیا تمہارے بہترین لوگ مشرکین کی اولاد نہیں ہیں ‘‘۔ ان الفاظ سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے : یہاں لفظ ’’من ‘‘ کو مخذوف سمجھا جائے اور مراد یہ ہو : ’’ مشرکین کی اولاد میں سے کچھ لوگ تمہارے بہترین لوگوں میں سے نہیں ہیں ‘‘۔

عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ اَقْوَامِ یُقَادُوْنَ اِلَی الْجَنَّۃِ فِی السَّلَاسِلِ ← اَبَا الْقَاسِمِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنِ بَکْرِ بْنِ الرَّبِیْعِ بْنِ مُسْلِمٍ ← اَبَا خَلِیْفَۃَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter of breakfast · Hadith 134

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ الْفِطْرَۃِ · حديث 135

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ سِنَانِ اَنْبَاَنَا اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ عَنْ مَّالِکٍ عَنْ نَافِع عَنِ ابْنِ عُمَرَ: اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَاَی فِیْ بَعْضِ مَغَازِیہِ امْرَاَۃً مَقْتُولَۃً فَاَنْکَرَ ذٰلِکَ وَنَھٰی عَنْ قَتْلِ النِّسَآءِ وَالصِّبْیَان ۔ (3:35)

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : ’’ نبی اکرمﷺ نے ایک جنگ کے دوران کسی عورت کو مقتول پایا ‘ تو آپ نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے جنگ کے دوران خواتین اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا ‘‘۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter of breakfast · Hadith 135

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ الْفِطْرَۃِ · حديث 136

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ سِمِعْنَاہُ مِنِ الزُّھْرِیِّ عَودًا وَبَدْءًا عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللۃِ عَنِ بن عَبَّاسِ قَالَ اَخْبَرَنِی الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَۃَ قَالَ مَرَّ بِیْ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَنَا بِالْاَبْوَاءِ اَوْ بِوَدَّانَ فَاَھْدَیْتُ اِلَیْہِ لَحْمَ حِمَارٍ وَحْشٍ فَرَدَّہُ عَلَیَّ فَلَمَّا رَاَی الْکَرَاھِیَۃَ فِیْ وَجْھِی قَالَ: اِنَّہٗ لَیْسَ بِنَارَدٌّ عَلَیْکَ وَلَکِنَّا حُرُمٌ۔ وَسُئلَ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّارِ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ یُبَیَّتُونَّ فِیُصَابُ مِنْ نِسَائھِمْ وَذَرَا رِیِّھِمْ قَالَ: ھُمْ مِنْھُمْ قَالَ: وَسَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ: لَاحَمَی اِلَّا لِلہِ وَرَسُوْلِہٖ۔(3:35)

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں : حضرت صعب بن جثامہ ؓ نے مجھے یہ بات بتائی ہے : ’’ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ میرے پاس سے گزرے ‘ میں اس وقت ’’ابواء‘‘ یا شاید ’’ودان ‘‘ کے مقام پر موجود تھا میں نے آپ کی خدمت میں حماروحشی کا گوشت پیش کیا ‘ تو آپ نے وہ مجھے واپس کر دیا۔ جب آپ نے میرے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ہم نے تمہیں یہ واپس نہیں کرنا تھا ‘ لیکن ہم احرام (باندھے ہوئے ہیں )‘‘۔ نبی اکرمﷺ سے مشرکین کی اس آبادی کے بارے میں دریافت کیا گیا : جہاں رات کے وقت حملہ کیا جاتا ہے ‘ اور اس حملے میں ان کی خواتین اور بچے مارے جاتے ہیں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’ وہ لوگ ان کا حصہ ہیں ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے بھی سنا ہے ۔ ’’چراگاہ ‘ صرف اللہ اور اس کے رسول کی ملکیت ہے ‘‘۔

مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ ← الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← سَمِعْنَاهُ مِنِ الزُّهْرِيِّ، عَودًا وَبَدْءًا، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter of breakfast · Hadith 136

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ الْفِطْرَۃِ · حديث 137

اَخْبَرَنَا جَعْفَرُ نْنُ سِنَانِ الْقُطَّانُ بِوَاسِطَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنۃ عَمْرِو عَنِ الزُّھْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ عَنِ بن عَبَّاسٍ عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ لَا حِمَی اِلَّا لِلہِ وَلِرَسُوْلِہٖ وَسَاَلْتُہٗ عَنْ اَوْلَادِ الْمُشْرِکِیْنَ اَنَقْتُلُھُمْ مَعَھُمْ قَالَ: نَعَمْ فَاِنَّھُمْ مِنْھُمْ ثُمَّ نَھَی عَنْ قَتْلِھِمْ یَوْمَ حُنَیْنٍ۔ (3:35)

