صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1037
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، أَنَّ أَبَا كَبْشَةَ السَّلُولِيَّ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ ثَوْبَانَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ». [1: 2]
حضرت ثوبان ؓ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " تم سنت کی پیروی کرو اور میانہ روی اختیار کرو۔" اور یہ بات جان لو کہ تمہارے اعمال میں سے سب سے بہتر نماز ہے، اور وضو کی حفاظت صرف مومن کرتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) یہ وہ الفاظ ہیں ، جن کا ہم اپنی کتابوں میں کئی بار ذکر کر چکے ہیں ، عرب اپنے محاورے میں کسی چیز کے مختلف اجزا میں سے کسی ایک چیز پر مکمل چیز کا نام استعمال کرتے ہیں ۔ وہ اس چیز کے نام کو اس ایک جز کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان " وضو کی حفاظت صرف مومن کرے گا " ۔ یہاں لفظ ایمان کے لفظ کی اطلاق وضو کی حفاظت کرنے والے پر کیا گیا ہے۔ حٓلانکہ وضو ایمان کے اجزا میں سے ایک جز ہے۔ اس طرح لفظ ایمان کا اطلاق ایک وضو کی حفاظت کرنے والے پر کیا گیا ہے۔ حالانکہ وضو ایمان کے اجزا میں سے ایک جز ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں ۔ سالم بن ابو الجعد نے حضرت ثوبان ؓ کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے وہ " منقطع " ہے۔ اس لئے ہم نے اس سے پہلو تہی کی ہے۔
ثَوْبَانَ، ← أَنَّهُ ← حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، أَنَّ أَبَا كَبْشَةَ السَّلُولِيَّ ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ: ← أَبُو يَعْلَى
Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The section of E-mail · Hadith 1037
