صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3057
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ1: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ إِلَى جَنَازَةٍ سَأَلَ عَنْهَا فَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا قَامَ فَصَلَّى وَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا قَالَ لِأَهْلِهَا: "شَأْنُكُمْ بِهَا", وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا2. [4:5] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: تَرْكُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْ وَصَفْنَا نَعَتَهُ كَانَ ذَلِكَ قَصْدَ التَّأْدِيبِ منه صلى الله عليه وسلم لأمته كي لا يرتكبوا مثل ذٰلِکَ الْفِعْلِ ، لَا اَنَّ الصَّلَاۃَ غَیْرُ جَائِزَۃٍ عَلٰی مَنْ اَتٰی مِثْلَ مَا اَتٰی مَنْ لَّمْ یُصَلّ عَلَیْہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
عبداللہ بن ابو قتا دہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ کو کسی جنازے (کی نماز پڑھنے کے لیے ) بلایا جاتا، تو آپ ﷺ ا س کے بارے میں دریافت کرتے تھے، اگر اس کی اچھی تعریف بیان کی جاتی، تو آپﷺ اس کی نماز جنازہ ادا کر لیتے تھے اور اگر اس کی برائی بیان کی جاتی، تو آپ ﷺ اس کےگھر والوں سے کہتے تھے: اسے تم خود سنبھال لو، آپ ﷺ اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کرتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کی نمازجنازہ ادا نہیں کی تھی جس کی صفت ہم نے ذکر کی ہے۔ اس سے آ پ کا مقصد یہ تھا کہ آپ اپنےی اُمت کو اس حوالے سے ادب سکھائیں تاکہ وہ اس فعل کے ارتکا ب سے بچیں۔ اس سے یہ مرادنہیں ہے: ایسے شخص کی نماز جنازہ ادا کرنا جائز ہی نہیں ہوتا جس میں وہ خاصیت پائی جاتی ہو جس خامی کے حامل فرد کی نبی اکرم ﷺ نے نماز جنازہ ادا نہیں کی تھی۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← أَبِيهِ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى
Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in prayer over funeral · Hadith 3057