حضرت عبدا للہ بن عباسؓ حضرت صعب بن جثامہ ؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہیوئے سنا ہے : ’’چراگاہ ‘ صرف اللہ اور اس کے رسول کی ملکیت ہے ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں دریافر کیا : کیا ہم ان لوگوں کو ان کے ساتھ قتل کردیں؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’جی ہاں ! یہ ان لوگوں کا حصہ ہیں۔ (روای بیان کرتے ہیں : ) پھر نبی اکرمﷺ نے غزوہ حنین کے موقع پر انہیں قتل کرنے سے منع کر دیا۔

قَتْلِھِمْ یَوْمَ حُنَیْنٍ۔ ← نَعَمْ فَاِنَّھُمْ مِنْھُمْ ثُمَّ نَھَی ← اَوْلَادِ الْمُشْرِکِیْنَ اَنَقْتُلُھُمْ مَعَھُمْ ← لَا حِمَی اِلَّا لِلہِ وَلِرَسُوْلِہٖ وَسَاَلْتُہٗ ← رَسُولِ اللَّهِ ← الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنۃ عَمْرِو ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ ← جَعْفَرُ نْنُ سِنَانِ الْقُطَّانُ بِوَاسِطَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter of breakfast · Hadith 137

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ الْفِطْرَۃِ · حديث 138

اَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوْسَی بْنِ مُجَاشِعِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیْرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیْدِ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ فُضَیْلِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَائشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ عَنْ عَائشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ قَالَتْ تُوُفِّیْ صَبِیُّ فَقُلْتُ طُوبٰی لَہٗ عَصْفُورٌ مِنْ عَصَافِیرِ الْجَنَّۃِ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَوَلَا تَدْرِیْنَ اَنَّ اللہَ خَلَقَ الْجَنَّۃَ وَخَلَقَ لنَّارَ فَخَلَقَ لِھٰذِہٖ أَھٔلًا وَلِھٰذِہٖ أَھْلًا۔ (3:35)

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : ایک بچے کا انتقال ہو گیا۔ میں نے کہا : یہ کتنا خوش نصیب ہے ‘ جو جنت کی ایک چڑیا ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’کیا تم یہ بات نہیں جانتی ہو کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا ہے ‘ اور جہنم کو پیدا کیا ہے ‘ اور اس (جنت ) نے اس کے لئے بھی اہل پیدا کر دیے ہیں اور اس (جہنم ) کے لئے بھی اہل پیدا کر دیے ہیں‘‘۔(امام ابن حبان ؓ فرماتے ہیں : ) اس فرمان کے ذریعے نبی اکرمﷺ کی مراد یہ ہے : اسلام کی حالت میں مرنے والے کسی بھی شخص کا تزکیہ نہ کیا جائے ‘ یعنی اسے باقاعدہ جنتی قرار نہ دیا جائے ‘ اگرچہ اس شخص کا نیکوگار ہونا اور برائیوں نے بچنا معروف ہو ‘ کیونکہ لوگ بھلائی کے بارے میں زیادہ حریص ہوتے ہیں اور اپنے پروردگار سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ اس سے مرا دیہ نہیں ہے : مسلمانوں کے فوت ہونے والے کم سن بچے کے جہنم میں جانے کا اندیشہ ہے۔ یہ ایک طویل مسئلہ ہے ‘ جسے ہم نے اس سے متعلقہ فصول میں املاء کروایا ہے اور ان روایات کے درمیان تطبیق ‘ کتاب ’’فصول السنن ‘‘میں ہے۔ اگر اللہ نے چاہا تو اس کتاب کے بعد ہم (اپنی دوسری ) کتاب ’’الجمع بین الاخبارونفی التضادعن الآثار ‘‘ میں اسے املاء کروائیں گے‘ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا اور اسے (ہمارے لئے ) آسان کیا ۔

تُوُفِّیْ صَبِیُّ فَقُلْتُ طُوبٰی لَہٗ عَصْفُورٌ مِنْ عَصَافِیرِ الْجَنَّۃِ ← عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، ← فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، ← الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter of breakfast · Hadith 138

All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr